ہمارا غریب بھائی شاعر: پابلونرودا (چلی، 1904ء – 1…

ہمارا غریب بھائی
شاعر: پابلونرودا (چلی، 1904ء – 1963ء)
مترجم : جاوید شاہین (لاہور: 1932ء-2008ء)

آج ہم اپنے بھاٸی کو دفن کرنے جا رہے ہیں
اپنے غریب بھاٸی کو
اس کی حالت ہمیشہ پتلی رہی
اتنی پتلی کہ آج پہلی مرتبہ
اسے پورا تن ڈھانپنے کو کپڑا نصیب ہوا ہے
اس کے پاس گھر تھا نہ زمین
قاعدہ تھا نہ کاغذ
نہ ہی کچھ کھانے کو
وہ جگہ جگہ بھٹکتا رہا
جینے کے ہاتھوں مرتا رہا
لمحہ لمحہ مرتا رہا
پیداٸش سے اس کا یہی طور تھا
حسن اتفاق سے وہ سب لوگ
ایک ہی خیال کے مالک تھے
پادری سے جج تک
وہ اسے جنت میں اس کے حصے کایقین دلاتے رہے
اور اب جب ہمارا غریب بھاٸی مر چکا ہے
واقعی مر چکا ہے
وہ سمجھنے سے قاصر ہوگا
کہ اتنے وسیع آسمان کا کیا کرے
وہاں ہل چلاٸے،بیج بوۓ؟یا فصل کاٹے
اس کا یہی پیشہ تھا
وہ غیر آباد زمین پر بے رحمانہ محنت کرتا
اب آسمان بڑی آسانی سے
اس کے ہل کی دسترس میں ہے
اب جنت کے پھلوں میں اس کا حصہ ہوگا
اتنی بلندی پر میز کے اوپر
جنت کی ہر نعمت اس کے سامنے ہوگی
ہمارا غریب بھاٸی
دنیا سے اپنی ساٹھ سالہ بھوک لے جا رہا ہے
لیکن اب وہ مطمٸن ہے
کہ زندگی کی تلخیاں کم ہو گٸ ہیں
اب اسے روٹی کے لیے ظلم سہنا نہیں پڑے گا
زمین کے نیچے تابوت میں ہر طرح محفوظ رہے گا
سر چھپانے کے لیے جگہ جگہ بھٹکے گا نہیں
مزدوری پر جھگڑے گا نہیں
اس شخص کو اتنے سارے انصاف کی کب توقع تھی
انھوں نے اچانک اسے
اس کی امید سے زیادہ دے دیا ہے
خوشی سے اس کے ہاتھ پاٶں پھول گٸے ہیں
اس سے بولا نہیں جاتا
ہمارا غریب بھاٸی اب اس قدر وزنی ہو گیا ہے
کالی آنکھوں سمیت وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوا کرتا تھا
اب اس کا وزن بتاتا ہے
کہ اسے وہ سب مل گیا ہے
جو وہ زندگی میں حاصل نہ کر سکا
کاش!اس کی قوت بڑھتی جاتی
غیر آباد زمین کا سینہ چیرنے کی،پتھر توڑنے کی،
گندم کاٹنے کی،مٹی کو سیراب کرنے کی،
گندھک پیسنے کی،لکڑیاں کاٹنے کی
کتنے دکھ کی بات ہے
کہ اتنے وزنی شخص کے پاس جوتے نہ تھے
گوشت پوست کے اس منتشر آدمی کو
زندگی میں انصاف نہ مل سکا
ہر کوٸی اسے دباتا رہا،کچلتا رہا
پھر بھی وہ محنت کرتا رہا
کم از کم اس وقت
اس کا جنازہ کندھوں پہ اٹھاتےوقت
ہمیں معلوم ہے کہ اس کے پاس کیا تھا
اور ہم اس کی مدد کرتے رہے
ہم جانتے ہیں
کہ ہم اس سے وہ سب کچھ لیتے رہے
جو ہم نے اسے کبھی دیا ہی نہیں تھا
اس کا وزن زیادہ ہے
ہم سے یہ وزن اٹھ نہیں سکتا
ہمارے مرے ہوٸے بھاٸی کا وزن کتنے آدمیوں کے برابر ہے؟
وہ وزن میں ساری دنیا کے ہم پلہ ہے
لیکن ہم نے اسے آسانی سے اٹھا رکھا ہے
جنت میں اس کے لیے روٹیاں ہی روٹیاں ہوں گی

مشمولہ: جاوید شاہین کی کتاب "سہ پہر کی دھوپ"، فکشن ھاؤس، لاہور
انتخاب : ثمینہ جاوید ملک


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2814746812089167

جواب چھوڑیں