محمد اسد: پہلا پاکستانی – قسط اول(تعارف) – فلک شیر

شک نہیں، کہ ہر طرح کی حمد وثنا اللہ ہی کے لائق ہے، اسی کی ہم حمد بجا لاتے ہیں، اسی سے ہم استعانت چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش کے طلبگار ہیں اور اسی کی ہم پناہ چاہتے ہیں اپنے نفوس کے شرور اور اعمال کی خرابیوں سے۔

اے ذات باری تعالیٰ اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی خاص رحمت سے، درود و سلام بھیج، اپنے نبی محمد علیہ الصلوۃ والسلام پہ، ان کی آل اور ان کے ساتھیوں پہ۔

کئی سال ہوتے ہیں، “شاہراہِ مکہ” کے عنوان سے ایک مضمون کسی نصابی کتاب میں پڑھا، بعد ازاں پتا چلا، کہ یہ مضمون دراصل The Road To Mecca کے نام سے محمد اسد کی خودنوشت سوانح سے لیا گیا ایک باب ہے۔ پھر متعدد دفعہ اسے پڑھانے کا موقع بھی ملا، لیکن مجھے اعتراف کرنے دیجیے کہ ایک اردو خواں قاری اور انگریزی زبان کے غیر ملکی استاد کی حیثیت سے اس متن کی جمالیات اس طرح مجھ پر کبھی نہ کھلیں، جس طرح ایک زبان کے اوسط سے کچھ آگے کے شناور پہ وا ہوتی ہیں یا ہونا چاہییں۔ شاید لغت سرہانے رکھ کر کسی متن کو پڑھنا اور اور رفتہ رفتہ امتحانی نکتہ نظر سے پڑھانے اور “سمجھانے” کے قابل ہو جانے سے کہیں آگے کا یہ مقام ہوتا ہے، کہ متن اپنی خوبصورتی آپ پہ کھولے، وافر مطالعہ، تفہیمِ اسالیب اور معادنی کے دروبست، یہ سب کسی زبان سے لو لگ جانے کے بعد کی منازل ہیں، جو ہمارے موجودہ سرکاری نظامِ تعلیم میں تو میسر نہیں۔ ہاں قیامِ پاکستان سے پہلے کے بزرگوں کی خودنوشت سوانح ہائے حیات پڑھنے، اور مجھے ان کی کچھ لت سی ہے، کے دوران یہ سمجھ آئی، کہ زبان سکھانے کے جو اسالیب تب برتے جاتے تھے، وہ آج سے کہیں بہتر، مؤثر اور جدید تھے۔ ڈائریکٹ میتھڈ اور وافر انگریزی متون پڑھانے کے جو پیٹرنز، فی زمانہ صحیح معنی میں ترقی یافتہ پرائیویٹ سکولوں کے نظام میں رائج ہیں، یہ اُن سے خاصی حد تک ملتے جلتے ہیں۔ مجھے اسی سلسلہ میں فرحت اللہ بیگ کے ڈپٹی نذیر احمد صاحب سے متعلق ان کے مضمون کا ایک اقتباس یاد آرہا ہے، جسے درج کیے بغیر میں نہیں رہ پاؤں گا۔ لکھتے ہیں:

“میں نے کہا: مولوی صاحب ! آپ کی جماعت کہاں بیٹھتی تھی؟
کہنے لگے: پرنسپل صاحب کے کمرے کے بازو میں جو چھوٹا کمرا ہے، اس میں ہماری جماعت تھی۔
دوسرے پہلو میں جو کمرا ہےاس میں فارسی کی جماعت۔
دانی نے کہا: مولوی صاحب! آپ کے اختیاری مضمون کیا تھے؟
مولوی صاحب ہنسے اور کہا: میاں دانی! ہم پڑھتے تھے، آج کل کے طالب علموں کی طرح چوتڑوں سے گھاس نہیں کاٹتے تھے۔ ارے بھئی !ایک ہی مضمون کی تکمیل کرنا دشوار ہے۔ آج کل پڑھاتے نہیں لادتے ہیں۔ آج پڑھا، کل بھولے۔ تمہاری تعلیم ایسی دیوار ہے، جس میں گارے کا بھی ردا ہے، ٹھیکریاں بھی گھسیڑ دی گئی ہیں، مٹی بھی ہے، پتھر بھی ہے، کہیں کہیں چونا اور اینٹ بھی ہےایک دھکا دیا اور اڑا اڑا دھم گری۔ ہم کو اس زمانے میں ایک مضمون پڑھاتے تھے، مگر اس میں کامل کر دیتے تھے۔ پڑھانے والے بھی ایرے غیرے پچکلیان نہیں ہوتے تھے۔ ایسے ایسے کو چھانٹا جاتا تھا، جن کے سامنے آج کل کے عالم، محض کاٹھ کے الو ہیں”

بہرحال اس بحث کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، سرِدست تو ہمیں اپنے ممدوح ‘محمد اسد’ کے حوالے سے تعارفی کلمات آپ کی خدمت میں پیش کرنا ہیں۔ لیوپولڈ ویز کے پیدائشی نام سے موسوم “محمد اسد” پچھلی صدی میں عالمِ اسلام کو یورپ سے میسر آنے والا ایک بڑا دماغ ہیں، جن کے قلم اور ایمان کی چاشنی وقت کے ساتھ بڑھتی ہی چلی جار ہی ہے اور ان کی گرمی حقیقت جُو قلوب، بالخصوص جو اد بی جمالیات کے رستے اعتراف حق کی طر ف مائل ہوتے ہیں، میں خوب محسوس کی جا رہی ہے۔ اسد کے یہودی النسل والدین یوکرائن سے ہجرت کر کے مشہورِ زمانہ یورپی شہر ویانا میں مقیم ہو چکے تھے، جب انیس سو عیسوی میں ان کی پیدائش ہوئی۔ یوں وہ مذہب و نسل کے اعتبار سے یہودی اور شہریت کے لحاظ سے آسٹرو ہنگیرین ٹھہرے۔ اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ انہوں نے ویانا ہی میں گزارا۔ تعلیم کے حصول کے بعد وہ فلم سکرپٹ لکھنے اور مختلف اخباروں کی نامہ نگاری کے کاموں میں مشغولیت تلاش کرتے رہے۔ بائیس سال کی عمر میں وہ یروشلم اپنے ماموں کی دعوت پہ پہنچے، یہیں انہوں نے فرینکفرٹر زائی تنگ نامی اخبار کے لیے نامہ نگاری شروع کی، جس کے سلسلہ میں انہیں مشرقِ وسطی میں سفر کرنے کے کافی مواقع ملے۔ انیس سو چھبیس میں انہوں نے بالآخر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے شام، عراق، کردستان، ایران، افغانستان اور سنٹرل ایشیا کے دوسرے ممالک کا سفر کیا اور اسلام ان کے اندر اترتا گیا۔ سفر اور حرکت ان کی زندگی کے دو نمایاں ترین حوالے ہیں، ان کی بیوی حمیدہ مرحومہ نے بھی اس حوالے سے لکھا ہے، کہ ان کے پاؤں میں گویا چکر تھا۔

محمد اسد کی زندگی کا وہ حصہ، جس میں ان کا قیام غیر منقسم برصغیر پاک و ہند اور بعد ازاں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہا، اس نے مجھے اس کتاب کی تلخیص کے لیے زیادہ پرکشش بنایا، کیونکہ اسد صاحب اس عرصہ میں بیک وقت ایک نظریات ساز مفکر، علوم اسلامیہ کے مترجم و مفسر، ثقافتِ اسلامی کے مبصر، شمشیر براں مجاہد، جنوں شعار مسافر اور ایک نو مولود اسلامی مملکت کے نظریاتی و سفارتی محاذ کے سپاہی اور عاشقِ صادق کی جہات سے اپنے آپ کو منوا چکے تھے۔ میرے خیال میں تو ان کی زندگی کی باقی داستان اسی عرصہ کی بازگشت تھی، اپنا بہترین تگ و تاز کا وقت وہ اسی کارزار کے میدان میں بِتا چکے تھے۔ وہ عالمِ اسلام کے اتحاد اور اِ س کی اقوام متحدہ جیسی اپنی تنظیم کے داعی تھے اور اس کے لیے پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے دیار دیار پھرا کیے۔ کیسا عجیب اتفاق ہے، کہ اتحاد بین المسلمین کے محاذ کے ایک اور نیک نام سپاہی، رقیق القلب سعودی حکمران، شاہ فیصل مرحوم سے ان کے برادرانہ تعلقات تھے اور اوائل عمری میں دونوں نے حجاز کی سرزمین میں بہت سا وقت اکٹھا گزارا تھا۔ جس دوپہر لیاقت علی خان کو اکبر خان نے طپنچہ چلا کر زمین پہ گرایا، اس دن ان کی تقریر کے لیے جو نکات ان کے سامان سے ملے، ان میں سے ایک لیگ آف مسلم نیشنز تھا، جس کے لیے ابتدائی تعارفی دورہ پہ اس وقت محمد اسد تھے۔ لیاقت علی خان شہید ہوئے اور محمد اسد نے کراچی واپسی کے لیے جہاز پکڑا، وہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں، کہ ان کے قتل کے پیچھے لیگ آف مسلم نیشنز کے اس خواب کا بھی کوئی شاید کوئی کردار ہو۔ اس تعارفی مضمون کا عنوان بھی میں نے “محمد اسد، پہلا پاکستانی” موزوں سمجھا، کیونکہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے پہلا پاسپورٹ اسد مرحوم کو ہی دیا گیا تھا اور وہ بھی اتحاد بین المسلمین کے لیے کیے جانے والے اس بابرکت سفر پہ روانگی کے لیے، وزیراعظم پاکستان، جناب لیاقت علی خان کے حکم پہ۔

The Road To Mecca کے نام سے ان کی معروف خودنوشت میں ان کی زندگی کے ابتدائی سالوں کی کہانی ہے، جس میں سعودی عرب میں ان کے قیام تک کے تذکار محفوظ ہیں۔ اس کے بعد ایک لمبی مدت تک انہوں نے اپنی زندگی کی یادداشتوں کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا۔ کافی بعد میں انہوں نے اپنی دوسری بیوی پاؤلا حمیدہ مرحومہ کے اصرار پہ of the Heart Home-coming کے عنوان سے اپنی زندگی کے مابعد سعودی عرب حالات مرتب کرنا شروع کیے، بوجوہ وہ انہیں مکمل نہ کر پائے، جنہیں حمیدہ مرحومہ نے بعدازاں مکمل کیا۔ محمد اسد مرحوم کی اس کتاب، جس کا اردو ترجمہ ” بندہ صحرائی” کے عنوان سے میسر ہے۔ ہمیں یہاں محترمہ حمیدہ مرحومہ کا بے حد شکرگزار ہونا ہے، جن سے محمد اسد کی بے پناہ محبت نے The Road to Mecca اور بعد ازاں Home-Coming from the Heart کے لیے ان کو قائل اور مائل کیا، گو کہ اول الذکر کتاب کے ہنگام اسد کا حمیدہ سے تعلق نیا نیا اور کتاب میں الوہی محبت کے ساتھ ساتھ زمین پہ سب سے زیادہ مقدس اور پرلطف چیزوں میں سے ایک، یعنی کسی مرد کا ایک عورت سے خدا کے نام پہ عقد میں بندھ جانا، اسے اپنے شریک حیات کے طور پہ قدم قدم ساتھ چلانا اور قدر کرنا، دوسے ایک ہو جانا اور آدم و حوا کی کہانی کی مانند ایک نئی کہانی لکھنا، بھی جھلک جھلک اٹھتا ہے۔ اسد نے اس کا اقرار بھی کیا اور دوسری کتاب کے لیے بھی اگر حمیدہ انہیں مسلسل مجبور نہ کرتیں، تو شاید وہ اسے نہ لکھ پاتے۔

The Road to Mecca کے اس نقش ثانی میں سعودی عرب، یعنی ان کے قلبی گھر سے برصغیر پاک و ہند کی طرف رجعت کا تو تفصیلی ذکر نہیں ہے، نہ ہی ایسا کوئی تذکرہ کتاب کے پہلے حصہ میں موجود ہے، کوئی ایک ٹھوس وجہ، اس ہجرت ثانی کی انہوں نے پیش نہیں کی۔ اس ایک طرح کی سریت کی وجہ سے جان عبداللہ فلبی جیسے ناقدین نے ان کی کتاب کے پہلے حصہ کو مہمل اور غیر معمولی سادہ لوحی کا مظہر تک قرار دیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کتاب نے اپنا سکہ علمی، ادبی اور عامی حلقوں میں نہیں جمایا۔ کتنی ہی دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن کتاب کی قراءت ذاتی کتب خانوں سے جامعات کے نصاب منتخب کرنے والی کمیٹیوں کے سامنے ہمیشہ ہوتی رہی ہے اور بہت سے نقادوں کے مطابق عرب کی سرزمین کے حوالے سے لکھی جانے والی کتب میں سے یہ یکے از بہترین ہے۔

اسد مرحوم مغربی ذہن اور مشرقی دل لے کر پیدا ہوئے تھے، اللہ کے فضل کے بعد شاید یہ ان کے اسفار تھے، جنہوں نے ان کی شخصیت کے اس دوسرے حصے کو وہ در وا کر کے دیے تھے، جن تک تعقلِ محض اپنی زقندوں کے باوجود عدم رسائی سے دوچار رہتا ہے۔ محمد اسد اسلام کی کلچر، سیاست، معیشت اور epistemology کے دائروں میں فوقیتِ قطعی کے داعی تھے، اس سلسلہ میں انہیں عین یورپ کے وسط میں رہتے ہوئے، تمام تر فنی اور طبعی و نظریاتی ایجادات و تجدد کے باوجود، کبھی رتی بھر تردد نہیں ہوا۔ اپنی کتاب Islam at the Crossroads میں لکھتے ہیں:

“We must learn -once again- to regard Islam as the norm by which the world is to be judged.”

“ہمیں ایک بار پھر دنیا کو اسلام کی آنکھ سے دیکھنا سیکھنے کی ضرورت ہے”

چند سال قبل ان کی پیدائشی سرزمین آسٹریا کی حکومت نے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ویانا میں اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے ایک میدان کو ان کے نام سے منسوب کیا، یوں آبائی وطن میں ان کی ایک یادگار قائم ہوئی، لیکن ذرا دیکھیے کہ حجاز میں اسلام کے ابتدائی ایام گزارنے والے اس صحرا نورد نے آنکھیں اندلس (اسلامی روایت کے مغرب و مشرق کے جامع دیس) کے شہر ملاگا میں بند کیں۔ انیس سو بانوے کو جب انہوں نے وفات پائی، تو ان کی عزیز اہلیہ حمیدہ ہی ان کے قریب تھیں، ان کی اس یورپین بیوی سے کوئی اولاد نہ تھی۔ پروفیسر طلال اسد، پہلی نجدی بیوی سے ان کا معروف سکالر بیٹا، آج کل مغرب میں ہی مقیم ہے اور اسلام، روایت اور مغرب کے حوالے سے اپنا فکری کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قبل کہ میں کتاب کے ابواب کی فہرست اپنے قارئین کے سامنے اس نیت سے پیش کروں، کہ وہ بچشمِ سر دیکھ سکیں کہ اس کتاب کی تلخیص اور شاید چند جگہوں پہ توضیح (جس کو الگ سے واضح کر دیا جائے گا ان شاءاللہ) سے مجھے کیوں دلچسپی پیدا ہوئی اور وہ آئندہ ہفتوں میں اس کی اقساط سے کس قدر دلچسپی پاتے ہیں، میں پروفیسر طلال اسد کے ایک انگریزی مقالہ سے ایک اقتباس پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں، جو امید ہے، ان کی شخصیت کی درست تفہیم، ان سے ہماری دلچسپی اور تعلق کو واضح بنیادوں پہ استوار کر دے گا۔

“بہتر ہے کہ میں اس مقالہ کا آغاز اپنے والد کی حیات و خدمات سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے ہاں موجود ایک سوچ کی اصلاح سے کروں، اور وہ یہ کہ ان کے قبول اسلام کو مشرق و مغرب کے درمیان پل تعمیر ہونے سے مشابہ سمجھا جائے۔ حتی کہ ان کے بارے میں یہاں تک کہا گیا، کہ وہ ایک یورپی دانشور تھے، جو اسلام کو “آزاد” کرنے کے لیے مسلمان ہوئے تھے؛ اس سے زیادہ بعید از حقیقت بات ان کی بابت کہی نہیں جا سکتی۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا (جیسا کہ عربی اصطلاح ‘اسلم’ کا معنی تابع ہونے کا ہے)، تو وہ ایک ایسی ثروت مند اور پیچ در پیچ روایت کا حصہ بنے تھے، (جس کے مختلف دھارے) پندرہ سو برس کے عرصہ میں متنوع طرق پہ ارتقاء کر چکے تھے، اور یہ طرق بیک وقت باہم موافق و مخاصم رہ کر (قائم و ارتقاء پذیر) رہے ہیں۔ سو وہ اپنی علمی کاوشوں میں قرونِ وسطٰی کے اندلسی عالم ابو محمد ابن حزم کے علمی منہاج کی پیروی کی کوشش کرتے، انیسویں صدی کے مصری مصلح محمد عبدہ کی تشریحات سے اکثر و بیشتر فوائد چنتے اور کئی اہم نکات پہ شدید اختلافات کے باوجود چوتھی صدی ہجری کے شامی عالم، تقی الدین احمد ابن تیمیہ سے بھی۔ میرے والد نے آخرالذکر (ابن تیمیہ) کی طرح عقل، نقل اور ارادہ کے اجتماع سے اسلام کی ایک واضح اور مربوط تعبیر کی کوشش کی تھی۔”

اسی مقالے میں کچھ آگے جا کر طلال اسد لکھتے ہیں:

“لہذا میں یہ کہنا چاہوں گا، کہ میرے والد “پل بنانے” میں کم اور اسلام کی روایت، جو ان کی روایت بن چکی تھی، میں شدید استغراق کے خواہاں تھے، ساتھ ہی ساتھ اپنی کمیونٹی کے ارکان (مسلمانوں) کی اس امر پہ حوصلہ افزائی کرنا کہ وہ اس اپروچ کو اپنا لیں، جو ان کے خیال میں اس روایت کا جوہر تھی”

محمد اسد کی پاکستان کے ساتھ الہامی دلچسپی اور خصوصی تعلق، عالمِ اسلام کے فکری مسائل پہ ان کے خیالات اور قیامِ پاکستان کے ہنگام ان کی یادداشتوں سے لے کر دنیا بھر کے مختلف خطوں میں قیام کے دوران ان کے معمولات، یہ سب، ایسا دلچسپ، اہم اور معلومات کے پرائمری سورس ہونے کی خوبی کا حامل ہے، کہ راقم نے ان کی خود نوشت سوانح حیات کے اسی دوسرے حصہ، جس کا نصف انہوں نے خود اور باقی ان کی اہلیہ پاؤلا حمیدہ نے مرتب کیا، یعنی “بندہ صحرائی” کی تلخیص کو آپ کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ کیا ہے، اور توفیق اللہ کی طرف سے ہی ہے۔ کتاب کو اکرام چغتائی صاحب کے اہتمام سے شائع کیا گیا تھا، اور یہ کتاب سرائے لاہور اور فضلی بک کراچی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ اب آخر میں اس کتاب کے ابواب کی فہرست نقل کرتا ہوں، امید ہے کہ آئندہ ہفتوں میں ان شاءاللہ ان ابواب کی تلخیص آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کرتا رہوں گا۔

  • ارضِ ہند (1932-1933)
  • سیاحتِ ہمالیہ (1933)
  • اسلام دوراہے پر (1933-1934)
  • سنہری دور (1934-1937)
  • خنک سال (1938-1945)
  • تقسیمِ ہند (1946-1947)
  • احیائے اسلام (1947-1950)
  • وزارتِ خارجہ : شعبہ مشرقِ وسطٰی (1949-1951)
  • اتحاد بین المسلمین (1951)
  • اقوام متحدہ (1951-1952)
  • شاہراہِ مکہ (1952-1953)
  • مشرقی بحیرہ روم تا خلیج فارس (1955 – 1957)
  • دوبارہ پاکستان میں (1958-1959)
  • سوئٹزرلینڈ (1959 – 1964)
  • طنجہ (1964 – 1983)
  • پرتگال (1983 – 1986)
  • بند گلی 1987-1992)

یہ تعارفی نوٹ کوئی Biographical unity نہیں ہے، بلکہ چند تصویریں ہیں مختلف زاویوں سے لی گئی، جو میرے خیال میں اس کتاب کی تلخیص کی میرے دل میں پھوٹنے والے خواہش کو justify کر سکیں گی ان شاءاللہ، بہرحال اگر ذی علم قارئین کو اس میں تشنگی محسوس ہو، تو مجھے امید ہے کہ آئندہ ابواب کی ہفتہ وار تلخیص سے وہ کسی قدر مطمئن ہو جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ محمد اسد کو اپنی نعمتوں سے ہمیشہ نوازتے رہیں اور جنت الفردوس میں ان کے مراتب اعلیٰ سے اعلیٰ فرماتے رہیں۔ ہمیں صراط مستقیم پہ گامزن فرمائیں اور تا دمِ واپسیں صحت و عافیت کے ساتھ علم و تحقیق، دعوت و جہد اور اسلام و ایمان کے ساتھ اسی پہ قائم رکھیں۔

—-جاری ہے—-

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں