A MARITIME POEM ایک ساحلی نظم نذار قبانی شام ت…

A MARITIME POEM
ایک ساحلی نظم
نذار قبانی شام
ترجمہ
اقتدار جاوید

تری نیلی آنکھوں کے صاف اور شفّاف ساحل سے
اڑتی ھے گیلی ہوا
روشنی گنگناتی ھے
لے جاتا ھے آفتاب اپنی ناؤ
اندھے عدم کی طرف
(گیت گاتے )

تری نیلی آنکھوں کے صاف اور شفّاف ساحل پہ
کھلتی ھے
گہرے سمندر کی کھڑکی
پرندے نکلتے هیں
پر جھاڑتے
اور بھرتے لمبی اڑانیں
نکلتے ھیں ایسے جزیروں کی جانب
جو
دنیا کے نقشے پہ ظاہر نہیں ھیں
سمندر کے دل میں چھپے هیں

تری نیلی آنکھوں کے صاف اور شفّاف ساحل پہ
جولائی میں برف گرتی ھے
اک سمت پر
اک زمّرد بھرا دور دیسوں کی جانب نکلتا
جہاز
آب کے فرش پر بہتا ھے
اور بہتا چلا جاتا ھے
گہرے ہوتے ہے پانیوں میں !

تری نیلی آنکھوں کے صاف اور شفّاف ساحل پہ
ٹوٹی چٹانوں پہ میں دوڑتا ہوں
بہت تیز
اس ایک بچے کی صورت
سممندر کی خوشبو جسے کھینچتی ھے
پلٹتا ہوں آخر
تھکاوٹ بھرے اک پرندے کی صورت

تری نیلی آنکھوں کے صاف اور شفّاف ساحل پہ
پتھر سیاہ رات میں گنگناتے هیں
کس نے تری نیلی آنکھوں میں اتنی
چھپائی هیں نظمیں
میں بھی اگر کشتی باں ہوتا
کھیتا میں کشتی کو
اور ڈوب جاتا تری نیلی آنکھوں میں !

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2819732148257300

جواب چھوڑیں