نو سیاسی مغالطے۔۔خورشید ندیم | مکالمہ


مغالطہ، آپ جانتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے؟ تفہیم کیلئے ‘غلط فہمی‘ کہہ لیجیے۔ سیاست کے باب میں کچھ مغالطے ہیں جو عوام ہی نہیں، خواص کو بھی لاحق ہیں۔
ایک مغالطہ یہ ہے ‘لیڈر تو اچھا تھا، اسے مشیر اچھے نہیں ملے‘۔ ایک ناکام سیاست دان یا لیڈر کی فرد قراردادِ جرم مرتب ہوتی ہے تو یہ آخری دلیل ہے جو اس کے حق میں پیش کی جاتی ہے۔ مشیروں کا انتخاب، ایک لیڈر کاپہلا امتحان ہے۔ لیڈر ہونے کی پہلی نشانی۔ جو آدمی مشیروں کے انتخاب میں ناکام رہتا ہے، اس سے کسی کارنامے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
کامیاب راہنماؤں کی تاریخ یہ ہے کہ وہ مشاورت کے لیے باصلاحیت لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ کس کام کے لیے کون موزوں تر ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ اگر انسانی تاریخ کے کامیاب ترین حکمرانوں میں سے تھے تواس کی ایک وجہ مشیروں اور مردانِ کار کا صحیح انتخاب بھی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ کون کس کام کا اہل ہے۔ سیدنا علیؓ ان کے مشیروں میں سرِ فہرست تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ علیؓ کے علم، بصیرت اور معاملہ فہمی سے کیسے خیر کشید کرنا ہے۔
کوفہ پہلے دن سے اُن کے لیے دردِ سرتھا۔ فساداورفتنہ اس کی مٹی میں ہے۔ مدینہ سے جو گورنر جاتا، ناکام لوٹتا۔ آخر امیرالمومنین کی نظرِ انتخاب سیدنا معاویہؓ پر پڑی۔ ان کی سیاسی بصیرت اورانتظامی صلاحیت بروئے کار آئی اور پھر کبھی کوئی صدائے بغاوت یہاں سے نہ اٹھی۔ امیرمعاویہؓ کی شخصیت سیاسی مناقشات میں کھو گئی۔ لوگ تعصبات سے بلند ہوتے تو ان کی گورننس اور حسنِ انتظام سے بہت کچھ سیکھ سکتے تھے۔
دوسرا سیاسی مغالطہ یہ ہے کہ ‘کرپشن صرف وہ ہوتی ہے جومالی امور میں ہو‘۔ کرپشن صرف یہی نہیں ہے کہ کوئی روپے پیسے کے معاملے میں جائز ناجائزکی تمیزسے اٹھ جائے۔ سیاسی کرپشن کی جامع تعبیر یہ ہے کہ کوئی اقتدار تک پہنچنے کے لیے اخلاقی قدروں سے آزاد ہوجائے۔ روپے پیسے کا استعمال اس کی صرف ایک صورت ہے۔ غیر سیاسی قوتوں سے خفیہ ساز باز سیاسی کرپشن کی بدترین مثال ہے۔ اسی طرح انتخابات میں دھاندلی، جیت کے لیے سچ جھوٹ میں ملاوٹ، کامیابی کے لیے ان لوگوں کی حمایت کا حصول جن کی کرپشن پر ایک زمانہ گواہ ہو، بھی کرپشن کی مختلف شکلیں ہیں۔ یہ سب وہ کام ہیں جن سے سیاسی عمل یکساں طور پر کرپٹ ہو جاتا ہے۔
تیسرا سیاسی مغالطہ یہ ہے کہ ‘اوپر بیٹھا اگر دیانت دار ہو تو نیچے کرپشن نہیں ہوتی‘۔ یہ جملہ دراصل دو مغالطوں کامجموعہ ہے۔ ایک یہ کہ اس میں بھی دیانتداری کوصرف مالی امور تک محدود رکھا گیاہے۔ مثال کے طور پرلوگ جنرل ضیاالحق کی دیانتداری کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ بات درست ہوگی لیکن جو شخص آئین کو پامال کر دے اور لوگوں کو ساتھ ملانے کیلئے مناصب کا استعمال کرے، اس کو سیاسی طور پر دیانت دارکہنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اگر اوپر بیٹھا دیانتدار ہو توبھی دیانت نیچے تک سرایت نہیں کرتی اگر سماج کا اخلاقی نظام کمزور ہو۔ اس کی مثال حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں۔ ان کی دیانت کی اس سے بڑھ کر کیا مثال ہوگی کہ انہیںعمرِ ثانی کہا گیا۔ اس کے باوصف وہ نظام کی اصلاح نہیں کر سکے۔ وہ رخصت ہوئے تو زندگی وہیں لوٹ گئی جہاں ان کے برسرِ اقتدار آنے سے پہلے تھی۔
چوتھا مغالطہ یہ ہے کہ اسلام ایک بنا بنایا نظام ہے‘ اگرقوتِ نافذہ مل جائے تو اس کو نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کا ہر صاحبِ ایمان سے مطالبہ یہ ہے کہ اسے دوسروں کے بجائے خود پر نافذ کرے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے لیکن اس کامطلب محض قوت سے نفاذ نہیں ہے۔ اس میں تلقین و دعوت بھی شامل ہے۔ پھر یہ کہ جہاں سماج کا اخلاقی نظام مضبوط نہ ہو، وہاں محض قانون سازی یا ریاستی جبر کے استعمال سے کوئی اخلاقی تبدیلی نہیں آسکتی۔
پانچواں مغالطہ یہ ہے کہ ‘اسلامی نظام کے نفاذ سے مراد علما یا مذہبی طبقے کی حکومت ہے‘۔ مذہبی طبقے کی حکومت سے صرف پاپائیت اور مذہبی جبر پیداہوتا ہے۔ عالمِ مسیحیت کا تجربہ یہی ہے اور عالمِ اسلام کابھی۔ اس کے نتیجے میں اقتدار کے خواہش مند طبقات میں ایک نئے طبقے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ جو چوتھے اور پانچویں مغالطے کو تفصیل سے سمجھنا چاہے، اسے ایران کی مذہبی حکومت، افغانستان میں طالبان کا عہدِ اقتدار اور خیبر پختون خوا میں مذہبی لوگوں کے دورِ حکومت کا سیاسی و سماجی مطالعہ کرنا چاہیے۔
چھٹا مغالطہ یہ ہے کہ ‘مضبوط سیاسی جماعتوں اور آدرش کے بغیر ملک میں جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے‘۔ سیاسی جماعتوں کے بغیر کوئی ٹھوس سیاسی عمل وجود میں نہیں آسکتا ۔ اگر سیاست دانوں کی تگ ودو کا محور یہ ہو کہ کسی طرح سے سیاسی وراثت بیٹے یا بیٹی کو منتقل ہوجائے تو تاریخ کے کسی موڑ پرعزیمت کا مظاہرہ کرنے کے باوجود، وہ جمہوری عمل کو آگے نہیں بڑھا سکتے۔ ان کی قربانی رائگاں چلی جاتی ہے۔
جمہوری اقدار کا فروغ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب سیاست دان کسی آدرش کے تحت سیاست کرتے اور اس کے لیے سیاسی جماعت کے فورم کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس فورم کو ایسے خطوط پر استوار کرتے ہیں کہ باصلاحیت لوگ سامنے آئیں اور قوم کو اخلاقی اور ذہنی طور پر بہتر افرادِ کار میسر آسکیں۔ اس کے علاوہ جمہوری اقدار کے استحکام کی کوئی صورت نہیں۔
ساتواں مغالطہ یہ ہے کہ’عسکری قوت کسی ریاست کے استحکام کی ضمانت ہے‘۔ یہ دراصل عوامی قوت ہے جس سے ملک مضبوط ہوتے ہیں۔ وہی ریاستیں مستحکم ہو سکتی ہیں جو عوام کی صحت، تعلیم اور ان کی صلاحیتوں کی بالیدگی کو اپنی پہلی ترجیح بناتی ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ گھر کی حفاظت کے لیے شمشیر و سناں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ گھر کی حفاظت کے لیے مگر گھر کا ہونا ضروری ہے اور یہ کہ اس کے مکین بھی مکمل صحت مند ہوں۔ افراد صحت مند نہ ہوں تو طاقت بھی ان کی حفاظت نہیں کر سکتی۔
آٹھواں مغالطہ یہ ہے کہ ‘پاکستان الہامی تائید سے بنا اور اس کو خدائی قوتوں کی حمایت حاصل ہے‘ لہٰذا اس مملکتِ خدادادا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا‘۔ یہ مابعد الطبعیات معاملہ ہے‘ اس کی کوئی دلیل نہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ ہی اس کے مغالطہ کے رد کے لیے کافی ہے۔ پھر یہ کہ الہامی فیصلے کے لیے الہامی دلیل چاہیے۔ بابل سے سیدنا ابراہیمؑ کی ہجرت کے بعد، دو مقامات ہیں، جہاں اللہ کے حکم سے مساجد بنائی گئیں۔ ایک سرزمین عرب اور دوسرا مقام فلسطین ہے۔ انہی کو اب تاقیامت تقدس حاصل ہے۔ ان کے علاوہ اس زمین پر کوئی مقام ایسا نہیں جس کے بارے میں کوئی الہامی سندپیش کی جاسکے۔
نواں مغالطہ یہ ہے کہ ‘عوام جاہل ہوتے ہیں۔ یہ خواص کا کام ہے کہ وہ قومی مفاد کا تعین کریں اور عوام اس کو قبول کرلیں‘۔ اسی کے تحت آزادیٔ رائے کو ایک جرم سمجھا جاتا ہے اوراس کے دروازے بند کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ کامیاب معاشرے وہی ہیں جہاں اجتماعی دانش بروئے کار آئے۔ یہ صرف آزادی رائے کے مواقع فراہم کرنے سے میسر آسکتی ہے۔ اسی سے عوامی شعور ارتقا کے مرحل طے کرتا اور خوب سے خوب تر کی جستجو میں آگے بڑھتا ہے۔
یہ نوبڑے مغالطے ہیں جن میں ہم بحیثیت قوم مبتلا ہیں۔ قدرت مہلت ارزاں کرے تو میں ان پرپوری کتاب لکھوں۔ ایک ایک مغالطے پر پورا باب لکھا جائے اور اس کی تائید میں عقلی شواہد اور تاریخی نظائر جمع کر دیے جائیں۔ پھرمیں ایسی کتاب کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنادوں، اگر مقدور ہو۔ ہمیں نئی نسل کو اتنا بالغ نظر بنانا ہوگا کہ کوئی اس کا جذباتی استحصال نہ کر سکے۔

روزنامہ دنیا





بشکریہ

جواب چھوڑیں