قطمیر۔۔ مختار پارس | مکالمہ


کچھ نہ کچھ تو ہونا تھا۔تخلیق اپنی وجہ اور وجود سے منکر ہو گئی۔ ارض و سما استعارے اور اشارے بن کر رہ گئے ۔ پہاڑوں کو سر کرنے کی روایت ٹوٹ گئی۔ شہرِذات کی فصیلیں اب تعمیرہونے لگیں۔ نیتیں اعمال کے آنگن میں برہنہ وار رقص کرنے پر اتر آئیں۔ استقامت کے پاؤں پہلے لرزے پھر اکھڑ گئے  اور نظریات چکناچور ہو کر گر پڑے۔ عافیت کے معانی یہ ٹھہرے کہ کوئی کسی کا نہ رہے۔ عہدِ ماضی ایک روزنِ زنداں بن گیا اور مثالیں صرف آنسو بہانے کےلیے رہ گئیں۔ لوگ شکستگی کے ساۓ میں پناہ لینے لگے اور نفرت نے ڈرے ہوۓ لوگوں کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ حیوان رستہ بھول کر شہروں میں آ گئے ۔ مظلوم انصاف کی تلاش چھوڑ کر زمانے کے نبض شناس بن گئے ۔ ملامت ماتھے کا ٹیکا بن گئی اور دشنام نے شرما کر گھونگٹ اٹھا دیا۔ خوش گمانوں کی منڈیر پر کاگا نے بیٹھنا چھوڑ دیا۔ دوست ایک دوسرے کی تاک میں اکٹھے ہو گئے ۔ کیا اب بھی کچھ نہ ہوتا؟

ہوا یہ کہ اب شاید زندگی کے اصول نئے  سِرے سے ترتیب دینے پڑیں۔ آزمائیش یہ ہے کہ انسان کو ثابت کرنا تھا کہ وہ اشرف المخلوقات ہے مگر وہ اس مقصدِ عظیم میں ناکام رہا۔ اسے ایک فرد کی حیثیت سے عالمِ نور سے اتارا گیا مگر اس نے خدا کی زمین پر سرحدیں کھینچ کر اقوام کو ترتیب دے دیا۔ اسے قبیلوں میں اس لیے بانٹا گیا تاکہ وہ ایک دوسرے کی پہچان کر سکیں مگر اس نے ممالک اور تہذیبوں کو دشمنی کی بنیادوں سے سینچ دیا۔ ہزاروں سال اس انسانی تجربے کی نذر ہو گئے  جس میں تہذیبوں نے راج کیا۔ اقوام نے جنگ و جدل اور سلطنتوں نے آثارِ قدیمہ کے سوا انسان کو کیا دیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ حاصلِ سفرِ زیست یہ ہے کہ اجتماعی ترقی نے انسان کی انفرادی حیثیت کو پستی میں دھکیل دیا ہے۔ وہ اپنے اجتماعی شعور کا غلام ابنِ غلام بن کر رہٹ کے بیل کی طرح دائروں میں گھوم رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسکا دائرہ ہی سب کامرکزِ نگاہ ہے۔ اسے اس اجتہاد کا اعادہ کرنا ہے کہ وہ اکیلا خود مرکزِ حیات ہے۔

پیدا کرنے والے نے انسان کو تین معجزے دیے ہیں جو کسی اور مخلوق کو عطا نہیں کیے گئے ۔ اول یہ کہ وہ سوچ سکتا ہے، دوئم کہ وہ بول سکتا ہے اور سوئم کہ وہ ہنس سکتا ہے۔ اس کی سوچ کی پرواز ایسی ہے کہ باطن تک پہنچنے کی قدرت رکھتی ہے؛ وہ ناطق بن کر دکھاۓ تو الفاظ سے کبھی مسحور کردے، کبھی مجبور کردے؛ اور لبوں پر تبسم بکھیرنے کا ارادہ کرلے تو گل و گلزار ہو جاۓ اور ہربار نوبہار کردے۔ ہر شخص اپنی سوچ کا عکس ہے اور اس کی دنیا اسکی آنکھوں کے سامنے نہیں بلکہ اس کے سر کے اندر آباد رہتی ہے۔ خدا کے دیے ہوۓ تین معجزوں نے اس کے کندھوں پر تین انفرادی ذمہ داریاں ڈال دیں۔ اس سے کہہ دیا گیا کہ وہ جان لے کہ ‘کن فیکون’ کی وجہ خدا کی انسان سے محبت ہے۔ پھر اس سے تقاضا ہوا کہ اس محبت کو اس نے ‘حسنِ خلق’ سے تقسیم کرنا ہے۔ پھر طے ہوا کہ اسے ہر حال میں رب کی ‘رضا’ میں خندیدہ رہنا ہے۔تفکر، تکلم اور تبسم کی یہ ذمہ داریاں کسی قوم یا ملک پر نہیں بلکہ فرد پر ہیں۔ ملک، قوم اور ریاست ایک فرد کی عزتِ نفس سے ترتیب پاتے ہیں۔ غلط یہ ہوا کہاس نے ان تین معجزوں سے سلطنتیں بنا ڈالیں جبکہ انسانیت کی تکمیل کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ ایک شخص اگر خدا کی رضا سے عاری ہے اور دوسرے انسانوں کی محبت کا روادار نہیں تو وہ جس سلطنت کی تعمیر کرے گا یا جس ملک کا حصہ ہو گا، وہ ظلم کا نظام ہو گا۔ خدا کا نظام حقوق العباد سے قائم ہوتا ہے اور ایسی مملکت صرف ایک اچھے فرد کے دل میں انسانیت کے امکانات سے قائم ہو سکتی ہے۔ ایک تنہا فرد اگر درگزر، صلہ رحمی، امانت، اخوت اورسخاوت کا قائل نہیں تو ربطِ ملت بھی کچھ نہیں۔

تقدیر تقسیم نہیں، تدبیر ہے۔ بے وجہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جو ملتا ہے، اسکا حساب رکھنا ضروری ہے۔ انسان کا اپنا اختیار قطمیر پر بھی نہیں۔ جن کو محبت کرنے کا اختیار دیا جاۓ، وہ اس سے نفرت کا کاروبار نہیں کر سکتے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو پھر شکوہء آفات و ممات کی گنجائش نہیں۔ اپنی تخلیق پر شرمندہ ہونے کا سامان مہیا نہیں کیا جا سکتا۔ اشرف المخلوقات پر یہ الزام لگے کہ اس نے لب و رخسار کےلیے شہر جلا ڈالے یا سونے اور جواہر کےلیے خدا کو بیچ دیا تو پھر یہ جرم قابلِ تقصیر نہیں۔ احترامِ آدمیت یہ ہے کہ کوئی قانون انسان سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ رب کا قانون یہ ہے کہ انسان کو اس کے مرتبے سے نہیں گرایا جا سکتا۔ اسے رب نے اخلاقِ حمیدہ کے مرتبے پر فائز کیا ہے۔

انسان کے عقب میں سورج ہے اور اس کو اپنا سایہ اپنے قد سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔ انسان جب بھی اپنی حیثیت کو فراموش کرکے سوچتا ہے، بولتا ہے یا ہنستا ہے تو اپنے مرتبے سے گر جاتا ہے۔ سوچ کو سورج اور گفتگو کو کرنوں جیسا ہونا چاہیے، بہت روشن اور بہت بامقصد۔ سورج کا اپنا سایہ نہیں ہوتا۔ جو چیز اس کی روشنی میں حائل ہوتی ہے، اسکا سایہ بن جاتا ہے۔ مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ روشنی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ کہتے ہیں کہ رحمت اللعامینؐ کا بھی سایہ نہیں تھا۔ ان کی روشنی یہ ہے کہ انہوں نے جس ریاست کی بنیاد رکھی، اس کی سیاسی یا جغرافیائی سرحدوں کا تعین نہیں کیا۔ انہوں نے جس نظام کو دنیا کے سامنے طلوع کرکے دکھایا، اسے ہم ‘لقد خلقنا الانسان فی احسنِ تقویم’ پڑھتے ہیں۔ وہ انسان نہیں جو معاشرتی تعمیر و تسخیر میں اپنی پہچان کھو بیٹھے۔ وہ بھی نہیں جو کبھی تنکیر، تحقیر اور تظہیک کا سہارا لے۔ وہ تو ہے ہی نہیں جو پا بہ زنجیر کر دے۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں