طارق عزیز پاکستان کا فخر ۔۔سلمیٰ اعوان


پاکستان سے دیوانگی کی حد تک پیار کرنے والا پاکستان کا بیٹا،پاکستان زندہ باد کے نعرے کو حرز جان بنانے والا کس موسم میں،کن دنوں میں ہم سے جُدا ہوا۔لاہور شہر کیا پورا پنجاب املتاس کے کچے پیلے رنگے لانبے گچھوں سے بوجھل اُداسیوں اورمایوسیوں کی سوگواریوں میں لپٹا پڑا ہے۔کرونا کا عفریت شہر کی رونقوں کو نگلے ہوئے ہے۔لاہور کے بیشتر علاقے سیل ہیں۔اس کے جنازے میں تو خلقت نے امنڈ آنا تھا۔اس کے چاہنے والوں کو ہاتھ ملتے اور جنازے میں شرکت نہ کرنے پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے دیکھا ور سنا گیا۔

اس کی ذات کا کوئی ایک پہلو تھوڑی تھا۔وہ تو ہمہ جہت تھا۔پی ٹی وی کے پہلے اناؤنسر کا اعزاز اس نے اپنے نام ہی نہیں کیا بلکہ آنے والوں دنوں میں سکرین کا یہ ہیرو اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب اپنے پروگرام کے ذریعے ہر خاص و عام پاکستانی کے دل میں گھر کرچکا تھا۔ اس کی آواز کی گھن گرج،شعروں کے نگینوں سے سجا اس کا موہ لیتا انداز گفتگو،اس کی پھرتیاں،چستیاں لوگوں سے بھرے ہال میں بس اس کا وجود سارے ماحول پر چھایا نظر آتا تھا۔

نیلام گھر محض ایک پروگرام نہیں تھا یہ ایک تربیت گاہ تھی یہاں تاریخ،جغرافیہ،سائنس،سیاست سب پڑھائے جاتے تھے۔ یہ جنرل نالج کی کلاس تھی جو ہنستے ہنساتے علم کے دروازے کھولتی تھی۔
اُن زمانوں میں بھلا کونسی ایسی ادبی، سماجی یا سیاسی شخصیت تھی جو اس کے پروگرام میں نہیں گئی۔بڑی میٹھی سی یادوں کی لام ڈور ہے جو یکے بعد دیگرے دامن دل سے لپٹی جارہی ہے۔پہلی خوبصورت یاد نے دستک دے دی ہے۔بیٹی بیاہنے کی عمر میں تھی۔ایک دن ممیرے بھائی فون پر اپنے جاننے والے کا رشتہ بتا تے ہوئے کہتا تھا۔ لڑکی انہوں نے دیکھی ہے۔بس اب وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔حیرت تھی میرے لہجے میں جب پوچھا کہ لڑکی انہوں نے کب اور کہاں دیکھی ہے؟”ارے بھئی کہیں آپ طارق عزیز کے نیلام گھر میں بیٹی کے ساتھ گئی ہونگی۔بس انہوں نے دیکھا اور پسند کرلیا تھا۔رنگت میں نے بتا دی کہ چنبیلی جیسی ہے۔“اب آپ خود سوچئے کہ ماں کے لیے سجدۂ شکر والی بات ہی تھی نا کہ ماں بیٹی ٹرالیاں سجا سجا کر پیش کرنے سے بچ گئیں۔
دوسری یاد اس کی ہم پاکستانیوں کا سربلند کرنے والی تھی۔ اب قصہ سنئیے ذرا۔پہلے چھٹی ملی تھی پھر تھوڑی دیر بعد ہی ہو ا میں تیرتی اُس دل کش و دلربا حسینہ کی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی۔یہ ڈاکٹر شائستہ نزہت تھی جو فون پر مجھ سے مخاطب تھی۔

”وزیراعلیٰ پنجاب جنا ب پرویز الہی بھارت کے شہر پٹیالہ میں ہونے والی ورلڈ پنجابی کانفرنس کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ آپکا نام اُن کے ساتھ جانے والے وفد میں شامل کیا گیا ہے۔ کاغذات فوراََ بھجوایئے“۔
کسی بھی ملک جانے کے لیے اتنی پابندیاں اور سختی نہ تھی جتنی ہمسائیوں نے اپنے گھر آنے کے لیے عائد کررکھی تھیں۔اور سچی بات ہے ان کے گھر جانے کی بھی بڑی حسرت اور تمنا تھی۔دونوں گھوانڈیوں میں بہت سے معاشرتی اور تہذیبی ناطوں میں خاصی گوڑی قرابت داری ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو دیکھنے اور جاننے کو دل تھا کہ مچل مچل جاتا تھا۔جالندھر تو یوں بھی جنم بھومی تھی۔اپنی جنم بھومی میں تو بندے کی جیسے نال گڑی ہوتی ہے۔
دراصل کچھ ماہ قبل وزیر اعلیٰ پرویز الہی کی دعوت پر انڈین پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن (ر) امریندر سنگھ لاہور آئے تو وقت رُخصت انہوں نے اپنے ہم منصب وزیر اعلیٰ کو تو سرکاری طور پر مدعو کیا۔
کاغذات کی خانہ پُری مکمل ہونے پر جانے کا اذن ملا۔ اپنے اپنے اٹیچی کیسوں کو دھکیلتے،باب آزادی کو دیکھتے، اُس پر لہراتے جھنڈے کے لیے دعائیں مانگتے، قُلیوں کے سروں پر سامان کے ڈھیر اُنکے لاغر سے بدنوں کو گھورتے،تجسس کی کُھلی آنکھیں چہار سو دوڑاتے، ہندوستانی علاقے میں داخل ہو گئے۔تو دیکھا طارق عزیز اور مایہ ناز کارٹونسٹ جاوید اقبال بھی ہمارے ساتھ ہیں۔طارق عزیز بھلا انہوں نے ہمیں کیا پہچاننا تھا۔آگے بڑھ کر وفورِ شوق سے سلام داغا۔جاوید اقبال سے بھی ہیلو ہائے ہوئی۔مزے کی بات جگہ بھی اسی گاڑی میں ملی جن میں دونوں دوست تھے۔ اب ہماری بونگیاں دیکھیں۔
ہائے منظروں میں کتنی اپنائیت اور یکسانیت ہے؟ ذہن تو فوراََ ہی اپنے اور ہمسائے کے تقابلی جائزوں میں جُت گیا۔
کہیں کہیں ماٹھے گھروں کی دیواروں پر چسپاں اُپلوں کی گلگاریاں،کہیں کوڑے اور روڑیوں کے ڈھیر، کہیں جانوروں کے ریوڑ،چلتے ٹیوب ویل جنکی موٹی دھاریں گویا جیسے مائع چاندی بہہ رہی ہو۔کہیں عالیشان گھر، کہیں سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے گندے نالوں سے اُٹھتی بدبوئیں،گاؤں اور قصبوں کے بے ہنگم سے پھیلاؤ خاصے مُطمئین کرنے والے تھے۔اندر کہیں اطمینان گھری سرگوشی سی تھی کہ بھئی یہ سب کچھ تو اپنے جیسا ہی ہے۔اب اپنے اِن احساسات میں دونوں دوستوں کو شامل کرنا بھی ضروری سمجھا۔
بس انہی موازنوں میں امرتسر میں داخلہ ہوا۔شہر بھی جانا پہچانا سا لگا۔بس ایک منظر بڑا مختلف تھا۔لڑکیاں گھیر دار شلواریں اور کہیں جینز پہنے سکوٹروں پر بیٹھی تتلیوں کی طرح اُڑتی پھرتی تھیں۔
”ہائے کہیں یہ منظر کاش میرے لاہور کی سڑکوں پر ہوتا۔مارڈالا ہمیں تو ملائیت کی انتہا پسندی نے۔“
جالندھر میں سے گزرتے ہوئے طارق عزیز سے کہتی ہوں۔آپ کی جنم بھومی بھی تو جالندھر ہے کیا محسوس کررہے ہیں؟ایک متین سی مسکراہٹ طارق عزیز کے لبوں اور آنکھوں میں بکھر جاتی ہے اور وہ جوابی حملہ کرتے ہیں۔”اپنے احساسات بارے بتائیے۔“”سچی بتاؤں۔“جذب بھرا لہجہ تھا میرا۔ اس وقت جی چاہ رہا ہے کہ درواز ہ کھول کر چھلانگ ماروں اور بھاگتی بھاگتی اُس گاؤں چلی جاؤں جسکے ہجر میں میں نے اپنی ماں اور ماسیوں کو آہیں بھرتے دیکھا تھا۔ جو اُنکا دیس تھا۔جنکی گفتگو کی ہرتان ”دیس“کے ذکر پر ٹوٹتی تھی۔
طارق کھلکھلا کر ہنس پڑے۔”جی تو میرا بھی یہی چاہتا ہے۔“ساتھ میں دو عدد شعر بھی سُننے کو ملے۔
اب رات ہو گئی تھی۔ رات میں پٹیالہ کا حُسن تو کیا نظر آتا۔ البتہ بس میں بیٹھے لوگوں کے تبصروں نے خوب ہنسایا۔ عقبی نشستوں سے آواز آئی تھی۔
”بھئی پٹیالہ میں کیا چیزیں دیکھنے والی ہیں۔“
ایک تیکھی آواز کانوں سے ٹکرائی۔
”پٹیالہ کی عورتوں کی چال۔مورنیوں کو تو ایسے ہی ہم لوگوں نے ٹلّے پر چڑھا رکھا ہے۔اُنکی چال پر محاورے گھڑ لیے ہیں۔ کوئی پٹیالے کی عورتوں کو دیکھے۔شاہانہ انداز سے چلتی ہیں کہ بندے کا کلیجہ پھڑکنے لگتا ہے۔
ایک آواز اور اُبھری۔
”یہاں کے پراندوں کا بھی جواب نہیں۔اتنے خوبصورت جیسے قوس و قزح کے رنگوں میں غوطے کھائے ہوئے ہوں۔سلمے ستاروں میں گندھے،لشکارے مارتے،دلوں میں ہلچل مچاتے۔“
ہنسی چھوٹ گئی تھی۔
”دیکھو تو ذرا اِن کمبختوں کی ذہنی سوئیاں صنف نازک کے گرد ہی گھوم رہی ہیں۔
پھر ایک نسوانی آواز نے جیسے ہنسی کا گولہ چھوڑا۔
”ارے بیبا اِن عورتوں کی جوتیاں بھی شاندار ہیں۔کسی نے اُن کے رعب ودبدے کا مزہ چکھا ہے۔“
اِس پر شوروغوغا ہوا۔بہرحال کٹھے میٹھے تبصروں میں پٹیالہ آگیا تھا۔
رات کو بڑا ہنگامہ رہا۔ سرکاری وفد کے دو بسو ں کے مسافروں کیلئے تو کہیں پٹیالہ میں ٹھور ٹھکانہ نہ تھا۔گاڑیوں میں لد کر 69 کلومیٹر پرے چندی گڑھ جانا پڑا تھا۔راستے میں منو بھائی کی پھلجڑیاں تھیں۔شاید پی کچھ زیادہ گئے تھے۔ طارق عزیز اور اُنکے ساتھی جاوید کی گھمبیر سی خاموشی تھی۔لگتا تھا تھکاوٹ اور نیند غالب آئی ہوئی ہے۔
مقالوں کی بھرمار میں معتد ل سوچ رکھنے والے کلدیپ نائر کی طرف سے جو تجاویزپیش ہوئیں وہ فی الوقع بڑی جامع اور قابلِ عمل تھیں۔
پٹیالہ یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر مانک میاں نے اپنی تقریر میں سب ایشوز پر بات چیت کرنے پر زور دیا۔
پوربی پنجاب اپنے کلچر میں کس قدر امیر ہے۔ اسکا اندازہ اُس شام ہوا جب لڑکیوں نے گِدّا ڈالا۔ سُچا،سچا اور کھرا روایتی گِدّا،پاؤں کی مخصوص بیٹ اور سٹائل آواز کا کھرج، تالی کا ردّھم اور مکمل روایتی کا سٹیوم۔ ہمارے گاؤں میں اب یہ سب نظر نہیں آتا۔بیچارے سادہ لوح دیہاتیوں کی سوچیں مشرف بہ اسلام ہوگئی ہیں۔
بھنگڑے،راجستھانی رقص اور کتھک ناچ سبھوں نے دل خو ش کیا۔ سب سے بڑھ کر ہنس راج ہنس کے خوبصورت گانوں اور نصرت فتح علی خان کے حضور انکار نذرانہ عقیدت۔سبھی کچھ اچھا تھا۔ وائس چانسلر سے لے کر پروفیسروں اور طلبہ و طالبات کے روےّے اور شاندار کلچرل شو۔بس اگر کچھ کھٹکا تھا تو وہ باتیں تھیں جو سرِ عام ہوئیں۔
پنجاب کی ڈپٹی وزیر اعلیٰ میڈم بٹھل سے لے کر بعض ذمہ دارلوگوں کی باتوں تک کہ جنہیں لکیر کے کھینچنے کا دُکھ تھا۔روایات اور رہتل کے ایک ہونے اور ایک ویہڑے کے دو ویہڑے ہوجانے کا قلق تھا۔
کچھ ایسی تجاویز،کچھ ایسی باتیں کہ یہ پھر دو سے ایک ہوجائیں۔ہمارے جیسے لوگوں کے لیے جنکی شعور کی آنکھ آزاد فضاؤں میں کُھلی تھی۔جن کی جذباتی و ابستگیوں میں نیا دیس پاکستان تھا۔ اب اندر ایک اضطراب تھا۔اگلی شام طارق عزیز کا خطاب تھا۔
پاکستان کے نمائمندے نے اپنی پاکستانیت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے جذبات کو بہت خوبصورتی اور حُسن دیا۔وہ بول رہے تھے۔اِس درجہ دل پذیرانداز بیان کہ محاورے کی زبان میں وہ سماں کہ سوئی گرے تو آواز آئے والے ماحول کی کیفیت تھی۔میں پوربی پنجاب کے کلچر سے بہت متاثر ہوا ہوں۔مگرکلچر کا تعلق زمین اور رہتل کی ایک جیسی بے شمار چیزوں کی مماثلت کے ساتھ ہی نہیں جڑا ہوتا۔مذہب جیسا اہم فیکٹر بھی اس پر اثر انداز ہوتا ہے۔دونوں حصوں کے کلچر کا موازنہ کرتے ہوئے یہ بات ہمارے مدّنظر ہونی چاہیے۔تاہم ہمیں اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کی اشد ضرورت ہے جو اب معدوم ہوتا جارہا ہے۔
یورپ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا۔ جنگیں مسائل کا حل نہیں۔چھوٹے چھوٹے ملک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے کس سرعت سے ترقی کی منزلیں طے کر گئے ہیں۔اور ہم ہیں کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو مان لینے میں ہی ہماری عافیت اور نجات ہے۔آئیے ایک دوسرے کو احترام دیں اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھیں۔
جذبائیت کے بہاؤ میں مجمع کو بہا لے جانے کا فن انہیں فطرت نے وویعت کیا تھا جس کے وہ شہنشاہ تھے مگر اس شام ان کی اس خوبی کے ساتھ سیاسی شعور،دلائل اور دنیا کے حوالوں سے باتوں نے وہ سماں باندھا کہ جس کے لیے کہا جاتا ہے فلاں نے میلہ لوٹ لیا۔سچ تو یہ تھا کہ اس شام کا میلہ انہوں نے لوٹا تھا۔اجنبی دھرتی پر۔
ہال میں انہیں سُنتے ہوئے ہماری آنکھیں بھیگ رہی تھیں انہوں نے ہمارے وسوسوں،اندیشوں پر مرہم کے پھاہے رکھ دئیے تھے۔ ہم کھل اٹھے تھے۔ہم نے بے اختیار کہا تھا۔
”طارق عزیز ہمیں آپ پر فخر ہے۔“
پاکستان کے بیٹے نے پاکستان کو وہ سب کچھ لوٹا دیا ہے جو اُسے ملا تھا۔اب یہ پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو ہمیشہ کے لیے امر کردے۔
اس کے نام کا میوزیم بنانے کی ضرورت ہے۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں