عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نم…

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 318 : تین درویش
تحریر : لیو ٹالسٹائی (روس)
مترجم : اسماء حسین (نیویارک)
ایک پادری آرک اینجل سے سلوویٹسک خانقاہ تک بحری سفرکررہا تھا ۔ کچھ زائرین بھی وہاں موجود درگاہوں پر حاضری کےلیے جہاز پر سوارتھے۔ سفر ہموار تھا۔ ہوا موافق اور موسم صاف تھا۔ کچھ زائرین عرشے پر لیٹے تھے کچھ کھا پی رہے تھے یا گروہوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔ پادری بھی عرشے پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک گروہ جہاز کے اگلے حصے کے پاس کھڑا ایک مچھیرے کی باتیں سُن رہا ہے ۔ مچھیرا سمند ر کی طرف اشارہ کر کے کے اُنھیں کچھ بتا رہا تھا۔ پاردری نے اُسی سمت میں دیکھنے کی کوشش کی جس طرف مچھیرا اشارہ کر رہا تھا، لیکن اُسے دھوپ میں چمکتے سمندر کے سوا کچھ نظر نہیں آیا ۔ اُس نے نزدیک ہو کر بات سُنی چاہی لیکن اُسے دیکھ کر مچھیرا خاموش ہو گیا اور اپنی ٹوپی اُتار کر اُسے سلام کیا ۔ باقی لوگوں نے بھی اپنی اپنی ٹوپیاں اُتاریں اور پادری کے سامنے تعظیماً جُھک گئے۔
"دوستوں، میری وجہ سے آپ اپنی گفتگو نہ روکیں ۔ میں تو بس ان صاحب کی بات سُنے آیا تھا۔"
"مچھیرا ہمیں درویشوں کے بارے بتا رہا تھا۔" ایک تاجر نے جواب دیا جو باقی لوگوں کی با نسبت ذرا پرُاعتماد تھا۔
"کون درویش ؟"پادری نے کشتی کے کنارے پر پڑے ایک صندوق پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ " مجھے اُن کے بارے میں بتائیے۔ میں سُننا چاہتا ہوں ۔ آ پ کس طرف اشارہ کر رہے تھے ؟"
" ضرور " مچھیرے نے جواب دیا ۔"وہاں وہ جزیرہ دیکھ رہے ہیں ۔" اُس نے ذرا دائیں جانب ایک جگہ اشارہ کیا۔ " اس جزیرے پر تین درویش رہتے ہیں تاکہ دنیاوی آلائشوں سے دور رہ کر آخرت میں نجات حاصل کر سکیں ۔"
"کہا ں ہے جزیرہ ؟ پادری نے پوچھا۔ مجھے تو کچھ نظرنہیں آرہا۔"
"وہاں ذرا فاصلے پر ۔میرے ہاتھ کی سمت میں دیکھیں تو نظر آ جائے گا۔ آپ وہ بادل کا ٹکڑا دیکھ رہے ہیں ؟ اُس کے نیچے ذرا سا بائیں جانب ایک دُھندلی سی لکیر نظر آ رہی ہے وہی جزیرہ ہے۔"
پادری نے دھیان سے دیکھا ، لیکن اُس کی نامانوس آنکھیں دھوپ میں چمکتے سمندر کے پانی کے سوا کچھ نہ دیکھ سکیں ۔
"مجھے جزیرہ نظر نہیں آرہا ۔" اُس نے کہا ۔" لیکن کون درویش وہاں رہتے ہیں؟"
"وہ دین دارلوگ ہیں ۔" مچھیرے نے جواب دیا۔" میں نے کافی عرصہ پہلے اُن کے بارے میں سُنا تھا، لیکن ملاقات کا شرف پچھلے سال حاصل ہوا۔"
پھر مچھیرے نے اُن درویشوں سے ملاقات کا قصّہ سُنایا کہ کیسے ، ایک بار وہ مچھلیاں پکڑنے نکلا اور بھٹک کر اُس جزیرے پر جا پہنچا ۔ صبح جب وہ جزیرے پر ادھر اُدھر گھوم پھر رہا تھا تو اُ سے ایک جھونپڑی نظر آئی اور اُس کے پاس کھڑے ایک آدمی سے ملا قات ہوئی پھر دو آدمی اور آ گئے۔ اُن تینوں نے اُسے کھانا کھلایا ، اُس کا سامان خشک کیا اور اُس کی کشتی کی مرمت کرنے میں بھی مدد کی ۔
"وہ دیکھنے میں کیسے تھے ؟" پادری نے سوال کیا۔
"ایک درویش کی کمر خمیدہ اور قد بہت چھوٹا تھا۔ وہ پادریوں والا جبّہ پہنتا تھا اور بہت ہی بوڑھا تھا ۔ میرا خیال ہے کہ وہ ضرور سو سال سے زیادہ عمر کا ہوگا۔وہ اتنا بوڑھا تھا کہ اُس کی سفید ڈاڑھی بھی سبزی مائل ہو رہی تھی، لیکن وہ ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا اور اُس کے چہرے پر فرشتوں جیسا نور تھا۔ دو سرا بھی بوڑھا اور کافی لمبے قد کا تھا ۔وہ دیہاتیوں جیسی بوسیدہ سی قمیض پہنتا تھا۔اُس کی ڈاڑھی گھنی اور پیلاہٹ مائل سرمئی تھی ۔ وہ کافی طاقتور تھا اُس نے کسی کی مدد کے بغیر ہی میری کشتی ایسے اُلٹ دی جیسے وہ کوئی خالی ڈبّہ ہو۔ وہ خاصا خوش مزاج اور رحمدل تھا ۔ تیسرا درویش درمیانے قد کاٹھ کا اور سخت مزاج تھا ۔اُس کی برف جیسی سفید ڈارھی گھٹنوں تک لمبی تھی اور گھنی بھنویں بھی اتنی لمبی تھیں کہ اُس کی آنکھوں پر لٹکتی تھیں۔ وہ کمر کے گرد ایک موٹا بوریا لپیٹنے کے علاوہ کچھ نہیں پہنتا تھا۔"
"کیا وہ تم سے بات کرتے تھے؟" پادری نے پوچھا۔
"زیادہ تر وقت وہ خاموشی سے کام کرتے رہتے تھے ،یہاں تک کہ ایک دوسرے سے بھی بہت کم بات کرتے تھے۔ اُن میں سے ایک تو بس ایک نظر دیکھتا تھا اور باقی دونوں اُس کا مطلب سمجھ جاتے تھے ۔ ایک بار میں نے سب سے دراز قد درویش سے پوچھا کیا وہ یہاں طویل عرصے سے مقیم ہیں ؟ تو وہ خفا ہو گیا اور غصّے سے بڑبڑانے لگالیکن جب سب سے بوڑھے درویش نے مسکرا کر اُس کا ہاتھ تھام لیا تو دراز قد درویش چُپ ہو گیا۔ سب سے بوڑھے نے صرف اتنا کہا : "ہم پر رحم کرو، اور مسکرا کر خاموش ہو گیا۔"
مچھیرے کی باتوں کے دوران ہی جہاز جزیرے کے نزدیک ہو چکا تھا۔
"اب آپ جناب چاہیں تو آسانی سے دیکھ سکتے ہیں ۔" تاجر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
پادری نے دیکھا تو اب وہاں واقعی جزیرہ ایک گہری لکیر کی مانند دیکھائی دے رہاتھا۔چند لمحے اُسے دیکھنے کے بعد پادر ی جہاز کے عقبی حصّے کی طرف گیا اور جہاز کے اسٹئیرنگ پر بیٹھے ملاح سے پوچھا۔
"یہ کون سا جزیرہ ہے؟"
"اس جزیرے کا کوئی نام نہیں ہے، سمندر میں اس طرح کے کئی جزیرے ہیں ۔" ملاح نے جواب دیا۔
"کیا یہ سچ ہے کہ اس جزیرے پر تین درویش رہتے ہیں ؟"
"جناب ،ایسا کہا جاتا ہے ، لیکن مجھے نہیں معلوم آیا یہ سچ ہے یا نہیں ۔ مچھیرے کہتے ہیں کہ اُنہوں نے درویشوں کو دیکھا ہے ؛لیکن ہو سکتا ہے وہ یوں ہی کہانیاں بنا رہے ہوں ۔"
"میں جزیرے پر جا کر اُن سے ملنا چاہتا ہوں ۔" پادری نے کہا۔" یہ بتاؤ میں وہاں کیسے پہنچ سکتا ہوں ؟"
"جہاز جزیرے کے قریب نہیں جاسکتا ، جناب ۔" ملاح نے جواب دیا۔ لیکن کشتی کے ذریعے آ پ کو وہاں پہنچایا جا سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ آپ کپتان سے بات کرلیں ۔"
کپتان کو بلوایا گیا۔
"میں درویشوں سے ملنا چاہتا ہوں ۔" پادری نے کہا۔" کیا مجھے کشتی کے ذریعے ساحل پر پہنچایا جاسکتا ہے؟"
پہلے تو کپتان نے پادری کو اُس کے ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی پھر کہا ۔
"بالکل کیا جاسکتا ہے ، لیکن اس طرح ہمارا کافی وقت برباد ہو جائے گا، اور بہت ہی معذرت کے ساتھ ،میں آپ سے یہ ضرور کہوں گا کہ وہ بوڑھے اس قابل نہیں ہیں کہ آپ اُن سے ملاقات کی تکلیف اُٹھائیں ۔ میں نے سُنا ہے کہ وہ بے وقوف بوڑھے لوگ ہیں ، جو نہ کسی سے بات کرتے ہیں اور نہ اُنہیں کسی بات کی سمجھ بوجھ ہے ۔"
"پھر بھی میں اُن سے ملنا چاہتا ہوں ۔" پادری نے کہا۔ " میں تمھیں ہونے والی زحمت اور زائد وقت کا ہرجانہ ادا کر دوں گا۔ برائے مہربانی اب مجھے ساحل پر پہنچا دو۔"
کپتان کے پاس ، پادری کی بات مان لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اس لیے جہاز کا رُخ جزیرے کی طرف موڑدیا گیا۔ جہاز کے اگلے حصّے پر ایک کر سی رکھ دی گئی جس پر پادری بیٹھ کر جزیرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
تمام مسافر بھی جہاز کے اگلے حصّے پر جمع ہو گئے اُن کی نگاہیں مسلسل جزیرے پر جمی ہوئیں تھیں ۔ جن کی نگاہیں تیز تھیں اُن کو جلد ہی چٹانیں اور پھر جھونپڑی نظر آنے لگی ۔ آخر کار ایک آدمی نے درویشوں کو دیکھ لیا۔ کپتان نے دوربین سے جزیرے کا جائزہ لینے کے بعد اُسے پادری کے حوالے کر دی۔
"ٹھیک ہے ۔تین آدمی کنارے پر کھڑے ہیں ۔ اُس بڑی چٹان کے تھوڑی دائیں طرف ۔"
پادری نے دوربین سے دیکھاتو اُسے تین آدمی نظر آئے: ایک لمبا ، ایک درمیانہ سا اور ایک جُھکی کمر والا بہت ہی چھوٹا ۔ تینوں کنارے پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑے تھے۔
کپتان نے پادری سے کہا: " جہاز یہاں سے آگے نہیں جا سکتا ، جناب ۔ اگر آپ کنارے پر جانا چاہتے ہیں تو آپ کو کشتی پر جانا پڑے گا او ر اس دوران جہاز یہیں ٹھہرے گا۔"
جہاز کا اینکر پانی میں ڈال کر باد بان لپیٹ دیئے گئے۔ کشتی جہاز سے نیچے اُتاری گئی ، ملاح اُس میں اُترے پھر پادری بھی سیڑھی کے ذریعے کشتی پر سوار ہو گیا۔ ملاحوں نے چپّو چلانے شروع کیے اور کشتی تیزی سے جزیرے کی طرف روانہ ہو گئی۔ جزیرے کے تھوڑا قریب پہنچنے پر اُنہیں تینوں درویش ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑے نظر آ گئے ۔
ملاحوں نے کشتی کنارے پر لگا ئی اور پادری اُس سے اُتر گیا۔
درویشوں نے اُسے جُھک کرسلام کیا اور پادری نے بھی اُنہیں دعائے خیر دی ، پھر اُن سے گفتگو شروع کردی۔
"میں نے سُنا ہے کہ ، آپ نیک لوگ اپنی اور دوسرے انسانوں کی بخشش کے لیے، خدائے یسوع مسیح سے دعا کرنے کی خاطر یہاں گوشہ نشین ہیں ۔ خدا کا کرم ہے کہ اُس نے مجھ ناچیز کو اپنے بندوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپی ہے ۔میں آپ لوگوں سے مل کر یہ جاننا چاہتا تھا کہ میں آپ لوگوں کو کیا سکھا سکتا ہوں ۔"
تینوں بوڑھے آدمیوں نے ایک دوسرے کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا ، لیکن خاموش رہے۔
"مجھے بتائیں کہ، آپ لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں ؟"
دوسر ے درویش نے ٹھنڈی سانس بھر کر سب سے بوڑھے درویش کی طرف دیکھا تو اُس نے مسکرا کر کہا :"ہمیں نہیں معلوم کہ خدا کی خوشنودی کیسے حاصل کرتے ہیں ۔ ہم تو صرف اپنی خوشی اور آرام کا خیال رکھتے ہیں ۔"
"لیکن آپ خدا سے دُعا کیسے مانگتے ہیں ؟ " پادری نے سوال کیا ۔
"ہم اس طرح دُعا کرتے ہیں ، تین آپ ہیں ، تین ہم ہیں ، ہم پر رحم کریں ۔" بزرگ ترین درویش نے جواب دیا۔
بوڑھے درویش کے جواب دینے کے بعد تینوں نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف کیں اور پھر دعا دہرائی : " تین آپ ہیں ، تین ہم ہیں ، ہم پر رحم کر یں ۔"
پادری دعا سُن کر مسکرا دیا۔
"ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں نے مقدس تثلیث کے بارے میں کچھ باتیں سُن رکھی ہیں ۔" پادری نے کہا۔" لیکن آپ کی دُعا کا طریقہ درست نہیں ہے۔ آپ لوگوں نے مجھے بہت متاثر کیا ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ، اُس سے دُعا کیسے کرتے ہیں یہ نہیں جانتے ۔ میں آپ کو وہ طریقہ بتاؤں گا جس طریقے سے مقدس کتاب میں خدا نے انسانوں کو دُعا کرنے کا حکم دیا ہے ۔"
پادری نے اُن کو ، خدا باپ ، خدا کا بیٹا اور روح القدس کے بارے میں بتا یا جن کے ذریعے انسانوں نے رب کو پہچانا۔
"خدا کا بیٹا انسانوں کی نجات کے لیے زمین پر آیا ۔" اُس نے کہا ۔ "اور اُس نے اِس طرح ہمیں عبادت کرنا سیکھائی ۔آپ سُنیں اور میرے بعد دہرائیں : ہمارے باپ ۔"
پہلے ، سب سے بوڑھے درویش نے پادری کی دعا دہرائی ، " ہمارے باپ " پھر دوسرے درویش نے دعا دہرائی ، " ہمارے باپ۔" پھر تیسرے درویش نے دہرائی ،" ہمارے باپ ۔"
"جو آسمان پر ہے۔ " پادری نے اگلا جملہ کہا۔
"سب سے بوڑھے درویش نے اپنے بغیر دانتوں کے پوپلے منہ سے دعا دہرائی تو الفاظ سمجھ سے باہر تھے ۔دوسرےدرویش نے الفاظ ادھر اُدھر کر دیے اورتیسرا بھی درست طریقے سے دعا نہیں دہرا سکا ، اُس کی مونچھیں اتنی بڑی تھیں کہ اُسے بولنے میں وقت ہوتی تھی۔
پادری نے پھر الفاظ دہرائے ، اور تینوں درویشوں نے اُس کے بعد پھر دعا دہر وای ۔ پادری ایک پتھر پر بیٹھا تھا اور درویش اُس کے سامنے کھڑے تھے ۔ اُن کی نظریں اُس کے ہونٹوں پر جمی ہوئیں تھیں ۔ جیسے ہی الفاظ اُس کے منہ سے ادا ہوتے درویش فوراً وہی الفاظ دہرا دیتے ۔ پادری سارا دن ایک لفظ بیس ، تیس ، او ر سو بار کہتا اور بوڑھے اُسے دہراتے۔ وہ غلطی کرتے اور پادری اُن کو دوبارہ شروع سے یاد کراناشروع کردیتا۔
پادری اُس وقت تک وہاں موجود رہا جب تک اُنہوں نے ، رب کی دعا، مکمل طور پر یاد نہ کر لی ، تاکہ وہ خود اُس کے بغیر پوری دعا پڑھ سکیں ۔ منجھلے درویش نے سب سے پہلے دعا یاد کی اور اکیلا ہی اُسے دہرانے کے قابل ہو گیا۔ پادری نے اُس سے بار بار مشق کروائی تھی ۔آخر کار باقی دو کو بھی دعا یاد ہو گئی ۔
تاریکی پھیلنا شروع ہو گئی تھی اور چاند کا عکس پانی پر نظر آنے لگا تھا۔ پادری نے واپس جانے کی اجازت چاہی تو تینوں بوڑھے آدمی اُس کے سامنے احتراماً جُھک گئے ۔ اُس نے تینوں کو اُٹھاکر ایک ایک بوسہ دیا اور تاکید کی کہ وہ اُسی طرح دعا کریں جیسے اُس نے اُن کو سکھائی ہے ، اور جہاز پر واپس جانے کے لیے کشتی پر سوا رہو گیا۔
وہ کشتی میں بیٹھا ہو ا بھی درویشوں کی آوازیں سُن سکتا تھا جو بلند آواز میں دعا کی گردان کر رہے تھے ۔ جب کشتی جہاز کے قریب پہنچی تو اُن کی آوازیں سُنائی دینا بند ہو گئیں لیکن وہ تینوں اب بھی کنارے پر وہیں کھڑے تھے جہاں وہ اُن کو چھوڑ کر آیا تھا۔ سب سے چھوٹے قد کا درمیان میں ، دراز قد دائیں طرف اور درمیانے قد کا بائیں طرف تھا۔ جیسے ہی پادری جہاز پر پہنچا جہاز کا اینکر اُٹھا لیا گیا اور بادبان کھول دیئے گئے ۔ جہاز منزل کی طرف روانہ ہو گیا اور پادری نے جہاز کے پچھلے حصّے میں موجود اپنی جگہ سنبھال لی اور جزیرے کو دیکھنے لگا جہاں سے وہ ابھی آیا تھا۔ کچھ دیر تک اُسے درویش نظر آئے پھر وہ نظر سے اوجھل ہوگئے لیکن جزیرہ اب بھی نظر آرہا تھا ۔ آخر کار جزیرہ بھی نظروں سے غائب ہو گیا اور اب صرف چاندنی میں چمکتا سمندر ہی آنکھوں کے سا منے رہ گیا۔
زائرین سونے کے لیے لیٹ چکے تھے اور عرشے پر مکمل خاموشی تھی ۔ پادری ابھی سونا نہیں چاہتا تھا وہ جہاز کے عقبی حصّے میں بیٹھا ، اُن نیک بوڑھوں کے خیال میں مگن سمندر میں اُس طرف دیکھا رہاتھا جہاں سے اب جزیرہ اوجھل ہو چکا تھا۔ اُ س نے سوچا کہ وہ بوڑھے ، رب کی دعا ، یاد کر کے کتنے خوش ہوں گے ۔پادری خدا کا شکر گزار تھا کہ ، خدا نے اُسے نیک آدمیوں کو دعا سکھانے اور اُن کی مدد کے لیے چنا۔
وہ جزیرے کی طرف نظریں جمائے سوچوں میں گم تھا ۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے سمندر کی لہروں پر چاندنی پھیلی ہوئی تھی ،اسی روشنی میں اچانک اُسے سمندر پر کوئی سفید اور چمک دار شے نظر آئی۔
"کیا یہ بگلا ہے؟ یا کسی چھوٹے جہاز کا چمکدار بادبان ؟ " وہ اُس چیز کو غور سے دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا؟
"یہ یقیناً کوئی کشتی ہے جو ہمارے پیچھے آ رہی ہے ۔" اُس نے سوچا ۔ " لیکن یہ تو بہت تیزی سے آگے آ رہی ہے۔ ایک منٹ پہلے یہ خاصی دور تھی اور اب اتنا نزدیک آ گئی ہے۔یہ کشتی نہیں ہو سکتی، مجھے اس کے بادبان نظر نہیں آ رہے۔ لیکن یہ جو کوئی بھی ہمارے پیچھے آ رہا ہے ہم تک پہنچنا چاہتا ہے۔"
وہ کوئی اندازہ نہیں لگا سکا کہ آنے والی چیز کیا ہے ؟ نہ کشتی ، نہ پرندہ ، نہ مچھلی اور کوئی آدمی بھی نہیں کیونکہ اُس کی جسامت انسانی جسم سے کافی بڑی تھی اور نہ کوئی انسان سمندر کے درمیان اس طرح مٹر گشت کر سکتا تھا ۔
پادری اپنی جگہ سے اُٹھا اور ملاح سے کہا "اُدھر دیکھو، وہ کیا ہے ؟ اُس نے دو بار سوال دہرایا حالانکہ وہ اب واضح طور پراُس چیز کو دیکھ سکتا تھا۔ یہ وہی بوڑھے درویش تھے جن سے وہ ابھی مل کر آیا تھا ۔ اُن کے گرد نور کا ہالہ تھا اور سرمئی ڈاڑھیاں چمک رہیں تھے۔ وہ تینوں سمندر کے پانی پر جہاز کی طرف اس تیزی سے بھاگتے چلے آ رہے تھے جیسے صبح نہیں ہو گی۔
ملاح نے درویشوں کو دیکھاتو خوفزدہ ہو کر جہاز کا اسٹئیرنگ چھوڑ دیا ۔
''اوہ خدایا! یہ تو درویش ہیں جو ہمارے پیچھے پیچھے سمندرپر ایسے چلے آ رہے ہیں جیسے وہ سوکھی زمین ہو! ''
مسافر اُس کی آواز سُن کر دوڑتے ہوُئے جہاز کے عقبی حصّے میں جمع ہو گئے۔اُنھوں نے دیکھا کہ تینوں درویش ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلے آ رہے ہیں اور اُن میں سے دو جہا زکو رُکنے کا اشارہ کر رہے ہیں ۔ وہ تینوں اپنے پیروں کو حرکت دیئے بغیر پانی پر سُبک رفتاری سے چل رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ جہاز رُکتا درویش اُس تک پہنچ گئے۔ تینوں نے بیک آواز بولنا شروع کر دیا:
''اے خدا کے بندے! ہم تمھاری سکھائی ہوئی دعا بھول گئے ہیں۔ جب تک ہم دعا دہراتے رہے۔ وہ یاد رہی لیکن جب ہم نے کچھ دیر کے لیے دہرانا بند کیا تو ہم ساری دعا بھول گئے۔ ہمیں دوبارہ سکھا ئیے۔''
پادری نے سینے پر صلیب کا نشان بنایا اور کہا'' خدا کے نیک بندوں ، آپ کی دعا خدا تک پہنچ جائے گی۔ میں اس قابل نہیں کہ آپ کو دُعا سکھا سکوں ۔ ہم گناہ گاروں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیئے گا۔''
پادری نے بوڑھے آدمیوں کو جھک کر سلام کیا اور وہ واپس جزیرے کی طرف لوٹ گئے ۔ صبح ہونے تک اُس جگہ روشنی جھلملاتی رہی جہاں وہ تینوں درویش نگاہوں سے اُوجھل ہوئے تھے۔
English Title: Three Hermits
Written by:
Leo Tolstoy (Born: 9 September 1828, Died: 20 November 1910 ), was a Russian writer who is regarded as one of the greatest authors of all time.

— with Asma Hussain.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2814532025443979

جواب چھوڑیں