کرونا سے تو لڑلیں گے مگر

ثروت روبینہ
کچھ برسوں سے جدید ٹیکنالوجی نے انسانوں کے درمیان حائل فاصلوں کو مٹانے میں جس طرح کردار ادا کیا وہ حیران کن ہے۔ فیس بک، وٹس ایپ اور ویڈیو لنکس کے ذریعے ساری دنیا کے انسان ایک انگوٹھے کے نیچے اکٹھے ہوگئے تھے۔ انسان اپنی اس کامیابی پر شاداں وفرحاں تھا کہ ٹیکنالوجی نے فاصلوں کو مٹا کر انسانوں کو انسانوں سے ملا دیا۔ پل پل کی حرکات وسکنات سوشل میڈیا پر اپ ڈیٹ ہونے سے ہم سب ایک دوسرے سے باخبر تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب ہی اس ملاپ پر مسرور تھے کہ اچانک کرونا کی وباءنے حکم جاری کیا کہ انسان کا انسان سے فاصلہ ضروری ہے حکم عدولی کی صورت میں بیماری یا موت کی سزا ہوسکتی ہے۔ سزا تو کسی غلطی پر ملتی ہے ہمیں اجتماعی طور پر سوچنا ہوگا کہ غلطی کہاں ہوئی؟ غلطی کی تلاش ساری دنیا میں بسنے والے انسانوں کو کرنی ہوگی کیونکہ کرونا نے جو نیو ورلڈ آرڈر جاری کیا ہے اس میں سب شامل ہیں کسی کو چھوٹ حاصل نہیں۔ کرونا آرڈر کے تحت فاصلاتی مجبوریوں کے مضر اثرات کو کم کرنے میں ا نٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے اہم کر دار ادا کیا۔ لوگ گھروں میں قرنطینہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے باخبر تھے۔
کرونا کی وباءکوئی پہلی وباءنہیں جس سے نسل انسانی کو واسطہ پڑا ہو۔ اس سے پہلے بھی انسان وباﺅں سے نمٹتا رہا ہے۔ covid 19 سے مراد ایک وائرس ہے اور یہ بیماری نومبر2019ءمیں سب سے پہلے چائنہ میں رپورٹ ہوئی۔جب ”کرونا“ نے ساری دنیا میں اپنے پنجے گاڑھ لئے تو رواں دواں زندگی کو حالت سکون میں لانا سب ہی کیلئے ایک دشوار کام تھا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کرونا جیسے نظر نہ آنے والے وائرس کو کوئی اپنا دشمن ماننے پر رضا مند ہی نہیں تھا۔ لوگ اکثر سوال کرتے پائے گئے کہ کہاں ہے کرونا؟ کیا کسی نے کرونا کا مریض دیکھا ہے ؟ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ گھر گھر کرونا نظر آ رہا ہے حکومتی اعدادو شمار سے کہیں زیادہ لوگ کرونا کاشکارہوئے اور ہورہے ہیں۔ سب سے خطرناک چیز غیرذمہ دارانہ رویے ہوتے ہیں اور یہ غیر ذمہ دارانہ رویے کسی بھی وباءسے زیادہ مہلک ہوتے ہیں۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ سے موصول ہونیوالی خبریں جھوٹ اور پراپیگنڈہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں بدقسمتی سے حکومت اس دروغ گوئی کیخلاف ناکام نظر آتی ہے۔ کرونا کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے سوشل میڈیا پر کرونا سے متعلق شکوک وشبہات نے خوب جگہ بنائی ۔ کرونا سے مرنے والوں کیلئے یہاں تک کہا گیا کہ مریضوں کو حکومت خود زہر کے انجکشن لگا کر مار رہی ہے کیونکہ کرونا سے مرنے والے ہر مریض پر حکومت کو25 لاکھ روپے امداد مل رہی ہے۔ اس پراپیگنڈا نے عوام کو ہسپتال سے خائف کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ،ایسی بے بنیاد چیزوں پر کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اسے چائنہ کی سازش کہتے ہوئے چائنیز وائرس کا نام دیا اور ہم نے اسے یہودیوں کی سازش کہا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ واقعی ایک سازش ہولیکن یہ بات اٹل ہے کہ کرونا ایک وباءکی صورت میں ہم میں موجود ہے اور ہمیں ان تمام اقدامات کی طرف توجہ دینی ہوگی جو اس وباءسے نمٹنے کیلئے ضروری ہیں۔ کرونا کس کی سازش ہے اس کا فیصلہ وباءسے نمٹنے کے بعد کیا جائے گا فی الحال احتیاط ضروری ہے کیونکہ کرونا کو لے کر عجیب وغریب ذہنیت دیکھنے میں آئی۔
لوگ کرونا سے تو بے خوف تھے ہی سچ تو یہ ہے کہ لوگ اس وباءمیں خوفِ خدا سے بھی عاری نظر آئے اور مجھے کرونا سے زیادہ خوف ان بے حس اور بے ضمیر لوگوںسے محسوس ہوا جنہوں نے مارکیٹ سے ماسک‘ سینی ٹائزر‘ ڈیٹول ‘ وینٹی لیٹر اور انجکشن غائب کئے۔ رہی سہی کسر آٹا‘ چینی اور پٹرول کے بحران نے پوری کر دی۔ سمجھ نہیں آرہا کہ وباءسے لڑیں یا ذخیرہ اندوزوں سے لڑیں۔ وباءتو ختم ہوجائے گی لیکن ان ذخیرہ اندوزوں سے کیسے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ہرحکومت میں بحران آتے ہیں‘ مافیاز مال کماتے ہیں اور کچھ دنوں بعد عوام بھول جاتے ہیں کہ مصنوعی بحران پیدا کرنےوالے کتنا مال ان کی جیبوں سے نکلوانے میں کامیاب ہوگئے۔ آج تک کسی حکومت نے ان مافیاز کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا لیکن عمران خان سے عوام کی توقعات دیگر حکمرانوں سے یکسر ہٹ کر ہیں۔ عمران خان اگر مافیا کو سزا دینے میں کامیاب رہے تو یہ عوام کے حق میں عمران خان کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ کسی بھی قدرتی آفت یا وباءسے نمٹنے کیلئے عوام کی سنجیدگی اور ذمہ داری بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ حکومت کی کیونکہ غیر سنجیدہ وغیر ذمہ دارانہ رویہ آپ کو تباہی کی طرف لے جاسکتا ہے۔ کچھ لوگ ڈینگی کاموازنہ کرونا سے کرکے حکومت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ڈینگی کو کنٹرول کرنے کیلئے بہترین اقدامات کئے گئے لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود ڈینگی کو کنٹرول کرنے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔وبائی اور غیر وبائی بیماریوں کو کنٹرول کرنے کیلئے الگ الگ لائحہ عمل اختیار کئے جاتے ہیں کسی بھی وباءسے نمٹنے کیلئے تین ماہ کا عرصہ ایک قلیل عرصہ ہے لہٰذا کرونا کاموازنہ ڈینگی سے کرکے حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں۔ اس وباءسے نمٹنے کیلئے حکومت سے زیادہ عوام پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماسک پہنیں۔ چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں بلاضرورت گھروں سے نہ نکلیں اور تقریبات میں جانے سے گریز کریں تو انشاءاللہ بہت جلد وباءپر قابو پاسکتے ہیں ۔لیکن جو کام حکومت کے کرنے کے ہیں حکومت کو ان پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ جب ڈینگی پھیلا تو اس کا ٹیسٹ شروع میں بارہ سے پندرہ سو روپے میں ہورہا تھا لیکن حکومتی مداخلت سے یہ ٹیسٹ غالباً 90 روپے میں ہونے لگا۔ اب کرونا جو کہ ڈینگی سے زیادہ خطرناک اور پھیلاﺅ رکھتا ہے اور پھر مریضوں کو دو سے تین مرتبہ ٹیسٹ نہ صرف اپنا بلکہ سارے خاندان کا بھی کروانا پڑتا ہے۔پرائیویٹ لیبارٹریاں کرونا ٹیسٹ کی مد میںپانچ سے چھ ہزار منافع کما رہی ہیں ، حکومت کو چاہیے کہ ٹیسٹ کی قیمت مقرر کرے تاکہ لوگ اپنے طور پر بھی ٹیسٹ کروا سکیں۔ اگرچہ حکومتی سطح پر یہ ٹیسٹ مفت کیا جارہا ہے لیکن حکومتی استعداد اتنی نہیں ہے کہ وہ کرونا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے مریضوں کے ٹیسٹ کرسکے۔ جہاں پاکستان میںبے حس مافیازموجود ہیں تو وہاں بہت سے انسانی صفات کے حامل لوگ بھی موجود ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائرلوجسٹ ڈاکٹر ادریس خان نے کرونا کی وباءکو پیشگی بھانپتے ہوئے فروری میں ہی کرونا ٹیسٹ کٹ تیار کرلی تھی جو کہ عالمی معیار کی ہے لیکن یہ کٹ حکومتی اداروں کی سست روی کی وجہ سے ابھی تک رجسٹریشن سے محروم ہے جس پر کثیر زرمبادلہ خرچ ہورہا ہے یہ کٹ رجسٹر ہونے پر کرونا کا ٹیسٹ پرائیویٹ لیبارٹریوں میں چند سو روپے کا ہوجائے گا اور حکومتی سطح پر بھی اس کٹ کے استعمال سے کثیر زرمبادلہ کی بچت ہوسکتی ہے۔لوکل کٹ کے استعمال سے یہاں ٹیسٹ سستا ہوگا وہاں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کی استعداد میں اضافہ ہوگا۔ جس سے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کے درست اعدادوشمار مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔اگر ہم اپنے سائنسدانوں کی قابلیت کواستعمال نہیں کرسکتے تو ہائر ایجوکیشن کو فنڈز دینے کامطلب ان فنڈز کو گٹر میں پھینکنا ہے۔
(کالم نگار قومی وسماجی امورپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں