خورشید مثال شخصیت:ڈاکٹر مغیث الدین شیخ(2)

حافظ شفیق الرحمن
یہ ایک سانحہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی محکمے اور شعبے میں نکمے اورنکھٹو افراد کے ہجوم میں کوئی ایک آدھ اہل، مستعد اورفعال شخص داخل ہو جا تا ہے تو اسے اس محکمے اور شعبے سے نکال باہر کرنے کےلئے نااہل ،نکمے اور نکھٹو افراد کا متحدہ محاذ مختلف حیلے، حربے اور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اس مذموم حرکت کو وہ اپنا استحقاق جانتا ہے۔ شعبہ صحافت کے بعض پیرانِ فرتوت پیشہ ورانہ رقابت اور معاصرانہ چشمک میں ایسی رکیکانہ اورمبتذل حرکات کا ارتکاب کر سکتے ہیں، یہ سوچ کر ہی ادب و صحافت کے ایک طالبعلم کے دماغ کی نسیں پھٹنے لگتیں۔ ڈاکٹر صاحب کے بارے جو ” افسانہ نویسی“ کی گئی اس کی اصابت اور ثقاہت کا عالم یہ تھا کہ افسانہ نگاروںکے اکثر بیانات اس قسم کے تمہیدی جملوں سے شروع ہوتے ہیں ”افواہیں گرد ش کر رہی ہیں“،” سنا گیا ہے“ ، ”کہا گیا ہے“،” ذرائع کے مطابق“ وغیرہ وغیرہ۔ سیکنڈل سازوں نے اپنے مردہ ضمیروں کی کالک کو روشنائی بنایا اور پھر اس میں اپنے قلم ڈبو کر ایک سیاہ افسانہ گھڑا۔ زرد صحافت + نیلی ثقافت کے علمبرداراخبار نما چیتھڑے اس افسانے کو لے اڑے۔ ایک اجلی شخصیت کے بے داغ دامن کو داغدار کرنے کی یہ ناکام کوشش درحقیقت چاند کی طرف منہ کر کے تھوکنے کی مجنونانہ حرکت کے مترادف تھی۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا یہ کارنامہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں کہ انہوں نے شعبہ ماس کمیونیکشن کو انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز میں اپ گریڈ کیا۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی سربراہی میں پہلی بار شعبہ صحافت کا پچاس سالہ دیرینہ زنگ اترتا نظر آیا۔یہ تو ڈاکٹر صاحب کے شدید ترین مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی سربراہی میں ڈیپارٹمنٹ کا نصاب ، چلن اور ظاہری و باطنی خدوخال مثبت ، نتائج خیز اور مفید پیرائے میں مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ شعبہ صحافت کی سربراہی محض کوئی آرائشی اور نمائشی عہدہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسا بارِ گراں تھا جسے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ایسی اہل ترین شخصیت کے توانا ترین کندھے ہی اٹھا سکتے تھے۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ انہیں ایک نہیں دونوں سلیکشن بورڈزنے بطور استادسندِ امتیاز اور فائق اہمیت کا حامل قراردیا تھا۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کو یونیورسٹی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بہترین استاد کا ایوارڈ ملا ۔وہ شعبہ صحافت کے واحد استاد تھے، جنوبی ایشیاءمیں جنہیں سب سے زیادہ تحقیقی مقالے لکھنے کا شرف اور وقار و افتخار حاصل ہوا۔ انہیں نہ صرف قومی سطح پر ہائر ایجوکیشن ایوارڈملا بلکہ بین الاقوامی سطح پر انٹر نیشنل پبلک ریلیشنز ایسوسی ایشن نے 2004ءمیں ڈاکٹر مغیث کو کراو¿ن ایوارڈ سے نوازا، ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف کی جانب سے انھیں پولیو ایمبیسڈر نامزد کیا گیا۔وہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار ماس کمیونیکیشن ریسرچ کینیڈا، کامن ویلتھ ایسوسی ایشن فار ایجوکیشن آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن کینیڈا، ایشین میڈیا انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن سنٹر سنگا پور، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹر، مختلف یونیورسٹیوں کے سلیکشن بورڈ اور بورڈ آف سٹڈیز کے بھی ممبر رہے۔
پنجاب یونیورسٹی سے2011ءمیں ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹر مغیث مختلف نجی یونیورسٹیوں میں بطور ڈین اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ ڈاکٹر مغیث مختلف تحقیقی مقالہ جات کے ایڈیٹر اور ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر رہے۔انہوں نے اپنی تحقیقات دنیا بھر میں پہنچانے کےلئے مختلف ملکوں کا دورہ بھی کیا۔وہ متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے اور کئی کتابوں کے ابواب بھی تحریر کئے۔انہوں نے امریکہ کی یونیورسٹی آف آئیوا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1976ءمیں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت، 1977ءمیں ایم اے سیاسیات کیا۔ انہوں نے آسٹریا میں دو مرتبہ میڈیا ایمڈ گلوبلائزیشن میں پوسٹ ڈاک فیلوشپ کی۔ 1976ءمیں گومل یونیورسٹی سے بطور لیکچرر اپنے کرئیر کا آغاز کیا۔1982ءکو پنجاب یونیورسٹی شعبہ صحافت کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر جوائن کیا۔ 1998ءمیں ترقی پا کر ڈاکٹر مغیث پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر تعینات ہو گئے۔وہ 40 سال سے زائد صحافت کے استاد رہے۔ وہ ناروے کی اوسلو یونیورسٹی کالج میں بھی پڑھاتے رہے۔انہیں جرنلزم فورتھ اسٹیٹ ایوارڈ آف آئیوا سٹیٹ، امریکہ سے نوازا گیا۔ 2006ءمیں زلزلہ زدگان کےلئے ایف ایم ریڈیو کے قیام پر اقوام متحدہ نے بھی ایوارڈ سے نوازا۔اس تناظر میں برادرم سلمان عابد کا یہ مطالبہ لائق توجہ ہے کہ ’جامعہ پنجاب کے سربراہ میڈیا انسٹی ٹیوٹ کا ایک بلاک ڈاکٹر مغیث کے نام کریں،جہاں ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ درس و تدریس میں گزرا۔اس دینار پیشہ دور میں وہ ایثار پیشہ ہستی تھے۔ وہ اسلامیت اور پاکستانیت کے فقیدالثال مبلغ تھے۔ شعبہ صحافت میں انہیں استاذ الاساتذہ، شیخ الاساتذہ اور رئیس الاساتذہ کا مقام اور درجہ حاصل تھا اور ان کے تلامذہ کے اذہان و قلوب میں نسل در نسل حاصل رہے گا۔ شعبہ صحافت کے ان کے معاصرین میں ان ایسا مقام و مرتبہ تا دم تحریر کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ صدیوں ان کا شمار محسنین صحافت میں ہوگا۔ کالم نویس سید ارشاد عارف کی اس رائے سے اختلاف نہیں کیا جاسکتاکہ ” ڈاکٹر مغیث نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کو ادارہ علوم ابلاغیات بنا کر نئی وسعتوں سے روشناس کروایا۔انہوں نے طلبہ کو عملی صحافت سے روشناس کروایا۔ وہ مطالعے کے شوقین تھے، ان کا طریقہ تدریس متاثر کن تھا“۔
ڈاکٹر صاحب سے میرے تعلقات کی عمر تقریباً نصف صدی پر محیط ہے۔ وہ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان، صحافت کے بطلِ جلیل آغا شورش کاشمیری اور حمید نظامی مرحومین کے ممتاز مداحین میں سے تھے۔ وہ آخری دنوں تک اپنے استاذ ڈاکٹر مسکین حجازی کا ذکر غایت درجہ عقیدت و احترام سے کرتے۔ وہ ایک جوہر شناس اور مردم شناس شخصیت تھے۔وہ ایک عہد ساز نظریاتی معلم اور شخصیت تھے۔ وہ عظیم انسان تھے۔ میرٹ اور ڈسپلن ان کا طرہ ¿ امتیاز تھا۔ انہیں کسی دوست بارے اطلاع ملتی کہ وہ کسی مشکل سے دوچار ہے تو بے کل اور پریشان ہوجاتے۔ ایسے میں ان کا اضطراب اور تشویش دیدنی ہوتی۔ اسے بتائے بغیر اس کو مشکل کے گرداب سے نکالنے کے لیے کوشاں ہوجاتے۔ اپنے بارسوخ حلقہ¿ احباب سے رابطہ کرتے۔ انہیں کہتے کہ”بھئی آپ فلاں شخص کو تو جانتے ہیں؛ وہ ہم سب کا مشترکہ دوست بے؛ چارہ آج کل نامساعد حالات کا سامنا کر رہا ہے، اس کے معاملے کو سرسری نہ لینا، ذہن میں رکھنا، سنجیدہ اور آبرو مندانہ انداز میں اس کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنا، دیکھو اس کا یہ نمبر ہے، جب کوئی امید بر آئے تو اس سے رابطہ کرکے مجھے اطلاع دینا، بھولنا نہیں، یہ کام کرنا ہے“۔ وہ مشکل حالات میں دوستوں کی دست گیری تندہی ، تحرک، فعالیت اور انتہائی رازداری اور خاموشی سے کرتے۔ ایسی تہ دار راز داری اور وضع دار خاموشی سے کہ ان کے دوست کی پریشانی بھی دور ہوجاتی اور اس کا مسئلہ بھی عزت نفس کے بھرم بھاﺅ کے ساتھ بہ خیر حل ہوجاتا۔ میں ان کے اس شائستہ حسن سلوک کو دیکھتا اور سوچتا کہ میر تقی میرنے واقعتا ان ایسے ہمدردِخلائق ابنائے آدم کے بارے کہا تھا اور کیا سچ کہا تھا؛
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
بانی انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز پنجاب یونیورسٹی کا انتقال فردِواحد کا انتقال نہیں بلکہ ایک ادارے ، ایک دبستان اور ایک تہذیب کا انتقال ہے۔ ان کے انتقال پر ملال اور وفات حسرت آیات سے فروغِ علم ِصحافت کا ایک عہد تمام ہوا۔اک رخشاں دور کی پیشانی پر کرونائی وبا کی خزاں رت میں دست ِقدرت نے تمت باالخیر لکھ دیا۔ دیارِ تدریس میں اک روشن دماغ تھا کہ نہ رہا، عہدِ ظلمت میں اک چراغ تھا کہ نہ رہا۔ رب کریم ان کی کامل بخشش اور اکمل مغفرت فرما کر ان کی روح پر فتوح کو اعلی علیین کا مکین و مقیم بنائیں۔آمین یا خیر الغافرین (ختم شد)
(سینئرصحافی اورقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں