سماجی انصاف اور تبدیلی | Khabrain Group Pakistan

جاوید کاہلوں
کسی بھی ملک و ملت کی بات ہو تو اس کو ایک اچھا یا برا معاشرہ کہنے کیلئے صرف ایک ہی خط ِ امتیاز کھینچا جاسکتا ہے اور وہ اس قوم میں پائے جانے والے ”سماجی انصاف“ (Social Justice) سے متعلق ہو گا۔یہ سماجی انصاف دراصل کسی بھی نظام میں حق کے ساتھ خزانہ بھرنے اور پھر حقداروں پر انصاف اور برابری کی بنیاد پر اسے تقسیم کرنے کا دوسرا نام ہے۔ روئے زمین پر کوئی ڈیڑھ ہزارسال قبل قائم ہوئے خلافت کے نظام میں اس ”سماجی انصاف“ نامی شے کا عملی تجربہ انسانوں نے فاروق اعظمؓ کے دور میں ریاست مدینہ میں پہلی بار بھرپور چلتے دیکھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی نے آپ ؓ سے پوچھا کہ کیا آپ بھی قیصر و کسریٰ کی طرح ایک بادشاہ ہیں ۔تو آپ نے کہا کہ نہیں بلکہ میں تو یوم الحساب کا منتظر ہوں جہاں مجھے جواب دینا ہوگا کہ ”کہاں سے لیا اور کدھر خرچ کیا“، یعنی کہ دوسرے الفاظ میں وہی تصورِ سماجی انصاف، اسی تصور اور تقویٰ کے تحت ریاست کے فرائض میں ہر کسی کی نشوونما انسانی ایک بنیادی فریضہ بن گیاتھا۔ناصرف عام انسان بلکہ دودھ پیتے بچوں تک کے وظائف اسی سماجی انصاف کے تحت مقرر ہوئے۔ انسان تو ایک طرف حیوانوں اور جانوروں کا بھی ہمدردی سے خیال رکھا جاتا تھا، کسی اونٹ پر ناروا بوجھ لادنے پر بھی جواب طلبی ہوتی تھی تو مدینہ میں بیٹھ کر سینکڑوں میل دور دریائے دجلہ کے کنارے پھرتے کسی پیاسے کتے کا بھی ریاستی حکمران کو احساس جگائے رکھتا تھا۔ دیکھا جائے تو کرہ ارض پر ایک قبائلی معاشرہ کے باوصف مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد نے حکمرانی کے جو باقاعدہ اصول وضع کیے ”سماجی انصاف“ اس کا ایک مرکزی نقطہ تھا۔ لہٰذا اگر بنی آدم کو اسکا صحیح شرف اور بقول کتاب حکیم اس کو ” عزت و اکرام“ کا مقام دینا ہو تو ضروری ہے کہ اس سماج میں انصاف اور برابری کی بنیاد پر معاملات کیے جائیں، اور یہ تبھی ممکن ہے جب کوئی حکمران سمجھتا ہو کہ ” کہاں سے لیا اور کہاں خرچ کیا“ کا اس سے بھی حساب ہوگا۔
غور کریں تو معلوم ہوگا کہ انسان کی صحیح صلاحیتیں سماجی انصاف کے کھلے اور بے باک ماحول میں ہی نشونما پاتی اور نکھر کر سامنے آتی ہیں، وگرنہ ظلم و استحصال تلے دب کر رہ جاتی ہیں۔ پہیے کی ایجاد اور صنعتی انقلاب کے ہنگام سے ترقی شروع ہوئی تو قبائلی معاشرہ سکڑنے لگا، ذرائع ابلاغ و نقل و حرکت بہتر ہونے لگے، چھاپہ خانے آگئے اور رزق کی پیداوار بڑھنے لگی تو اس کے ساتھ ہی ان وسائل کی تقسیم پر جھگڑا شروع ہوگیا۔ سرمایہ داری و زمینداری کا استحصال بڑھا تو دوسری طرف بنی آدم کی ایسے استحصال سے جان خلاصی کروانے کیلئے روسو، نٹشے اور علامہ اقبال جیسے بڑے بڑے مفکر بھی میدان میں آگئے، اس سلسلے میں سوشلزم و کمیونزم کی اصطلاحیں وجود میں آئیں اور کچھ ایسے لکھاریوں جیسے کہ ہیگل اور کارل مارکس نے ایسے ایسے فلسفے بیان کئے کہ پچھلی صدی میں لینن و سٹالن اور ماو¿زے تنگ و چواین لائی نے ان کو روس و چین وغیرہ پر مسلط کرکے زمین پر اسکا تجربہ بھی شروع کردیا۔ مڑ کر دیکھیں تو ادھر بھی فکر کی بنیاد میں وہی ”سماجی انصاف“ کے اصول تھے، کیونکہ صنعتی ترقی کے بعد چند سرمایہ داروں کے ساتھ ساتھ ہزار وں کی تعداد میں مزدور بھی معاشرے میں پیدا ہوچکے تھے جوکہ غلاموں کی طرح سرمایہ داروں کے کارخانوں اور فیکٹریوں میں اپنے بال بچوں سمیت نسل در نسل مزدوری کرنے پر مجبور تھے۔
اسلامی نظام حیات میں ہی دراصل بنی آدم کی صحیح آزادی و اکرام مضمر تھا، کیونکہ اسلام جب بھی ” سماجی انصاف “پر مبنی اصولوں کی بنیاد پر معاشرے اور ریاست کی تشکیل بابت اپنا فلسفہ بیان کرتاہے تو وہ اہل ثروت اشخاص سے زور و زبردستی چھینا جھپٹی کرنے کی بجائے زکوٰة ، صدقات اور ضرورت سے زائد سب کچھ کے انفاق کی ترغیب یوں دیتا ہے کہ وہ انسانوں کے ضمیر اور ”روشن مابعد کی دنیا“ میں، بدلے میں ہمیشگی کے عیش و آرام کی خوشخبری سناتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ گوکہ اسلام نے غلامی کو معاشرے سے یکسر حکماً تو ختم نہ کیا مگر ان کو حقوق و نگہداشت کے معیارات پر مالکوں کے برابر لا کھڑا کیا، یعنی کہ ریاست مدینہ کے دوران کہا جاسکتا ہے کہ عرب میں غلامی کا رواج رہا تو بدستور مگر انسانی غلامی اور ظلم کا روائتی تصور مٹا دیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کمیونزم کے روائتی نعروں کو جب ریاستی جبر کے تحت یورپ و ایشیا میں روبہ عمل لانے کی سعی کی گئی تو اس میں انسانوں کے بنیادی حقوق کی ایسی پامالی ہوئی کہ یہ نظام نصف صدی ہی میں اپنی موت آپ ہی مرگیا، اب کارل مارکس کے فلسفے تو کتابوں میں ادھر ہی موجود ہیں مگر بنی آدم ان سے اب مکمل تائب ہوچکے ہیں۔
اسی طرح کہا جاسکتا ہے کہ اگر سوشلزم ناکام ہوا ہے تو اسلام کا سماجی انصاف والا نظام بھی تو خلافت راشدہ کے بعد آنےوالے مسلمان حکمران قائم نہیں رکھ سکے تھے۔ تو اس کا جواب بھی مختصراً یہی ہے کہ صدیوں تک خلافت راشدہ کے بعد آنےوالے بعض مسلمان حکمران کہلاتے تو خلیفہ ہی رہے مگر ان کے طور اطوار ویسے ہی بدل گئے تھے کہ جیسے ان سے قبل کے شہنشاہ قیصر و کسریٰ تھے، یہی وجہ تھی کہ جونہی مسلمانوں کی خلافت نے ملوکیت کے اصول اپنا لئے وہ بھی معاشرے سے ویسے ہی رخصت ہوتے رہے جیسے کہ ان سے قبل کے بادشاہ ایک دوسرے کے ہاتھوں رخصت ہوتے رہتے تھے، خط ِ فاصل وہی سماجی انصاف والا نقطہ تھا کہ بعض مسلمان خلیفہ بھی ” کہاں سے لیا اور کہاں خرچ کیا“ کے سنہری اصول کو بھلا بیٹھے تھے، لہٰذا خلیفہ اور بادشاہ میں کوئی فرق نہیں رہ گیا تھا۔
اس ساری گفتگو کا حاصل کلام پھر یہی ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شہنشاہ ہے کہ خلیفہ، یا پھر صدر ہے یا وزیراعظم ،کسی بھی ملک و ملت کی بقاءاور دوام اسی میں ہے کہ ان کے داخلی معاشرے میں کس اہتمام سے سماجی انصاف کے اصول اپنائے گئے ہیں اور ان کی عدالتیں ایسے انصاف کو کتنی سرعت سے اپنے انسانوں تک پہنچانے میں مددگار واقع ہورہی ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ مغربی جمہوری معاشروں میں چونکہ بڑی حد تک سماجی انصاف کے اصولوں پر عمل ہورہاہے اس لئے ان ممالک کی ہر دوسرے معاشرے پر صدیوں سے اجارہ داری قائم چلی آرہی ہے، ایسی اجارہ داری بدستور ہے ۔ گوکہ اس کی شکل اب عملی قبضے چھوڑ کر مالی اداروں کے توسط سے قبضے کرنے کی طرف مڑ چکی ہے، اب افریقہ و ایشیا کی تقریباً تمام اقوام گوکہ یورپ و امریکہ کے عملی قبضے سے نکل چکی ہیں مگر ان کو مالی اداروں کے توسط سے سودی نظام کے سنہرے جال میں پھانس لیا گیا ہے ۔
دنیا کی بات چھوڑ کر اگر ہم رخ وطن عزیز کی طرف کریں اور یہ ارادہ کرلیں کہ ہم نے اپنا استحصال ہونے نہیں دینا تو ہمیں فقط ایک ہی کام کرنے کی ضرورت رہ جائیگی، اور وہ یہ کہ ہم اپنے یہاں سماجی انصاف کے اصولوں کو رائج کریں۔ کسی بھی پاکستانی فرد یا گروہ کو عام پاکستانیوں کے استحصال کی اجازت سے ہر صورت روکنا ہوگا، اب یہ فرد کوئی حکمران ہو یا اسکی کابینہ یااسمبلی کے نام کا گروہ یا پھر کوئی ایسا ہی گروہ جس کو ہم سول یا ملٹری بیوروکریسی کا نام دیتے ہیں، ان کے لگائے گے دھوکہ دہی کے ٹیکسوں سے عوام کی گردنوں کو چھڑانا ہوگا اور وہ اسی صورت ممکن ہوسکے گا جبکہ عوام نہ صرف بڑے ایوانوں بلکہ مقامی سطح کی حکومت کے لیول پر نہ صرف موجود ہونگے بلکہ بااختیار بھی ہونگے کہ اپنے فیصلے خود کرسکیں۔
کیا اس سمت کوئی تبدیلی آج تک آئی ہے، کیا عمران خان نے نچلی سطح پر آج تک عوام کو سماجی انصاف دینے کی بابت کوئی قدم آگے بڑھایا ہے یا پھر صرف خالی تبدیلی کے نعروں تک ہی بات اٹکی ہوئی ہے ؟ اس پر انشاءاللہ آگے بات ہوگی ۔ (جاری ہے)
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں