کچھ لوگ واہیات ہوتے ہیں اور تاحیات رہتے ہیں۔۔اسد مفتی


گزشتہ ہفتے حاضرِ خدمت نہ ہوسکا،معذرت خواہ ہوں۔
مرحوم جمیل الدین عالی کی طرح یہ تو نہ کہہ سکا کہ ایک کالم کا ناغہ درجنوں ٹیلی فون کالوں اور سیروں ڈاک کا موجب بن جاتا ہے،البتہ اس حقیر سائیں نے دوچار کالیں ضرور موصول کیں تھیں،کہ نصیبِ دشمناں طبعیت تو ناساز نہیں۔۔
اصل میں ہوتا یوں ہے کہ ساری دنیا کو تنقید کا نشانہ بنانے اور کُل عالم پر فتح پانے کے لیے ہم ہر دم تیار رہتے ہیں،لیکن ہم سے کبھی یہ نہیں ہوپاتا کہ ہم اپنی جانب بھی نگاہ ڈالیں،کبھی اپنی طرف بھی دیکھ لیں،اپنا سامنا بھی کرلیں،اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں۔
عطاالحق قاسمی کی طرح دوسرں کے گریبان میں جھانکنا ہی ایک شوق یا مشن نہیں ہونا چاہیے۔
بہت عرصہ پہلے میں نے کہیں اردو کے مایہ ناز ادیب راجندر سنگھ بیدی کے بارے میں پڑھا تھا کہ اس نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ،”انسان کی ساری اوقات ظاہر ہوجاتی ہے،جہاں وہ اپنا سامنا کرتا ہے”۔
خواہ ہم انفرادی سطح پر ہوں یا گروہ کی صورت میں،قوم و ملت کی شکل میں ہوں یا کسی ادارے کی حیثیت سے اپنے خلاف تنقید سن کر بھڑک اٹھتے ہیں۔
اس سلسلے میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔۔
ایزرا پونڈ امریکی شاعر اور تنقید نگار تھا،1972میں اُس کا انتقال ہواچکا ہے،رابندر ناتھ ٹیگور سے اس کی پہلی ملاقات 30جون 1912کو لندن میں ہوئی،وہ ٹیگور کی صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوا،ٹیگور کی نظم گیتا انجلی کا انگریزی ترجمہ چھپا،تو ایذاپوؤنڈ نے لکھا کہ ٹیگور کے کلام میں وہ عظمت پائی جاتی ہے،جو دانتے کی خصوصیت ہے،اس نے یہاں تک کہا کہ وہ ہم میں سے کسی بھی شخص کے مقابلے میں زیادہ عظیم ہے۔
ایذراپوؤنڈ نے ٹیگور کی بابت یہ الفاظ 1913میں ایک امریکی رسالہ “فارن ریویو”میں لکھے تھے۔صرف ایک ماہ بعد یعنی اپریل 1913کو اس نے رسالہ پوئٹری کے ایڈیٹر کے نام ایک خط لکھا جس میں ٹیگور کو فضول قرار دیا،اور کہا کہ اس کے کلام میں صعف بعض پرانی باتوں کی تکرار ہے۔اور اصل بنگالی زبان میں جو ادبی چاشنی تھی،وہ بھی انگریزی ترجمہ میں ختم ہوگئی ہے۔ٹیگور کے بارے میں ایذراپوؤنڈ کی رائے میں یہ تبدیلی کیسے آئی؟
اس کی وجہ یہ تھی کہ ایذراپوؤنڈ نے بھارتی ادیب و شاعر کالی موہن گوش کی مدد سے کبیر کی نظموں کا انگریزی ترجمہ شروع کیا،یہ ترجمہ کتابی صورت سے پہلے میگزین میں قسطوار چھپا۔ٹیگور نے اس ترجمہ کو دیکھا تو وہ اس کو بہت ناقص معلوم ہوا۔اس نے ترجمہ کے ادبی معیار پر سخت تنقید کو پڑھ کر ایذراپوؤنڈ بگڑ گیا۔اور وہی ٹیگور جس کی بابت وہ اس سے پہلے غیر معمولی تعریفی کلمات کہہ چکا تھا،اس ی ہجو کرنے لگا۔
بیشتر انسانوں کے لیے سب سے قابلِ نفرت بات ان کی اپنی ذات پر تنقید ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر انسانوں کے لیے پرستش کا مرکز ان کی اپنی ذات ہوتی ہے،اکثر لوگ دوسروں کی لیاقت کا اعتراف نہیں کرتے،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ڈرتے ہیں کہ دوسروں کی اہمیت کا اعتراف کرنے سے اپنی حیثیت کم ہوجائے گی۔دوسروں کا اعتراف کرنے کے لیے اپنے آپ کو چھوٹا کرنا پڑتا ہے۔اور کون ہے جو اپنے کو چھوٹا کرنے کی قیمت پر دوسرے کی حیثیت کا اعتراف کرے؟۔۔
صرف دو قسم کے لوگ ہیں،جو خود کو “چھوٹا”کرنے پر راضی ہوتے ہیں،یا تو وہ لوگ جو اتنے اونچے ہوں کہ کسی کی بڑائی کا اعتراف کرنے سے انہیں یہ ڈر نہ ہو کہ ان کی شخصیت میں کمی آجائے گی،دوسرے وہ لوگ اس بات کی ہمت کرتے ہیں جنہیں احساس کمتری نے پہلے ہی اتنا چھوٹا بنا رکھا ہو کہ اب دنیا کی کسی چیز سے انہیں مزید چھوٹا ہونے کا خطرہ نہ رہے۔کچھ ایسے لوگ بھی ملیں گے جو عام حالات میں شرافت اور معقولیت کا ثبوت دیں گے،لیکن اگر ان کے خلاف کوئی قابلِ شکایت بات ہوجائے تو وہ فوراً بدل جائیں گے،ان سے شرافت اور معقولیت کا تحفہ صرف اس شخص کو مل سکتا ہے جو ان کی “انا”کو خوش کررہا ہو،جو ان کی اپنی بڑائی کے تانے بانے کو منتشر نہ کرے،مگر جس شخص سے انہیں کسی قسم کی ٹھیس پہنچ جائے،اس کے لیے وہ مکمل طور پر غیر شریف اور غیر معقول انسان بن جاتے ہیں۔اور جو آدمی کسی کی تعریف کرتا ہے،تو اکثر حالات میں وہ خود اپنی تعریف کی ایک صورت ہوتی ہے۔
ایک لیڈر جب اسٹیج پر کھڑا ہوتا ہے تو دراصل وہ عوام کو ان کے اس عطیہ کا بدلہ دے رہا ہوتا ہے کہ انہوں نے اس تقریری تھیٹر میں جمع ہوکر اس کی شان میں اضافہ کیا، ایک شخص جب کسی ایسے شخصکے اعتراف میں قصیدہ پڑھتا ہے،جو اس کا حریف نہیں ہے تو دراصل اپنے وسعتِ ظرف اور اپنی شرافت کے اشتہار کی ایک بے ضرر صورت ہوتی ہے۔
ایک صاحبِ قلم جب دوسرے صاحبِ قلم کے تذکرے میں الفاظ کے پھول کھلاتا ہے تو وہ یا تو بالواسطہ طور پر اس کے کسی سابقہ قصیدے کا شکرانہ ادا کررہا ہوتا ہے،یا کہتا ہے ک ہتم بھی اسی طرح میرا قصیدہ شائع کرنا،کبھی ایک تعریف اس لیے بھی شائع کی جاتی ہے کہ کسی سابقہ تنقید کی وجہ سے اپنی بگڑی ہوئی تصویر کو متوازن کیا جائے،
حقیقی تعریفی کلمات دراصل وہ ہیں کو کسی بھی عظیم شخص کی خیر خواہی کے جذبے کے تحت نکلے ہوں،مگر یہی چیز دنیا میں سب سے زیادہ کمیاب ہے،کسی کو حقیقی خیر خواہی کا ایک کلمہ کہہ دینا اتنی بڑی فیاضی ہے،جو شاذو نادر ہی کسی خوش نصیب کے حصے میں آتی ہے۔ورنہ یہاں آدمی جھوٹے الفاظ کی ایک ڈکشنری لیے ہوئے ہے،صرف اس لیے کہ جھوٹے الفاظ کی ڈکشنری دنیا کے بازار میں سب سے زیادہ دھوم کیساتھ بکتی ہے۔کاش لوگوں کو یہ معلوم ہوتا کہ اس دنیا میں سب سے قیمتی سودا وہ ہے جو بکنے سے رہ گیا ہو۔۔
چلتا رہنے دو میاں سلسلہ دلداری کا
عاشقی دین نہیں ہے کہ مکمل ہوجائے!





بشکریہ

جواب چھوڑیں