برسات، لالو کھیت کی چائے، سموسے اور واٹر پمپ کے پکوڑے – اظہر عزمی

کراچی کی برسات، ایک دوست کا ساتھ اور نیت کی بات!

بارش کی ٹپ ٹپ ہو تو گذرے دنوں کی منڈیر پر یادوں کے پرندے آبیٹھتے ہیں۔

جب انٹر میں تھے تو اسی وقت دو دعائیں مانگ لی تھیں۔ پہلی یہ کہ کبھی موٹر سائیکل نہیں لوں گا اور کبھی کلرکی نہیں کروں گا۔ آج تک موٹر سائیکل خریدی نہ کبھی چلائی۔ کلرکی کا بھئ بتا دوں۔ اس سے مراد تضحیک یا ملازمت کو کم ترین ثابت کرنا نہیں بلکہ اصل بات (جو شاید ہنسنے کی ہی ہے) یہ ہے کہ مجھے اسٹیپل کر کے پیپر فائل کرنا آج تک نہیں آتا۔ جب تک آس پاس کاغذ نہ بکھرے ہوں کام میں مزہ نہیں آتا۔ یہ الگ بات ہے کہ جب کام کا کاغذ ڈھونڈنا ہو تو وہ مل کر نہیں دیتا اور آج بھی خود کو خوب سناٹا ہوں۔

پہلے بھی کہہ چکا ہوں ماضی لکھنے بیٹھو تو قلم قابو میں نہیں رہتا۔ ذہن جہاں چاھتا ہے اس کو لئے پھرتا ہے۔ ملازمت کا زیادہ تر عرصہ ڈیفینس اور کلفٹن کے علاقوں میں گذرا ہے۔ ابھی دو تین سال ہی ہوئے تھے۔ سارا سفر بسوں اور ویگنوں میں تھا۔ دفتری اوقات میں جہاں گھنیرے بادل آئے۔ ہم جھوم اٹھے۔ بادل گرجے اور برسے تو موسم نے انگڑائی لی۔ ساری خوشی اپنی جگہ موسم حسین ہے لیکن ڈیفینس یا کلفٹن سے اس طوفانی بارش میں گھر کیسے جائیں گے۔

لیجئے آفس کے نمبر پر اس کی کال آگئی۔

وہ :کیسے گھر جائے گا؟
میں : ٹاور سے یہاں ڈیفینس آئے گا، سیدھا گھر نکل جائے میں کسی طرح آہی جاوں گا۔
وہ : زیادہ ڈرامے نہیں کر۔ باہر نکل کے دیکھ کتنی تیز بارش ہے ؟ تیرے پاس کون سی سواری ہے کنجوس۔ ایک موٹر سائیکل لے لے۔

مجھے غصہ سا آجاتا یہ تو ہمیشہ میری موٹر سائیکل کو ہی کیوں لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ غصے میں دیکھتا تو کہتا اچھا اپنی تقریر چھوڑ میں تیری طرف آرہا ہوں۔ کبھی کبھی تو میرا کہا مان جاتا اور نہ آتا لیکن کبھی میری ایک نہ سنتا۔ موٹر سائیکل پر بھیگتا چلا آرہا ہے۔ میں آفس کے گیٹ پر ہی ہوتا۔ موٹر سائیکل بند نہ کرتا۔ اشارے سے کہتا آجا۔

سچی بات یہ ہے تیز بارش میں موٹر سائیکل پر بیٹھ کر بڑا مزہ آتا۔ کالج کے دن یاد آجاتے۔ ہم دونوں خوب ہی انجوائے کرتے۔ راستے میں اگر کوئی گاڑی تیز گذرتی اور پانی کے چھینٹوں کی سلامی دیتی گزرتی تو پھر جو صلواتیں سناٹا کہ آس پاس میں کوئی سن لیتا تو ہنس کر دہ جاتا جو اس کے منہ میں آتا بکتا چلا جاتا۔

سالے ! گاڑی چلانا سیکھ لی۔ تمیز بھئ سیکھ لیتا۔ جیب میں پیسہ ہو تو تمیز دماغ میں کہاں رہتی ہے۔

کچھ دیر تو اس کا پیچھا بھی کرتا۔میری جان نکل جاتی۔ موٹر سائیکل ہلکی سی سلپ ہوئی تو دونوں ہی جائیں گے۔ میں کہتا دیکھ یہ سب کرئے گا تو اتر جاوں گا۔ قہقہہ لگاتا۔ تو اور اترے گا ؟ یہ کہہ کر مجھے ڈرانے کے لئے ہلکی سی اسپیڈ بڑھا دیتا۔ ڈیفینس سے پہلے ایف ٹی سی آتے۔ سندھی مسلم پر رکتے۔ میں پان لیتے اور وہ ایک یا دو سگریٹ۔ کہتا اب سگریٹ پی کر چلیں گے۔ میں کہتا چل یار راستے میں پیتے چلنا۔ او بھائی یہ تیرا پان نہیں کہ منہ میں دبایا اور جہاں چاھتا راستہ میں پیک مار دی۔ راستے بھر تفریح رہتی۔ جیل چورنگی سے تین ہٹئ سے یوتے لالو کھیت ڈاک خانے پہنچتے۔ پانی بھرا ہوتا۔ کہتا اب چائے پی کر چلیں گے۔ میں کہتا پگلا گیا ہے۔ گھر چل کر پی لیں گے۔ کہتا ابے جاھل بارش انجوائے کر یہ کراچی میں ہوتی ہے کب ہے ؟

ڈاک خانے پر چائے پیتے تو کہتا سموسے کھائے گا۔ میں وہاں کی گندگی دیکھ کر الجھ جاتا۔ بالوں سے ٹپکتا پانی چائے میں گر رہا ہوتا اس پر پتہ نہیں کس تیل میں بنے سموسے لیکن وہ لے آتا۔ گرم گرم سموسہ منہ میں رکھتے ہوئے کہتا ڈیفینس میں جاب کر کے تو بڑا برگر بنتا جا رہا ہے۔۔۔ لے کہا کچھ نہیں ہوگا۔

موٹر سائیکل تو وہ ایسے چلاتا جیسے ڈرائنگ روم میں بیٹھا کسی سے باتیں کر رہا ہے۔ موڈ میں یوتا تو بارش کا کوئی گانا گنگنائے لگتا۔ گانے سے وقت بچتا تو مجھ سے باتیں کرنے لگتا۔ تیز بارش میں اس کی کوئی بات پوری طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ میں اس کی ہر بات کے جواب میں دو تین مخصوص جواب دیتا۔ اچھا۔۔۔ ہاں یہ تو ہے۔۔۔ یہ تو تو ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب کوئی بس، ٹرک یا ویگن سے ملاکھڑے کا خدشہ ہوتا تو پھر میں چلا کر کہتا :

دیکھ ویگن سے بچا۔ ٹرک کو تو دیکھ لے۔
وہ : ابے سب دیکھ رہا ہوں اندھا تھوڑی ہوں۔

آپ اس کے موٹر سائیکل چلانے پر حرف زن ہوں تو وہ موٹر سائیکل کو اور زن کر دیا کرتا۔ میرے خیال سے وہ rough چلاتا تھا لیکن اگر کوئی موٹر سائیکل والا فیملی کے ساتھ تیز جا رہا ہوتا تو کہتا تو ذرا اس کے بھرم دیکھ۔ یہ نہیں دیکھ رہا کہ بیوی بچے ساتھ بیٹھے ہیں۔ میں کہتا تو اپنی فکر کیوں کرتا تو زور سے قہقہہ لگاتا ارے اپنے کون سے بیوی بچے ہیں۔ جب ہوں گے تب کی تب دیکھی جائے گی۔

رحم دلی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ ایک مرتبہ جب کریم آباد کا نیا پل نہیں بنا تھا۔ عین پل کے درمیان میں ایک لڑکا اور بزرگ کھڑے نظر آئے۔ان کی موٹر سائیکل بارش کی وجہ سے بند ہوگئی تھی، رک گیا۔ تیز بارش تھی۔ کافی دیر لڑکے کے ساتھ موٹر سائیکل کو اسٹارٹ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ بھر ایک دم ساتھ کھڑے بزرگ کا خیال آیا۔ لڑکے سے پوچھا یہ تیرے کون ہیں ؟ اس نے بتایا کہ دادا ہیں۔ غصے میں آگیا، کہنے لگا اتنی کھٹارا موٹر سائیکل ہر دادا کو لے کر نکلا ہی کیوں ؟ لڑکا بھی ذرا ٹیڑھا تھا بولا تم کون ہوتے ہو مجھے سمجھانے والے۔ تو تو میں میں شروع ہوگئی۔ عجب تماشا تھا میں اور دادا بیچ بچاؤ کرا رہے تھے۔ بارش نے تھمنا تھا نہ وہ تھمی۔

خیر طے یہ ہوا کہ پہلے وہ دادا کو کریم آباد کے پل کے نیچے لے کر جا رہا ہے۔ وہ لڑکا اور میں موٹر سائیکل گھسیٹتے آئیں گے۔ تیز بارش ہم دونوں نیچے آئے۔ اس دوران اس نے مکینک بھی ڈھونڈ لیا۔ دادا کو مکینک کے پاس چھوڑا۔ ہم دونوں موٹر سائیکل لے کر وہاں پہنچے۔ موٹر سائیکل اسٹارٹ ہوئی وہ دونوں چلے گئے پھر ہم نے گھر کی راہ لی۔ میں نے کہا تو بیکار میں اس لڑکے سے اٹک رہا تھا۔ بولا جاھل ہے سالا۔

واٹر پمپ پہنچتے پہنچتے کہتا یار تھوڑے پکوڑے ہو جائیں۔ میں ہاتھ جوڑ لیتا تجھے خدا کا واسطہ گھر چل اور آئندہ تو مجھے بارش میں لینے نہ آنا لیکن وہ مجھ سے پوچھتا تھوڑی تھا بس بتاتا تھا کہ پکوڑے کھانے ہیں۔

آج کل وہ امریکا میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہا ہے۔ اب تو بات کرنا بہت آسان ہوگئی ہے۔ کل رات میں نے کہا سموسے اور پکوڑے کھائے گا۔۔۔ آجا۔ بولا ابے کیا لالو کھیت میں ایسے ہی پانی جمع ہوتا ہے بارش کا۔ میں نے کہا کیوں کیا تو یہاں drainage system لگوا گیا ہے۔ بولا تم لوگ نہیں بدلو گے۔ میں نے کہا تو بدل گیا ہے کیا ؟ بارش میں وہاں کوئی موٹر سائیکل والا ملتا ہے کیا ؟ سنجیدہ ہو گیا۔ یار ترس گیا ہوں ان چھوٹی چھوٹی نیکیوں کے لئے۔ کہنے لگا دیکھ نیکی کرنے کا کوئی بھی موقع ملے کبھی ضائع نہ کر۔ تو نہیں کرے گا تو اوپر والا وہ کام کسی اور کے سپرد کر دے گا۔ میں نے کہا تیری سوچ آج بھی اندر سے وہی ہے۔ بولا سوچ کیا ہے ؟ نیت۔ بس نیت ٹھیک رکھ!

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں