قدم اُس راہ میں رکھا ہے برباد ِ تمنا نے جہاں کی س…

قدم اُس راہ میں رکھا ہے برباد ِ تمنا نے
جہاں کی سرزمیں بھی آسماں معلوم ہوتی ہے

شور علیگ کی وفات
July 08, 1992

منظور حسین نام اور شور تخلص تھا۔۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۶ء کو امراوتی (سی۔پی) بھارت میں پید اہوئے۔ میٹرک سے لے کر ایم اے اور ایل ایل بی ساری تعلیمی اسناد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے حاصل کیں۔۱۹۳۸ء میں ناگپور کے شعبہ ادبیات فارسی او راردو میں بطور ریڈر صدر شعبہ تقرر ہوا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان آگئے اور پروفیسر کی حیثیت سے پہلے زمیندار کالج، گجرات پھر اسلامیہ کالج اور گورنمنٹ کالج، لائل پور(فیصل آباد) سے منسلک رہے۔ ریٹائر منٹ کے بعد شور صاحب کراچی آگئے اور جامعہ کراچی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ شور صاحب بنیادی طور پر نظم گو تھے، لیکن غزل بھی کہا کرتے تھے ، ان کا پہلا شعری مجموعہ’’نبض دوراں‘‘ کے نام سے ۱۹۵۹ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد کے مجموعے بالترتیب اس طرح شائع ہوئے: ’دیوار ابد‘، ’سواد نیم تناں‘، ’میرے معبود‘ ، ’صلیب انقلاب‘ ، ’ذہن وضمیر‘۔ اس کے علاوہ چار اور کتابیں’حشر مرتب‘ ، ’انگشت نیل‘ ، ’افکار واعصار‘ ،’اندر کا آدمی‘ مرتب کرلی تھیں۔
۸؍ جولائی ۱۹۹۴ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔
بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:78

دیدہ و دانستہ دھوکا کھا گئے
ہم فریبِ زندگی میں آ گئے
جب ہجومِ شوق سے گھبرا گئے
کھو گئے خود اور تم کو پا گئے
چین بھی لینے نہیں دیتے مجھے
میں ابھی بھولا تھا پھر یاد آ گئے
میں کہاں جاؤں نظر کو کیا کروں
آپ تو ساری فضا پر چھا گئے
دل ہی دل میں اف وہ درد ناگہاں
آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ سمجھا گئے
رخ سے آنچل بھی نہ سرکا تھا ابھی
نیچی نظریں ہو گئیں شرما گئے
اف یہ غنچوں کاتبسم یہ بہار
حیف اگر یہ غنچے کل مرجھا گئے
جس قدر غنچے کھلے تھے نو بہ نو
میری آنکھوں سے لہو برسا گئے
پوچھتے کیا ہو ان اشکوں کا سبب
واقعاتِ رفتہ پھر یاد آ گئے
اب تو شور اپنا فسانہ ختم کر
ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے


جواب چھوڑیں