جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام اور ”خبریں“

سارہ شمشاد
پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کیلئے تعیناتی پر حتمی مشاورت کے بعد سیکرٹری آبپاشی زاہد اختر زمان کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انعام غنی کو ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب تعینات کیا ہے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں 18 محکمے قائم ہونگے، ہر محکمے کا ایک سپیشل سیکرٹری اور2 ایڈیشنل سیکرٹری تعینات ہونگے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، صحت، انہار، توانائی، بلدیات، خزانہ، زراعت اورتعلیم کے شعبہ جات قائم کیے جائیں گے۔اس اقدام سے ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنز کے انتظامی معاملات اب جنوبی پنجاب میں ہی حل ہونگے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے2018 ءکے الیکشن میں جنوبی پنجاب صوبے کو اپنے منشور کا حصہ بنایا جس کے بعد یہاں کی عوام نے عمران خان کی حمایت کر کے پی ٹی آئی کو اس خطے میں بھرپور نمائندگی دلوائی۔ جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ خطے کے لوگ ایک طویل عرصے سے کر رہے ہیں کیونکہ زرعی خطہ ہونے کے باوجود اس علاقے کو جس طرح ماضی میں نظر انداز کیا گیا اس سے نو آبادیاتی نظام کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ کہ جب ایک علاقے کے وسائل پر چند مفاد پرست قبضہ کر لیتے ہیں اور اس کے باسیوں کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھنے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جنوبی پنجاب غربت کے لحاظ سے متاثرہ علاقوں میں سرفہرست ہے۔ صحت کا شعبہ ہو یا تعلیم ،یہاں وڈیرہ شاہی نے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور عوام کو شعوری طور پر غلام رکھنے کی حکمت عملی پر عمل کیا گیا لیکن خود کو اس خطے کا والی وارث سمجھنے والے یہ بھول گئے کہ ہر فرعون کےلئے موسیٰ آتا ہے۔ چشم فلک نے دیکھا کہ وہ وقت جب سرائیکی لفظ لکھنا ممنوع تھا روزنامہ ”خبریں “نے اس خطے کے پسماندہ اور پسے ہوئے لوگوں کےلئے آواز بلند کی اور آج جب جنوبی پنجاب صوبے کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے تو اس میں روزنامہ ”خبریں“ اور اسکے روح رواں جناب ضیا شاہد کی بصیرت کو داد نہ دینا بڑی زیادتی ہوگی۔ انہوں نے جب روزنامہ خبریں ملتان اسٹیشن کی بنیاد آج سے کئی دہائیاں قبل رکھی تو سرائیکی صوبے کی جدوجہد کو اپنا نصب العین بنایا ، اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سرائیکی وسیب کا مقدمہ خود فرنٹ فٹ پر آکر لڑا۔ سالانہ سرائیکی مشاعرے کا انعقاد ہو یا زرعی، معاشی یا علاقے کے دیگر سلگتے ہوئے مسائل ،خبریں نے انہیں اجاگر کرنے کیلئے ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا۔ اس خطے کے ساتھ ہونےوالی زیادتیوں کو روزنامہ خبریں جناب ضیا شاہد کی قیادت میں بڑی بہادری اور جرا¿ت کے ساتھ سامنے لایا۔ اس دشوار گزار مقابلے میں جناب ضیا شاہد اور انکی ٹیم کو کڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا ۔ مافیاز نے سرائیکی صوبے کی جدوجہد کو روکنے کےلئے خبریں اور اسکی ٹیم کے خلاف جھوٹے اور جعلی مقدمے تک درج کروائے۔ مگر آفرین ہے کہ چٹان جیسا حوصلہ رکھنے والے جناب ضیا شاہد پر، جنہوں نے اس خطے کا سپوت ہونے کا حق صحیح معنوں میں ادا کیا اور اب جب سرائیکی وسیب کے لوگوں کو اپنی منزل قریب نظر آرہی ہے تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ لیکن سچ تو یہی ہے کہ ابھی اس جدوجہد کا صرف ایک مقصد پورا ہونے جا رہا ہے۔ اور ابھی تو اس خطے کے بھوک ننگ سے اٹے چہروں پر خوشحالی لانے کےلئے طویل اور صبر آزما جدوجہد باقی ہے۔ کیونکہ جناب ضیا شاہد صاحب‘ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں اور وہ خواب جو علیحدہ صوبے کے حصول کے بعد آپ نے اس خطے کے لوگوں کیلئے دیکھے ہیں انکو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلئے آپ کو ان مافیاز سے ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑے گا۔
میرے وسیب کے معصوم باسیوں کی ترقی اور خوشحالی کےلئے ضروری ہے کہ یہاں پر میرٹ کی بالادستی ہو اور خطے کے پڑھے لکھے طبقے کو ان کی اہلیت کے مطابق تعینات کیا جائے اور صحیح معنوں میں اس خطے کے لوگوں کو اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے دیئے جائیں۔ کیونکہ اگر بجٹ میں اس خطے کےلئے مناسب حصہ مختص نہیں کیا گیا تو محرومیوں کا شکار اس خطے کو دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کےلئے طویل عرصہ درکار ہوگا۔ وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ نظام اس مقصد کے حصول کےلئے بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتا ہے، جس کےلئے ایک بڑی جنگ ابھی لڑنا باقی ہے۔ یہ درست ہے کہ سرائیکی وسیب کی پسماندگی کے ذمہ دار یہاں سے منتخب نمائندے ہیں جنہوں نے سوائے اپنی ترقی و خوشحالی کے ، اس خطے کے باسیوں کےلئے کبھی کچھ نہیں سوچا۔ آج جب جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں تعیناتیاں ہو رہی ہیں تو ضروری ہے کہ ڈنگ ٹپاﺅ پالیسیوں کے بجائے اس خطے کو صحیح معنوں میں ترقی دینے کےلئے جامع پلان ترتیب دیا جائے ۔ بہتر ہوگا کہ انتظامیہ ، یہاں کے دانشور اور پڑھے لکھے طبقے کو آن بورڈ لے کر ان سے اس خطے کے اصل مسائل اور انکے حل کے بارے میں استفسار کرے۔ اللہ رب العزت نے اس خطے کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ پس لازم ہے کہ اس کے وسائل ایماندری کے ساتھ صرف کئے جائیں۔
جنوبی پنجاب کا علاقہ اپنی انفرادیت کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ کلچر، زبان اور ثقافت سے لے کر ہر شعبے کی اپنی علیحدہ اور جداگانہ شناخت ہے ۔ سرائیکی وسیب کے میٹھے اور سادے لوگ اپنے کلچر اور ثقافت کے ساتھ انڈسٹری اور زراعت کو بھی ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ زراعت ملکی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ملک کی مجموعی زرعی آمدنی کا ستر فیصد اسی خطے سے حاصل ہوتاہے۔ اگر حکومت زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کروائے تو یہ خطہ ملکی معیشت میں کئی گنا زیادہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگریہاں تعلیم کی بات کی جائے تو پی ٹی آئی حکومت پر لازم ہے کہ وہ ماضی کی محرومیوں کا ازالہ کرے اور ہر ضلع میں کم از کم دو یونیورسٹیاں قائم کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے تعلیم کی روشنی سے بہر ہ ور ہو سکیں۔ سرکاری سطح پر ہسپتالوں کی تعداد کو آبادی کے لحاظ سے بڑھایا جائے اور پہلے سے موجود ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ کورونا وائرس نے پاکستان میں صحت کے نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔ حکومت اس علاقے کے کلچر کو انڈسٹری کا درجہ دیکر ٹورازم کو ایک نئی جہت فراہم کر سکتی ہے۔ ملتان چونکہ دینا کے ان قدیم ترین شہروں میں آتا ہے جو آج بھی اپنی اصل اساس پر موجود ہیں۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ صرف جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام عوام کے خوابوں کی تعبیر نہیں جب تک اس کی آئینی اور قانونی حیثیت تسلیم نہیں کر لی جاتی اس وقت تک جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی حیثیت محض ایک لالی پوپ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ حکومت نے پچھلے برس بھی سیکرٹریٹ کے قیام کےلئے 3 ارب کی خطیر رقم مختص کی مگر افسوس کہ فنڈ سے استفادہ نہ کیا جا سکا۔ اس لئے اب جب تک حکومت عملی طور پر فعال اور آزادنہ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں نہیں لائے گی اور اس کی قانون ساز اسمبلی کو تشکیل نہیں دیا جائے گا اس وقت تک اس خطے کی قسمت کا بدلنا دیوانے کی بڑ سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ تحریک انصاف کی حکومت پہلے ہی جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حوالے سے تاخیر کا شکار ہو چکی ہے۔ اس لئے دنوں کے کام برسوں میں کرنے کی روایتی روش کو چھوڑ کر عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر توجہ دی جائے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں جنوبی پنجاب کے منتخب نمائندے بڑے اہم عہدوں پر تعینات ہیں۔ شاہ محمود قریشی ، جہانگیر ترین، خسرو بختیار ، یا ملک عامر ڈوگر ان سب پر لازم ہے کہ وہ اس دھرتی کا قرض سود سمیت چکائیں اور ملتان کو جنوبی پنجاب کے صدر مقام درجہ دلوانے کےلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ وگرنہ اکیسویں صدی کے باشعور عوام کے سامنے منافقت سے بھرے چہرے پہلے ہی بے نقاب ہوچکے ہیں۔
ان سطور کے ذریعے میں محسن سرائیکستان جناب ضیا شاہد سے گزارش کروں گی کہ وہ اپنی تحریروں اور اخبار کے ذریعے ارباب اختیار کو جھنجھوڑنے کی اپنی کوشش پہلے کی طرح ہی جاری رکھیں۔ روزنامہ” خبریں“ کو اس خطے کے نمبر ون اخبار ہونے کا جو اعزاز ایک طویل عرصے سے حاصل ہے اس کی بنیادی وجہ بھی اس خطے کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتیوں اور ظلم پر آواز اٹھانا ہے۔ بلاشبہ جناب ضیا شاہد اور روزنامہ خبریں حقیقی معنوں میں مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ جدوجہد جو انہوں نے آج سے کئی برسوں قبل بنا کسی لالچ اور طمع کے شروع کی تھی اب وہ منزل انتہائی قریب ہے لیکن طویل اور اعصاب شکن جنگ لڑنا ابھی باقی ہے تاکہ اس خطے کے اصل وارثوں تک جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے ثمرات پہنچ سکیں۔ اس خطے کے غیور عوام جناب ضیا شاہد کی قیادت میں اپنے حق کےلئے لڑنے کو تیار ہیں اور چاہتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے اپنی تحریروں، مکالموں، مباحثوں ، تقریروں اور خبروں کے ذریعے ایوان بالا کو جھنجھوڑا ہے اسی سلسلے کو جاری رکھا جائے تاکہ منزل کے حصول تک ارباب اختیار پر دباﺅ برقرار رکھا جا سکے۔
(کالم نگارقومی امور پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں