پروفیسر حمید کوثر: ایک ولی صفت استاد(2)

حافظ شفیق الرحمن
پروفیسر صاحب دیسی کھانوں کے شوقین تھے گجریلا، گاجر کا حلوہ، چھوٹے پائے،قورمہ، مٹن کڑاہی کھیر اور فرنی رغبت سے کھاتے۔کھیر اور فرنی تو خود بناتے۔ مٹھائیوں میں انہیں پتیسہ اور موتی چور کے لڈو پسند تھے۔ مہینے میں دوتین مرتبہ گھر میں مٹھائی خرید کر لاتے۔ وہ ہمیشہ نرالا سویٹ ہاﺅس یا جالندھر موتی چور ہاﺅس سے مٹھائی خریدتے۔پھلوں میں آم، سیب، خربوزہ، آلو بخارا، انگور اور انجیر انہیں پسند تھے۔چائے کے تو وہ رسیا تھے ۔ سردیوں کی راتوں میں صدر بازار میںشریف بٹ نانبائی کی دکان پر محفل جمتی اور چائے کے دور پر دور چلتے۔ گرمیوں کی راتوں کو جب دوست اور احباب اکٹھے ہوجاتے تو صدربازار کے حبیب بنک کے لان میں سب گھاس پر براجمان ہوجاتے۔ بسا اوقات اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں بھی محفل آراستہ کرتے۔ یہ محفل ذرا مختلف ہوتی، یہ صرف محفل کلام ہی نہ ہوتی بلکہ مجلسِ طعام بھی ہوتی ۔ موسم سرما میں ماحضر کے علاوہ ڈرائی فروٹ سے بھی شرکاءکی تواضع کی جاتی۔ طعام و کلام کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہتا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل کے علاوہ یہ محفل روزانہ کی بنیاد پر ہوتی۔اس محفل کے برس ہا برس تک میزبان پروفیسر صاحب ہی رہے۔ لغت نے تویہی بتایا تھا کہ ایک دن مہمان، دو دن مہمان تیسرے دن بلائے جان ۔میں نے ایک دن ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تو فرمایا : لغت تو یہی کہتی ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ حضور نبی کریم کا فرمان حرف آخر ہے کہ امارت دل کی امارت ہوتی ہے ، اگر دل کشادہ ہوتو دستر خوان ازخو د وسیع ہوجاتا ہے، میرے نزدیک اگر یہ بات دل میں راسخ ہوجائے تومہمان سارا سال بھی آتے رہیں تو ان کی آمدباعثِ برکت اور موجبِ رحمت ہوتی ہے ۔ قرآن،سیرت، تاریخ،سیاست، حالاتِ حاضرہ،رواں سیاسی تحریکیں،سماجی مسائل، نفسیات، فلسفہ، شاعری، تاریخ ،ادب اور اکابرشخصیات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی۔ ان محافل کے برس ہا برس کے سامع کی حیثیت سے میں نے کبھی میزبان یا مہمان کسی کے ہونٹوں پر فحش بات تو دور کی بات ہے، کبھی گالی تک نہیں سنی۔ ان محافل کے باقاعدہ شرکاءمیں ازہر درانی، ساجد پال ساجد،عابد رفیق چودھری مرحوم ، محمود اختر انصاری، حاجی مجید، سرفراز بھٹی، سعید مقصود، کرنل ڈاکٹر عبدالرشید، شریف بٹ اور ان کے دسیوں سابق شاگرد موجود ہوتے ۔یہ محافل رات دیر گئے جاری رہتیں۔ میں1978ءسے ان محافل میں شرکت کے لیے نمازِ عشاءکے بعدراج گڑھ سے ڈھاکہ روڈ پہنچتا، یہ سلسلہ 1982ءتک جاری رہا۔ رات کے ڈیڑھ دو بجتے تو میر محفل فرماتے میرا خیال ہے کہ اب محفل بر خاست کردی جائے۔ سب ان کی رائے سے اتفاق کرتے۔ کوئی کار، کوئی سکوٹر اورمیں سائیکل پر دل و دماغ کی جھولیاں تبرکاتِ علمی کے نوادرات سے بھر کر لوٹتا۔یہ محافل محض گپ شپ اور پرسشِ احوال کی روایتی محافل نہ ہوتیں بلکہ ان محافل کا مقصد نسل ِنو اور احباب کی ذہن سازی اور کردار سازی ہوتا۔دوران ِ گفتگو بار بار وہ نوجوانوں کو سیرت طیبہ کے مطالعہ کی دعوت دیتے۔عقیدہ ختم نبوت پر روشنی ڈالتے۔ اس معاملہ میں وہ بہت حساس اور راسخ العقیدہ تھے لیکن حقائق و شواہد اور دلائل و براہین کی روشنی میں ثابت کرتے کہ منکرینِ ختم نبوت پاکستان اور اسلام کے غدار ہیں۔یہ مسلمانوں کا فرقہ نہیں بلکہ مرتدہیں ۔یہ آئین ِپاکستان کے باغی ہیں اور ریاست کے دشمن ہیں ۔ وہ اکابرین ملت اور بانیان پاکستان اور نظریہ¿ پاکستان کے حوالے سے انتہائی جذباتی تھے ۔ ان کی پسند اور ناپسند واضح ہوتی ۔ دل میں بغض نہیں رکھتے تھے۔ان کی ملاقاتیں پروفیسر علم الدین سالک، پروفیسر مرزا منور، پروفیسر وقار عظیم، احمد ندیم قاسمی،مجید نظامی، ڈاکٹر خواجہ ذ کریا،پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد،ڈاکٹر رشید چودھری بانی فاﺅنٹین ہاﺅس، جسٹس آصف جان،جنرل اعظم مرحوم، بریگیڈئر صاحبداد خان اورجنرل سوار خان سے بھی رہیں۔ ان کے چہیتے شاگردوں میں سابقہ امین و فطین اور ذہین بیوروکریٹ ، صحافی، ادیب اور حاضر طبع شاعرحسین ثاقب بھی نمایاں ہیں۔
ایک کامل الفن شاعر ہونے کی حیثیت سے وہ اردو اور فارسی کے متقدمین، متوسطین اور متاخرین شعراءکی شاعری پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ انہیں شکوہ تھا کہ اردو کے تمام ادوار کے شعراءتصورات ہی نہیں لفظیات تک عجمی شعراءکی اندھا دھند پیروی کرتے ہیں۔ عجمی افکار و تصورات سے متاثر ہو کر وہ دینی شعائر کا تمسخر اڑاتے اور ان کی محافظ دینی شخصیات کی تضحیک کو اپنا فرض منصبی اور شعری تقاضا تصور کرتے ہیں۔ ان کی غزل اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ زاہد، واعظ، ناصح، صوفی، ملا، فقیہ ، محتسب،شیخ حرم، ایمان، جنت، مسجد، منبر،فرشتوں، حرم اور محراب کا مذاق نہ اڑا لیں۔ ان کا نقطہ نظر تھا کہ رعنائی خیال کے نام پر دینی اقدار و افکار اوران کی کسی بھی نوع کی تبلیغ کرنے والی شخصیات کو مذاق کا نشانہ بنانا بالواسطہ دین کا ٹھٹھا اڑانے کے مترادف ہے۔ وہ اسے ایک عجمی سازش سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ وہ اس امر پر اظہار تاسف کیا کرتے کہ اردو شاعری کی تراکیب، اصطلاحات، استعارات، تشبیہات، لفظیات حتی کہ خیالات بھی عجمی شاعری سے مستعار لیے گئے ہیں۔ کاش اردو زبان کے متقدمین، متوسطین اور متاخرین شعراءنے بعد از اسلام عرب شاعری کا مطالعہ کیا ہوتا۔ وہ بڑے فخر و انبساط کے ساتھ بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے حتی المقدور عجمی شعر و سخن کی مروجہ ساختیات سے شعوری طور پر اجتناب برتا ہے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ کلام ”فاتح لکشمی پور“ میجر طفیل شہید نشان حیدر کی منظوم سوانح ہے۔ ان کی غزلیات کا مجموعہ ”سر دلبراں“ ہے۔انہوں نے شاعری کی ہر صنف سخن پر استاذانہ طبع آزمائی کی۔ خلاقانہ طباعی، جدتِ خیال، حسن تغزل، رعنائی تخیل اور ندرتِ فکر و نظر ان کی شاعری کا سولہ سنگھار ہیں۔ شاعری میں ان کے اولین استاد خیام العصر علامہ فخری تھے۔ اولین دور ہی میں ان کا رابطہ ابو الاثر حفیظ جالندھری سے ہوا۔ تا دم آخر اپنی کسی بھی نظم یا کلام کو حلقہ ¿ احباب، مشاعروں اور ریڈیو پر پڑھنے سے پہلے ابو الاثر حفیظ جالندھری کو بہ غرضِ اصلاح سنایا کرتے ۔
یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ استادِ محترم کے استادِ گرامی ابو الاثر حفیظ جالندھری نے شاہنامہ اسلام لکھا اور فردوسی¿ اسلام کا لازوال خطاب پایا۔ شاہنامہ اسلام اُردو شاعری میں ایک لاثانی اور منفرد تخلیق کا درجہ رکھتا ہے۔ انہوں نے ملوک و سلاطین کا قصیدہ لکھنے کے بجائے حضور اکرم کی حیات طیبہ کو انتہائی دلنشیں اور دلپذیر پیرائے میں نظم کے پیراہن میں لکھا۔ فردوسی¿ اسلام ابو الاثر حفیظ جالندھری اور فردوسی¿ ایران میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ فردوسی ایران نے ایران کے سفاک، جابر، مستبد، ظالم، متکبر، ہوس پرست، زر پرست، نشاط پرست ایرانی بادشاہوں کے حضور ”گلہائے عقیدت“ پیش کر کے انہیں بڑی شخصیات کے روپ میں پورٹرے کیا۔ اس امر کا ذکر خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ فردوسی نے جب اپنا شاہنامہ غازی¿ اسلام اور سومنات شکن محمود غزنوی ؒ کے بیٹے مسعود غزنوی جو صاحب کشف المحجوب حضرت علی ہجویریؒ کے مرید خاص تھے، کے سامنے پیش کیا تو اس نے فردوسی کو دربار سے نکل جانے کا حکم دیا۔
آپ کو یہ جان کر یقینا حیرت ہو گی کہ میرے فکری و معنوی مرشد جناب حمید کوثر ابو الاثر حفیظ جالندھری کے متبنیٰ تھے۔ پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری مرحوم نے اُن کی بے پایاں ارادت مندی، بے کراں سعادت مندی، فراواں فرمانبرداری اور نمایاں خدمت گزاری کے باعث انہیں یہ رتبہ¿ بلند اور اعزازِ لازوال عطا کیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ابوالاثر جناب حفیظ جالندھری کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ اُن کا انتقال 21 دسمبر 1982ءکو ہوا اور انہیں ماڈل ٹاو¿ن کے قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا۔ اُن کی خواہش تھی کہ اُن کی تدفین علامہ اقبالؒ کے مزار کے قرب و جوار میں کی جائے لیکن بوجوہ اُن کی اس خواہش کا احترام نہیں کیا جا سکا۔ تاہم جناب حمید کوثر نے اپنی کوششیں اور کاوشیں جاری رکھیں۔ یہ کریڈٹ یقینا سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کو جاتا ہے کہ اُن کے دوسرے عہد حکومت میں پاکستان کے قومی ترانے کے خالق کی میت کو مینار پاکستان کے وسیع و عریض سبزہ زار کے ایک گوشے میں دفن کیا گیا۔ وہ تحریک پاکستان کے رہنما کی حیثیت سے پہلی شخصیت ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ میاں شہباز شریف کی حکومت پنجاب نے مینار پاکستان میں اُن کا خوبصورت مقبرہ تعمیر کیا۔ مجھے یہ کہنے دیجیے کہ ماڈل ٹاو¿ن کے قبرستان سے مینار پاکستان کے زیر سایہ سبزہ زار میں ابو الاثر حفیظ جالندھری کی تدفین کے لیے بنیادی اور کلیدی کوشش اُن کے منہ بولے بیٹے ہی نے کی۔ انہوں نے حفیظ جالندھری کے متبنیٰ ہونے کا حق ادا کیا۔ اس ضمن میں اُن کی کوششوں اور مساعی کو دیکھتے ہوئے یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ اگر ابو الاثر کا حقیقی بیٹا بھی ہوتا تو وہ یہ کارنامہ ادا نہ کر پاتا۔ سچ کہا تھا شاعر نے ’یہ رتبہ¿ بلند ملا جس کو مل گیا‘۔ پروفیسر حمید کوثر صاحب کے معنوی و روحانی والد نے شاہنامہ اسلام4جلدوں میں سپرد قرطاس کیا تو بعد ازاںان کے معنوی و روحانی بیٹے نے شاہنامہ اسلام کی پانچویں جلد مکمل کرنے کا عزم کیا۔ اس پر وہ کام کر رہے تھے کہ زندگی نے وفا نہ کی۔ وہ حقیقتاً اپنے روحانی والد کے مشن کے پرچم بردار تھے۔ اُن کا وجود سر تا پا پاکستان تھا۔ یہ کیسا حسن اتفاق ہے کہ پروفیسر صاحب کے روحانی والد جناب حفیظ جالندھری اگر فردوسی¿ اسلام تھے تو اُن کے فکری و معنوی فرزند استاذی المکرم حمید کوثر صاحب مرحوم کو جوہر شناسوں نے فردوسی¿ پاکستان اور شاعر نظریہ پاکستان کا خطاب دیا۔ (ختم شد)
(سینئرصحافی اورقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں