#ناول_The_Memories_Of_My_Melancholy_Whores_اپنی_سو…

#ناول_The_Memories_Of_My_Melancholy_Whores_اپنی_سوگوار_بیسواؤں_کی_یادیں
#مصنف_گابرئیل_گارسیا_مارکیز
#مترجم_محمد_عمر_میمن
#پبلشرز_سٹی_بک_پوائنٹ_کراچی
#قیمت_250_روپے
#تعارف_و_تبصرہ_نعمان_خالد

#تعارف عظیم کولمبیئن ناول نگار گابرئیل گارسیا مارکیز کا یوم پیدائش 6 مارچ 1927 اور یوم وفات 17 اپریل 2014۔
کہانی کے ایک نئے اور انوکھے انداز کا نام ہے گابرئیل گارسیا مارکیز۔بےرحم ،تلخ ،سنگین حقیقت اور خیال و تصور کے جادو کو ایک ساتھ گوندھ کر وہ ایسی معجزاتی کہانیاں تخلیق کرتا ہے جن میں یہ نہیں پتا چلتا کہ حقیقت کہاں شروع ہوتی ہے اور جادو کہاں ختم ہوتا ہے۔
گابرئیل گارسیا مارکیز دنیا کے سب سے پڑھے جانے والے ادیبوں میں سے ایک ہے۔اس کو ادب کا نوبل انعام بھی حاصل ہوچکا ہے۔
گابرئیل گارسیا مارکیز نے تنہائی کے سو سال بعد تقریباً دس برس کے وقفے کے بعد نیا ناول لکھا۔اس بوڑھے کی کہانی جو اپنی زندگی کی نوے سال مکمّل ہونے پر اپنے آپ کو ایک جیتا جاگتا تخفہ دینا چاہتا ہے۔محبت کی جستجو، انسانی محرومی اور آرزو کی حوصلہ مندی کی یہ داستان مزاح اور الم کی عجیب دھوپ چھاؤں ہے۔

#تبصرہ محبت! محبت کیا چیز ہے؟ محبت نام کے حصول کا۔کسی نے ٹھیک ہی تو کہا ہے محبت اندھی ہوتی ہے۔آپ نے ضرور دیکھا سنا ہوگا کہ فلاں کو فلاں لڑکی، عورت سے محبت ہو گئی ہے اور ہم یہ بھی دیکھ سنتے ہیں کہ فلاں کو تو اپنے سے دگنی عمر والی عورت سے محبت ہوگئی ہے اور یہ بھی دیکھتے سنتے ہیں کہ فلاں لڑکی کو اپنی سے دگنی عمر زیادہ مرد سے محبت ہوگئی ہے۔محبت ہوجاتی ہے کیونکہ محبت دل کی زبان ہے۔محبت ہونے کے لیے رنگ نسل عمر نہیں دیکھی جاتی اور نا محبت میں سمجھوتے ہوتے ہیں۔جب محبت کے کشادہ سینے میں سمجھوتے کا تیز دھار خنجر گھونپا جاتا ہے تو سمجھ لیجئے کہ اب محبت، محبت نہیں بزنس ہوگیا کیونکہ کاروبار سمجھوتے کے بل بوتے پر چلتے ہیں۔
محبت ان سب باتوں سے مبرّا ہوتی ہے۔
ٹھیک اسی طرح گبرائیل گارسیا مارکیز کے اس شہر افاق ناول کے مین کردار نوے سالہ بوڑھے اسکالر صاحب کے ساتھ بھی ہوا ہے۔اسکالر کے ماں باپ جب دونوں مر گئے تو اس نے عہد کیا میں شادی نہیں کروں گا۔جب کوئی شادی کے بارے میں پوچھتا تو کہتے رنڈیوں نے مہلت ہی نہ دی کہ شادی کرتا۔اسکالر کے ساتھ دل بہلانے کے لیئے دمیانہ تھی جس نے اسکالر کو کبھی ناراض نہ ہونے دیا تھا۔لیکن اسکالر کو دمیانہ سے محبت نہیں تھی اگر کچھ تھا تو صرف بستر تک محدود رشتہ۔
جب اسکالر نوے سال کا ہوگیا تو اس نے خود کو کسی نوخیز باکرہ کے ساتھ رات بھرکی بے محابہ عیش کوشی کا تحفہ دینا چاہا۔اس نے روسا کبرکس سے رابطہ کیا جو ایک غیر قانونی چکلے کی مالکہ تھی۔
روسا کبرکس نے ایک نوخیز باکرہ لڑکی ڈھونڈ نکالی۔
جب اسکالر کمرے میں داخل ہوگیا تو ایک قتالہ اپنی تابناکیوں کے ساتھ برہنہ سو رہی تھی۔
نوے سال کے بوڑھے اسکالر کو اٹھارہ سال کی نوخیز باکرہ سے محبت ہوگئی اسکالر نے لڑکی کو ایک نام دیا دلگدینہ۔
انہی دنوں میں اسکالر دلگدینہ کے لئے بائیسکل خریدنے غرض شوروم پہنچ گیا تو کاؤنٹر والے نے اسکالر سے عمر دریافت کی تو اسکالر نے جواباً کہا اکیانوے۔ تے کاؤنٹر والے نے کہا نہیں آپ دکھتے ستر کے ہو۔
بس معلوم ہوگیا کہ محبت روح کی غزا ہے۔
لیکن کہانی میں محبت کے علاوہ ایک اور پہلو ہے کالم لکھنا۔
گبرائیل گارسیا مارکیز کا بہترین و شاہکار ناول اپنی سوگوار بیسواؤں کی یادیں ہاتھ میں اٹھا لیجیے اور فیضیاب ہوجائے۔

#نوٹ
عریانی تو میں نہیں کہہ سکتا لیکن عام فہم میں عریانی سمجھیے۔اگر ادب سے عریانی نکال دی جائے تو باقی کچھ نہیں رہتا۔عریانیت ادب کا ایک اہم جزو ہے جو آپ کو اس ناول میں جا بجا ملے گی۔اس ترجمے کے بارے میں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ یہ محمد عمر میمن کے قلم سے ہے۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2823469774550204

جواب چھوڑیں