ارطغرل غازی اور منتظر قوم ۔۔اسلم اعوان


ترک مسلمانوں کے رومانوی کردار ارطغرل غازی پہ بنائی گئی ڈرامہ سیریل کی پاکستانی سماج میں مقبولیت کوئی حیران کن بات نہیں بلکہ مغلوب قوموں کے لئے اپنے شاندار ماضی سے امید کی روشنی لینا (انسپائریشن) فطری امر ہے۔حیرت انگیز طور پہ انسان ماضی سے محبت،حال پہ متعرض اور مستقبل کے عواقب سے خوفزدہ رہتا ہے،خاصکر وہ ٹوٹی ہوئی قومیں جنہیں مسلسل ناکامیوں نے مایوسی کے قعر مذلت تک پہنچا دیا ہو، زندگی کے نئے امکانات تلاش کرنے کی بجائے اجداد کے کارناموں پہ اِترانے میں ذہنی لذت محسوس کرنے کے علاوہ اس حسین ماضی میں پناہ ڈھونڈتی ہیں جو کبھی لوٹ کے واپس نہیں آ سکتا،اگرچہ اس کیفیت میں بھی نفی و اثبات کے دونوں پہلو پائے جاتے ہیں،یعنی اباءو اجداد کے کارنامے ایک طرف ہمیں مایوسی کی یبوست سے نجات پانے کا حوصلہ دیتے ہیں تو دوسری جانب پُرشکوہ ماضی کے یہی حوالے ہمیں لذت خیال میں مبتلا کر کے بے عملی کی طرف مائل بھی کر سکتے ہیں،البتہ ارطغرل جیسے کرداروں کی تشہیر میدان جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں میں جوش وجذبہ پیداکرنے کا موثر وسیلہ بن سکتی ہے۔غالب امکان یہی ہے کہ عثمانی ترکوں نے بھی ارطغرل کے مثالی کردار کو اس عہد کی نوخیز نسلوں کے ذہنی شکوہ کو بام عروج تک پہچانے کے لئے بنایا سنوارا ہو گا کیونکہ ارطغرل کی حقیقی زندگی بارے ہمیں تاریخ کی کتابوں میں مستند مواد نہیں ملتا لیکن اسکے بیٹے عثمان اول کے عروج کے زمانہ میں ارطغرل بارے کئی ایسی رومانوی داستانیں مشہور ہوئیں جن میں اسے بہادر، نڈر، عقلمند، ایماندار،وفادار اور بیباک کمانڈر ہونے کے علاوہ سلجوقی سلطنت کے وفادار کے طور پہ پیش کیا گیا۔تاریخ کی مستند کتابوں میں تو ارطغرل کے احوال زندگی اورکارناموں کے متعلق ثبوت موجود نہیں البتہ ان کے بیٹے عثمان اول کے ڈھالے ہوئے سکّوں سے تاریخی طور پر ان کے وجود کی تصدیق ہو جاتی ہے،ان سکّوں پہ عثمان اول نے اپنے والد کا نام ارطغرل نقش کروایا تھا،چنانچہ تاریخ دانوں کو ا±ن کے حالات زندگی کے حوالے سے ا±ن لوک کہانیوں پر انحصار کرنا پڑا،جو ا±ن کی وفات کے سو سال بعد سلطنت عثمانیہ میں مقبول ہوئیں مگر ان لوک داستانوں کی ثقاہت پر بھی کئی طرح کے شکوک و شبہات ظاہر کئے جاتے ہیں۔کہتے ہیں ارطغرل نے اپنے والد سلمان شاہ سے قطعہ زمین کا مطالبہ کیا تو سلمان نے سوغوت (ترکی: Sögüt) کی سر زمین دان کر کے ارطغرل کو اس خطہ کا سردار مقرر کر دیا،اس زمانہ میں یہ علاقہ بازنطینی سلطنت کی سرحد پر واقع تھا،بعد ازاں اس سرزمین پر کچھ ایسے واقعات پیش آئے جو آگے چل کر بازنطنیوں کے زوال اور سلطنت عثمانیہ کی اساس کا سبب بنے۔روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ سلطان علاو¿الدین کیقباد اول نے ارطغرل کی خدمات سے متاثر ہو کر انہیں سوغوت اور اس سے ملحقہ کئی شہر بطور جاگیر بخش دینے کے علاوہ “سردار اعلیٰ” کا منصب بھی عطا کیا، بعدازاں انکی عالی ظرفی سے متاثر ہو کے آس پاس کے کئی ترک قبائل رضاکارانہ طور پہ انکے اردگرد جمع ہوتے گئے۔غیر معتبر تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ارطغرل کا تعلق غز ترک قبیلہ کی شاخ قائی سے تھا،ان کا خاندان بیگ (سردار) کہلاتا تھا، یہ قبیلہ عقیدتاً اہل سنت اور حنفی مسلکاً سے وابستہ تھا لیکن کچھ مورخین نے یہ بھی لکھا کہ ترک ہسٹری میں قائی قبیلہ کا کوئی نشاں نہیں ملتا،اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ عثمان اول کے زمانہ میں نازاں خاندان نے قائی قبیلہ کے نام سے اپنی جداگانہ شناخت متعارف کرائی ہو۔ 11ویں تا 13ویں صدی عیسوی کے درمیان مشرق وسطی اور وسط ایشیا میں اوغور نسل کے سلجوقی مسلمانوں کی مقبول بادشاہت قائم تھی جسے مسلم تاریخ میں بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ دولت عباسیہ کے خاتمے کے بعد یہ عالم اسلام کو ایک مرکز پر جمع کرنے والی آخری سلطنت تھی جس کی سرحدیں ایک جانب چین سے لے کر بحیرہ متوسط اور دوسری جانب عدن سے لے کر خوارزم و بخارا تک پھیلی ہوئی تھیں۔سلجوقیوںکے دورکو تاریخ اسلام کا عہد زریں کہا جاتا ہے اسی لئے سلاجقہ کو مسلم تاریخ میں ہمیشہ احترام حاصل رہا۔سلجوقی سلطنت کے زوال کے ساتھ ہی مسلم امہ کو ایک پرچم تلے اکٹھا کرنے والی آخری قوت ختم ہوئی تو امت کو طوائف الملوکی اورشورشوں نے گھیر لیا،انتشار کے اسی مرحلہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صلیب کے فرزندوں نے ا±ن صلیبی جنگوں کا آغاز کیا جوکم و بیش 200 سال تک جاری رہیں۔عیسائیوں نے پہلی صلیبی جنگ میں نہایت آسانی کے ساتھ بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔صلیبیوں کے حملے سے سلجوقیوں کی رہی سہی طاقت ختم ہوگئی، چنانچہ 1260ءکی دہائی میں منگولوں کی اناطولیہ پر چڑھائی کے ساتھ آخری سلجوق سلطنت (سلاجقہ روم) کا بھی خاتمہ ہو گیا۔کہتے ہیں،ارطغرل غازی کی زندگی کے آخری ایام میں جب سلجوقی سلطنت آخری سانسسیں لے رہی تھی توانہوں نے اس کرہ ارض پہ ایک عظیم ایشان اسلامی سلطنت کا قیام کا خواب دیکھا چنانچہ ارطغرل کے سب سے چھوٹے بیٹے غازی عثمان اول نے ان کا یہ خواب پورا کر دکھایا انہوں نے عظیم الشان سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی جو 1922 تک قائم رہی۔مشہور ہے کہ ارطغرل غازی کی وفات قائی قبیلے کی سرداری اپنے بیٹے عثمان اول کے سپرد کرنے کے بعد 1281میں سوغوت شہر میں ہوئی،بعض دوسرے ذرائع ان کی تاریخ وفات 1288بتاتے ہیں۔سوغوت شہر کے مضافات میں ایک قبر بھی ارطغرل غازی سے منسوب تھی لیکن اس پر کوئی قدیم تحریر نہیں ملتی،مقبرہ پر موجودہ تحریر سلطان عبد الحمید دوم کے عہد میں 1886-87 میں مقبرے کی مرمت و بحالی کے وقت کندہ کرائی گئی تھی۔پہلی بار مقبرہ تعمیر کرانے کی تاریخ بھی معلوم نہیں لیکن اتنا پتا ہے کہ یہ مقبرہ تیرہویں صدی کے آخر میں موجود تھا،اسے سب سے پہلے عثمان اول نے مجرد قبر کے طور پر تعمیر کرایا،بعد میں سلطان محمد اول کے دور میں اس قبر کو مقبرے میں تبدیل کیا گیا،مصطفٰی ثالث کے دور میں اسی مقبرہ کو دوبارہ تعمیر کرا کے اصل عمارت کی ہیت بدل دی گئی،1886ءمیں سلطان عبدالحمید دوم نے مقبرہ کی مرمت و بحالی کا کام کراتے وقت یہاں وضو کے لئے پانی کی فراہمی کا انتظام بھی کرایا تھا۔
19ویں صدی میں عثمانی بحریہ نے اپنے ایک جنگی جہاز کا نام ارطغرل رکھا،جو بحری سفر کے دوران 1890ءمیں جاپان کے قریب حادثے کا شکار ہوگیا۔ 1998ءمیں ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں ایک مسجد ارطغرل غازی نیلی مسجد کی طرز پر تعمیر کرائی گئی۔سنہ دو ہزار چودہ سے دوہزار انیس کے درمیان ترکی کے سرکاری ٹی وی نے ارطغرل کی زندگی سے متعلق پانچ سیریل چلائیں،جس سے اندازہ ہوتا ہے،ترک آج بھی ارطغرل کے کردار کو سورس آف انسپائریشن بنا کے سلطنت عثمانیہ کی بحالی کے خواب دیکھتے ہیں۔امر واقعہ یہ کہ اسلام کے قرون اولی میں عروج دیکھنے کے بعد عباسی معدوم ہو گئے،قرون وسطہ میں سلجوقی و عثمانی ترک اور ماضی قریب میں مغلیہ خاندان عروج و زوال کے مظاہر میں ایسے ڈوبے کے ان کا نشان تک نہیں ملتا،ہزاروں سالوں پہ محیط انسانی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ قدرت نے کسی قوم کو دوسری بار عروج نہیں بخشا۔بلاشبہ حضورﷺ کی پشگوئیوں مطابق اور تاریخ کے اٹل قوانین کے تحت اب مسلمانوں کے عروج کا مرکز ہند(یعنی موجودہ پاکستان) بنے گا،جس کے اثار نمایاں ہیں۔عباسیوں نے رومیوں کو پسپا کرنے،سلجوقیوں اور عثمانی ترکوں نے بازنطینیوں اور مغلوں نے ہندوستان کو شکست دیکر عروج حاصل کیا تھا۔لیکن ہندوستان کے مسلمانوں نے پہلے ہندو،انگریز گٹھ جوڑ کے خلاف جدوجہد کر کے الگ مملکت حاصل کی اور پھر یکے بعد دیگرے روس جیسی مہیب فوجی قوت اور اب امریکہ جیسی سپر پاور کی شکست کے اسباب مہیا کر کے اس خطہ کے مسلمانوں کی احساس برتری فراہم کیا،شاید اس عہد کا ارطغرل یہیں پیدا ہو۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں