مدینہ پہنچ کر سرِ عام کہیو صبا کملی …

مدینہ پہنچ کر سرِ عام کہیو
صبا کملی والے سے پیغام کہیو

طبیعت اندھیرے سے اکتا گئی ہے
بہت دن سے ہے شام ہی شام کہیو

خزاں بھی گزاری بہاریں بھی دیکھی
ملا کوئی کروٹ نہ آرام کہیو

ہمیں پھول بانٹیں ہمیں زخم کھائیں
وہ آغاز تھا اور یہ انجام کہیو

ہمیں شہریارانِ شہرِ ستم سے
وفا کا جو ملتا ہے انعام کہیو

چراغاں محبت کا ہو تو کہاں ہو
کہ گھر ہو گئے بے در و بام کہیو

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
محرم کا اب عید ہے نام کہیو

یہ اشعار ان سے نہایت ادب سے
نگاہیں جھکا کر اور دل تھام کہیو

وہ خود ہی نہ دریافت فرمائیں جب تک
تخلص نہ ان سے مرا نام کہیو

وہ پوچھیں کہ ہے کون کم بخت عاجز
تلہاڑے کا ہے ایک بدنام کہیو

زمانے سے روتا سسکتا پھرے ہے
کبھی چین لے ہے نہ آرام کہیو

(کلیم عاجز)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

جواب چھوڑیں