لوڈ شیڈنگ سے نجات مگر کب ؟

ضیاءالحق سرحدی
اس حقیقت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ موجودہ دور میں ترقی اور خوشحالی کے ضمن میں جو معیارات مقرر کیے گئے ہیں ان میں بجلی اور پانی کی فراہمی نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ تحریک انصاف کی منتخب حکومت کو بہت سے مسائل ورثے میں ملے اور ان میں سے ایک بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ہے۔سابق ن لیگی حکومت نے تین ماہ بعد ازاں چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ کا جن بوتل میں بند کرنے کی نوید سنائی تھی لیکن گزشتہ سات سال میں یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا جبکہ بہاولپور قائد اعظم سولر منصوبے تک مسلم لیگ ن نے جتنے بھی پراجیکٹ لگائے وہ سبھی نمائشی تھے۔اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجودان منصوبوں سے مطلوبہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔مسلم لیگ ن کی حکومت عوام کو سہانے خواب دکھاتی رہی اور عوام آنکھیں بند کر کے پیچھے چلتے رہے لیکن اب رازوں سے آہستہ آہستہ پردہ اٹھ رہا ہے۔گویہ جان لیوا لوڈ شیڈنگ پی ٹی آئی کو ورثے میں ملی لیکن اب اس پر قابو پاکر عوام کو سہولیات فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔
ماضی میں عوام کی طرف سے بھی مسلسل صدائے احتجاج بلند کی جاتی رہی لیکن ذمہ داران اور ارباب بست وکشاد کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی تھی ۔ستم بالائے ستم ان مسائل کے حل،خاص طور پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے ضمن میں کی گئی منصوبہ بندی کرپشن کے الزامات کی زد میں آکرعوام کے اعتماد سے محروم ہوگئی۔اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو پانی اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی کےلئے ٹھوس اور شفاف اقدامات کیے جائیں۔وطن عزیز کے عوام گزشتہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے بجلی کے بحران اور اُس کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب کو جھیل رہے ہیں۔یہ صورتحال بلاشبہ کسی عذاب سے کم نہیں کہ ملک بھر میں طویل لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ کئی شہروں میں4سے6گھنٹے اور دیہاتوں میں 8 سے 12 گھنٹے تک بجلی کی بندش اب معمول بن چکی ہے۔جس سے فیکٹریوں اور ملو ں میں کام ٹھپ ہونے سے مزدوروںکو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔گردشی قرضے بڑھ جانے سے ایل این جی پر چلنے والے تین پاور پلانٹ بند ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی ہے۔
ان دنوں ایک طرف سورج آگ بر سا رہا ہے تو دوسری طرف بجلی کے محکمے عوام پر لوڈ شیڈنگ کے نشتر برسا رہے ہیں۔توانائی اداروں نے بھی لوڈ شیڈنگ شیڈول معطل کر کے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بھی بڑھا دی ہے۔ کراچی، لاہور، گوجرانوالہ،اسلام آباد ،پشاور اور دیگر شہروں کا حال بھی مختلف نہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کی پیداوار کھپت کے متوازی ہر گز نہیں۔پیداوار خاصی کم ہے اور استعمال زیادہ،جب ملکی ضروریات کے حساب سے بجلی کشیدہی نہیں کی جارہی تو پھر لوڈشیڈنگ تو لازمی سی بات ہے۔دوسری طرف بجلی کی پیداوار بڑھانے کےلئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں،اُسے کھپت کے متوازی لایا جائے،سستے ذرائع بروئے کار لائے جائیں۔ہوا،پانی اور شمسی توانائی سے بجلی کشیدکی جائے۔دن اور رات کے دیگر اوقات میں اضافی لوڈ شیڈنگ کر کے بجلی کی بچت کی کوشش کی جاتی ہے۔خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ارباب بست وکشاد اور ذمہ داران کو زمینی حقائق اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے دوچار عوام کی حالت زار کا کس قدر علم اور اندازہ ہے۔کوئی دن ایسا نہیں گزر تا جب حکومت کی طرف سے یہ عندیہ نہ دیا جائے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جا چکا ہے اور یہ عندیہ اس تناظر میں نہایت معنی خیز محسوس ہوتا ہے کہ ایسا دعویٰ کرنے سے کسی کوروکا تو ہر گز نہیں جا سکتا لیکن یہ نشاندہی ضرور کی جا سکتی ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب ابھی جاری ہے۔بجلی کی لوڈشیڈنگ نے اہل وطن کو ایک ایسے عذاب کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے جس کے بیان کا احاطہ ممکن ہی نہیں۔ موسم گرما کی شدت سے عوام کا جسمانی اور ذہنی سطح پر نہایت براحال ہے ۔ایک خیال تو یہ بھی ہے کہ ملک میں ضرورت کے مطابق بجلی موجود ہے، لوڈ شیڈنگ صرف اس وجہ سے کرنا پڑتی ہے کہ بڑے بڑے صارفین نے وسیع پیمانے پر بجلی چوری کے نیٹ ورک بنا رکھے ہیں،جن میں کمپنیوں کا عملہ بھی ملوث ہے۔ ان تمام شکایات پر توجہ دے کر لوڈشیڈنگ سے مستقل نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں