میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے جب وہ کِھلتے گ…

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
جب وہ کِھلتے گلاب جیسا تھا
اُس کی پلکوں سے نیند چَھنتی تھی
اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا
اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا
اُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا
لوگ پڑھتے تھے خال و خد اُس کے
وہ ادب کی کتاب جیسا تھا
بولتا تھا زبان خوشبو کی
لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
ساری آنکھیں تھیں آئینے اُس کے
سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ
سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا
ایک دریا نما سراب تھا وہ
خواب یہ ہے کہ وہ حقیقت تھا
یہ حقیقت ہے، کوئی خواب تھا وہ
دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح
صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ
اپنی نیندیں اُسی کی نذر ہوئیں
میں نے پایا تھا رتجگوں میں اُسے

یہ مگر دیر کی کہانی ہے
یہ مگر دور کا فسانہ ہے
اُس کے میرے ملاپ میں حائل
اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے
اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی
دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے
کیا خبر اِن دنوں وہ کیسا ہے؟

(محسن نقوی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

I saw her in those days
When he was like a rose rose
She used to sleep with her eyelashes.
His tone was like wine
The clouds used to run away from her hairs.
His face was like the moon
People used to read by God.
He was like the book of literature
Used to speak the tongue of fragrance
People used to listen to him in heartbeat

I saw her in those days
All the eyes were her mirrors
There was a choice in all the faces
Being stranger to the most blend
There was a river mirage.
The dream is that he was reality
This is reality, there was a dream he
Like the sky on the land of the heart
He was a beautiful shadow.
His sleep was dedicated to him.
I found her in coz

This is the story of late
This is the story of far away.
Hurdle in her my matching
Now it is a centuries full of time
Now it is like that the situation is ours too
It is like the evening of the wilderness of absence
And what will make you know what the day is?

(Mohsin Naqvi)

Al-ạlmrsl :-:

Translated

جواب چھوڑیں