پھر مائنس ون…. آخر کیوں؟

شفیق اعوان
ہماری سیاست میں لفظ ”مائنس ون“ کچھ عرصے بعد گونجتا ہے اور جو کبھی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں وہ یکدم آستین کا سانپ قرار دے کر کچل دیے جاتے ہیں۔ جو قوتیں قومی سیاست میں لیڈروں کی جمع تفریق کرتی رہتی ہیں یقینا ان کا سیاستدانوں کو جانچنے کا حساب کمزور ہوتا ہے کیونکہ اسی گھسے پٹے فارمولے کے تحت بار بار یہ پرانی غلطی دہراتی ہیں لیکن سیاست کے میدان کا شہسوار نہ ہونے کی وجہ سے بار بار پسپاہوتی ہیں لیکن ہار ماننے کو تیار نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے ہی تخلیق کردہ بیج کی اپنی ہی زمین پر بار بار آبیاری کرتے ہیں اور پھر کھڑی فصل پر ہل چلا دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی خواہش کے مطابق گندم کے پودے سے سیب کا پھل ملے گا۔ جو کہ خلاف قانون قدرت ہے اس لیے انہیں ہر بار ناکامی ہوتی ہے۔ ایک بار تو جمہوری فصل کو کمزور کرنے کےلئے ”آئی جے آئی“ کی فصل مار دوائی بھی بنائی گئی لیکن اس سے بھی پورے نتائج نہ مل سکے۔ بہتر ہے نت نئے تجربات کی بجائے اس دھرتی کی مٹی کو فیصلہ کرنے دیں کہ اس میں کون سی فصل پنپ سکتی ہے اور وہی فصل اس ملک اور قوم کےلئے بارآور ہو گی۔
وطن عزیز میں” مائنس ون“ کی تاریخ بہت پرانی ہے اور قرائن سے لگتا ہے قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی شاید ”مائنس“ ہی کیا گیا ہو گا۔ اس کے بعد تو جوتیوں میں دال بٹنے لگی اور یہ کالم ان تمام کے ذکر کےلئے ناکافی ہے ۔ پنڈت جواہر لال نہرو کو کہنا پڑا کہ ”میں ےتو اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنی جلدی پاکستان میں وزیر اعظم بدل دیے جاتے ہیں“۔ قائد اعظم کے ساتھی لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں مائنس کر دیاگیا۔ ان کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے مائنس کیا گیا۔ پھر محمد خان جونیجو اپنے ہی باغبان کے ہاتھوں مائنس کیے گئے۔ اسی باغبان نے نواز شریف کی آبیاری کی اور وہ ایک تناور درخت بن گئے۔ باغبان کو یہ بات نہ بھائی اور نواز شریف بھی دو باربذریعہ اسحاق خان اور ایک بار اس وقت کے جنرل مشرف کے ذریعے مائنس کیے گئے۔ اس کے بعد باغبان کی منشا کےخلاف یا اپنے مہروں کی کارکردگی سے مایوس ہو کر دو بار نظیر بھٹو کو مختصر وقت کےلئے موقع دیا گیا لیکن ایک بار اسحاق خان اور پھر فاروق لغاری کے ذریعے انہیں بھی مائنس کر دیا گیا ۔آ خر کار وہ اسی راولپنڈی کے لیاقت باغ میں شہید کر دی گئیں جہاں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھی شہید کیا گیا۔ پھر ظفراللہ جمالی بھی اس باغبان کو ایک آنکھ نہ بھائے اور وہ بھی مائنس ہوئے۔ مقامی بیج کی فصل سے مایوس ہو کر باغبان نے پردیسی شوکت عزیز کو مقامی کھاد و مٹی ڈال کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیا۔ لیکن وہ وطن کی مٹی سے میل نہ کھا سکا تو اسے بھی چلتا کیا۔ ایک بار پھر پیپلز پارٹی کو آصف علی زردای کی صورت میں آزمایا گیا لیکن اسے بھی چین نہ لینے دیا گیا اور اس کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی عدالت کے ذریعے مائنس کیا گیا۔ اس کے بعد ایک بار پھرباغبان کی باسی کڑائی میں ابال آیا اور تیسری بار پھر نواز شریف کو چنا گیا۔ لیکن نواز شریف دو بار آزمائے جانے کے بعد جان چکے تھے کہ وہ کسی کی خواہش پر بیک وقت انڈے اور بچے نہیں دے سکتے ۔ نتیجتاً اپنے اقتدار کی قیمت پر وہ بھی مائنس ہوئے اور وہ بھی اسطرح کہ جیل ان کا مقدر ٹھہری ۔ لیکن باقی سیاستدانوں کی طرح زمین سے نواز شریف کے تعلق کو نہ توڑا جا سکا۔
پھر بڑی دھوم دھام سے عمران خان کی صورت میں ایک نئی پنیری لگائی گئی اور اسے سیاسی آلودگی اور باقی سیاسی فصلوں کے برے اثرات سے بچانے کےلئے اس کی نگہداشت اپنے گرین ہاﺅس کی ٹنل فارمنگ میں کی گئی تا کہ اس سے اپنی منشا کے مطابق پھل حاصل کیا جا سکے۔ لیکن یہ پنیری بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکی اور قرائن سے لگتا ہے کہ باغبان نے اسے بھی جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور اس کی بے بسی دیکھیں کہ اسے خود اپنے مائنس ون ہونے کا اظہار قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر کرنا پڑا۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق یہ ایک ڈوبتے شخص کی SOS کال تھی لیکن کنارے پر صرف تماشائی کھڑے تھے اور ہاتھ بڑھا کر بچانے کی بجائے عمران خان کو ماضی یاد کرا رہے تھے جب اس نے انہیں ڈبونے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔ شاید یہی مکافات عمل ہے۔ شنید ہے کہ اب باغبان کو ایک نئے بیج کی تلاش ہے لیکن عمران خان جیسا زرخیز بیج بھی انکی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا تو آگے تو لق و دق صحرا ہے یا ان کے ماضی کے آزمائے ہوئے لوگ۔ باغبانوں سے التماس ہے کہ اپنے تجربوں سے اس زمین کو بنجر نہ کر یں اور بہتر ہے اس مٹی کو طے کرنے دیں کون سی فصل پنپ سکتی ہے۔
عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد کے بعد ملی اقتدار کی کشتی دو سال میں ہی ڈولنے لگی۔ اس وقت جس گرداب میں وہ پھنسے ہیں وہ ان کی اپنی پالیسیوں بشمول اتحادیوں سے مسائل اور تحریک انصاف کی اندرونی لڑائیوں کا پیدا کردہ ہے۔ اپوزیشن میں اتنی سکت نہیں کہ وہ حکومت کو کمزور کرنے میں کوئی رول ادا کر سکے۔ عمران خان کے اپنے بیڑے میں بھی ایک زمانے سے نقل مکانی کرنےوالے پرندوں کی بہتات ہے جو اقتدا کا موسم تبدیل ہوتے ہی اڑن چھو ہونے کو تیار ہیں۔ اور جو22 سال سے ساتھ ہیں وہ اپنی صلاحیت ہی ثابت نہیں کر سکے ۔ اب ان کی اہلیت کی کمی تھی یا سیاسی تربیت کی اس کا فیصلہ تو ملاح کو خود کرنا ہے۔ جو بظاہر نظرآ رہا ہے عمران خان کی نااہل ٹیم نے اسکی 22 سالہ جدوجہد کو منزل کی بجائے پھر سے آغازِ سفر پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ ہماری تو دعا کہ اب یہ plus minus کا کھیل ختم ہونا چاہیے۔ باغبان اسی نااہل ٹیم کے ایک فصلی بٹیرے سے سخت نالاں ہیں جس نے محض اپنی واہ واہ کےلئے اور جلد بازی میں پوری قوم اور ملک کو اقوام عالم کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کر دیا ہے۔ پی آئی اے کے کراچی طیارہ حادثے کے بعد وزیر اعظم نے اسے ایک ٹاسک دیا لیکن سارا ملبہ پچھلی حکومتوں پر پھینکنے کے بیانیے میں اس نے قومی ائیر لائن سمیت ملک کی پوری ائیر لائن انڈسٹری کو ہی داﺅ پر لگا دیا۔ اس وزیر نے محض واہ واہ کے چکر میں قومی معیشت اور وقار کو وہ نقصان پہنچا دیا جو بھارتی پروپیگنڈہ بھی نہ پہنچا سکا۔ سنا ہے کپتان اس وزیر کو ہر صورت بچانے میں لگا ہوا ہے۔
میرے گزشتہ کالم ”سرکار بنام غلام سرور خان“کے حوالے سے اسلام آباد سے ایک بابو لکھتے ہیں کہ انہوں نے وزیر موصوف کو بھارت کے 2011 ءکے بوگس پایلٹ لائسنسوں کے سیکنڈل کا حوالہ دے کر کہا کہ اس معاملے کو پبلک کرنے سے پہلے تمام مشکوک لائسنس کے حامل پائلٹس کےخلاف ایکشن لے لیں تا کہ ہم اقوام عالم کی نظروں میں سرخرو ہو سکیں ۔ لیکن ان کی سرزنش کی گئی کہ سیاسی معاملات میں ٹانگ نہ اڑائیں اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ماڈل کالونی کراچی کے مکین لکھتے ہیں کہ وہ آج تک اپنے گھروں کے نقصانات کے معاوضے سے محروم ہیں۔ یہ وہ کالونی ہے جہاں پی آئی اے کا طیارہ دو درجن سے زائد گھروں پر گر کر تباہ ہوا تھا ۔ حکام اس طرف بھی توجہ دیں۔قارئین کرام اپنی رائے کا اظہار اس وٹس ایپ 03004741474 پر کریں۔
( کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں