افسانچہ : باغات کا تسلسل مصنف : جولیو کورتازار م…

افسانچہ : باغات کا تسلسل
مصنف : جولیو کورتازار
مترجم : قیصر نذیر خاور
••••••

اس نے کچھ روز قبل ہی ناول پڑھنا شروع کیا تھا لیکن کسی فوری کاروباری کانفرنس نے اسے ایک طرف رکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔ اب اس نے اسے، اپنی جاگیر پر ریل گاڑی میں جاتے ہوئے ، دوبارہ کھولا تھا ؛ اسے اس کے " پلاٹ " میں ذرا آہستگی سے ہی دلچسپی پیدا ہوئی۔۔

اس دوپہر، اس نے اپنی جاگیر کے منتظم کے نام ایک خط لکھا جس میں اس نے اسے اپنا مختار عام مقرر کیا اور اس سے مشترکہ ملکیت کے معاملے پر بات چیت کر کے وہ اپنے مطالعے کے کمرے، جس سے باہر شاہ بلوطوں کے درختوں والے باغ میں دیکھا جا سکتا تھا، کے پرسکون ماحول میں کتاب کا مطالعہ کرنے لگا۔۔۔ ہتھیوں والی اپنی پسندیدہ کرسی پر وہ دروازے کی طرف پشت کئے بیٹھا تھا۔۔۔ ایسے میں کسی قسم کی مداخلت کا خیال بھی اسے ناگوار گزرنا تھا۔۔ اگر اس نے اس بارے میں سوچا بھی ہوتا۔۔۔۔ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کرسی کی ہتھی کی مخملیں سبز کپڑے کو پیار سے سہلاتے ہوئے ناول کے آخری ابواب پڑھنے لگا۔۔ اسے کرداروں کے نام اور ان کے بارے میں اپنے تاثرات کو پھر سے یاد کرنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ وہ ان سے پہلے سے واقف تھا ؛ وہ جلد ہی ناول کی خوبصورت بُنت کے جادو میں کھو گیا اور جیسے جیسے وہ سطر بہ سطر آگے بڑھ رہا تھا، ویسے ویسے ہی وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے بیگانہ ہوتا گیا، البتہ اسے یہ احساس ضرور تھا کہ اس کی اونچی پشت والی کرسی کا سر کی پشت کو سنبھالا دینے والا مخملیں حصہ آرام دہ ہے، اس کے سگریٹ اس کی پہلو میں پڑے ہیں جنہیں وہ ہاتھ بڑھا کر پکڑ سکتا ہے اور کھڑکی کے باہر باغ میں روپہلی دوپہر کی ہوا شاہ بلوط کے درختوں تلے رقصاں ہے۔۔۔

لفظ بہ لفظ ، ہیرو اور ہیروئن کے درمیان پھیلی گو مگوئی کی بیہودہ کیفیت نے اسے اس مقام پر پہنچا دیا جہاں کردار اس طرح سے آپ کے ذہن میں جگہ پا لیتے ہیں جیسے ان میں رنگ بھر گئے ہوں اور وہ متحرک ہو گئے ہوں۔۔۔

اب وہ ان کے اس آخری ٹاکرے کا بیان پڑھ رہا تھا جو ایک پہاڑی کیبن میں وقوع پذیر ہو رہا تھا۔۔ عورت ، پریشانی کے عالم میں ، پہلے وہاں آئی؛ پھر اس کا عاشق بھی وہاں آ گیا، اس کے چہرے پر درخت کی شاخ لگنے سے چیرا آیا ہوا تھا۔۔ عورت نے محبت سے بوسوں کے ذریعے اس سے رسنے والے خون کو چوسنا چاہا لیکن اس نے عورت کو پیچھے دھکیل دیا، وہ اس بار اس سے محبت کے اس مقدس جذبے کا پھر سے اظہار کرنے نہیں آیا تھا جسے اس نے جنگلوں کے مکار پیچیدہ راستوں اور سوکھے پتوں سے بھری دنیا سے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔۔۔ اس کے سینے سے چپکی تلوار گرم تھی، جس کے نیچے چھپی آزادی دھک دھک کر رہی تھی۔۔۔ آگے کے صفحات پر مستی بھرے اور دم پھلا دینے والے مکالمے سانپوں کی طرح پھیلے ہوئے تھے، جنہیں پڑھ کر یہ احساس ہوتا تھا جیسے، جو ہو رہا تھا وہ تو ابدیت نے پہلے سے طے کر رکھا تھا ، ان جنبشوں کو بھی جو محبوبہ کے جسم سے اس لئے پیدا ہو رہی تھیں کہ اس کا عاشق وہیں رکا رہے۔۔ اسے اس سے باز رکھنے کے لئے ؛ انہوں نے نفرت کے تیروں سے ایک دوسرے کو تباہ کردینا چاہا۔۔۔ کچھ بھی بھلایا نہ جا سکتا تھا ؛ کوئی عذر نہیں ، کوئی ان دیکھی رکاوٹ نہیں اور کوئی ممکنہ غلطی بھی نہیں۔۔۔ اس گھنٹے کے بعد سے ، ہر لمحے کی تفصیل پھر سے دہرائی گئی تھی۔۔۔ سرد خون جیسی بار بار امتحانی مشقت سے گرزتی تفصیل مشکل سے ہی ختم ہو پائی تب کہیں جا کر محبوبہ کا ہاتھ گال کو سہلا سکا۔۔ اب شام کا دھندلکا چھا رہا تھا۔۔۔

ایک دوسرے کی طرف دیکھے بنا ، اس کام کو انجام تک پہنچانے پر تلے ہوئے ، وہ کیبن کے دروازے پر ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔۔۔ لڑکی نے شمال کی جانب کی پگڈنڈی پر جانا تھا۔۔۔ اس کے بالکل الٹ والے راستے پر جانے سے پہلے لڑکے نے اسے ایک لمحے کے لئے دیکھا ، جو بھاگی جا رہی تھی اور اس کے کھلے بال ہوا میں لہرا رہے تھے۔۔۔ پھر وہ مڑا اور درختوں اور جھاڑیوں کے درمیان بھاگنا شروع کر دیا یہاں تک کہ اسے وہ درخت نظر آنے لگے جن کے پیچھے اس کا گھر تھا۔۔۔ چونکہ کتوں نے بھونکنا نہیں تھا لہذٰا وہ نہ بھونکے، جاگیر کے منتظم کو بھی اس وقت وہاں نہیں ہونا تھا سو وہ بھی وہاں نہیں تھا۔۔۔ اس نے برآمدے کی تین سیڑھیاں پھلانگیں اور گھر میں داخل ہو گیا۔۔۔ عورت کے الفاظ نے اس کے کانوں میں خون کی بوندوں کی طرح دھمک پیدا کی ؛ پہلے ایک نیلا ایوان، پھر ایک بڑا کمرہ ، پھر قالین بچھی سیڑھیاں۔۔ اوپر ، دو دروازے۔۔ پہلے کمرے میں کوئی نہیں ، اور نہ ہی دوسرے میں۔۔ استقبالیہ کمرے کا دروازہ ، اور پھر اس کے ہاتھ میں چاقو ، بڑی کھڑکیوں سے در آتی روشنی ، ہتھیوں والی کرسی کی سبز مخملیں کپڑے سے مزین لمبی پشت ، اس پہ ٹکا اس آدمی کا سر جو کرسی پر بیٹھا ناول پڑھ رہا ہے۔۔۔

••••••
حوالہ : عالمی ادب اور افسانچہ
اردو قالب و تحاریر : قیصر نذیر خاورؔ


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2819354358295079

جواب چھوڑیں