فرانسیسی ناول نگار رینے گوسینی Réné Goscinny کے ن…

فرانسیسی ناول نگار رینے گوسینی Réné Goscinny کے ناول Le Petit Nicholas A Des Annuis کے اردو ترجمے "ننھّے نصیر کی پریشانیاں" کا چھٹا باب

ترجمہ : شوکت نواز نیازی

"جیبی ٹارچ"

کلاس میں خوش خطی کے مقابلے میں ساتویں نمبر پر آنے پر ابّا نے انعام میں مجھے پیسے دیئے اور کہا کہ جو میرا جی چاہے خرید لوں۔ سکول سے چھٹی ہوئی تو میں اپنے سب دوستوں کے ساتھ ایک دکان پر گیا اور ایک جیبی ٹارچ خریدی کیونکہ اس وقت میرا ٹارچ خریدنے کا جی چاہ رہا تھا۔

ٹارچ بہت زبردست تھی اور میں سکول آتے جاتے دکان کی کھڑکی میں اسے دیکھتا رہتا۔ جب میں نے ٹارچ خرید لی تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔

اصغر بولا، "تم اس ٹارچ سے کیا کروں گے ؟"

میں ںے جواب دیا، "جب ہم چور سپاہی کھیلیں گے تو یہ ٹارچ بہت کام آئے گی۔ چوروں کے قدموں کے نشان ڈھونڈنے کے لئے پولیس والوں کے پاس ہمیشہ ٹارچ ہوتی ہے۔"

اصغر بولا، "وہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر میرے ابّا نے مجھے اتنے پیسے دیئے ہوتے تو میں بیکری سے ڈھیروں پیسٹریاں خرید کر کھاتا۔ یہ ٹارچیں وغیرہ تو کبھی نہ کبھی خراب ہو جاتی ہیں لیکن پیسٹریوں کا مزا تو ہمیشہ رہتا ہے۔"

سارے دوست ہنس دیئے اور اصغر سے کہنے لگے کہ وہ کتنا بے وقوف ہے اور میں نے ٹھیک کیا کہ اپنے پیسوں سے ٹارچ خرید لی۔

رفیع بولا، "تم ہمیں اپنی ٹارچ سے کھیلنے دو گے نا ؟"

میں ںے کہا، "نہیں۔ تمہیں ٹارچ سے کھیلنے کا اتنا ہی شوق تھا تو خوش خطی کے مقابلے میں ساتویں نمبر پر آ جاتے۔ حد ہو گئی، بھلا !"

اس پر سب دوست ناراض ہو گئے اور ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم عمر بھر ایک دوسرے سے بات نہیں کریں گے۔

میں گھر پہنچا تو میں نے اپنی ٹارچ امّاں کو دکھائی تو وہ بولیں، "چلو ! یہ بھی خوب رہی ! خیر اس کے ساتھ کم از کم تم ہر وقت ہمارے کان تو نہیں کھا سکو گے۔ چلو، اب اپنے کمرے میں جاؤ اور اپنا سکول کا کام ختم کرو !"

میں اپنے کمرے میں چلا آیا۔ میں نے کھڑکیوں کےپردے کھینچ دیئے تاکہ کمرے میں اندھیرا ہو جائے۔ میں نے ٹارچ روشن کی اور روشنی کے دائرے سے کھیلنے لگا۔ میں نے روشنی کا دائرہ ہر جگہ پھینکا، چھت پر، دیواروں پر، فرنیچر کے نیچے اور اپنے بستر کے نیچے بھی، جہاں ایک کونے میں مجھے اپنے دو بنٹے ملے جو میں نجانے کتنے دنوں سے تلاش کر رہا تھا۔ اگر میرے پاس میری زبردست ٹارچ نہ ہوتی تو میں یہ بنٹے کبھی نہ ڈھونڈ پاتا۔ ابھی میں اپنے بنٹوں کی دریافت پر خوش ہو ہی رہا تھا کہ اچانک میرے کمرے کا دروازہ کھلا۔ کمرے کا بلب روشن ہوا اور امّاں چلّائیں، "نصیر، کہاں ہو تم ؟"

جب انہوں نے مجھے بستر کے نیچے سے نکلتے دیکھا تو وہ پوچھنے لگیں کہ کہیں میرا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا اور کہ میں بستر کے نیچے کیا کر رہا ہوں۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں اپنی ٹارچ سے کھیل رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ وہ کبھی نہ سمجھ نہ پائیں گی کہ میرے دماغ میں یہ الٹے سیدھے خیال کہاں سے آتے ہیں اور میری یہی حرکتیں ایک دن ان کی جان لے لیں گی۔ اس دوران انہوں نے مزید کہا، "اور ذرا اپنی حالت تو دیکھو ؟" اور "سب سے پہلے اپنا سکول کا کام مکمل کرو، یہ کھیل بعد میں ہوتا رہے گا۔" اور آخر میں، "معلوم نہیں، تمہارے ابّا کے دماغ میں یہ عجیب و غریب خیالات کہاں سے آتے ہیں؟"

امّاں باہر گئیں تو میں نے دوبارہ روشنی بجھا دی اور سکول کا کام کرنے لگا۔ ٹارچ کی روشنی میں سکول کا کام کرنے میں بہت مزا آتا ہے چاہے وہ حساب کا کام ہی کیوں نہ ہو۔ تھوڑی دیرمیں امّاں دوبارہ کمرے میں آن پہنچیں اور چھت پر لگی بڑی روشنی جلا دی۔ لگتا تھا وہ خوش نہیں ہیں۔

"میں نے شاید تمہیں سکول کا کام کرنے کو کہا تھا، کھیلنے کو نہیں !"

"لیکن، امّاں، میں سکول کا کام ہی تو کر رہا تھا !"

امّاں پھر چیخیں، "اندھیرے میں ؟ اس بچّوں والی ٹارچ کی روشنی میں ؟ تم اندھے ہو جاؤ گے، نصیر !"

میں نے امّاں کو بتایا کہ یہ بچّوں کی ٹارچ نہیں ہے اور یہ بہت تیز روشنی پھینکتی ہے۔ لیکن امّاں میری بات سننے پر تیار ہی نہ تھیں۔ انہوں نے میری ٹارچ اپنے قبضے میں لے لی اور کہا کہ سکول کا کام مکمل کرنے کے بعد ہی وہ مجھے مل سکتی ہے۔ میں نے رونے کی کوشش کی لیکن میں جانتا تھا کہ امّاں کے سامنے یہ ترکیب عموماً کارآمد نہ رہتی تھی۔ اس لئے میں نے جلدی جلدی حساب کا سوال مکمل کیا۔ میری قسمت اچھی تھی کہ سوال کافی آسان تھا اور میں نے چند ہی منٹوں میں جواب تلاش کر لیا کہ ایک مرغی ایک دن میں 33٫33 انڈے دیتی ہے۔

میں بھاگتا ہوا نیچے آیا اور کچن میں پہنچا اور امّاں سے کہا کہ میری ٹارچ واپس دیں۔

امّاں نے کہا، "ٹھیک ہے۔ لیکن کوئی شرارت نہیں ہو گی !"

اتنی دیر میں ابّا بھی آ گئے۔ میں نے بھاگ کر انہیں گلے لگایا اور ںہیں اپنی نئی زبردست ٹارچ دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی بھلا خریدنے والی کوئی چیز ہے لیکن بہرحال کم از کم اس سے میں لوگوں کے کان تو نہیں کھا سکوں گا۔ یہ کہہ کر وہ صوفے پر بیٹھ گئے اور اخبار پڑھنے لگے۔

میں نے پوچھا، "ابّا، میں کمرے کی روشنی بند کر دوں ؟"

ابّا بولے، "روشنی بند کر دو ؟ کیا ہو گیا ہے تمہیں، نصیر ؟"

میں نے انہیں بتایا، "ابّا، میں اپنی ٹارچ سے کھیلنا چاہتا ہوں۔"

ابّا بولے، "سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور تمہارا کیا خیال ہے کہ میں اندھیرے میں بیٹھ کر اخبار پڑھوں گا ؟"

میں بولا، "یہی تو میں کہہ رہا ہوں، ابّا ! میں اپنی ٹارچ سے اخبار پر روشنی ڈالوں گا۔ بہت زبردست ہو گا !"

ابّا چلّا اٹھے، "نہیں، نصیر ! جانتے ہو نا نہیں کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟ اس کا مطلب ہوتا ہے نہیں۔ اب میرے کان کھانا بند کرو ! میں آج پہلے ہی بہت تھکا ہوں۔"

اب میں واقعی رونے لگا کہ یہ بھلا کہاں کا انصاف ہے ؟ اس سے تو بہتر تھا کہ میں خوش خطی کے مقابلے میں ساتویں نمبر پر نہ ہی آتا اگر بعد میں مجھے اپنی ٹارچ سے کھیلنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ایسا ہونا ہے تو میں اتنی محنت سے ایک دن میں 33 انڈے دینے والی مرغی والا سوال بھی حل نہ کرتا۔

"یہ آج تمہارے بیٹے کو کیا ہوا ہے ؟" امّاں نے ابّا سے پوچھا جو میرا رونا دھونا سن کر ڈرائنگ روم میں آن کھڑی ہوئی تھیں۔

ابّا بولے، "اوہ، کچھ نہیں ہوا۔ تمہارا بیٹا چاہتا ہے کہ میں اندھیرے میں بیٹھ کر اخبار پڑھوں۔"

امّاں نے پوچھا، "اور یہ غلطی کس کی ہے ؟ اسے ٹارچ خرید دینے کا خیال کس کا تھا ؟"

ابّا چیخے، "میں نے اسے کچھ بھی خرید کر نہیں دیا ! اس نے خود ہی سوچے سمجھے بغیر پیسے خرچ کر ڈالے۔ میں نے اسے نہیں کہا تھا کہ یہ احمقوں والی ٹارچ خرید لے ! کبھی کبھی تو میں سوچتا ہوں کہ اس نے سوچے سمجھے بغیر پیسے پھینکنے کی عادت کہاں سے سیکھی !"

میں چیخا، "یہ احمقوں والی ٹارچ نہیں ہے !"

امّاں بولیں، "اوہ اچھا، اب میں سمجھی یہ طنز کس پر کیا جا رہا ہے۔ تم خوب جانتے ہو کہ میرے چچا کے ساتھ اس کاروبار میں دھوکہ ہوا تھا۔ اور ہاں، وہ جو تمہارے بھائی یاسین نے۔ ۔ ۔ "

ابّا میری جانب مڑے، "نصیر، تم اپنے کمرے میں جاؤ ! تمہارا اپنا کمرہ ہے نا ؟ تو فوراً جاؤ۔ مجھے تمہاری امّاں سے کچھ بات کرنا ہے۔"

میں اپنے کمرے میں پہنچ گیا اور وہاں مجھے شیشے کے سامنے بہت مزا آیا، میں نے ٹارچ اپنے چہرے کے سامنے ٹھوڑی کے نیچے رکھی تو میں بھوت کی مانند دکھائی دینے لگا۔ جب ٹارچ منہ میں رکھیں تو پھولے ہوئے گال سرخ ہو جاتے ہیں۔ جب ٹارچ پتلون کی جیب میں رکھیں تو اس کی روشنی پھر بھی باہر سے نظر آتی ہے۔ آخر میں میں اپنے کمرے میں چوروں کے پیروں کے نشان ڈھونڈ رہا تھا کہ امّاں نے مجھے نیچے بلایا کہ کھانا تیار ہے۔

کھانے کی میز پر سب لوگ خاموش بیٹھے تھے اس لئے میں نے یہ پوچھنا مناسب نہ سمجھا کہ کیا ہم ڈائننگ روم کی روشنی بجھا سکتے ہیں۔ پھر بھی میں دعا مانگتا رہا کہ کاش کوئی فیوز ہی اڑ جائے جیسا کہ اکثر ہوتا ہے۔ پھر سب کو میری ٹارچ کی اہمیت کا احساس ہو گا۔ پھر میں اپنے ابّا کے ساتھ گیراج میں جاؤں گا اور میری ٹارچ کی روشنی میں وہ فیوز ٹھیک کریں گے۔ لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔ خیر خوش قسمتی سے امّاں نے میٹھے میں سیب کا حلوہ بنایا تھا۔ جب میں سونے کے لئے اپنے کمرے میں پہنچا تو ٹارچ کی روشنی میں کہانی کی کتاب پڑھنے لگا۔ پھر امّاں کمرے میں پہنچیں اور بولیں، "نصیر، تم کبھی نہیں سدھرو گے ! بند کرو اس ٹارچ کو اور سو جاؤ ! بلکہ لاؤ، مجھے دو یہ ٹارچ۔ صبح واپس مل جائے گی۔"

میں ریں ریں کرنے لگا، "نہیں، نہیں۔ امّاں، نہیں، نہیں !"

نیچے سے ابّا کی آواز بلند ہوئی، "رکھنے دو اسے اپنی ٹارچ اپنے پاس ! اس گھر میں چند لمحوں کے لئے سکون بھی ملے گا یا نہیں ؟"

امّاں نے ایک گہری سانس بھری اور چلی گئیں۔ میں اپنے کمبل میں گھس گیا اور اندھیرے میں اپنی ٹارچ کے ساتھ اتنی دیر کھیلتا رہا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ پھر میں سو گیا۔

صبح جب امّاں مجھے جگانے آئیں تو ٹارچ میرے پیروں کے قریب پڑی تھی۔ وہ بںد تھی اور میری تمام کوشش کے باوجود وہ روشن نہ ہو پائی۔

امّاں بولیں، "افوہ، چھوڑ دو اس کو ! اس کا سیل ختم ہو چکا ہے۔ اور اس میں دوسرے سیل نہیں پڑتے۔ اچھا، چلو اب تم منہ ہاتھ دھو لو !"

ناشتے کے دوران ابّا نے کہا، "دیکھو، نصیر، اب یہ منہ بسورنا بند کرو۔ یہ تمہارے لئے ایک سبق ہے۔ وہ پیسے جو میں نے تمہیں دیئے تھے، تم نے ایک ایسی چیز پر خرچ کر ڈالے جس کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں تھی اور جو فوراً خراب ہو گئی۔ تمہیں زندگی میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہئے۔"

خیر آج تو امّاں اور ابّا دونوں بہت خوش ہوں گے کہ میں نے کتنا سوچ سمجھ کر عقلمندانہ کام کیا ہے۔ میں نے سکول میں اپنی خراب ٹارچ رفیع کو دے دی ہے اور اس کے بدلے میں پولیس افسروں والی سیٹی لے لی ہے جو بہت زبردست بھی بجتی ہے اور اس میں سیل بھی نہیں پڑتے۔

ترجمہ : شوکت نواز نیازی، 9 جولائی 2020


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2814866522077196

جواب چھوڑیں