سنگ صبور : عتیق رحیمی

تعارف

کابل کے ایک سینئر پبلک سرونٹ کے گھر میں 1962 میں جنمے عتیق رحیمی کی ابتدائی تعلیم ’لیسے استقلال‘ میں ہوئی۔ افغا نستان میں سوویت روس کی مداخلت کے بعد انھیں ایک سال کے لیے پاکستان میں پناہ لینی پڑی، اور پھر 1985 میں انھیں فرانس میں سیاسی پناہ مل گئی۔
سوربون میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد رحیمی نے فلم نگاری، فلم سازی، فوٹوگرافی اور ہدایت کاری کو اپنے کرئیر کے طور پر چنا۔ نوے کی دہائی میں انھوں نے لکھنا شروع کیا اور دری (فارسی) میں ان کی پہلی تخلیق خاکستر و خاک سنہ 2000 میں شائع ہوئی جو جلد ہی یوروپ اور ساؤتھ امریکہ میں بیسٹ سیلر بن گئی۔ عتیق رحیمی کی ہدایت میں اس ناول پر مبنی فلم EARTH AND ASHES پچاس سے زیادہ فلمی میلوں میں دکھائی گئی اور اس نے پچیس اعزازات حاصل کیے جن میں CANNES FILM FESTIVAL 2004 کا PRIX DU REGARD VERS L’AVENIR اور زنجبار انٹرنیشنل فلم فیسٹول کا GOLDEN DHOW اعزاز بھی شامل ہے۔
2002میں طالبان کی شکست کے بعد عتیق رحیمی سترہ سال کی جلاوطنی کے بعد اپنے وطن لوٹے اور ڈیڑھ سو سال پرانے باکس کیمرے میں کابل کی تصویریں قید کیں۔ ان میں سے چھ تصویریں لندن کے وکٹوریا اور البرٹ میوزیم نے بھی خریدیں۔
2008 میں رحیمی کا پہلا فرانسیسی ناول SYNGUE SABOUR (سنگِ صبور) شائع ہوا اور اس نے فرانس کا سب سے ممتاز PRIX GONCOURT AWARD حاصل کیا۔افغانستان یا اس جیسے کسی ملک کے پس منظر میں لکھے گئے اس ناول میں ایک ایسی عورت کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کا شوہر گردن میں گولی لگنے کی وجہ سے کوما میں چلا گیا ہے اور سانس لیتے ہوے لیکن پتھر کی طرح بے جان شوہر کی تیمارداری میں لگی بیوی اپنے سارے غم، دکھ تکلیفیں، خواہشیں، حسرتیں، حادثے اور سانحے اس کے پاس بیٹھی اس سے بیان کرتی رہتی ہے، اوراپنی نو سالہ شادی شدہ زندگی میں پہلی بار وہ اپنے شوہر سے براہِ راست اس طرح مخاطب ہوتی ہے کہ اپنی ذہنی کیفیتوں اور سوانحی حالات کو ڈرتے ڈرتے اور بتدریج بیان کرتی ہے، اس امید میں کہ اس کا ’سنگِ صبور‘ اس کی تمام تکلیفیں جذب کرلے گا اور اسے اپنے غموں سے نجات مل جائے گی۔ ناول کے انگریزی ایڈیشن کے تعارف میں ناول نگار خالد حسینی نے لکھا ہے:
اس ناول کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے آواز عطا کی ہے؛ ان کو آواز عطا کی ہے جو سب سے زیادہ تکلیفیں سہتی ہیں اور کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں لاتیں۔ رحیمی کی بے نام ہیروئن ایک وسیلہ ہے، ایک ذی حیات آلہ، جس میں اُس جیسی کروڑوں عورتوں کی مصیبتوں اور شکایتوں نے جگہ پائی ہے، یعنی ان عورتوں نے جن کو معروض میں بدل دیا گیا ہے، جو حاشیے پر جیتی ہیں، جن سے نفرت کی جاتی ہے، جنھیں مارا پیٹا جاتا ہے، جن کا تمسخر اڑایا جاتا ہے، جن کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔سنگِ صبور میں بالآخر وہ اپنی بات کہہ پائی ہیں۔
ناول کا انگریزی ترجمہ پولی میک لین نے THE PATIENCE STONE کے عنوان سے 2012 میں کیا۔ عتیق رحیمی کی ہدایت میں 2012 میں اس ناول پر فلم بھی بنی جس میں مرکزی کردار ایرانی اداکارہ گل شیفتہ فراحانی نے نبھایا ہے۔ اس فلم کو BEST FOREIGN LANGUAGE OSCAR کے زمرے میں اکادمی ایوارڈ کے لیے افغانستان کی جانب سے بھیجا گیا، لیکن اعزاز کے لیے نامزد نہیں ہوئی۔
عتیق رحیمی نے فرانسیسی ٹیلی ویژن کے لیے ڈاکیومنٹری اور کمرشیل فلمیں بنائی ہیں۔ وہ افغانستان کے ایک بڑے میڈیا گروپ ’موبی گروپ‘ کے ساتھ سینئر تخلیقی مشیر کے طور پر وابستہ ہیں اور اس کے لیے مختلف پروگرام تیار کرنے کے علاوہ افغانستان میں فلم سازوں اور ہدایت کاروں کی نئی نسل کی تربیت میں بھی پیش پیش ہیں۔ ٹولو ٹی وی کے لیے انھوںنے افغانستان کاپہلا سوپ اوپیرا رازہاے ایں خانہ تیار کیا جو بے حد مقبول ہوا اور 2008 میں اس نے ’سیول ڈراما ایوارڈز‘ کا خصوصی اعزاز حاصل کیا۔
ان کی دیگر تخلیقات میں یک ہزار اتاقِ خواب وترس 2002میں فارسی میں اور انگریزی میں A THOUSAND ROOMS OF DREAM AND FEAR کے عنوان سے 2007 میں شائع ہوئی، ان کی تیسری تخلیق LE RETOUR IMAGINAIRE (2005) تھی۔ SNYGUE SABOUR ان کی چوتھی اور فرانسیسی زبان میں پہلی تخلیق تھی۔ A CURSE ON DOSTOEVSKY فرانسیسی میں 2011 میں اور انگریزی میں 2013 میں اشاعت پذیر ہوئی۔
تریپن سالہ عتیق رحیمی اپنے وقت کا بیشتر حصہ پیرس اور کابل میں گزارتے ہیں۔

***

افغانستان میں کسی جگہ
یا کہیں اور

کمرہ چھوٹا سا ہے۔ مستطیل۔ گھٹن پیدا کرنے والا— فیروزی دیواروں کی پیلاہٹ، اور دو ایسے پردوں کے باوجود جن پر زرد اور نیلے آسمان پر بیچ اڑان میں معلق ہجرتی پرندے چَھپے ہیں۔ پردوں کے سوراخ سورج کی شعائوں کو قالین کی اڑے رنگوں والی دھاریوں تک پہنچنے کا راستہ دیتے ہیں۔ کمرے کے آخری سرے پر ایک اور پردہ ہے۔ سبز رنگ کا۔ سادہ۔ ایک غیر مستعمل دروازے کو چھپائے ہوے۔ یا دیواردوز شہ نشین کو۔
کمرہ خالی ہے۔ سجاوٹ سے عاری۔ البتہ ایک چھوٹا سا خنجر دونوں کھڑکیوں کے درمیان کسی نے دیوار پر آویزاں کر دیا ہے، اور خنجر سے اوپر مونچھوں والے ایک آدمی کی تصویر ٹانگ دی ہے۔ وہ کوئی تیس سال کا ہے۔ گھنگھریالے بال۔ چوکور چہرہ جو سلیقے سے کترے ہوے گل مچھوں کی قوسوں میں محصور ہے۔ اس کی سیاہ آنکھیں دمک رہی ہیں؛ وہ چھوٹی ہیں، اور عقاب جیسی ناک ان کو قطع کر رہی ہے۔ آدمی ہنس نہیں رہا ہے ، پھر بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس نے اپنی ہنسی کو روک رکھا ہے۔ اس سے اس کے چہرے پر ایک عجیب سا تاثر پیدا ہو گیا ہے، ایک ایسے شخص کا سا جو دل ہی دل میں اپنی جانب دیکھنے والے لوگوں کا مذاق اڑا رہا ہو۔ تصویر بلیک اینڈ وائٹ ہے، جس پربھورے رنگوں میں ہاتھ سے رنگ بھرے گئے ہیں۔

تصویر کے سامنے والی دیوار کے نیچے یہی آدمی — جس کی عمر اب بڑھ چکی ہے — فرش پر پڑے ہوے سرخ گدے پر لیٹا ہے۔ اس کے چہرے پر ڈاڑھی ہے۔ سرمئی سفید کھچڑی ڈاڑھی۔ وہ اب زیادہ دبلا ہو چکا ہے۔ از حد دبلا۔ ہڈیوں اور کھال کے سوا اس میں کچھ نہیں۔ زرد۔ جھریوں بھرا۔ اس کی ناک پہلے کے مقابلے میں زیادہ عقابی ہو چکی ہے۔وہ ہنس نہیں رہا، لیکن اب بھی ایک عجیب انداز میں مذاق اڑاتا محسوس ہو رہا ہے۔ اس کا منھ آدھا کھلا ہے۔ اس کی آنکھیں، جو مزید چھوٹی ہو چکی ہیں، اپنے حلقوں کے اندر دھنس گئی ہیں۔ اس کی نگاہ چھت پر جمی ہے، چھت کے عریاں، سیاہ پڑچکے، بوسیدہ شہتیروں پر۔ اس کے بازو اس کے پہلوؤں میں بے حرکت پڑے ہیں۔ شفاف ہوتی جا رہی اس کی جلد کے نیچے رگیں اس کے بدن کی ابھری ہوئی ہڈیوں کے گرد خفتہ حشرات کی طرح الجھی ہوئی ہیں۔ اس کے بائیں ہاتھ کی کلائی میں چابی والی گھڑی ہے، اور اس کی انگشتری والی انگلی میں شادی کی طلائی انگوٹھی ہے۔ اس کے سر کے بالکل اوپر دیوار پر لٹکی ہوئی پلاسٹک کی تھیلی کا شفاف سیال ایک ٹیوب کے ذریعے بوند بوند کرکے اس کے بازو کے خم میں ٹپک رہا ہے۔ اس کا باقی جسم ایک لمبے نیلے کُرتے سے ڈھکا ہوا ہے، جس کے کالر اور کفوں پر کشیدہ کاری کی گئی ہے۔ اس کی ٹانگیں، جو دو ڈنڈوں کی طرح سخت ہیں، ایک سفید چادر کے نیچے دفن ہیں — ایک غلیظ سفید چادر۔
ایک ہاتھ، ایک عورت کا ہاتھ، اس کے سینے پر رکھا ہوا ہے، اس کے دل پر۔ اس کے تنفس کے ساتھ اوپر نیچے اٹھتا اور گرتا ہوا۔ عورت بیٹھی ہوئی ہے۔ گھٹنے اپنے سینے پر موڑے ہوے۔ سر گھٹنوں کے درمیان چھپائے ہوے۔ اس کے کالے بال — جو بہت کالے اور لمبے ہیں— اس کے ڈھئے ہوے کندھوں کو ڈھانپے ہوے ہیں، اور اس کے بازو کی مسلسل جنبش کے ساتھ اوپر نیچے جنبش کر رہے ہیں۔
دوسرے ہاتھ میں، بائیں والے میں، اس نے سیاہ دانوں کی لمبی تسبیح تھام رکھی ہے۔ اپنی انگلیوں کے درمیان وہ انھیں حرکت دے رہی ہے، تسبیح پڑھ رہی ہے۔ خاموشی سے۔ آہستگی سے۔ اپنے شانوں کی جنبش کے ساتھ۔ مرد کی سانسوں کے ساتھ۔ اس کا بدن ایک لمبے کرتے میں لپٹا ہوا ہے۔ قرمزی کرتے میں۔ کفوں اور دامن پر کشیدہ کاری، قرینے سے بنی اناج کی چند بالیوں اور پھولوں کی۔
اس کے ہاتھ کی رسائی میں، پہلے یا آخری صفحے پر کھلا ہوا، اور مخمل کے تکیے پر رکھا ہوا ایک صحیفہ ہے — قرآن۔
چھوٹی سی ایک لڑکی رو رہی ہے۔ وہ کمرے میں نہیں ہے۔ وہ شاید بغل والے کمرے میں ہے، یا پھر راہداری میں۔
عورت کا سر ہلتا ہے۔ اکتائے ہوے انداز میں۔ وہ گھٹنوں کے خم میں سے نمودار ہوتا ہے۔
عورت خوبصورت ہے۔ اس کی بائیں آنکھ کی شکن میں زخم کا ایک چھوٹا سا نشان ہے جس نے اس گوشے کو سکیڑ دیا ہے جہاں پلکیں ملتی ہیں؛ اس سے اس کی نگاہ میں ایک عجیب دل گرفتگی پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے گداز، خشک اور زرد ہونٹ دھیرے دھیرے اور نرمی سے دعاکے کسی ایک ہی لفظ کا وِرد کیے جا رہے ہیں۔
دوسری چھوٹی لڑکی رونا شروع کرتی ہے۔ وہ پہلی کے مقابلے میں زیادہ قریب محسوس ہوتی ہے، شاید دروازے کے پیچھے ہے۔
عورت اپنا ہاتھ مرد کے سینے پر سے ہٹاتی ہے۔ وہ اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور کمرے سے چلی جاتی ہے۔ اس کی غیر حاضری کسی شے میں کوئی تبدیلی نہیں لاتی۔ مرد اب بھی جنبش نہیں کرتا۔ خاموشی سے، اور آہستہ آہستہ وہ سانس لیتا رہتا ہے۔
عورت کے قدموں کی چاپ دونوں بچیوں کو چپ کرا دیتی ہے۔ وہ تھوڑی دیر تک ان کے پاس رکتی ہے، صرف اتنی دیر کے لیے کہ گھر اور دنیا ان کی نیند میں محض پرچھائیاں بن جائیں؛ پھر وہ لوٹ آتی ہے۔ ایک ہاتھ میں ایک چھوٹی، سفید شیشی، دوسرے میں سیاہ تسبیح لیے ہوے۔ وہ مرد کے قریب بیٹھ جاتی ہے، شیشی کھولتی ہے، آگے جھکتی ہے، اور اس کی داہنی آنکھ میں دو بوندیں ٹپکاتی ہے، اور پھر اس کی بائیں آنکھ میں بھی دو بوندیں۔ اپنے ہاتھ سے تسبیح چھوڑے بغیر۔ اس کے دانوں پر وِرد روکے بغیر۔
سورج کی شعائیں پردوں کے زرد اور نیلے آسمان کے روزنوں میں سے چمکتی ہوئی اندر آتی ہیں— عورت کی پشت اور شانوں کو سہلاتی ہوئی، جو کہ اس کی انگلیوں کے درمیان پھسلتے ہوے تسبیح کے دانوں کے آہنگ کے ساتھ مسلسل ہل رہے ہیں۔
بہت دور، شہر میں کسی جگہ، بم پھٹتا ہے۔ اس تشدد سے چند گھر ٹوٹ جاتے ہیں اور شاید چند خواب بھی۔ جوابی حملہ ہوتا ہے۔ ادلا بدلی کے حملے دوپہر کے بوجھل سناٹے کو چیرتے ہیں، کھڑیوں کے شیشوں کو جھنجھناتے ہوے، لیکن بچوں کو نہیں جگاتے۔ ایک لمحے کو — تسبیح کے صرف دو دانے پڑھنے کے برابر— عورت کے کندھے ساکت ہو جاتے ہیں۔ وہ آنکھوں کی دوا کی شیشی اپنی جیب میں رکھتی ہے۔ ’القہّار‘ بدبداتی ہے۔ ’القہّار‘ دُہراتی ہے۔ مرد کی ہر سانس کے ساتھ دہراتی ہے۔ اور ہر قرأت کے ساتھ تسبیح کا ایک دانہ اس کی انگلیوں میں پھسل جاتا ہے۔
تسبیح کا ایک ورد پورا ہوتا ہے۔ ننانوے دانے۔ ننانوے بار ’القہّار‘ کا ورد۔
وہ سیدھی ہوکر بیٹھ جاتی ہے ، پھر گدے پر اپنی جگہ لوٹ آتی ہے،مرد کے سرھانے۔ اپنا داہنا ہاتھ پھر سے مرد کے سینے پر رکھ دیتی ہے۔ تسبیح کا ایک اور ورد شروع کرتی ہے۔
اس بار جب وہ ’القہّار‘ کے ننانوے پر پہنچتی ہے، اس کا ہاتھ مرد کے سینے سے ہٹتا ہے اور اس کی گردن کی جانب گامزن ہوتا ہے۔ اس کی انگلیاں اس کی جھاڑ جھنکاڑ ڈاڑھی میں گرداں ہیں، ایک یا دو نفس وہاں ٹھہرتی ہیں، اس کے لبوں پر ایک لمحے کو روکنے کے لیے نمودار ہوتی ہیں، ناک، آنکھوں اور پیشانی کو تھپتھپاتی ہیں، اور آخرش اس کے گندے بالوں کی دبازت میں پھر سے گم ہو جاتی ہیں۔ ’’کیا تم میرے ہاتھ کو محسوس کر سکتے ہو؟‘‘ وہ اس پر جھکتی ہے، دباؤ ڈالتے ہوے، اور اس کی آنکھوں میں ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی ہے۔ کوئی جواب نہیں آتا۔ وہ اپنا کان اس کے لبوں پر جھکاتی ہے۔ کوئی آواز نہیں آتی۔ وہی پریشان کن تاثر، ادھ کھلا منھ، نظر چھت کی سیاہ کڑیوں میں کھوئی ہوئی۔
وہ پھر سے جھک کر سرگوشی کرتی ہے، ’’خدارا، کوئی تو اشارہ دو جس سے مجھے پتا چلے کہ تم میرے ہاتھ کو محسوس کر سکتے ہو، کہ تم زندہ ہو، کہ تم میرے پاس لوٹ آؤگے،ہمارے پاس! صرف ایک اشارہ، ایک چھوٹا سا اشارہ جو مجھے قوت دے، اور یقین۔‘ ‘اس کے ہونٹ کانپتے ہیں، التجا کرتے ہیں،’ ’صرف ایک لفظ…‘‘ ، پھر وہ مرد کے کان کو آہستہ سے مس کرتے ہیں۔ ’’مجھے توقع ہے کہ تم، کم از کم، میری آواز ضرور سن سکتے ہو۔‘‘ وہ اپنا سر تکیے پر ٹکا دیتی ہے۔
’’انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ دو ہفتوں کے بعد تم حرکت کرنے لگوگے، محسوس کرنے لگو گے… لیکن تیسرا ہفتہ ہو گیا، یا تقریباً ہونے والا ہے۔ اور ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا!‘‘ وہ اپنے جسم کو حرکت دیتی ہے تاکہ چت لیٹ سکے۔ اب اس کی نظر بھٹکنے لگی ہے، مرد کی خالی نظر کے پیچھے، سیاہ اور بوسیدہ کڑیوں میں کہیں۔
’القہّار، القہّار، القہّار‘…
عورت آہستگی سے اٹھ بیٹھتی ہے۔ شدید مایوسی کے عالم میں مرد کی طرف دیکھتی ہے۔ اپنا ہاتھ پھر سے اس کے سینے پر رکھ دیتی ہے۔ ’’اگر تم سانس لے سکتے ہو، تو اپنا سانس روک بھی سکتے ہو۔ یقیناً؟ اسے روکو!‘‘ بالوں کو اپنے شانوں کے پیچھے لے جاتے ہوے وہ پھر کہتی ہے،’ ’اسے روکو، صرف ایک بار!‘‘ اور پھر سے اپنا کان اس کے منھ کے قریب لاتی ہے۔ وہ سنتی ہے۔ وہ اس کی آواز سنتی ہے۔ اس کے تنفس کی آواز۔
شدید مایوسی کے ساتھ وہ زیرِ لب بڑبڑاتی ہے، ’’میں اب اور برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘
ایک مغضوب آہ بھر کر، وہ دفعتاً کھڑی ہو جاتی ہے، اور چلّا کر دہراتی ہے، ’’میں اب اور برداشت نہیں کر سکتی…‘‘ پھر مزید اکتاہٹ کے ساتھ: ’’بس خدا کے نام کا وِرد کیے جانا، بار بار، شام ہونے کے بعد صبح تک۔ بس اور برداشت نہیں کر سکتی!‘‘ وہ چند قدم چل کر تصویر کے قریب جاتی ہے، اس کی جانب دیکھے بغیر۔’’سولہ دن ہو چکے ہیں…‘‘ وہ تردد میں پڑ جاتی ہے۔ ’’نہیں…‘‘ اپنی انگلیوں پر شمار کرتے ہوے، وہ مشکوک رہتی ہے۔
الجھن میں مبتلا ہوکر وہ پلٹتی ہے، اپنی جگہ پر لوٹ آتی ہے اور قرآن کے کھلے ہوے صفحے پر نظر ڈالتی ہے۔ تصدیق کرتی ہے۔ ’’سولہ دن… تو یوں آج اللہ کا سولھواں نام ہے جس کا مجھے وِرد کرنا ہے۔’القہّار‘، سب سے زیادہ حا وی۔ ہاں، بالکل ٹھیک۔ یہی سولھواں نام ہے…‘‘ گہرے سوچ بچار میں: ’’سولہ دن!‘‘ وہ ایک قدم پیچھے ہٹتی ہے۔ ’’پورے سولہ دن جن میں میرا وجود تمھاری سانسوں کے ہمراہ بندھا رہا۔‘‘ معاندانہ لہجے میں: ’’سولہ دن کہ میں جن میں تمھارے ساتھ سانس لیتی رہی!‘‘ مرد کی طرف تاکتی ہے۔’’ دیکھو! میں بالکل تمھاری طرح سانس لیتی ہوں۔‘‘ وہ ایک گہرا سانس اندر کھینچتی ہے، بہ کوشش چھوڑتی ہے، اس کے سانس سے ہم آہنگ کرکے۔ ’’اپنا ہاتھ تمھارے سینے پر نہ رکھوں تب بھی تمھاری ہی طرح سانس لیتی ہوں۔‘‘ وہ اس پر جھکتی ہے۔ ’’اور جس وقت میں تمھارے قریب نہیں ہوتی، تب بھی میرا سانس تمھارے سانس سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔‘ ‘ وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ ’’کیا تم سن رہے ہو؟‘‘ وہ چلّا کر ’القہّار‘ کہتی ہے اور پھر تسبیح پر ورد شروع کردیتی ہے، اب بھی اسی آہنگ کے ساتھ۔ وہ کمرے سے باہر چلی جاتی ہے۔ ہم راہداری میں، اور اس سے پرے، اس کے چلّانے کی آواز سنتے رہتے ہیں، ’القہّار، القہّار…‘
’القہّار…‘ دور جاتا ہے۔
’القہّار…‘ مدھم ہو جاتا ہے۔
’ال…‘ بہت خفیف ہو جاتا ہے۔
چلا جاتاہے۔
چند لمحے خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔ ’القہّار‘ پھر لوٹ آتا ہے، کھڑکی سے سنائی دیتا ہے، راہداری سے، دروازے کے پیچھے سے۔ عورت کمرے میں آتی ہے اور مرد کے قریب رک جاتی ہے۔ کھڑی رہتی ہے۔ اس کا الٹا ہاتھ تسبیح کے سیاہ دانے گھماتا رہتا ہے۔ ’’میں تمھیں یہ تک بتا سکتی ہوں کہ جب میں یہاں سے دور تھی، تم نے تیس مرتبہ سانس لیا۔‘‘ وہ پنجوں کے بل بیٹھتی ہے۔ ’’اور اِس وقت بھی، اس لمحے میں، جب کہ میں بول رہی ہوں، تمھاری سانسیں گن سکتی ہوں۔ ‘‘ وہ تسبیح کی لڑی کو اُس انداز سے اٹھاتی ہے جو مردانہ تدبر جیسا لگتا ہے۔ ’’اور اب ، میری واپسی کے بعد، تم نے سات بار سانس لیا ہے۔‘‘ وہ گلیم پر بیٹھ جاتی ہے اور بولتی رہتی ہے، ’’میں اب اپنے دن ساعتوں میں شمار نہیں کرتی، یا اپنی ساعتیںمنٹوں میں، یا اپنے منٹ سیکنڈوں میں… میرا دن تسبیح کے ننانوے دانوں کی گردش کا نام ہے!‘‘ اس کی نظر پرانی کلائی گھڑی پر آ کر ٹھہر جاتی ہے جس نے مرد کی کلائی کی ہڈیوں کو یکجا تھام رکھا ہے۔ ’’میں تمھیں یہ تک بتا سکتی ہوں کہ تسبیح کے پانچ دور پورے ہونے پر ملّا ظہر کی اذان دے گا، اور حدیث سنائے گا۔‘‘ ایک لمحہ۔ وہ حساب لگاتی ہے۔ ’’بیسویں دورے پر سقّہ ہمسائے کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ حسبِ معمول بزرگ عورت اپنی کھرکھراتی کھانسی کے ساتھ اس کے لیے دروازہ کھولنے باہر آئے گی۔ تیسویں دورے پر ایک لڑکا سائیکل پر سوار سڑک سے گزرے گا، ’لیلیٰ، لیلیٰ، لیلیٰ، جان، جان، جان، تم نے توڑ دیا میرا دل…‘کی دھن ہمسائے کی بیٹی کے لیے سیٹی میں بجاتے ہوے۔‘‘ وہ ہنستی ہے۔ ایک حزنیہ ہنسی۔ ’’اور جب میں بہتّرویں دورے پر پہنچوںگی تو یہ بوڑم ملّا تمھیں دیکھنے آئے گا، اور ہمیشہ کی طرح مجھے ملامت کرے گا کہ میں نے، اس کے مطابق، تمھاری اچھی طرح دیکھ بھال نہیں کی ہوگی، اس کی ہدایتوں پر عمل نہیں کیا ہوگا، نمازوں میں لاپروائی برتی ہوگی… ورنہ تمھاری حالت میں ضرور بہتری آئی ہوتی۔‘‘ وہ مرد کا بازو چھوتی ہے۔ ’’لیکن تم میرے گواہ ہو۔ تم جانتے ہو میں صرف تمھارے لیے جیتی ہوں، تمھارے پہلو میں، تمھاری سانسوں کے ساتھ! اُس کے لیے یہ کہنا آسان ہے،‘‘ وہ شکایت کرتی ہے، ’’کہ میں خدا کے ننانوے ناموں میں سے ایک نام کی ہر روز ننانوے بار تسبیح پڑھوں، پورے ننانوے دن تک۔ وہ احمق ملّا یہ اندازہ نہیں کر سکتا کہ ایک ایسے آدمی کے ساتھ رہنا کیسا لگتا ہے جو…‘‘ اسے مناسب لفظ نہیں ملتے، یا پھر وہ انھیں بولنے کی ہمت نہیں رکھتی، اور بس نرم لہجے میں بڑبڑاتی ہے، ’’…بالکل تنہا،دو چھوٹی بچیوں کے ساتھ!‘‘
ایک طویل خاموشی۔ تسبیح کے تقریباً پانچ دوروں کے برابر۔ پانچ دورے، جن کے دوران عورت دیوار سے سٹی بیٹھی رہتی ہے، آنکھیں بند کیے ہوے۔ ظہر کی اذان اسے اس کی گم سم حالت سے باہر کھینچ لاتی ہے۔ وہ چھوٹا سا غالیچہ اٹھاتی ہے اور اس کو زمین پر بچھا دیتی ہے۔ نماز پڑھنا شروع کر دیتی ہے۔
نماز ختم کرکے وہ جانماز پر بیٹھی رہتی ہے، ہفتے کے اس دن کے لیے ملّا کا درسِ حدیث سننے کے لیے: ’’… اور آج کا دن خون کا دن ہے، کیونکہ یہ منگل کا ہی دن تھا جب ،پہلی بار، حوا کا گندا خون ضائع ہوا، جب آدم کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا، جب زکریا اور یحییٰ — ان پر خدا کی رحمت ہو— قتل کر دیے گئے، اور قتل ہوے فرعون کے مشیر، اور اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم بھی، اور بنی اسرائیل کی گائے بھی…‘‘
وہ آہستہ آہستہ چاروں طرف دیکھتی ہے۔ کمرے کو۔ اپنے مرد کو۔ویرانے میں رکھے اس جسد کو۔ ویران جسد کو۔
اس کی آنکھوں میں دہشت بھر جاتی ہے۔ وہ کھڑی ہو جاتی ہے، غالیچہ تہہ کرتی ہے، اسے کمرے کے ایک گوشے میں واپس اس کے مقام پر رکھتی ہے، اور چلی جاتی ہے۔

چند منٹوں کے بعد، وہ ڈرِپ بیگ میں محلول کی مقدار دیکھنے کے لیے لوٹتی ہے۔ اس میں زیادہ نہیں بچا ہے۔ بوندیں ٹپکنے کا درمیانی وقفہ نوٹ کرتے ہوے وہ ٹیوب کو غور سے دیکھتی ہے۔ وقفہ چھوٹا ہے، مرد کی سانسوں کے درمیانی وقفوں سے بھی چھوٹا۔ وہ اس کے بہاؤ کی رفتار کو ٹھیک کرتی ہے، دو بوندیں گرنے کا انتظار کرتی ہے، اور فیصلہ کن انداز میں گھوم جاتی ہے۔ ’’مزید محلول لانے کے لیے میں فارمیسی جا رہی ہوں۔‘‘ لیکن اس سے قبل کہ اس کے قدم کمرے کی چوکھٹ پار کریں، وہ رکتے ہیں اور وہ ایک شکایت بھری آہ بھرتی ہے: ’’مجھے امید ہے وہ کچھ نہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہوںگے…‘‘ وہ کمرے سے چلی جاتی ہے۔ ہم اس کی بچیوں کو جگانے کی آواز، ’’اٹھو، چلو،ہم باہر جا رہے ہیں‘‘ اور باہر جانے کی آواز سنتے ہیں، اس کے پیچھے دوڑتے ہوے چھوٹے چھوٹے قدموں کی چاپ، پہلے راہداری میںاور پھر صحن میں…
تسبیح کے تین دوروں —دو سو ستانوے سانسوں — کے بعد وہ لوٹ آتی ہیں۔
عورت بچیوں کو برابر والے کمرے میں لے جاتی ہے۔ ایک رو رہی ہے، ’’مجھے بھوک لگی ہے، امی۔‘‘ دوسری شکایت کر رہی ہے، ’’آپ نے کچھ کیلے کیوں نہیں خرید لیے؟‘‘ ان کی ماں انھیں بہلاتی ہے: ’’میں تم کو تھوڑی سی روٹی دیتی ہوں۔‘‘

جب سورج پردوں کے زرد اور نیلے آسمان کے سوراخوں میں سے اپنی شعائیں سمیٹتا ہے، تبھی عورت کمرے کے دروازے پر پھر نمودار ہوتی ہے۔ وہ ایک لمحے کو مرد کی طرف دیکھتی ہے، پھر اس کے پاس جاتی ہے اور اس کی سانس کا معائنہ کرتی ہے۔ وہ سانس لے رہا ہے۔ ڈرپ بیگ تقریباً خشک ہو چکا ہے۔ ’’فارمیسی بند تھی،‘‘ وہ کہتی ہے، اور شکست خوردہ ا نداز میں، جیسے مزید ہدایات کا انتظار کر رہی ہو، توقف کرتی ہے۔ کچھ نہیں ہے۔ کچھ بھی نہیں، سواے تنفس کے… وہ پھر چلی جاتی ہے اور ایک گلاس پانی کا لیے ہوے لوٹتی ہے۔ ’’مجھے وہی کرنا ہوگا جو پچھلی بار کیا تھا، شکر اور نمک کے محلول سے ہی کام چلانا پڑے گا…‘‘
ایک سریع، ماہرانہ جنبش دے کر وہ ٹیوب کو اس کے بازو سے کھینچ لیتی ہے۔ سرنج باہر نکالتی ہے۔ ٹیوب صاف کرتی ہے، اسے اس کے ادھ کھلے منھ میں ڈالتی ہے، اور اسے اس کے حلق میں کھسکاتی ہے ، یہاں تک کہ وہ معدے کی نالی تک پہنچ جاتی ہے۔ پھر وہ گلاس کا محلول ڈرپ بیگ میں ڈال دیتی ہے۔ بہاؤ درست کرتی ہے، بوندوں کے درمیانی وقفے کا معائنہ کرتی ہے۔ ایک سانس پر ایک بوند۔
اور چلی جاتی ہے۔
ایک درجن بوندوں کے بعد وہ لوٹ آتی ہے۔ ہاتھ میں چادر ہے۔ ’’مجھے جانا ہے، پھوپھی سے ملاقات کے لیے۔‘‘ وہ منتظر رہتی ہے… شاید اجازت کے لیے۔ اس کی آنکھیں بھٹکنے لگتی ہیں۔ ’’میرا دماغ چل گیا ہے!‘‘ مضطرب انداز میںوہ لوٹتی ہے ، پھر کمرے سے چلی جاتی ہے۔ دروازے کے عقب میں، راہداری میں اس کی آواز قریب آتی اور دور جاتی سنائی دیتی ہے: ’’مجھے پروا نہیں…‘‘ قریب: ’’تم پھوپھی کے بارے میں کیا سوچتے ہو…‘‘ دور: ’’میں ان سے محبت کرتی ہوں…‘ـ‘ قریب: ’’میرے رشتے داروں میں بس وہی تو بچی ہیں… میری بہنوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے، اور تمھارے بھائیوں نے بھی…‘‘ دور: ’’…یہ بات کہ میں ان سے ملتی ہوں…‘‘ قریب: ’’مجھے چاہیے کہ…‘‘ دور:’’… انھیں تمھارے بارے میں ذرہ بھر پروا نہیں… اور مجھے بھی نہیں ہے!‘‘ دونوں بچیوں کو ساتھ لے کر جانے کی آواز سنائی دیتی ہے۔

ان کی غیر حاضری تین ہزار نو سو ساٹھ سانسوں پر ختم ہوتی ہے۔ تین ہزار نو سو ساٹھ سانسیں، جن کے درمیان کچھ بھی پیش نہیں آتا، سواے ان باتوں کے جن کی پیش گوئی عورت کر چکی تھی۔ آب بردار ہمسائے کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ ناگوار آواز میں کھانستی ہوئی عورت اس کے لیے دروازہ کھولتی ہے… چند سانسوں کے بعد، ایک لڑکا اپنی سائیکل پر سوار سڑک سے گزرتا ہے، سیٹی میں ’’لیلیٰ، لیلیٰ، لیلیٰ، جان، جان، جان، تم نے توڑ دیا میرا دل‘‘ کی دھن بجاتا ہوا۔

پھر وہ لوٹ آتی ہیں، عورت اور دونوں بچیاں۔ وہ ان کو راہداری میں چھوڑ دیتی ہے۔ دروازہ کھولتی ہے، دھاڑ سے۔ اس کا مرد اب بھی وہیں ہے۔ اسی حالت میں۔ اس کی سانسوں کا آہنگ وہی ہے۔ جہاں تک اس کا تعلق ہے، وہ بہت زرد لگ رہی ہے۔ مرد سے بھی زیادہ زرد۔ وہ دیوار کے سہارے کھڑی ہو جاتی ہے۔ ایک طویل خاموشی کے بعد آہ بھرتی ہے۔ ’’میری پھوپھی… انھوں نے گھر چھوڑ دیا ہے… وہ چلی گئیں!‘‘ اپنی پشت دیوار سے ٹکائے ہوے وہ پھسل کر فرش پر بیٹھ جاتی ہے۔ ’’وہ چلی گئیں… لیکن کہاں؟ کسی کو نہیں معلوم… اب میرا کوئی نہیں بچا… کوئی بھی نہیں!‘‘ اس کی آواز لرزتی ہے۔ اس کا گلا رندھ جاتا ہے۔ آنسو بہنے لگتے ہیں۔ ’’وہ نہیں جانتیں کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے… نہیں جان سکتیں… ورنہ انھوں نے میرے لیے پیغام چھوڑا ہوتا، یا مجھے بچانے آتیں… وہ تم سے نفرت کرتی ہیں، مجھے معلوم ہے، لیکن مجھ سے محبت کرتی ہیں… بچیوں سے محبت کرتی ہیں… لیکن تم…‘‘ سسکیاں اس سے اس کی آواز چھین لیتی ہیں۔ وہ دیوار سے ہٹ جاتی ہے، اپنی آنکھیں بند کرتی ہے، کچھ کہنے کی کوشش میں گہرا سانس لیتی ہے، لیکن کہہ نہیں پاتی؛ یہ ضرور کوئی سخت بات ہوگی، معنوں کے سبب سخت، آواز گھونٹ دینے کی حد تک سخت۔ چنانچہ وہ اسے دل میں ہی رکھتی ہے، اور کوئی ایسی بات ڈھونڈتی ہے جو ہلکی پھلکی، نرم اور کہنے میں آسان ہو: ’’اور تم، تم جانتے تھے کہ تمھاری ایک بیوی اور دو بیٹیاں ہیں!‘‘ وہ اپنے پیٹ میں گھونسا مارتی ہے، ایک بار۔ دو بار۔ جیسے اس سخت بات کوپیٹ پیٹ کر باہر نکالنا چاہتی ہے جس نے خود کو اس کے شکم میں دفنا لیا ہے۔ وہ اکڑوں بیٹھ جاتی ہے اور روتی ہوئی کہتی ہے، ’’کیا ہمارے بارے میں تم نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی سوچا تھا، جس وقت تم نے وہ منحوس کلاشنکوف اپنے کندھے پر لٹکائی تھی؟ تم… کے پلّے…‘‘ الفاظ پھر سے دب جاتے ہیں۔
لمحہ بھر کو وہ ساکت رہتی ہے۔ اس کی آنکھیں بند ہیں۔ سر جھکا ہے۔ وہ ایک طویل، درد بھری کراہ نکالتی ہے۔ اس کے شانے اب بھی سانس کے آہنگ کے ساتھ جنبش کر رہے ہیں۔ سات سانسیں۔
سات سانسیں، اور اپنی آنکھیں آستین سے صاف کرتے ہوے، جس پر اناج کی بالیاں اور پھول کشیدہ ہیں، وہ نظریں اٹھاتی ہے۔ مرد کی طرف تھوڑی دیر تکتے رہنے کے بعد وہ اس کے قریب جاتی ہے، اس کے چہرے پر جھکتی ہے اور سرگوشی کرتی ہے، ’’مجھے معاف کردو…‘‘ ساتھ ہی اس کا بازو تھپتھپاتی ہے۔ ’’میں تھک چکی ہوں۔ ٹوٹ رہی ہوں۔ مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ۔ میرے پاس بس اب تمھی بچے ہو۔‘‘ اس کی آواز بلند ہو جاتی ہے، ’’تمھارے بغیر، میرے پاس کوئی نہیں ہے۔ اپنی بیٹیوں کا سوچو! میں ان کا کیا کروںگی؟ وہ ابھی کس قدر چھوٹی ہیں…‘‘ تھپکنا روک دیتی ہے۔

باہر کسی جگہ— زیادہ دور نہیں— کوئی گولی چلاتا ہے۔ جواب میں ایک اور گولی چلتی ہے، ذرا قریب سے۔ پہلا بندوق بردار پھر گولی داغتا ہے۔ اس بار، کوئی جواب نہیں آتا۔
’’آج ملّا نہیں آئے گا،‘‘ وہ کچھ راحت کے ساتھ کہتی ہے۔ ’’وہ بھٹک کر لگنے والی گولیوں سے خوفزدہ ہے۔ وہ بھی اتنا ہی بزدل ہے جتنے تمھارے بھائی۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور چند قدم پیچھے ہٹتی ہے۔ ’’تم مردوئے، تم سب بزدل ہو!‘‘ وہ واپس آتی ہے۔ گہری نظروں سے مرد کو گھورتی ہے۔ ’’تمھارے بھائی کہاں ہیں جو بڑا فخر کرتے تھے کہ تم ان کے دشمنوں سے لڑ رہے ہو؟‘‘ دو سانسیں اور اس کے بعد اس کی خاموشی غضب سے معمور ہو جاتی ہے۔ ’’بزدلو!‘‘ وہ تھوکتی ہے۔ ’’انھیں چاہیے تھا کہ تمھارے بچوں کی، اور میری دیکھ بھال کریں— تمھاری غیرت کی خاطر، اور اپنی غیرت کے لیے بھی— کیا میں ٹھیک نہیں کہہ رہی؟ تمھاری ماں کہاں ہے جو کہا کرتی تھی کہ تمھارے سر کے ایک ایک بال پر خود کو قربان کردے گی؟ وہ اس حقیقت کا سامنا نہیں کر سکی کہ اس کے بیٹے نے، اس ہیرو نے جو ہر محاذ پر لڑا، ہر دشمن سے لڑا، ایک معمولی سی تکرار میں اس وجہ سے گولی کھائی کہ کسی آدمی نے — کون یقین کرے گا کہ اسی کے گروہ کے آدمی نے— کہا تھا: تیری ماں کی چو… میں تھوکوں! ایک گالی کے کارن گولی کھائی!‘‘ وہ ایک قدم نزدیک آتی ہے۔’’ کیا ہی واہیات بات ہے، نری حماقت!‘‘ اس کی نگاہ کمرے میں بھٹکتی ہے، اور پھر، ایک بوجھل پن سے، اس مرد پر ٹھہر جاتی ہے جو شاید اس کی آواز سن سکتا ہے، یا شاید نہیں۔ ’’کیا تمھیں معلوم ہے شہر چھوڑنے سے پہلے تمھارے گھر والوں نے مجھ سے کیا کہا؟‘‘ وہ بولتی رہی۔ ’’یہی کہ وہ تمھاری بیوی کی یا تمھارے بچوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکیں گے…تمھیں یہ بات بھی معلوم ہوگی کہ انھوںنے تمھیں چھوڑ دیا ہے۔ وہ تمھاری صحت کی، تمھاری مصیبت کی، یا تمھاری غیرت کی رتی بھر بھی پروا نہیں کرتے!… انھوں نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا ہے…‘‘وہ گریہ کرتی ہے۔ ’’ہمیں، مجھے!‘‘ وہ اپنا تسبیح والا ہاتھ چھت کی طر ف بلند کرتی ہے، گڑگڑا کر کہتی ہے، ’’اللہ ، میری مدد کر!… القہّار، القہّار…‘‘ اور روتی جاتی ہے۔
تسبیح کا ایک وِرد۔
پریشان و نزار، وہ ہکلاتی ہے، ’’میں پاگل… م…میں پاگل…ہو رہی ہوں۔‘‘ وہ اپنا سر پیچھے کی طرف جھٹکتی ہے۔ ’’میں اس سے یہ سب کیوں کہہ رہی ہوں؟ میں پاگل ہو رہی ہوں۔ اللہ ، میری زبان کاٹ لے! میرے منھ میں خاک!‘‘ وہ اپنا منھ ڈھانپ لیتی ہے۔ ’’اللہ، میری حفاظت فرما، میری رہنمائی کر، میں اپنے راستے سے بھٹک رہی ہوں، مجھے راستہ دکھا!‘‘
کوئی جواب نہیں آتا۔
کوئی رہنمائی نہیں کرتا۔
اس کا ہاتھ اس کے شوہر کے بالوں میں دفن ہو جاتاہے۔ التجا بھرے الفاظ اس کے خشک حلق سے برآمد ہوتے ہیں، ’’لوٹ آؤ… میں تم سے بھیک مانگتی ہوں، میں پاگل ہو جاؤں اس سے پہلے لوٹ آؤ۔ لوٹ آؤ، اپنے بچوں کی خاطر …‘‘ وہ اوپر کی جانب دیکھتی ہے۔ اپنے آنسوؤں کے پردے میں سے وہ اسی مبہم سمت میں دیکھتی ہے جدھر مرد کی نظریں ٹنگی ہیں۔ ’’اسے زندگی کی طرف لے آ، اے اللہ!‘‘ اس کی آواز ڈوب جاتی ہے۔ ’’آخر تو وہ اتنے دن تک تیرے ہی نام پر لڑتا رہا۔ جہاد کے لیے!‘‘ وہ چپ ہو جاتی ہے، اور پھر شروع ہوتی ہے: ’’اور تُو اس کو اس حال میں چھوڑ رہا ہے؟ اس کے بچوں کا کیا ہوگا؟ اور میرا کیا ہوگا؟ نہیں، توایسا نہیں کر سکتا، ایسا نہیں کر سکتا،تجھے کوئی حق نہیں کہ ہمیں اس حال میں چھوڑدے، مرد کے بغیر!‘‘ اس کا بایاں ہاتھ، جس میں تسبیح تھمی تھی، قرآن کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ اس کا غصہ اس کی آواز میں خود کو نمایاں کرتا ہے، ’’شہادت دے کہ تو موجود ہے، اس کو زندہ کر!‘‘ وہ قرآن کھولتی ہے۔ اس کی انگلی ورق کے حاشیے پر چھپے اللہ کے ناموں پر پھلستی جاتی ہے۔ ’’قسم کھاکر کہتی ہوں، اب اس کو نرے احمق کی طرح جنگ پر کبھی نہیں جانے دوں گی۔ تیرے نام پر بھی نہیں! وہ میرا ہوگا، یہیں، میرے ساتھ رہے گا۔‘‘ اس کے حلق سے، جس میں ہچکیوں کی وجہ سے گرہ پڑ گئی ہے، صرف گھٹی ہوئی چیخ جیسی آواز نکل رہی ہے: القہّار… ننانوے بار القہّار۔
کمرے میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔

’’مجھے ڈر لگ رہا ہے، امی۔ بہت اندھیرا ہے۔‘‘ ننھی لڑکیوں میں سے ایک دروازے کے پیچھے، راہداری میں ٹھنک رہی ہے۔ عورت کمرے سے باہر جانے کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے۔
’’ڈرو مت پیاری۔ میں یہیں ہوں۔‘‘
’’آپ کیوں چلّا رہی تھیں؟ آپ نے مجھے ڈرا دیا، امی۔‘‘ ننھی لڑکی روتی ہے۔ ماں اس کو پھر تسلی دیتی ہے، ’’میں چلّا نہیں رہی تھی۔ میں تمھارے ابا سے باتیں کر رہی تھی۔‘‘
وہ دروازے سے دور چلی جاتی ہیں۔
’’آپ میرے ابا کو القہّار کیوں کہہ رہی تھیں؟ کیا وہ غصے میں ہیں؟‘‘
’’نہیں، لیکن وہ ناراض ہو جائیں گے اگر تم ان کو پریشان کروگی۔‘‘
ننھی لڑکی خاموش ہو جاتی ہے۔
اب مکمل اندھیرا چھا چکا ہے۔
اور، جیسا کہ عورت نے پیش گوئی کی تھی، ملّا نہیں آیا ہے۔
وہ ہریکین لیمپ لے کر لوٹتی ہے۔ اسے مرد کے سر کے نزدیک زمین پر رکھ دیتی ہے، اور اپنی جیب سے آنکھوں کی دوا کی شیشی نکالتی ہے۔ آہستگی سے بوندیں آنکھوں میں ٹپکاتی ہے۔ ایک، دو۔ ایک، دو۔ پھر کمرے سے چلی جاتی ہے، اور ایک چادر اور پلاسٹک کا ایک چھوٹا تسلا لے کر واپس آتی ہے۔ وہ اس گندی چادر کو ہٹاتی ہے جس سے مرد کی ٹانگیں ڈھکی ہوئی ہیں۔ اس کا پیٹ، ٹانگیں اور بیچ کے اعضا صاف کرتی ہے۔ جب اس کام سے فارغ ہو جاتی ہے تو اپنے آدمی کو صاف چادر سے ڈھک دیتی ہے، نمک اور شکر کے محلول کی بوندوں کے درمیانی وقفے کو جانچتی ہے، اور ہریکین لیمپ ساتھ لے کر چلی جاتی ہے۔
ہر شے پھر سے تاریکی میں ڈوب جاتی ہے۔ ایک طویل عرصے کے لیے۔

علی الصبح، جب ملّا کی بیٹھی ہوئی آواز ایمان والوں کو نماز کے لیے پکارتی ہے، تو راہداری میں پیروں کے گھسٹنے کی آواز سنی جا سکتی ہے۔ وہ دروازے کی طرف آتے ہیں، دور چلے جاتے ہیں، پھر واپس آتے ہیں۔ دروازہ کھلتا ہے۔ عورت داخل ہوتی ہے۔ وہ مرد کی طرف دیکھتی ہے۔ اس کا آدمی۔ وہ اب بھی وہیں ہے، اُسی حالت میں۔ لیکن اس کی آنکھیں اس کی توجہ کھینچ لیتی ہیں۔وہ ایک قدم آگے بڑھاتی ہے۔ اس کی آنکھیں بند ہیں ۔ عورت اور نزدیک جاتی ہے۔ اور ایک قدم، خاموشی سے۔ پھر دو۔ وہ اس کی طرف دیکھتی ہے۔ صاف نہیں دیکھ سکتی۔ اسے یقین نہیں آتا۔ وہ کمرے سے نکل جاتی ہے۔ پانچ سانسوں کے بعد وہ ہریکین لیمپ لیے واپس آتی ہے۔ اس کی آنکھیں اب بھی بند ہیں۔ وہ فرش پر ڈھیر ہو جاتی ہے۔ ’’کیا تم سو رہے ہو؟‘‘ اس کا کانپتا ہوا ہاتھ آدمی کے سینے پر حرکت کرتا ہے۔ وہ سانس لے رہا ہے۔ ’ہاں… تم سو رہے ہو!‘‘ وہ چلّاکر کہتی ہے۔ وہ کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑاتی ہے جیسے کوئی موجود ہو جس سے وہ یہ کہہ سکے: ’’وہ سو رہا ہے!‘‘
کوئی نہیں ہے۔ وہ ڈر جاتی ہے۔
وہ چھوٹا غالیچہ اٹھاتی ہے، اس کی تہہ کھولتی ہے، اور اس کو زمین پر بچھا دیتی ہے۔ فجر کی نماز پڑھ کر وہ بیٹھی رہتی ہے، قرآن اٹھاتی ہے اور اس صفحے کو کھولتی ہے جہاں مور کے پنکھ کی نشانی رکھی ہے، وہ مور کا پنکھ ہٹاتی ہے اور اس کو اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑ لیتی ہے۔ اپنے بائیں ہاتھ سے وہ تسبیح پڑھتی رہتی ہے۔
چند آیتیں پڑھنے کے بعد وہ مور کا پنکھ واپس رکھ دیتی ہے، قرآن بند کرتی ہے، اور ایک لمحے کے لیے خیالوں میں کھوئی بیٹھی رہتی ہے، نظریں پنکھ پر جمائے ہوے جو کتابِ مقدس سے جھانک رہا ہے۔ وہ اس کو تھپکتی ہے، پہلے اداسی کے ساتھ، پھر اضطراب سے۔
وہ کھڑی ہوتی ہے، غالیچہ تہہ کرکے رکھتی ہے، اور دروازے کی جانب بڑھتی ہے۔ جانے سے پہلے، وہ رکتی ہے۔ پیچھے گھومتی ہے۔ مرد کے نزدیک اپنی جگہ پر واپس جاتی ہے۔ ہچکچاتے ہوے اس کی ایک آنکھ کھولتی ہے۔ پھر دوسری۔ منتظر رہتی ہے۔ اس کی آنکھیں دوبارہ بند نہیں ہوتیں۔ عورت آنکھوں کی دوا کی شیشی اٹھاتی ہے اور اس کی آنکھوں میں مقررہ بوندیں ٹپکا دیتی ہے۔ ایک، دو۔ ایک، دو۔ ڈرِپ بیگ کاجائزہ لیتی ہے۔ اس میں تھوڑا سا محلول اب بھی باقی ہے۔
کھڑے ہونے سے پہلے وہ توقف کرتی ہے، اور ہراساں ہوکر مرد کی طرف دیکھتے ہوے اس سے پوچھتی ہے، ’’کیا تم اپنی آنکھیں ایک مرتبہ پھر بند کر سکتے ہو؟‘‘ مرد کی خالی آنکھیں کوئی جواب نہیں دیتیں۔ وہ پھر اصرار کرتی ہے، ’’تم کر سکتے ہو۔ تم کر سکتے ہو! پھر سے کرو!‘‘ اور منتظر رہتی ہے۔ کوئی فائدہ نہیں۔
فکر مند ہوکر وہ اپنا ہاتھ آہستگی سے مرد کی گردن کے نیچے کھسکا دیتی ہے۔ ایک سنسنی، ایک خوف، اس کے بازو میں کپکپی دوڑا دیتا ہے۔ وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے، اپنے دانت بھینچ لیتی ہے۔ گہرا سانس کھینچتی ہے، تکلیف کے ساتھ۔ وہ تکلیف میںہے۔ وہ سانس چھوڑتی ہے، اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ بھی باہر نکالتی ہے، اور لیمپ کی کمزور روشنی میں اپنی کانپتی انگلیوں کے پوروں کا جائزہ لیتی ہے۔ وہ خشک ہیں۔ وہ کھڑی ہو جاتی ہے، اور مرد کو کروٹ دلاتی ہے۔ لیمپ کو اس کی گردن کے قریب لاتی ہے تاکہ اس کے چھوٹے سے زخم کا جائزہ لے سکے — اس کا منھ اب بھی کھلا ہے، نیلا ہے، خون نچڑ چکا، لیکن ابھی بھرا نہیں ہے۔
عورت اپنا سانس روکتی ہے، اور زخم کو دباتی ہے۔ مرد اب بھی کوئی جنبش نہیں کرتا۔ وہ اور زور سے دباتی ہے۔ کوئی احتجاج نہیں۔ نہ آنکھوں میں، نہ سانسوں میں۔ ’’کیا اس سے درد بھی نہیں ہوتا؟‘‘ وہ مرد کو پلٹ کر پھر سے چت لٹا دیتی ہے، اور اس کے اوپر جھکتی ہے تاکہ اس کی آنکھوں میں دیکھ سکے۔ ’’تم کو درد نہیں ہوتا! تمھیں کبھی درد نہیں ہوا، کبھی بھی نہیں!… میں نے نہیں سنا کہ گردن میں گولی لگنے کے بعد کوئی آدمی کبھی زندہ رہ گیاہو! تمھارا تو خون تک نہیں بہہ رہا ہے… پیپ نہیں، درد نہیں، تکلیف نہیں! ’یہ معجزہ ہے!‘ تمھاری ماں کہا کرتی تھی… ضرور کوئی منحوس معجزہ۔‘‘ وہ کھڑی ہو جاتی ہے۔ ’’زخم کے باوجود، تمھیں تکلیف سے نجات دے دی گئی۔‘‘ رُندھتے ہوے گلے میں اس کی آواز بھدی ہو جاتی ہے، ’’ اور تکلیف مجھے پہنچ رہی ہے! رونا مجھے پڑ رہا ہے!‘‘ یہ کہہ کر وہ دروازے کی سمت بڑھ جاتی ہے۔ آنکھوں میں آنسو اور غصہ لیے، وہ راہداری کی تاریکی میں غائب ہو جاتی ہے، ہریکین لیمپ کو چھوڑ کر، جس کی روشنی میں مرد کی لرزیدہ پرچھائیں دیوار پر منعکس رہتی ہے، یہاں تک کہ صبح کا اجالا پوری طرح پھیل جاتا ہے، یہاں تک کہ سورج کی شعائیں زرد اور نیلے پردوں کے سوراخوں سے گزر کر لیمپ کو غیرضروری بنا دیتی ہیں۔

ایک ہاتھ کمرے کے دروازے کو کھولنے سے پہلے ہچکچا رہا ہے۔ یا کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ’’ابّا!‘‘ ایک بچی کی آواز دروازے کے چرچرانے کی آواز کے ساتھ سنی جا سکتی ہے۔ ’’تم کہاں جا رہی ہو؟‘‘ عورت کی چیخ پر بچی دروازہ کھینچ کر بند کر دیتی ہے، اور چلی جاتی ہے۔ ’’اپنے باپ کو پریشان مت کرو، میری پیاری۔ وہ بیمار ہیں۔ وہ سو رہے ہیں۔ میرے ساتھ آؤ!‘‘ ننھے قدموں کی آواز راہداری میں بھاگتے ہوے دور چلی جاتی ہے۔ ’’لیکن آپ کا کیا… جب آپ اندر جاتی ہیں، اور چلّاتی ہیں، کیا اس سے انھیں تکلیف نہیں ہوتی؟‘‘ اس کی ماں جواب دیتی ہے، ’’ہاں، ہوتی ہے۔‘‘
خاموشی۔

کمرے کے بوجھل سکوت میں ایک مکھی کہیں سے گھس آتی ہے۔ مرد کی پیشانی پر اترتی ہے۔ جھجکتی ہوئی۔ بے یقینی سے۔ اس کی جھریوں پہ بھنبھناتی ہے، اس کی جلد چاٹتی ہے۔ کوئی ذائقہ نہیں۔ یقیناً کوئی ذائقہ نہیں۔
مکھی کھسکتی ہوئی اس کی آنکھ کے گوشے تک راستہ بناتی ہے۔ اب بھی جھجکتی ہوئی۔ اب بھی بے یقینی سے۔ وہ آنکھوں کی سفیدی چکھتی ہے، پھر وہاں سے ہٹ جاتی ہے۔ کوئی اس کو اڑاتا نہیں۔ وہ اپنا سفر جاری رکھتی ہے، ڈاڑھی میں گم ہوتی ہوئی، ناک پر چڑھتی ہوئی، پرواز بھرتی ہے۔ بدن کی پڑتال کرتی ہے۔ لوٹ آتی ہے۔ ایک بار پھر چہرے پر بیٹھ جاتی ہے۔ نیم وا منھ میں ٹھنسی ہوئی ٹیوب پر رینگتی ہوئی چڑھتی ہے۔ اس کو چاٹتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ دائیں جانب چلتی ہوئی ہونٹوں کے گوشے تک پہنچ جاتی ہے۔ تھوک نہیں۔ ذائقہ نہیں۔ مکھی چلتی رہتی ہے، منھ میں داخل ہو جاتی ہے، اور اس میں غائب ہو جاتی ہے۔

ہریکین لیمپ بے کار ہی اپنی آخری سانسیں لیتا ہے۔ لو بجھ جاتی ہے۔ عورت لوٹتی ہے۔ وہ ایک گہری تھکن میں ڈوبی ہوئی ہے— اپنے وجود کی، اور اپنے بدن کی تھکن میں۔ اپنے آدمی کی طرف چند مضمحل قدم اٹھا کر وہ رک جاتی ہے۔ گزشتہ دن کے مقابلے میں اور کم یقین کے ساتھ۔ اس کی نگاہ شدید مایوسی کے ساتھ بے حرکت جسم پر ٹھہر جاتی ہے۔ وہ مرد اور قرآن کے درمیان بیٹھ جاتی ہے، اور قرآن کا وہ صفحہ کھولتی ہے جہاں نشانی رکھی ہے۔ وہ اپنی انگلی کو اللہ کے ناموں پر حرکت دیتی ہے، ایک کے بعد ایک۔ ان کو شمار کرتی ہے۔ سترھویں نام پر رک جاتی ہے۔ گنگناتی ہے: ’’الوہّاب… تحفے عطا کرنے والا۔‘‘ ایک تلخ تبسم اس کے ہونٹوں کے گوشوں پر سلوٹیں ڈالتاہے۔ ’’مجھے تحفوں کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ قرآن میں سے جھانکتے ہوے مور کے پنکھ کو کھینچتی ہے۔ ’’اللہ کے ناموں کا ورد کرتے رہنے کی مجھ میں اب اور ہمت نہیں۔‘ ‘ وہ پنکھ سے اپنے ہونٹ سہلاتی ہے۔ ’’الحمد اللہ… وہ تم کو بچائے گا۔ میرے بغیر۔ میری نمازوں کے بغیر … اسے ٹھیک کرنا ہی ہوگا۔‘‘
دروازے پر دستک کی آوازسے عورت خاموش ہو جاتی ہے۔ ’’ضرور ملّا ہوگا۔‘‘ دروازہ کھولنے کی اسے ذرا بھی خواہش نہیں۔ مزید کھٹ کھٹ۔ وہ ہچکچاتی ہے۔ دستک جاری رہتی ہے۔ وہ کمرے سے باہر جاتی ہے۔ اس کے قدموں کی آہٹ سڑک کی طرف بڑھتی ہوئی سنی جاسکتی ہے۔ وہ کسی سے بات کر رہی ہے۔ اس کے الفاظ صحن میں کھو جاتے ہیں، کھڑکیوں کے پیچھے۔

ایک ہاتھ سہمے ہوے انداز میں دروازے کو دھکا دے کر کھولتا ہے۔ ایک ننھی لڑکی اندر آتی ہے۔ بکھرے بالوں کے جھنڈ کے نیچے ایک شیریں چہرہ۔ وہ پتلی دبلی ہے۔ اس کی ننھی آنکھیں آدمی کی طرف دیکھتی ہیں۔ ’’ابا!‘‘ وہ چیختی ہے اور جھجکتی ہوئی اس کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ ’کیا آپ سو رہے ہیں، ابا؟‘‘ وہ پوچھتی ہے۔ ’’یہ آپ کے منھ میں کیا ہے؟‘‘ ڈرپ ٹیوب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ وہ اپنے باپ کے قریب پہنچ کر رک جاتی ہے، فیصلہ نہیں کرپاتی کہ اس کے گال کو چھوئے یا نہ چھوئے۔ ’’لیکن آپ سو تو نہیں رہے ہیں!‘‘ وہ روتی ہے۔ ’’امی کیوں ہمیشہ کہتی رہتی ہیں کہ آپ سو رہے ہیں؟ امی کہتی ہیں آپ بیمار ہیں۔ وہ مجھے یہاں نہیں آنے دیتیں، آپ سے بات نہیں کرنے دیتیں… لیکن خود ہمیشہ آپ سے بولتی رہتی ہیں۔‘‘ وہ اس کے قریب بیٹھنے ہی والی ہے کہ اس کی بہن کی چیخ اس کو روک دیتی ہے، جو نیم وا دروزے میں سمٹی کھڑی ہے۔ ’’خاموش رہو!‘‘ اپنی ماں کی آواز کی نقل کرتے ہوے وہ چیختی ہے، اور دوڑکر چھوٹی کے قریب آ جاتی ہے۔ ’’چلی آؤ! ‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑتی ہے اور اپنے باپ کی طرف کھینچتی ہے۔ ایک لمحے کے تذبذب کے بعد چھوٹی والی اپنے باپ کے سینے پر چڑھ جاتی ہے اور اس کی ڈاڑھی کو زور سے کھینچنا شروع کرتی ہے ۔ دوسری خوش دلی سے چیختی ہے، ’’بولیے نا ابا، بولیے!‘‘ وہ اس کے منھ کی طرف جھکتی ہے، اور ٹیوب کو چھوتی ہے۔ ’’اس کو باہر نکالیے۔ بات کیجیے!‘‘ وہ ٹیوب کو کھینچ لیتی ہے، اس سے کچھ سننے کی امید میں۔ لیکن نہیں۔ کچھ بھی جواب نہیں،بس سانسیں۔ دھیمی، گہری سانسیں۔ وہ اپنے باپ کے نیم وا منھ کو تکتی رہتی ہے۔ اس کا متجسس چھوٹا سا ہاتھ منھ کے اندر غوطہ لگاتا ہے اور مکھی کو کھینچ لاتا ہے۔ ’’مکھی ہے!‘‘ وہ چیختی ہے، اور کراہت کے ساتھ اسے زمین پر پھینک دیتی ہے۔ چھوٹی والی ہنستی ہے، اور پھٹی جلد والا اپنا گال باپ کے سینے پر ٹکا دیتی ہے۔
ماں اندر آتی ہے۔ ’’تم کیا کر رہی ہو؟‘‘ وہ دہشت زدہ ہو کر چیختی ہے۔ وہ دوڑ کر بچوں کی طرف آتی ہے، اور ان کے بازو گرفت میں لے لیتی ہے۔ ’’باہر نکلو! چلو میرے ساتھ آؤ!‘‘
’مکھی! ابا مکھی کھا رہے ہیں!‘‘ لڑکیاں چیخ کر کہتی ہیں، تقریباً ایک ساتھ۔
’’خاموش رہو!‘‘ ان کی ماں حکم دیتی ہے۔
وہ سب کمرے سے چلی جاتی ہیں۔
مکھی گلیم پر تڑپتی ہے، اور تھوک میں ڈوب جاتی ہے۔

عورت کمرے میں لوٹ آتی ہے۔ آدمی کے منھ میں ٹیوب کو پھر سے ڈالنے سے پہلے وہ چاروں طرف دیکھتی ہے، مضطرب اور متجسس۔ ’’کیسی مکھی؟‘‘ اسے کچھ نظر نہیں آتا۔ ٹیوب کو پھر سے لگاتی ہے اور چلی جاتی ہے۔
بعد میں، وہ ڈرپ بیگ میں شکر و نمک کا محلول ڈالنے، اور آنکھوں میں دوا ڈالنے کے لیے واپس آتی ہے۔
کاموں سے فراغت پاکر، وہ اپنے آدمی کے پاس نہیں ٹھہرتی۔
اب وہ اپنے آدمی کے سینے پر اپنا داہنا ہاتھ نہیں رکھتی ۔
اب وہ آدمی کے تنفس کے آہنگ کے ساتھ اپنی تسبیح کے کالے دانے نہیں گھماتی۔
وہ چلی جاتی ہے۔

وہ لوٹتی نہیں، حتیٰ کہ ظہر کی اذان ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ آتی ہے— چھوٹا غالیچہ لینے کے لیے نہیں، اسے جھٹکنے کے لیے نہیں، زمین پر بچھا کر نماز پڑھنے کے لیے نہیں۔ بلکہ مرد کی آنکھوں میں دوا کی تازہ بوندیں ٹپکانے کے لیے۔ ایک، دو۔ ایک، دو۔ اور پھر سے چلی جاتی ہے۔
اذان کے بعد ملّا کی بیٹھی ہوئی آواز خدا سے دعا مانگتی ہے کہ اس دن، چہار شنبہ کو، علاقے کے ایمان والوں کو وہ اپنی حفاظت میں لے لے، ’’… اس لیے کہ ہمارے رسول نے کہا ہے کہ بدبختی کا یہ وہ دن ہے جب فرعون اور اس کے لوگ غرقاب کیے گئے، اور جب پیغمبر صالح کے امتی— عاد اور ثمود — تباہ کیے گئے…‘‘ وہ رکتا ہے اور فوراً ہی خوفزدہ آواز میں پھر کہنا شروع کرتا ہے، ’’اے ایمان والو! جیسا کہ میں نے تم لوگوں کو ہمیشہ بتایا ہے کہ ہمارے سب سے عالی مرتبت نبی پاک کہتے ہیں، کہ صحیح یہ ہے کہ چہارشنبہ ایسا دن ہے جس میں نہ تو قتل و غارت کرو، نہ کسی سے لین دین کرو۔ البتہ ایک حدیث میں، جو ابن یونس سے مروی ہے، کہا گیا ہے کہ جہاد کے دوران ایسا کرنا جائز ہے۔ آج تمھارے بھائی، ہمارے عظیم کماندار، تمھیں ہتھیاروں سے مسلح کر رہے ہیں تاکہ تم اپنی غیرت، اپنے خون اور اپنے قبیلے کی حفاظت کر سکو!‘‘
سڑک پر بھاری آواز وں میں آدمی خود ہی چیخ رہے ہیں: ’’اللہ اکبر!‘‘ دوڑتے ہوے: ’’اللہ اکبر!‘‘ مسجد کے نزدیک پہنچ کر ان کی آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں: ’’اللہ ُ …‘‘

چند چیونٹیاں گلیم پر پڑی مردہ مکھی کے گرد تاک لگا رہی ہیں، پھر اس کو پکڑ لیتی ہیں، اور گھسیٹ لے جاتی ہیں۔

عورت اندر آتی ہے اور مرد کو ایک اضطراب کے ساتھ دیکھتی ہے۔ شاید اسے خوف ہے کہ ہتھیار اٹھانے کی دعوت پر وہ اپنے قدموں پر سیدھا کھڑا نہ ہو جائے۔
وہ دروازے کے پاس کھڑی رہتی ہے۔ انگلیوں سے وہ اپنے ہونٹ تھپتھپاتی ہے اور پھر بےچینی کے ساتھ انھیں دانتوں کے درمیان ڈال دیتی ہے، جیسے ان الفاظ کو باہر کھینچنا چاہتی ہو جو اپنے اظہار کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ وہ کمرے سے چلی جاتی ہے۔ دوپہر کا کھانا تیار کرنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں، بچوں سے باتیں کرنے اور ان کے ساتھ کھیلنے کی آوازیں بھی۔
اب قیلولے کا وقت ہو چکا ہے۔
تاریکی ۔
خاموشی۔

عورت واپس آتی ہے۔ قدرے کم مضطرب۔ وہ مرد کے برابر میں بیٹھ جاتی ہے۔ ’’ملّا آیا تھا۔ وہ یہاں دعا کے اجلاس کے لیے آیا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ کل سے میں ناپاک ہوں، کیونکہ میں مہینے سے ہوں، حوا کی طرح۔ وہ خوش نہیں تھا۔ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ ایسا کس لیے تھا۔ کیا اس لیے کہ میں نے حوا سے اپنا موازنہ کیا، یا اس لیے کہ میں نے اس کو یہ بتا دیا کہ میرا خون جاری ہے؟ وہ چلا گیا، اپنی ڈاڑھی میں بڑبڑاتا ہوا۔ اب سے پہلے وہ ایسا نہیں تھا؛ اس کے ساتھ مذاق بھی کیا جا سکتا تھا۔ لیکن جب سے تم لوگوں نے ملک کے لیے اس نئے قانون کا اعلان کیا ہے، وہ بھی بدل گیا ہے۔ وہ خوفزدہ ہے، بیچارہ!‘‘
اس کی نظریں قرآن پر ٹھہر جاتی ہیں۔ وہ یکایک اچھل پڑتی ہے: ’’دھت تری کی!مور کا پنکھ؟‘‘ وہ صحیفے کے اندر اس کو ڈھونڈتی ہے۔ وہ وہاں نہیں ہے۔ تکیے کے نیچے۔ وہاں بھی نہیں ہے۔ اپنی جیبوں میں۔ یہیں ہے۔ ایک گہرا سانس لے کر بیٹھ جاتی ہے۔’ ’یہ ملّا مجھے پاگل کیے دے رہا ہے!‘‘ پنکھ کو واپس قرآن میں رکھتے ہوے کہتی ہے۔ ’’میں کس کے متعلق بات کر رہی تھی؟ …ارے ہاں، ماہواری کے متعلق… میں نے اس سے جھوٹ بولا، ظاہر ہے۔‘‘ وہ پر شوق نظروں سے مرد کی طرف دیکھتی ہے، جن میںاطاعت کم اور شوخی زیادہ ہے۔ ’’بالکل اسی طرح جیسے میں نے تم سے جھوٹ بولا… کئی مرتبہ!‘‘ وہ اپنی ٹانگیں سکیڑ کر اپنے سینے تک کھینچ لاتی ہے، اور ٹھڈی اپنے گھٹنوں کے درمیان گاڑ دیتی ہے۔ ’’لیکن ایک بات اور ہے جو بہتر ہے میں تمھیں بتادوں…‘‘ وہ دیر تک اسے تکتی رہتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی وہی عجیب چوکسی ہے۔ ’’تم جانتے ہو…‘‘ اس کی آواز بھرّا جاتی ہے۔ گلے کو گیلا کرنے کے لیے وہ تھوک نگلتی ہے، اور اوپر دیکھتی ہے۔ ’’جب میں اور تم پہلی بار سونے کے لیے گئے— شادی کے تین سال بعد، یاد کرو! —خیر، اس رات میں مہینے سے تھی۔‘‘ اس کی نگاہ مرد سے بچ کر چادر کی سلوٹوں میں پناہ ڈھونڈتی ہے۔ وہ اپنا بایاں رخسار اپنے گھٹنے پر ٹکا دیتی ہے۔ زخم کے نشان والی اس کی آنکھ میں چوکسی کے تاثر میں کچھ تخفیف ہو جاتی ہے۔ ’’میں نے تم کو بتایا نہیں۔ اور تم، تم نے سوچا کہ… خون میرے کنوارپن کا ثبوت ہے!‘‘ ایک بے آواز ہنسی اس کے اکڑوں بیٹھے، سمٹے ہوے بدن کو ہلاتی ہے۔ ’’خون دیکھ کر تم کس قدر جوش میں آ گئے تھے، کس قدر نازاں تھے!‘‘ ایک لمحہ۔ ایک نظر۔ اور غصے میں چلّانے کے ساتھ توہین آمیز الفاظ سننے کی دہشت… کچھ نہیں ہوا۔ اور اس طرح، گداز دل اور پرسکون ہو کر، وہ خود کو اپنی یادوں کے نجی گوشوں میں لے جاتی ہے۔ ’’مجھے ان دنوں مہینے سے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ مناسب وقت نہیں تھا، لیکن یہ ایک ہفتہ پہلے شروع ہو گیاتھا۔ ایسا شاید اعصاب کے متاثر ہونے کی وجہ سے، تم سے ملنے کے خوف کی وجہ سے ہوا۔ میرا مطلب ہے، کیا تم تصور کر سکتے ہو— کہ تقریباً ایک سال نسبت کا اور پھر تین سال شادی شدہ زندگی کے، وہ بھی ایک ایسے آدمی کے ساتھ جو ناموجود تھا، گزارنا اتنا آسان نہیں ہے۔ میں تمھارے نام کے ساتھ جیتی تھی۔ میں نے اس دن سے پہلے نہ تمھیں دیکھا تھا، نہ سنا تھا، نہ چھوا تھا۔ میں خوفزدہ تھی، ہر شے سے خوفزدہ، تم سے، تمھارے ساتھ سونے سے، خون سے۔ لیکن ساتھ ہی یہ ایسا خوف تھا جس میں لطف آ رہا تھا۔ تمھیں معلوم ہے، ایک ایسا خوف جو انسان کو اس کی خواہش سے جدا نہیں کرتا، بلکہ اسے ابھارتا ہے، بال و پر عطا کرتا ہے، خواہ وہ جل ہی کیوں نہ جائیں۔ یہ ایسا ہی خوف تھاجو میں محسوس کر رہی تھی۔ اور یہ میرے اندر ہر روز بڑھتا جا رہا تھا، میرے پیٹ پر حملہ کرتا تھا، میرے اعصاب پر … پھر جب تم آئے اس سے ایک رات پہلے، اس نے ابلنا شروع کردیا۔ یہ نیلا خوف نہیں تھا۔ نہیں۔ یہ سرخ خوف تھا، خون سا سرخ۔ جب میںنے یہ بات اپنی پھوپھی کو بتائی تو انھوںنے صلاح دی کہ اس پر کچھ نہ کہنا… چنانچہ میں خاموش رہی۔ میرے لیے یہی بہتر تھا۔ حالانکہ میں باکرہ تھی لیکن میں حقیقتاً ڈری ہوئی تھی۔ میں یہ سوچ کر حیران ہوتی رہتی تھی کہ اگر سوے اتفاق سے اس رات خون نہیں نکلا تو کیا ہوگا…‘‘ اس کا ہاتھ ہوا میں حرکت کرتا ہے جیسے کسی مکھی کو بھگا رہا ہو۔ ’’اس سے قیامت ہی آ جاتی۔ اس کے متعلق میں نے کتنی ہی کہانیاں سن رکھی تھیں۔ میں سارے معاملے کا تصور کر سکتی تھی۔‘‘ اس کا لہجہ تمسخرانہ ہو جاتا ہے، ’’ناپاک خون کو باکرہ کا خون بناکر پیش کرنا، ایک ذہنی ترنگ جیسی بات ہے۔ کیاتم کو ایسا نہیں لگتا؟‘‘وہ مرد کے بہت قریب لیٹ جاتی ہے۔ ’’میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا کہ تم مردوں کے لیے، تفاخر اس شدت سے کیوں خون کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔‘‘ اس کا ہاتھ پھرسے ہوا میں لہراتا ہے۔ اس کی انگلیاں جنبش کر رہی ہیں، جیسے کسی اَن دیکھے شخص کو نزدیک آنے کا اشارہ کر رہی ہوں۔ ’’وہ رات یاد کرو— یہ تب کی بات ہے جب ہم ساتھ رہنے لگے تھے — جب تم گھر میں دیر سے آئے تھے۔ شراب کے نشے میں چور۔ تم نے سگریٹ بھی پی رکھی تھی۔ میں سو چکی تھی۔ تم نے ایک لفظ بھی کہے بغیر میرا پائجامہ نیچے کھینچ دیا۔ میری آنکھ کھل گئی۔ لیکن میں نے مکر کیا جیسے میں گہری نیند میں ہوں۔ تم نے… میرے اندر داخل کیا… تم نے بہت لطف اٹھایا… لیکن جب تم خود کو صاف کرنے کے لیے کھڑے ہوے، تم نے اپنے ذکر پر خون لگا دیکھا۔ تم غصے میں پاگل ہو گئے۔ تم واپس آئے اور مجھے پیٹنے لگے، آدھی رات کو، صرف اس وجہ سے کہ میں نے تم کو آگاہ نہیں کیا تھا کہ میرا خون جاری تھا۔ میںنے تم کو ناپاک کر دیا تھا۔‘‘ وہ ہنستی ہے۔ اکراہ کے ساتھ۔ ’’میں نے تم کو گندا کر دیا تھا۔‘‘ اس کا ہاتھ ہوا میں سے یادیں جھپٹتا ہے، انھیں مٹھی میں بند کرتا ہے، اس کے پیٹ پر ضرب لگانے کے لیے نیچے آتا ہے جو مرد کے تنفس سے زیادہ رفتار سے پھول اور پچک رہا ہے۔
اچانک وہ اپنا ہاتھ نیچے گھساتی ہے، اپنے لباس کے اندر، ٹانگوں کے بیچ میں۔ اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ گہری، تھکی ہوئی شکستہ سانس لیتی ہے۔ انگلیاں اپنے اندر گھساتی ہے، کرختگی سے، جیسے کسی بلیڈ میں گھسا رہی ہو۔ سانس روک کر وہ اپنا ہاتھ باہر کھینچتی ہے، ایک گھٹی ہوئی چیخ کے ساتھ۔ آنکھیں کھولتی ہے اور اپنے ناخنوں کے کناروں کو دیکھتی ہے۔ وہ گیلے ہیں۔ خون میں سنے ہوے۔ سرخ خون میں۔ وہ اپنا ہاتھ مرد کی سونی آنکھوں کے سامنے لاتی ہے۔ ’’دیکھو! یہ بھی میرا ہی خون ہے۔ صاف ستھرا۔ مہینے کے خون میں اور اس خون میں کیا فرق ہے جو صاف کہلاتا ہے؟ اس خون میں کیا اتنا قابلِ نفرت ہے؟‘‘ اس کا ہاتھ مرد کے نتھنوں کے قریب آتا ہے۔ ’’تم اسی خون سے پیدا ہوے تھے! یہ تمھارے اپنے بدن کے خون سے زیادہ صاف ہے!‘‘ وہ اپنی انگلیاں اکھڑپن سے اس کی ڈاڑھی میں گھسا دیتی ہے۔جب وہ ان کو اس کے ہونٹوں پر رگڑتی ہے تو اس کے تنفس کو محسوس کرتی ہے۔ خوف کی کپکپی اس کی جلد میں دوڑ جاتی ہے۔ اس کا بازو تھرتھرا جاتا ہے۔ وہ اپنا ہاتھ کھینچ لیتی ہے، اپنی مٹھی باندھتی ہے، اور اپنا منھ تکیے پہ رکھ کر روتی ہے۔ صرف ایک بار۔ دیر تک۔ دل کاٹ دینے والا رونا۔ وہ بہت دیر تک حرکت نہیں کرتی۔ بہت زیادہ دیر تک۔ حتیٰ کہ آب بردار ہمسائے کے دروازے پر دستک دیتا ہے، اور بوڑھی عورت کی ناگوار کھانسی دیواروں کے پیچھے سے سنائی دیتی ہے، اور آب بردار اپنی مشک ہمسائے کے ٹینک میں خالی کرتا ہے، اور پھر اس کی ایک بیٹی راہداری میں رونا شروع کردیتی ہے۔ تب وہ کھڑی ہو جاتی ہے، اور اپنے آدمی کی طرف دیکھنے کی ہمت کیے بغیر کمرے سے باہر چلی جاتی ہے۔

بعد میں، کافی دیر بعد، جس وقت کہ چیونٹیاں مری ہوئی مکھی کو لے کر دونوں کھڑکیوں کے درمیان والی دیوار کے نیچے پہنچتی ہیں، عورت ایک صاف چادر اور پلاسٹک کا چھوٹا تسلا لیے ہوے واپس آتی ہے۔ وہ مرد کی ٹانگوں پر سے چادر کھینچ لیتی ہے، اس کا پیٹ، پیر اور عضو صاف کرتی ہے، اور پھر سے ڈھانپ دیتی ہے۔ ’’کسی لاش سے بھی زیادہ ناگوار! اس میں سے تو کیسی بھی بو نہیں آتی!‘‘ وہ چلی جاتی ہے۔

ایک اور رات۔
کمرہ مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا۔
یکایک،بصارت چھین لینے والی بم پھٹنے کی چمک۔ سماعت چھین لینے والے دھماکے سے زمین کانپنے لگتی ہے۔ اس کی آواز سے کھڑکیاں تھرتھرانے لگتی ہیں۔
چیختے چیختے لوگوں کے گلے پھٹنے لگتے ہیں۔
دوسرا بم پھٹتا ہے۔ یہ ذرا نزدیک ہے۔اس لیے زیادہ شدید ہے۔
بچے رو رہے ہیں۔
عورت واویلا کر رہی ہے۔
ان کے دہشت زدہ قدموں کی چاپ راہداری میں سنائی دیتی ہے، اور کوٹھری میں غائب ہو جاتی ہے۔
باہر، زیادہ دور نہیں، کسی شے میں آگ لگ گئی ہے۔ شاید ہمسائے کے درخت میں۔ روشنی صحن اور کمرے کی نیم تاریکی کو چیر رہی ہے۔
باہر، بعض لوگ چیخ رہے ہیں، بعض رو رہے ہیں، اور بعض اپنی کلاشنکوفوں سے فائر کر رہے ہیں، کون جانے کہاں سے اور کس کی طرف … صرف فائرنگ، فائرنگ…

بالآخر یہ سب تھم جاتا ہے، اس غیر یقینی صبح کے ملگجی اجالے میں۔
پھر دھواں بھری سڑک پر ، اور صحن پر، جہاں ایک اجاڑ باغیچے کے سوا اب کچھ بھی نہیں، اور کمرے پر، ایک دبیز خاموشی اتر آتی ہے جس میں ہمیشہ کی مانندآدمی لیٹا ہوا ہے، وہ کالک کی تہہ میں لپٹ چکا ہے۔ بے حرکت۔ محفوظ۔ صرف سانس لیتا ہوا۔ دھیرے دھیرے سانس لیتا ہوا۔

کسی کھلتے ہوے دروازے کی متذبذب سی چرچراہٹ، اور راہداری میں بڑھتے ہوے محتاط قدموں کی آہٹ اس موت جیسی خاموشی کو نہیں توڑتی ، بلکہ اس کو نمایاں کرتی ہے۔
قدموں کی آہٹ دروازے کے پیچھے تھم جاتی ہے۔ ایک طویل وقفے کے بعد — آدمی کے چار سانس کے برابر — دروازہ کھلتا ہے۔ وہی عورت ہے۔ داخل ہوتی ہے۔ سیدھے اس کی طرف نہیں دیکھتی۔ پہلے وہ کمرے کی حالت کا، کھڑ کی کے ٹوٹے ہوے شیشوں کا، کالک کی تہہ کا جائزہ لیتی ہے جو اَب پردوں کی محوِ پرواز ہجرتی چڑیوں پر، گلیم کی اڑے رنگ والی پٹیوں پر،کھلے ہوے قرآن پر، ڈرپ بیگ پر، جو میٹھے نمکین محلول کے آخری قطرے ٹپکا کر خالی ہوتا جا رہا ہے، بیٹھ چکی ہے… پھر اس کی نظر آدمی کی ڈھانچہ نما ٹانگوں پر ڈھکی چادر پر پھسلتی ہے، اس کی ڈاڑھی پر ٹھہرتی ہوئی بالآخر اس کی آنکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔
وہ سہمے ہوے چند قدم آدمی کی طرف بڑھاتی ہے۔ رکتی ہے۔ اس کے سینے کی حرکت کا مشاہدہ کرتی ہے۔ وہ سانس لے رہا ہے۔ وہ اور نزدیک جاتی ہے، نیچے جھکتی ہے تاکہ اس کی آنکھوں کو زیادہ واضح طور پر دیکھ سکے۔ وہ کھلی ہیں، اور ان پر سیاہ غبار کی تہہ جم چکی ہے۔ اپنی آستین کی کناری سے وہ انھیں صاف کرتی ہے، شیشی نکالتی ہے اور دونوں آنکھوں میں قطرے ٹپکاتی ہے۔ ایک، دو۔ ایک، دو۔
وہ احتیاط کے ساتھ مرد کے چہرے کو چھوتی ہے، کالک صاف کرنے کے لیے، اور پھر خاصی ساکت ہوکر بیٹھ جاتی ہے، اتنی ہی ساکت جتنا اس کا مرد ہے ۔ اس کے شانے پریشانیوں کے بوجھ سے جھکے ہوے ہیں، وہ سانس لیتی ہے، ہمیشہ کی طرح، مرد کے آہنگ کے ساتھ ۔
پڑوسن کی ناگوار کھانسی ملگجی صبح کی خاموشی کو توڑ کر اندر آتی ہے، عورت کے سر کو پردوں کے زرد اور نیلے آسمان کی طرف گھما دیتی ہے۔ وہ کھڑی ہو جاتی ہے اور کھڑکی تک جاتی ہے، اپنے قدموں کے نیچے کانچ کے ٹکڑوں کو کچلتے ہوے۔ اس کی نگاہ پردے کے سوراخوں میں سے پڑوسن کو تلاش کرتی ہے۔ ایک مہین چیخ اس کے سینے سے نکلتی ہے۔ وہ دروازے کی سمت بھاگتی ہے اور راہداری میں نکل جاتی ہے۔ لیکن کسی ٹینک کی کان پھاڑ دینے والی تیز آواز اس کے قدم تھام لیتی ہے۔ سٹپٹا کر وہ لوٹ آتی ہے۔ ’’دروازہ… سڑک کی طرف والا ہمارا دروازہ تباہ ہو گیا۔ پڑوسی کی دیواریں…‘‘ ٹینک کا شور اس کی دہشت زدہ آواز گلے میں گھونٹ دیتا ہے۔ اس کی نگاہ ایک بار پھر کمرے میں سفر کرتی ہے، کھڑکی پر تیزی سے رکتی ہے۔ وہ اس کے قریب جاتی ہے، پردے سرکاتی ہے اور گہرا سانس لیتی ہے۔’ ’نہیں! نہیں، ایسا نہیںہو سکتا! ‘‘
ٹینک کا شور مدھم ہوتا جاتاہے؛ پڑوسن کی کھانسی ایک مرتبہ پھر سنائی دیتی ہے۔
عورت کانچ کے ٹکڑوں پر ڈھیر ہو جاتی ہے۔ آنکھیں بند، گھٹی ہوئی آواز میں التجا کرتی ہے، ’’یااللہ… اے ربِ کریم، میں انھی میں سے ہوں جو…‘‘ گولی چلنے کی آواز آتی ہے۔ وہ خاموش ہو جاتی ہے۔ ایک مرتبہ پھر گولی چلنے کی آواز۔ پھر ایک آدمی کی چیخ: ’’اللہ اکبر!‘‘ ٹینک گرج اٹھتا ہے۔ دھماکہ گھر کو ہلا دیتاہے، اور عورت کو بھی۔ وہ خود کو فرش پر گرا دیتی ہے، آڑی سیدھی دروازے کی طرف کھسکتی ہے، راہداری میں داخل ہو جاتی ہے، اور زمین دوز کوٹھری کی سیڑھیوں سے لڑھکتی پڑھکتی اپنی دہشت زدہ بیٹیوں کے پاس جا پہنچتی ہے۔
آدمی بے حس وحرکت پڑا رہتا ہے۔
جب گولی باری رک جاتی ہے — شاید بارود ختم ہونے کی وجہ سے — ٹینک چلا جاتا ہے۔ دبیز، دھواں بھری خاموشی لوٹ آتی ہے اور ڈیرا ڈال لیتی ہے۔

اس غبار آلود سناٹے میں، دونوں کھڑکیوں کی درمیانی دیوار کے نیچے، ایک مکڑی مری ہوئی مکھی کی تاک میںہے جسے چیونٹیوں نے وہاں چھوڑ دیا ہے۔ وہ اس کا جائزہ لیتی ہے۔ پھر وہ بھی مکھی کو یوں ہی چھوڑ جاتی ہے، کمرے کا ایک چکر لگاتی ہے، کھڑکی پر لوٹ آتی ہے، اور خود کو پردے سے چپکا لیتی ہے، اس پر چڑھتی ہے اور زرد اور نیلے آسمان پر جامد پرواز کرتے پرندوں پر رینگتی ہے۔ اب یہ آسمان کو بھی چھوڑ دیتی ہے اور چھت پر چڑھتی ہے، گلتی ہوئی کڑیوں میں غائب ہونے کے لیے، جہاں یہ یقیناً اپنا جالا بنائے گی۔

عورت پھر نظر آتی ہے۔ ایک بار پھر پلاسٹک کا تسلا، تولیہ اور چادر لیے ہوے۔ وہ کمرے کی صفائی کرتی ہے۔ کانچ کے ٹکڑے، کالک جس نے کمرے کی ہرشے کو ڈھانپ لیا ہے۔ پھر وہ چلی جاتی ہے۔ واپس آتی ہے۔ شکرو نمک کا محلول ڈرِپ بیگ میں ڈالتی ہے، مرد کے پاس اپنی جگہ پر لوٹ جاتی ہے، اور شیشی میں بچی ہوئی دوا اس کی آنکھوں میں ڈالتی ہے۔ ایک۔ وہ انتظار کرتی ہے۔ دو۔ وہ رک جاتی ہے۔ شیشی خالی ہے۔ وہ چلی جاتی ہے۔

چھت پر مکڑی پھر سے نظر آتی ہے۔ اپنے ریشمی دھاگے کے سرے پر لٹکی ہوئی، وہ دھیرے دھیرے نیچے کی طرف اترتی ہے۔ مرد کے سینے پر آ جاتی ہے۔ چند ثانیوں کی ہچک کے بعد وہ چادر کی لہردار لائنوں کے ساتھ ساتھ مرد کی ڈاڑھی کی طرف بڑھتی ہے۔ مشکوک ہو کر مڑ جاتی ہے اور کپڑے کی سلوٹوں میں غائب ہو جاتی ہے۔

عورت واپس آتی ہے۔ ’’لڑائی زیادہ بڑھنے والی ہے!‘‘ وہ خبر دیتی ہے اور ایک عزم کے ساتھ مرد کی طرف بڑھتی ہے۔ ’’مجھے تم کو تہہ خانے میں لے جانا ہوگا۔‘‘ وہ اس کے منھ میں سے ٹیوب کھینچ لیتی ہے، اور اس کی بغلوں میں اپنے ہاتھ ڈال کر کس لیتی ہے۔ اس کو اٹھاتی ہے۔ اس کے استخوانی بدن کو گھسیٹتی ہے۔ اس کو گلیم پر کھینچ لیتی ہے۔ پھر رک جاتی ہے۔ ’’مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے…‘‘ وہ مایوس ہو جاتی ہے۔ ’’میں تم کو سیڑھیوں سے نیچے ہرگز نہ اتار سکوںگی۔‘‘
وہ اس کو پھر سے گدے پر گھسیٹ لاتی ہے ۔ ٹیوب پھر سے لگاتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے وہیں کھڑی رہتی ہے، جنبش کیے بغیر۔ پریشان ہوکر اور بے قابو سانسوں کے ساتھ وہ اس کی سمت دیکھتی رہتی ہے۔ ’’بہتر ہوگا اگر کوئی بھولی بھٹکی گولی تمھارا خاتمہ کردے، ابھی اور ہمیشہ کے لیے!‘‘ بالآخر وہ گویا ہوتی ہے۔ پھر اچانک اٹھ کر پردے کھینچتی ہے، اور طوفان کی طرح کمرے سے باہر چلی جاتی ہے۔
پڑوسن کی کھانسنے کی آواز سنی جا سکتی ہے، سہ پہر کے سناٹے کو اسی طرح چیرتی ہوئی جیسے وہ اس کے سینے کو چھلنی کرتی رہتی ہے۔ وہ ضرور اپنے گھر کے کھنڈروں میں سرگرداں ہوگی۔ اس کے دھیمے، لڑکھڑاتے قدم باغیچے میں چہل قدمی کرتے ہیں، گھر کے زیادہ نزدیک آتے ہیں۔ یہاں پردے کے پرواز کرتے پرندوں کے اوپر اس کی شکستہ پرچھائیں نظر آتی ہے۔ وہ کھانستی ہے اور کوئی نام دھیرے سے پکارتی ہے جو سنا نہیں جا سکتا۔ وہ کھانستی ہے۔ انتظار کرتی ہے۔ لاحاصل۔ چلی جاتی ہے۔ نام پھر سے دھیمی آواز میں پکارتی ہے اور کھانستی ہے۔ کوئی جواب نہیں ملتا۔ وہ پکارتی ہے، وہ کھانستی ہے۔ وہ اب انتظار نہیں کر رہی۔ اب دھیمے دھیمے آوازیں نہیں دے رہی۔ وہ کچھ گنگنا رہی ہے۔ کچھ نام، شاید۔ پھر وہاں سے دور ہٹ جاتی ہے۔ کافی دور۔ پھر لوٹتی ہے۔ اس کی گنگناہٹ اب بھی سنی جا سکتی ہے، سڑک کی آوازوں سے بلند۔ بوٹوں کی آواز سے بلند۔ ہتھیار لے جاتے مردوں کے بوٹ۔ بوٹ دوڑ رہے ہیں۔ منتشر ہو رہے ہیں۔ شاید کہیں چھپنے کے لیے— دیواروں کے پیچھے، ملبے میں… اور رات کے انتظار میں۔
آج آب بردار نہیں آتا۔ آج لڑکا سیٹی میں ’’لیلیٰ، لیلیٰ، لیلیٰ، جان، جان، جان، تم نے توڑ دیا میرا دل…‘‘ کی دھن بجاتے ہوے سائیکل پر سوار سڑک سے نہیں گزرتا۔
ہر کوئی پست لیٹا ہے۔ سب خاموش ہیں۔ منتظر ہیں۔
اب شہر پر رات اتر آتی ہے، اور سارا شہر خوف کی اونگھ میں اتر جاتا ہے۔
لیکن کوئی گولی نہیں چلاتا۔
عورت ڈرپ بیگ میں چینی نمک کے محلول کا جائزہ لینے کے لیے کمرے میں آتی ہے، اور پھر چلی جاتی ہے۔ کوئی لفظ کہے بغیر۔

بوڑھی پڑوسن اب بھی کھانس رہی ہے۔ اب بھی خود ہی گنگنا رہی ہے۔ وہ نہ تو نزدیک ہے،نہ دور۔ وہ ضرور دیوار کے ملبے کے قریب ہوگی جس نے، حال ہی میں، دونوں گھروں کو الگ الگ کر رکھا تھا۔
ایک بوجھل، بدشگونی بھری نیند چپکے سے گھر کو قبضے میں لے لیتی ہے، سارے گھر کو، ساری سڑک کو، اپنے پس منظر میں بوڑھی پڑوسن کے نوحے کی گنگناہٹ کے ساتھ، ایسا نوحہ جو تب تک جاری رہتا ہے جب تک وہ پھر سے آواز نہیں سنتی، بوٹوں کی آواز۔ وہ گنگنانا بند کر دیتی ہے، لیکن کھانسنا جاری رکھتی ہے۔ ’’وہ واپس آ رہے ہیں!‘‘ رات کی پھیلی ہوئی تاریکی میں کانپتی ہوئی آواز میں وہ کہتی ہے۔

بوٹ اب نزدیک ہیں۔ آنے کی آواز۔ وہ بوڑھی عورت کو بھگا دیتے ہیں، گھر کے صحن میں داخل ہوتے ہیں، اور چلتے رہتے ہیں۔ وہ کھڑکی تک آ پہنچتے ہیں۔ بندوق کی نالی کھڑکی کے ایک ٹوٹے ہوے شیشے سے جھانکتی ہے، کوچ کرتے پرندوں کے چھاپے والے پردوں کو ایک طرف کھسکاتی ہے۔ بندوق کا بٹ چوٹ مار کر کھڑکی کو پوری طرح کھول دیتا ہے۔ تین آدمی چیختے ہوے کمرے میں کود پڑتے ہیں۔’ ’کوئی جنبش نہ کرے!‘‘ اور کوئی بھی جنبش نہیں کرتا۔ ان میں سے ایک ٹارچ جلاتا ہے، اور اس کو ساکت آدمی کی طرف گھماتا ہے، اور چلّاتا ہے، ’’جہاں ہو وہیں رہو، ورنہ تمھاری کھوپڑی چور چور کردوںگا!‘‘ وہ اپنا بوٹ والا پیر آدمی کے سینے پر رکھتا ہے۔ تینوں آدمیوں کے چہرے اور سر سیاہ عماموں میں چھپے ہوے ہیں۔ وہ آدمی کو گھیر لیتے ہیں، جو آہستگی اور خاموشی سے سانس لیے جارہا ہے۔ ان میں سے ایک اس کے اوپر جھکتا ہے۔ ’’دھت تیرے کی! اس کے منھ میں تو ٹیوب لگی ہے!‘‘ وہ اس کو باہر کھینچ دیتا ہے اور چیختا ہے، ’’تمھارے ہتھیار کہاں ہیں؟‘‘ لیٹا ہوا آدمی خالی نظروں سے چھت کی طرف تکتا رہتا ہے، اس کی نگاہ اس تاریکی میں گم ہے جہاں مکڑی شاید اپنا جالا بن چکی ہوگی۔ ’’ہم تم سے پوچھ رہے ہیں!‘‘ ٹارچ والا آدمی چیختا ہے۔ ’’اس کی تو ایسی تیسی ہو ئی رکھی ہے!‘‘ دوسرا آدمی نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ اکڑوں بیٹھ کر اس کی کلائی گھڑی اور شادی کی سونے کی انگوٹھی اتارتا ہے۔ تیسرا آدمی اپنی رائفل کی نالی سے سارے کمرے کا جائزہ لیتا ہے — گدے اور تکیوں کے نیچے، سادہ سبز پردے کے پیچھے، گلیم کے نیچے… ’’یہاں کچھ نہیں ہے!‘‘ وہ شکایتاً کہتا ہے۔ ’’جاؤ اور دوسرے کمرے چیک کرو!‘‘ دوسرا، یعنی پہلا آدمی جس کے ہاتھ میں ٹارچ ہے اور جس کا جوتا آدمی کے سینے پر رکھا ہے، اس کو حکم دیتا ہے۔ دونوں حکم بجا لاتے ہیں۔ وہ راہداری میں غائب ہو جاتے ہیں۔
جو آدمی وہاں رہ گیا ہے، اپنی بندوق کی نالی سے چادر اٹھاتا ہے، جس سے آدمی کا جسم عیاں ہو جاتا ہے۔ اس کی بے جان حالت اور مکمل خاموشی سے ہراساں ہو کر وہ اپنے جوتے کی ایڑی آدمی کے سینے پر رگڑتا ہے۔ ’’کیا خیال ہے، تم کیا چیز دیکھ رہے ہو؟‘‘ وہ اس کے کراہنے کا انتظار کرتا ہے۔ کچھ نہیں ہوتا۔ کوئی احتجاج نہیں۔ گھبرا کر وہ پھر کوشش کرتا ہے، ’’کیا تم سن رہے ہو؟‘‘وہ تاثر سے خالی چہرے کا جائزہ لیتا ہے۔ برافروختہ ہوکر وہ ڈانٹتا ہے، ’’کیا کسی نے زبان کاٹ ڈالی ہے؟‘‘ پھر سانس کھینچ کر: ’’مرچکا ہے۔ کیا تم مرگئے ہو؟‘‘ بالآخر وہ خاموش ہو جاتا ہے۔
ایک گہرا، غضب ناک سانس کھینچ کر وہ آدمی کا کالر پکڑتا ہے، اس کو اٹھاتا ہے۔ آدمی کا زرد اور پریشان چہرہ اسے خوفزدہ کر دیتا ہے۔ وہ اسے چھوڑ دیتا ہے اور پیچھے ہٹتا ہے، دروازے پر رک جاتا ہے، بے قراری کے ساتھ۔ ’’لڑکو! تم کہاں ہو؟‘‘ وہ عمامے کی پٹی کے پیچھے سے بڑبڑاتا ہے جس نے اس کی آواز گھونٹ دی ہے۔ وہ راہداری میں نظر دوڑاتا ہے جو سیاہ ترین رات جیسی تاریک ہے، اور چلّاتا ہے، ’’کیا تم یہاں ہو؟‘‘ اس کی آواز خلا میں گونجتی ہے۔ مرد کی طرح، اس کا تنفس بھی دھیما اور گہرا ہو جاتا ہے۔ وہ واپس مرد کے نزدیک آتا ہے، اس کو پھر سے غور سے دیکھتا ہے۔ کوئی بات اس کو وسوسے میں ڈال رہی ہے، اور پریشان کر رہی ہے۔ اس کی ٹارچ کی روشنی بے حرکت بدن پر حرکت کرتی ہے، اور ایک مرتبہ پھر یکسر کھلی ہوئی آنکھوں پر لوٹ آتی ہے۔ اپنے جوتے کی نوک سے وہ اس کے کندھے پر آہستہ سے ٹہوکا دیتا ہے۔ اب بھی کوئی ردِ عمل نہیں۔ کچھ بھی نہیں۔ وہ اپنا ہتھیار مرد کی نظروں کے سامنے لہراتا ہے، پھر اس کی نال اس کی پیشانی پر رکھ دیتا ہے، اور دباؤ ڈالتا ہے۔ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اب بھی کچھ نہیں۔ وہ ایک اور گہرا سانس کھینچتا ہے، اور واپس دروازے پر چلا جاتا ہے۔ بالآخر وہ ایک کمرے سے ان کی دبی دبی ہنسی کی آواز سنتا ہے۔ ’’یہ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ وہ بڑبڑاتا ہے، خوفزدہ ہے۔ اس کے دونوں ساتھی ہنستے ہوے لوٹ آتے ہیں۔
’’تم لوگوں کو کیا ملا؟‘‘
’’دیکھو!‘‘ ان میں سے ایک سینہ بند کو لہراتا ہوا کہتا ہے۔ ’’اس کو ایک عدد بیوی مل گئی ہے!‘‘
’’ہاں، مجھے معلوم ہے۔‘‘
’’تمھیں معلوم ہے؟‘‘
’’احمق! تم نے اس کی شادی کی انگوٹھی جو لے لی ہے۔ کیا تم نے نہیں لی؟‘‘
دوسرا آدمی اپنے ساتھی سے مذاق کرتے ہوے انگیا کو فرش پر ڈال دیتا ہے، ’’اس کی چوچیاں ضرور چھوٹی چھوٹی ہوں گی۔‘‘ لیکن ٹارچ والا آدمی اس پر ہنستا نہیں۔ وہ کچھ سوچ رہا ہے۔ ’’مجھے یقین ہے میں اس کو جانتا ہوں۔‘‘ وہ مرد کے قریب پہنچتے ہوے بدبداتا ہے۔ دونوں اس کے پیچھے جاتے ہیں۔
’’یہ کون ہے؟‘‘
’’میں اس کا نام نہیں جانتا۔‘‘
’’کیا ہمارے لوگوں میں سے ہے؟‘‘
’’ہاں، میرا یہی خیال ہے۔‘‘
وہ کھڑے رہتے ہیں۔ چہرے اب بھی کالے عماموں کی پٹیوں کے پیچھے پوشیدہ ہیں۔
’’کیا وہ کچھ بولا؟‘‘
’’نہیں، اس نے اف تک نہیں کی۔ وہ جنبش بھی نہیں کرتا۔‘‘
ایک آدمی اس کو لات مارتا ہے۔
’’ارے، جاگ جاؤ!‘‘
’’رک جاؤ! کیا تم دیکھتے نہیں اس کی آنکھیں پہلے ہی کھلی ہوئی ہیں؟‘‘
’’کیا تم نے اس کا کام تمام کردیا؟‘‘
ٹارچ والا آدمی نفی میں سر ہلاتا ہے اور پوچھتا ہے،’ ’اس کی بیوی کہاں ہے؟‘‘
’’گھر میں کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘
پھر سے خاموشی۔ ایک طویل خاموشی، جس میں ہر شے مرد کی سانسوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کو مجبور ہو جاتی ہے۔ دھیمی اور بوجھل۔ بالآخر ایک آدمی منھ سے پھوٹتا ہے، ’’اب ہم کیا کریں؟ یہاں سے چلیں؟‘‘ کوئی جواب نہیں دیتا۔
وہ جنبش نہیں کرتے۔
بوڑھی پڑوسن کی گنگناہٹ پھر سنائی دیتی ہے، جو اس کی ناگوار کھانسی سے پراگندہ ہے۔ ’’پاگل عورت واپس آئی ہے،‘‘ ایک آدمی کہتا ہے۔ ’’شاید وہ اس کی ماں ہے،‘‘ دوسرا اندازہ لگاتا ہے۔ تیسرا آدمی کھڑکی کے راستے سے کمرے سے باہر چلا جاتا ہے، اور بوڑھی عورت کے پاس پہنچتا ہے۔ ’’کیا تم یہیں رہتی ہو، امّاں؟‘‘ وہ گنگناتی ہے، ’’میں یہیں رہتی ہوں…‘‘ کھانستی ہے۔ ’’میں یہیں رہتی ہوں…‘‘ کھانستی ہے۔ ’’میں وہیں رہتی ہوں جہاں اچھا لگے… اپنی بیٹی کے ساتھ، بادشاہ کے ساتھ، جہاں بھی مجھے اچھا لگے…‘‘ آدمی پھر سے اس کو اسی کے ملبے کے پاس سے بھگا دیتا ہے، اور لوٹ آتا ہے۔ ’’وہ بالکل ہی دیوانی ہو چکی ہے!‘‘
کھانسنے کی آواز پھر سے آتی ہے اور فاصلے پر گم ہو جاتی ہے۔
ہاتھ میں ٹارچ والے آدمی کی نظر زمین پر رکھے قرآن پر پڑتی ہے، وہ اس کی طرف دوڑتا ہے، اسے پکڑتا ہے، سجدہ ریز ہو جاتا ہے، اور اپنے عمامے کی پٹی کے پیچھے سے دعا پڑھتے ہوے اس کو بوسہ دیتا ہے۔’ ’یہ اچھا مسلمان ہے!‘‘ وہ چیخ کر کہتا ہے۔
وہ اپنے خیالوں کی خاموشی میں پھر سے غوطہ لگاتے ہیں۔ وہ اسی طرح خاموش رہتے ہیں، حتیٰ کہ ان میں ایک— وہی — بے چین ہو جاتا ہے۔ ’’خیر، ہم یہاں کیا جھک مار رہے ہیں؟ ہمیں گشت کرنا چاہیے! دھت! ہم نے اس علاقے پر اس لیے تو بمباری نہیں کی تھی کہ کچھ بھی ہمارے ہاتھ نہ آئے؟ ٹھیک کہہ رہا ہوں؟‘‘
وہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔
وہ آدمی جس نے ٹارچ پکڑ رکھی ہے، مرد کے بدن کو چادر سے ڈھکتا ہے، ٹیوب کو واپس اس کے منھ میں لگاتا ہے، اور بقیہ دونوں کو چلنے کا اشارہ کرتا ہے۔
وہ چلے جاتے ہیں۔ قرآن ساتھ لے کر۔

فجر کا وقت، ایک بار پھر۔
عورت کے قدموں کی آواز، ایک بار پھر۔
وہ تہہ خانے کی سیڑھیاں چڑھتی ہے، راہداری میں چلتی ہے، اور کمرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ اس پر دھیان نہیں دیتی کہ دروازہ کھلا ہے اور پردے بھی؛ ایک لمحے کو بھی شک نہیں کرتی کہ گشت گر یہاں گھس آئے تھے۔ وہ اپنے مرد کی طرف دیکھتی ہے۔ وہ سانس لے رہا ہے۔ وہ چلی جاتی ہے اور دو گلاس پانی کے لیے ہوے لوٹتی ہے۔ ایک ڈرپ بیگ کے لیے، اور دوسرا اس کی آنکھیں پونچھنے کے لیے۔ وہ اب بھی کچھ بھی دھیان نہیں دیتی۔ ایسا شاید دھندلی روشنی کے سبب ہوگا۔ دن ابھی نہیں نکلا ہے۔ سوراخ والے پردوں کے راستے سے، جن پر کوچ کرتے پرندوں کی تصویریں ہیں، سورج ابھی نہیں چمکا ہے۔ بعد میں، جب وہ مرد کی قمیص اور چادر بدلنے کے لیے لوٹتی ہے، اس کا دھیان بالآخر اس کی سونی کلائی اور انگلی کی طرف جاتا ہے۔ ’’تمھاری گھڑی کہاں گئی؟ اور تمھاری انگوٹھی؟‘‘ وہ اس کے ہاتھ دیکھتی ہے اور جیبیں بھی۔ وہ چادر کے نیچے تلاش کرتی ہے۔ پریشان ہوکر وہ چند قدم دروازے کی جانب بڑھاتی ہے اور واپس آ جاتی ہے، ’’یہاں کیا ہو رہا ہے؟‘‘ وہ مضطرب لگتی ہے۔ پھر ہراساں ہو جاتی ہے۔ ’’کیا کوئی آیا تھا؟‘‘ کھڑکی کی طرف بڑھتے ہوے وہ خود سے پوچھتی ہے۔ ’’ہاں، کوئی آیا تھا!‘‘ ٹوٹی ہوئی کھڑکی کو دیکھ کر، دہشت زدہ ہوکر، وہ زور سے کہتی ہے۔ ’’اور پھر بھی… میں نے کچھ نہیں سنا!‘‘ وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ ’’میں سو رہی تھی! خدایا! میں اتنی گہری نیند کیسے سو سکتی ہوں؟‘‘ وحشت میں مبتلا ہو، وہ راہداری میں دوڑ جاتی ہے، مرد کو ڈھکے بغیر ہی چھوڑ جاتی ہے۔ واپس آتی ہے۔ دروازے میں سے اپنا سینہ بند اٹھاتی ہے۔ ’’کیا انھوں نے گھر کی بھی تلاشی لی؟ لیکن وہ تہہ خانے میں نہیں اترے؟‘‘ وہ مرد کے قریب ڈھیر ہو جاتی ہے، اس کا بازو گرفت میں لیتی ہے، اور چیختی ہے، ’’یہ تم نے کیا…تم اٹھے تھے ! تم یہ سب مجھے خوفزدہ کرنے کے لیے کر رہے ہو!‘‘ وہ اس کو جھنجھوڑ ڈالتی ہے۔ ٹیوب کھینچ لیتی ہے۔ انتظار کرتی ہے۔ اب بھی کوئی اشارہ نہیں، کوئی آواز نہیں۔ اس کا سر اس کے شانوں پر جھک جاتا ہے۔ ایک آہ اس کے سینے کو چیر دیتی ہے، جس سے اس کا سارا بدن لرز جاتا ہے۔ ایک طویل بوجھل آہ بھر کر وہ کھڑی ہو جاتی ہے، اپنی آنکھیں اپنی آستین کی کناری سے صاف کرتی ہے اور، جانے سے پہلے، ٹیوب کو واپس مرد کے منھ میں لگا دیتی ہے۔
اس کے دوسرے کمروں کا معائنہ کرنے کی آوازیں سنی جاسکتی ہیں۔ جب پڑوسن کی ناگوار کھانسی کی آواز گھر کے قریب آتی ہے تو وہ رک جاتی ہے۔ وہ صحن کی طرف بھاگتی ہے اور بوڑھی عورت کو آواز دیتی ہے، ’’بی بی! کیا کل رات کوئی آیا تھا؟‘‘
’’ہاں، میری بیٹی، بادشاہ آیا تھا…‘‘ وہ کھانستی ہے۔ ’’وہ مجھ سے ملنے آیا تھا… اس نے مجھے دُلار کیا…‘‘ کھانستے ہوے وہ ہنستی ہے۔ ’’کیا تمھارے پاس کچھ روٹی ہے، بیٹی؟ میںنے اپنی ساری روٹی بادشاہ کو دے دی… وہ بھوکا تھا۔ وہ کتنا خوبصورت تھا!کہ اس پر مر مٹو! مجھ سے کہنے لگا کہ گاؤ۔‘‘ وہ گانا شروع کر دیتی ہے:
’’اے خوبیوں کے بادشاہ
میں تنہائی میں روتی ہوں
اے خوبیوں…‘‘
’’گھر کے دوسرے لوگ کہاں ہیں؟‘‘ عورت پوچھتی ہے۔ ’’تمھارا شوہر، تمھارا بیٹا؟‘‘ بوڑھی عورت گانا چھوڑ دیتی ہے، اور اپنا قصہ اداس آواز میں جاری رکھتی ہے۔ ’’بادشاہ رویا، جب اس نے مجھے گاتے سنا۔ اس نے میرے شوہر اور بیٹے سے میرے نغمے پر رقص کرنے تک کو کہا۔ انھوںنے رقص کیا۔ بادشاہ نے ان سے موت کا رقص ناچنے کو کہا… یہ ان سے نہیں آتا تھا…‘ ‘اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے وہ مسکرائی، ’’چنانچہ اس نے انھیں سکھایا، ان کے سر کاٹ کر، اور کھولتا ہوا تیل ان کے جسموں پر ڈال کر… اس سے وہ اچھی طرح رقص کرنے لگے۔‘‘ وہ اپنا نوحہ ایک مرتبہ پھر شروع کر دیتی ہے:
’’اے بادشاہ، جان لے کہ میرا دل
تمھارا ہجر اب اور برداشت نہیں کر سکتا
تمھارے لوٹ آنے کے دن آ گئے…‘‘
عورت اسے پھر ٹوکتی ہے، ’’لیکن کیا… یا خدا!… تمھارا گھر! تمھارا شوہر، تمھارا بیٹا… کیا وہ زندہ ہیں؟‘‘ بوڑھی عورت کی آواز تیز ہو جاتی ہے، بچوں جیسی: ’’ہاں، وہ یہیں ہیں، میرا شوہر، میرا بیٹا یہیں ہیں، گھر کے اندر…‘‘ وہ کھانستی ہے۔ ’’ان کے سر ان کے بازوؤں میں دبے ہیں…‘‘ وہ کھانستی ہے۔ ’’کیونکہ وہ مجھ سے ناراض ہیں۔‘‘ بوڑھی عورت کھانستی ہے، اور روتی ہے۔’ ’اب وہ مجھ سے بات نہیں کرتے! کیونکہ میں نے بادشاہ کو اپنی ساری روٹی دے دی تھی۔ کیا تم ان کو دیکھنا چاہتی ہو؟‘‘
’’لیکن…‘‘
’’آؤ بھی۔ آکر ان سے بات کرو!‘‘
عورتیں ملبے کے ڈھیر سے گزر کر چلی جاتی ہیں۔ اب ان کی کوئی آواز نہیں آتی۔
اچانک واویلا کرنے کی آواز۔ یہ عورت کی آواز ہے۔ دہشت زدہ۔ دہشت زدہ کر دینے والی۔ اس کے قدم پتھر کی سلوں پر لڑکھڑاتے ہوے، ملبے میں ٹھوکریں کھاتے ہوے، باغیچے کو پار کرتے ہیں اور گھر میں داخل ہو جاتے ہیں۔ وہ اب بھی چیخیں مار رہی ہے۔ وہ قے کرتی ہے۔ روتی ہے۔ گھر بھر میں دوڑتی پھرتی ہے، جیسے دیوانی ہو گئی ہو۔ ’’میں اس جگہ سے جا رہی ہوں۔ میں اپنی پھوپھی کو ڈھونڈنے جا رہی ہوں۔ اس کی چاہے جو بھی قیمت مجھے چکانی پڑے!‘‘ اس کی دہشت زدہ آواز راہداری میں، کمروں میں، تہہ خانے میں بھر جاتی ہے۔ پھر وہ سیڑھیاں چڑھتی ہے، اپنی بچیوں کو ساتھ لیے ہوے۔ مرد کو دیکھنے کے لیے رکے بغیر وہ گھر سے بھاگ جاتی ہیں۔ بوڑھی عورت کے کھانسنے اور گانے کی آواز ان کے جانے کی آواز کا ساتھ دیتی ہے، جس پر بچیاں ہنس پڑتی ہیں۔
ہر شے مرد کی خاموشی اور لافعالیت میں جذب ہو جاتی ہے۔
اور اسی طرح برقرار رہتی ہے۔
کچھ عرصے کے لیے۔

کبھی کبھار مکھیوں کے بھنبھنانے کی آواز سناٹے کو توڑتی ہے ۔ پہلے پہل ان کی اڑان فیصلہ کن ہوتی ہے، لیکن کمرے کا چکر لگانے کے بعد وہ مرد کے جسم میں مشغول ہو جاتی ہیں۔ پھر، اڑ جاتی ہیں۔
گاہے بگاہے ہوا کا کوئی جھونکا پردوں کو اٹھا دیتا ہے۔ یہ سوراخوں سے مزین زرد اور نیلے آسمان میں منجمد کوچ کرتے پرندوںسے اٹکھیلیاں کرتا ہے۔
ایک بھڑ بھی، اپنی ناگوار بھنبھناہٹ کے ساتھ، کمرے پر چھائی مردنی کو برہم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ یہ مرد کے گرد بار بار چکر لگاتی ہے، اس کی پیشانی پر بیٹھتی ہے— اس کو کاٹتی ہے یا نہیں، ہم کبھی نہ جان سکیںگے — اور چھت کی سمت اڑ جاتی ہے، شاید بوسیدہ شہتیروں میں اپنے لیے ایک گھر وندا بنانے کے لیے۔ گھر بنانے کے اس کے خوابوں کا، اچانک مکڑی کے جال میں خاتمہ ہو جاتا ہے۔
یہ کسمساتی ہے۔ اور پھر کچھ نہیں۔
پھر کچھ نہیںہوتا۔
رات ہوتی ہے۔
گولیاں چلتی ہیں۔
پڑوسن لوٹتی ہے، اپنی گنگناہٹ اور غم انگیز کھانسی کے ساتھ۔ اور فوری طور پر واپس بھی چلی جاتی ہے۔
عورت واپس نہیں آتی۔

آغازِ سحر۔
ملّا اذان دیتا ہے۔
ہتھیار سو چکے ہیں۔ لیکن دھویں اور بارود کی بو اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوے ہیں۔
جب سورج کی پہلی کرنیں پردوں کے زرد اور نیلے آسمان کے سوراخوں سے گزرتی ہیں تو عورت واپس آتی ہے۔ تنہا۔ وہ سیدھے کمرے میں چلی آتی ہے، سیدھے اپنے آدمی کے پاس۔ پہلے وہ اپنی چادر اتارتی ہے۔ ایک لمحے کو کھڑی رہتی ہے۔ چاروں طرف دیکھتی ہے، ہر شے کا جائزہ لیتی ہے۔ کسی نے کچھ نہیں ہٹایا ہے۔ کوئی کچھ نہیں لے گیا ہے۔ ڈرپ بیگ خالی ہے، صرف اتنا ہی ہوا ہے۔
مطمئن ہونے کے بعد، عورت کی جان میں جان آتی ہے۔ لرزاں قدموں سے وہ اس گدے تک آتی ہے جس پر مرد لیٹا ہوا ہے۔ نیم عریاں، جس حالت میں وہ اسے گزشتہ رات چھوڑ کر گئی تھی۔ اس کی جانب دیر تک تکتی ہے، جیسے پھر سے اس کی سانسوں کا شمار کر رہی ہو۔ وہ بیٹھنے لگتی ہے، لیکن چیخ کر اچانک ساکت رہ جاتی ہے،’’قرآن!‘‘ اس بار پھر اس کی آنکھوں میں دہشت بھر جاتی ہے۔ وہ کمرے کے ہر حصے میں تلاش کرتی ہے۔ کلام اللہ کا کوئی پتا نشان نہیں۔ ’’تسبیح کے دانے؟‘‘ وہ انھیں تکیے کے نیچے ڈھونڈ لیتی ہے۔ ’’کیا کوئی پھر سے یہاں آیا تھا؟‘‘ پھر سے شک میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ پھر سے خوفزدہ۔ ’’قرآن کل یہیں تھا۔ یا نہیں تھا؟‘‘ غیر یقینی سے، وہ فرش پر ڈھیر ہو جاتی ہے۔ پھر اچانک چیخ پڑتی ہے، ’’مور کا پنکھ!‘‘ اور جنون میں چاروں طرف کھنگوڑتی ہے، ’’اوہ خدایا! پنکھ!‘‘
باہر سے بچوں کی آوازیں آتی ہیں۔ محلے کے بچے، جو ملبے میں کھیل رہے ہیں۔
’’حاجی مرا علی؟‘‘
’’بلے؟‘‘
’’کسے چاہیے پانی ؟ کسے چاہیے آگ ؟‘‘
عورت کھڑکی کے پاس جاتی ہے، پردے ہٹاتی ہے، اور بچوں کو آواز دیتی ہے: ’’کیا تم نے کسی کو اندر آتے دیکھا تھا؟‘‘ ’’نہیں!‘ وہ ایک ساتھ چلّاتے ہیں، اور اپنا کھیل جاری رکھتے ہیں: ’’مجھے چاہیے آگ!‘‘
وہ کمرے سے باہر چلی جاتی ہے، سارے گھر کا جائزہ لیتی ہے۔
تھکے انداز میں واپس آتی ہے، اور دونوں کھڑکیوں کی درمیانی دیوار کے سہارے کھڑی ہو جاتی ہے۔ ’’لیکن کون ہے جو یہاں آتا ہے؟ وہ تمھارے ساتھ کیا کرتے ہیں؟‘‘ الجھن اور پریشانی اس کی آنکھوں سے عیاں ہیں۔’ ’ہم اب یہاں نہیں ٹھہر سکتے!‘‘ وہ اچانک خاموش ہو جاتی ہے، جیسے کسی نے مداخلت کی ہو۔ پھر، تھوڑی دیر متذبذب رہ کر، اپنی بات جاری رکھتی ہے: ’’لیکن میں تمھارا کیا کر سکتی ہوں؟ اس حالت میں تمھیں کہاں لے جا سکتی ہوں؟ میرا خیال ہے…‘‘ اس کی نظر خالی ڈرپ بیگ پر پڑتی ہے۔ ’’مجھے پانی لے کر آنا ہوگا۔‘‘ خود کو سوچنے کا وقت دینے کے لیے وہ کہتی ہے۔ وہ کھڑی ہو جاتی ہے، باہر جاتی ہے، پانی کے دو گلاس لیے ہوے واپس آتی ہے۔ اپنے معمول کے کام کرتی ہے۔ بیٹھ جاتی ہے۔ چوکنّی۔ متفکر۔ چند سانسیں لینے کے بعد، اس کو تقریباً فاتحانہ انداز میں اطلاع دینے کا موقع مل جاتا ہے، ’’میں اپنی پھوپھی کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئی۔ وہ شہر کے شمالی حصے میں منتقل ہو گئی ہیں، وہ نسبتاً محفوظ حصہ ہے، اپنے عم زاد کے گھر گئی ہیں۔‘‘ تھوڑا سا توقف۔ توقف، جس کی وہ عادی ہے، اس ردِ عمل کے انتظار میں جو کبھی ہوتا نہیں۔ پس وہ بات جاری رکھتی ہے، ’’بچیوں کو میں نے ان کے پاس چھوڑ دیا ہے۔‘‘ وہ پھر توقف کرتی ہے۔ پھر، جذبات سے مغلوب ہو کر منمناتی ہے، ’’یہاں مجھے ڈر لگتا ہے،‘‘ جیسے اپنے فیصلے کا جواز دے رہی ہو۔ کسی طرح کا کوئی ردِ عمل نہ پاکر، موافقت کا کوئی لفظ نہ سن کر،وہ نظریں نیچی کر لیتی ہے اور دھیمی آواز میںکہتی ہے ، ’’مجھے تم سے ڈر لگتا ہے!‘‘ وہ فرش پرکسی شے کو تلاش کرتی ہے۔ لفظوں کو۔ لیکن اس سے بھی اہم، حوصلے کو۔ وہ انھیں ڈھونڈ لیتی ہے، پکڑتی ہے، اور اس پر پھینک کر مارتی ہے: ’’میں تمھارے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔ میرا خیال ہے سب کچھ ختم ہو چکا!‘‘ وہ پھر سے خاموش ہو جاتی ہے۔ پھر جلدی جلدی، مضبوطی سے بولنے لگتی ہے، ’’ایسا لگتا ہے یہ محلہ حریفوں کے درمیان نیا محاذ بننے والا ہے۔‘ ‘ وہ غضب کے ساتھ آگے کہتی ہے، ’’تم جانتے تھے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟‘‘ ایک اور وقفہ، صرف ایک سانس کا، یہ کہنے کی قوت جمع کرنے کے لیے،’ ـ’تمھارے بھائی بھی جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے وہ سب چلے گئے۔ انھوں نے ہمیں چھوڑ دیا۔ نامرد کہیں کے! وہ مجھے اپنے ساتھ اس لیے نہیں لے گئے کیونکہ تم زندہ تھے۔ اگر…‘‘ وہ اپنا تھوک نگلتی ہے، اور اپنا غصہ بھی۔ پھر کم غصے کے ساتھ بات جاری رکھتی ہے، ’’اگر… اگر تم مر گئے ہوتے، تو حالات کچھ اور طرح کے ہوتے…‘‘ وہ اس خیال کو منقطع کرتی ہے۔ متذبذب ہو جاتی ہے۔ ایک گہرا سانس لینے کے بعد، کہنے کا فیصلہ کرتی ہے، ’’ان میں سے کسی ایک نے مجھ سے شادی کرلی ہوتی!‘‘ اس کی آواز ایک خاموش، دبی ہوئی ہنسی سے لرزتی ہے۔ ’’وہ شاید زیادہ خوش ہوتے اگر تم مر گئے ہوتے۔‘‘ وہ کانپ اٹھتی ہے۔’’ اُس صورت میں وہ مجھ سے… جماع کرتے! صاف ضمیر کے ساتھ!‘‘ یہ کہنے کے بعد، وہ یک بیک کھڑی ہو جاتی ہے اور کمرے سے چلی جاتی ہے۔ راہداری میں بے چینی سے چہل قدمی کرتی ہے۔ کسی چیز کی تلاش میں۔ سکون۔ شانتی۔ لیکن اور زیادہ بخار جیسی کیفیت میں لوٹتی ہے۔ وہ مرد کی طرف دوڑتی ہے اور پوری قوت سے ایک ساتھ کہہ دیتی ہے، ’’تمھارے بھائی ہمیشہ ہی مجھ سے زنا کرنا چاہتے تھے! وہ…‘‘ وہ پیچھے ہٹتی ہے، پھر واپس آتی ہے۔ ’’وہ میری جاسوسی کرتے تھے… مسلسل، پورے تین سال تک… جب تک تم دور تھے… وہ غسل خانے کی چھوٹی کھڑکی سے مجھ پر نظر رکھتے تھے، جب میں وہاں نہانے دھونے جاتی تھی… اور… جلق لگاتے تھے۔ وہ ہم دونوں پر بھی نظر رکھتے تھے، رات میں…‘‘ اس کے ہونٹ کانپتے ہیں۔ اس کے ہاتھ بخار کی سی کیفیت میں ہوا میں مچلتے ہیں، اپنے بالوں اور لباس کی پرتوں کو مسوستے ہیں۔ اس کے قدم پرانے گلیم کی اڑے رنگ کی پٹیوں پر ٹھوکر کھاتے ہیں۔ ’’وہ جلق…‘‘ وہ رک جاتی ہے، اور خشم ناک ہو پھر سے کمرے سے باہر چلی جاتی ہے، تازہ ہوا میں سانس لینے کے لیے، اور خود کو اپنے غصے سے پاک کرنے کے لیے۔’ ’چوتیے!‘‘ وہ غصے میں چیختی ہے۔ ’’حرامی کہیں کے!‘‘ لیکن فوراً ہی اس کو روتے اور التجا کرتے سنا جا سکتا ہے: ’’میں یہ کیا بک رہی ہوں؟ میں یہ سب کیوں کہہ رہی ہوں؟ اے خدایا! میری مدد کر!میرا خود پر قابو نہیں رہا! میں نہیں جانتی میں کیا کہہ رہی ہوں…‘‘
وہ خود کو خاموشی کی دیوار میں بند کر لیتی ہے۔
وہ بچے بھی جو ملبے میں کھیل رہے تھے، اب کہیں نظر نہیں آ رہے۔ بالآخر وہ بھی جا چکے ہیں۔

عورت پھر سے نظر آتی ہے۔ ا س کے بال بکھرے ہوے ہیں۔ آنکھوں میں وحشت۔ تھوڑا سا گشت لگا کر وہ مرد کے سرہانے بیٹھ جاتی ہے۔ ’’میں نہیں جانتی مجھے کیا ہوتا جا رہا ہے۔ میری توانائی مجھے چھوڑتی جا رہی ہے، روز بروز۔ بالکل میرے ایمان کی طرح۔ سمجھنے کے لیے مجھے تمھاری ضرورت ہے۔‘‘ وہ اسے ٹہوکا دیتی ہے، ’’مجھے امید ہے تم سوچ سکتے ہو، سن سکتے ہو، دیکھ سکتے ہو… مجھے دیکھ سکتے ہو… اور مجھے سن سکتے ہو…‘‘ وہ دیوار کے سہارے کھڑی ہو جاتی ہے، او ر ایک طویل لمحے کو گزرنے دیتی ہے۔ —تسبیح کے بارہ دور، شاید، جیسے وہ مرد کے تنفس سے ہم آہنگ ہو کر اب بھی ورد کر رہی ہو۔ —کافی وقت ،سوچنے کے لیے، اپنی زندگی کے ظاہر اور مخفی گوشوں کا جائزہ لینے کے لیے، اور یادوں کے ساتھ واپس آنے کے لیے۔ ’’تم نے مجھے کبھی نہیں سنا، کبھی میرے دل کی بات نہیں سنی! ہم نے ان سب باتوں کے بارے میں کبھی بات نہیں کی! ہماری شادی کو دس سال سے زیادہ ہو گئے، لیکن ہم نے صرف دو یا تین سال ہی ساتھ گزارے ہیں۔ کیا میں درست نہیں کہہ رہی ہوں؟‘‘ وہ شمار کرتی ہے، ’’ہاں، شادی کے ساڑھے دس سال، تین سال ازدواجی زندگی کے! یہ پہلی بار ہے کہ میں گن رہی ہوں۔ صرف ابھی میں اس سب کو سمجھ رہی ہوں!‘‘ مسکراہٹ۔ ایک مختصر، مصنوعی مسکراہٹ —تاسف اور ندامت کے ہزار لفظوں کے برابر… لیکن اس پر جلد ہی یادیں حاوی ہو جاتی ہیں۔ ’’اُن دنوں، میں نے تمھاری غیر حاضری تک کے بارے میں کبھی کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ یہ اس قدر معمول کی بات لگتی تھی! تم محاذ پر تھے۔ تم آزادی کے لیے لڑ رہے تھے۔ اللہ کے لیے! اور اس بات نے سب کچھ قابلِ قبول بنا دیا تھا۔ اس نے مجھے امید دی تھی، فخر کا احساس دیا تھا۔ کسی نہ کسی طور، تم ہمارے ساتھ تھے۔ ہم میں سے ہر ایک کے اندر۔‘‘ وہ ماضی میں جھانک رہی ہے، سب کچھ دوبارہ دیکھ رہی ہے… ’’تمھاری ماں، اپنے بھاری بھرکم سینے کے ساتھ، میری چھوٹی بہن کا ہاتھ مانگنے ہمارے یہاں آئی تھی۔ لیکن شادی کی اس کی باری نہیں تھی۔ میری باری تھی۔ پس تمھاری ماں نے سادگی سے کہا،’کوئی مسئلہ نہیں۔ اُس کے بجاے ہم اِس کو لے لیں گے!‘ اس نے اپنی موٹی انگلی سے میری طرف اشارہ کیا تھا، جب میں پیالی میں چائے ڈال رہی تھی۔ میں گھبرا گئی تھی، اور برتن میرے ہاتھ سے الٹ گیا تھا۔‘‘ وہ اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیتی ہے۔ شرم کے مارے، یا پھر مذاق اڑاتی ساس کی تصویر کو تصور سے دور کرنے کے لیے۔ ’’اور جہاں تک تمھاری بات ہے، تم یہ تک نہیں جانتے تھے کہ یہ سب ہو رہا ہے۔ میرے ابا نے، جو اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہتے تھے، ذرا بھی تذبذب کیے بغیر رشتہ قبول کر لیا۔ ا س پر انھوںنے رتی بھر دھیان نہیں دیا کہ تم موجود نہیں ہو! درحقیقت، تم کون تھے؟ کوئی نہیں جانتا تھا۔ ہم سب کے نزدیک، تم صرف ایک لقب تھے، ایک ہیرو۔ اور ہر ہیرو کی طرح، بہت دور۔ کسی ہیرو کے ساتھ نسبت سترہ برس کی لڑکی کے لیے ایک پیاری بات تھی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا تھا، ’خدا بھی تو بہت دور ہے، اس کے باوجود میں اس سے محبت کرتی ہوں، اور اس پر ایمان رکھتی ہوں… ‘ خیر، انھوںنے منگیتر کے بغیر ہی ہماری منگنی کی تقریب کر دی۔ تمھاری ماں نے کہا، ’پریشان نہ ہو، فتح نزدیک ہے! جنگ جلد ہی ختم ہو جائے گی، ہم آزاد ہوںگے، اور میرا بیٹا لوٹ آئے گا!‘ کوئی ایک سال کے بعد تمھاری ماں لوٹ کر آئی۔ فتح اب بھی بہت دور تھی۔ ’ نسبت ٹھہرنے کے بعد کسی نوجوان عورت کو اس کے والدین کے ساتھ اتنے طویل عرصے کے لیے چھوڑنا خطرناک ہوتا ہے!‘ اس نے کہا۔ اور اس لیے میری شادی کرنا ضروری ہو گیا، تمھاری غیر موجودگی میں ہی۔ شادی کی رسم میں، تم ایک فوٹو کی صورت میں موجود تھے، اور وہ بدبخت خنجر، جو انھوں نے میرے پہلو میں بجاے تمھارے رکھ دیا تھا۔ اور اب مجھے آئندہ تین برس تک تمھارا انتظار کرنا تھا۔ تین برس! تین برس تک مجھے اپنی سہیلیوں یا اپنے گھر والوں تک سے ملنے نہیں دیا گیا… نئی نویلی باکرہ دلہن کے لیے یہ مناسب نہیں سمجھا گیا کہ وہ دوسری شادی شدہ عورتوں کے ساتھ وقت گزارے۔ کیا ہی واہیات بات تھی! مجھے اسی کمرے میں سلایا جاتا تھا جس میں تمھاری ماں سوتی تھی، اور وہ مجھ پر نظر رکھتی تھی، بلکہ میری عفت پر۔ اور یہ سب ہر کسی کو کس قدر طبیعی، کتنا فطری لگتا تھا۔ مجھے بھی! میں یہ تک نہیں جانتی تھی کہ میں کس قدر تنہا تھی۔ رات کو میں تمھاری ماں کے ساتھ سوتی تھی، دن میں تمھارے باپ سے باتیں کرتی تھی۔ شکرِ خدا، کہ وہ وہاں موجود تھے۔ کیا ہی آدمی تھے! میرا سب کچھ وہی تھے۔ اور تمھاری ماں کو اس بات سے نفرت تھی۔ جب بھی وہ مجھے ان کے ساتھ دیکھتی تو سب باتیں وہیں ٹھپ کرا دیتی، اور مجھے سیدھے باورچی خانے میں بھیج دیتی۔ تمھارے ابّا مجھ کو شاعری پڑھ کر سناتے، کہانیاں سناتے۔ وہ مجھ میں پڑھنے، لکھنے اور سوچنے کا شوق بڑھاتے۔ وہ مجھ سے محبت کرتے تھے، کیونکہ وہ تم سے محبت کرتے تھے۔ جب تم آزادی کے لیے جہاد کر رہے تھے، وہ تم پر نازاں تھے۔ انھوں نے ہی مجھ سے ایسا کہا۔ یہ آزادی ملنے کے بعد ہوا کہ وہ تم سے نفرت کرنے لگے — اور تمھارے بھائیوں سے بھی، کیونکہ اب تم لوگ سوائے اقتدار کے،کسی اور شے کے لیے جہاد نہیں کر رہے تھے۔‘‘

ملبے میں بچوں کا شور شرابہ پھر شروع ہوجاتا ہے۔ ان کا شور صحن میں اور پورے گھر میں بھر جاتاہے۔
وہ خاموش ہو جاتی ہے، بچوں کی آواز سنتی ہے، جو پھر وہی کھیل کھیل رہے ہیں:
’’حاجی مراعلی؟‘‘
’’بلے؟‘‘
’’کسے چاہیے پیر؟ کسے چاہیے سر؟‘‘
’’مجھے چاہیے سر!‘‘
وہ پھر گلی میں بھاگ جاتے ہیں۔

وہ اپنا قصہ پھر شروع کرتی ہے، ’’میں تمھارے باپ کے بارے میں کیوں بات کر رہی تھی؟‘‘ دیوار پر اپنا سر رگڑتی ہے، لگتا ہے کچھ سوچ رہی ہے، اپنی یاد داشت کو صیقل کر رہی ہے… ’’ہاں، یاد آیا۔ میں ہم دونوں کے بارے میں بات کر رہی تھی، ہماری شادی کے بارے میں، میری تنہائی کے بارے میں … تین برس کا انتظار، اور پھر تم گھر لوٹ آتے ہو۔ مجھے ایسے یاد ہے جیسے کل کی بات ہو۔ وہ دن جب تم واپس آئے، وہ دن جب میں نے تم کو پہلی بار دیکھا…‘‘ ایک طعن آمیز ہنسی اس کے سینے سے پھوٹ پڑی۔’ ’تم بالکل ایسے ہی تھے جیسے اب ہو۔ایک بھی لفظ بولتے نہیں۔ ایک بھی نگاہ ڈالتے نہیں…‘‘ اس کی نظریں مرد کی تصویر پر ٹک جاتی ہیں۔ ’’تم میرے پہلو میں آکر بیٹھ گئے۔ جیسے ہم ایک دوسرے کو پہلے ہی سے جانتے ہوں… جیسے ایک مختصر سی غیر حاضری کے بعد تم مجھ سے ملنے آئے ہو، یا جیسے میں تمھاری فتح کا کوئی زرق برق انعام تھی! میں تمھاری طرف دیکھ رہی تھی، لیکن تم رقیق ہوا میں گھور رہے تھے۔ میں اب بھی نہیں جانتی کہ وہ حیا تھی یا غرور۔ اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ لیکن میں نے تمھیں دیکھا، بغور دیکھا، میں تم کو اچٹتی نظروں سے دیکھتی رہی، تمھارا جائزہ لیتی رہی۔ تمھارے بدن میں معمولی سی بھی جنبش، تمھارے چہرے پر آنے والا معمولی سا بھی تاثر بغور دیکھتی رہی…‘‘ اس کا دایاں ہاتھ مرد کے غلیظ بالوں سے کھیلتا ہے۔ ’’اور تم کس قدر مغرور لگ رہے تھے، کس قدر غائب؛ جیسے وہاں تم موجود ہی نہ تھے۔ یہ کہاوت کس قدر سچی ہے: کسی کو ایسے مرد پر کبھی تکیہ نہ کرنا چاہیے جس نے اسلحے کی لذت اٹھائی ہو!‘‘ وہ پھر ہنستی ہے، لیکن اس بار ذرا نرمی سے۔ ’’تم مردوں کے نزدیک ہتھیار ہی سب کچھ ہوتے ہیں… تمھیں اس ملٹری کیمپ کا قصہ ضرور معلوم ہوگا جس میں ایک افسر اپنے نئے رنگروٹوں کو بندوق کی اہمیت جتانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ایک نوجوان فوجی سے پوچھتا ہے، ’بینام، کیا تم جانتے ہو تمھارے کندھے پر کیا رکھا ہے؟‘ بینام جواب دیتا ہے، ’جی ہاں، جناب! یہ میری بندوق ہے!‘ افسر اس پر چیختا ہے، ’نہیں، احمق! یہ تمھاری ماں ہے، تمھاری بہن ہے، تمھاری غیرت ہے!‘ پھر وہ اگلے فوجی کی طرف بڑھتا ہے اور اس سے یہی سوال کرتا ہے۔ فوجی جواب دیتا ہے، ’جی ہاں، جناب! یہ بینام کی ماں، بہن اور غیرت ہے!‘‘‘ وہ اب بھی ہنس رہی ہے۔ ’’یہ کہانی کس قدر سچی تھی۔ تم مرد ذات! جیسے ہی تمھارے ہاتھوں میں بندوقیں آتی ہیں، تم اپنی عورتوں کو بھول جاتے ہو۔‘ ‘وہ پھر خاموشی میں غرق ہو جاتی ہے، اب بھی مرد کے بال تھپتھپاتی رہتی ہے۔ نرمی کے ساتھ۔ دیر تک۔
وہ اپنی بات پھر شروع کرتی ہے۔اس کی آواز میں اداسی ہے۔ ’’جب میری منگنی ہوئی تھی، مردوں کے بارے میں، ازدواجی زندگی کے متعلق میں کچھ بھی نہیں جانتی تھی۔ میں صرف اپنے والدین کو جانتی تھی۔ اور ان کی بھی کیا مثال ! میرے ابّاکو اپنی بٹیروں کے سوا کسی کی پروا نہ تھی۔ لڑاکو بٹیریں! میں نے انھیں اکثر اپنی بٹیروں کو چومتے ہوے دیکھا، لیکن میری ماں کو کبھی نہیں، نہ ہمیں— اپنے بچوں کو۔ ہم سات تھے۔ سات لڑکیاں، محبت کی بھوکی۔‘‘ وہ پردوں پر کوچ کرتے پرندوں کی منجمد پرواز کی طرف دیکھتی ہے۔ اپنے باپ کو دیکھتی ہے: ’’وہ ہمیشہ آلتی پالتی مار کر بیٹھا کرتے تھے۔ وہ انگرکھا پہنے ہوتے، بٹیر کو اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑے وہ اسے اپنی شے کے پاس گود میں رکھے تھپتھپاتے رہتے، اور اس کے پنجے ان کے ہاتھوں میں چبھتے رہتے۔ دوسرے ہاتھ سے وہ اس کی گردن نہایت فحش انداز سے سہلاتے رہتے۔ گھنٹوں گھنٹوں تک! جب ان کے ملاقاتی آتے وہ تب بھی ’غَشا‘ کرتے رہتے تھے، یہی نام انھوںنے اس کام کو دے رکھا تھا۔ ان کے لیے یہ ایک طرح کی عبادت تھی۔ انھیں اپنی بٹیروں پر کس قدر ناز تھا۔ ایک بار، جب کڑاکے کی سردیاں تھیں، برف جما دینے والی ٹھنڈ، تب میں نے ان کو ایک بٹیر کو اپنے پائجامے میں گھساتے ہوے بھی دیکھا تھا، اپنی ’خشتک‘ (جانگھیے) میں۔ میں چھوٹی تھی۔ اس کے بعد بہت عرصے تک میں یہی سوچتی رہی کہ مردوں کی ٹانگوں کے درمیان بٹیریں ہوتی ہیں۔ اس کے بارے میں سوچ کر ہی مجھے ہنسی آ جاتی تھی۔ اس وقت کی میری دل شکستگی کا ذرا تصور کرو، جب میں نے پہلی بار تمھارے فوطے دیکھے۔‘ ‘ مسکراہٹ اس کی بات کو قطع کرتی ہے اور وہ آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ اس کا بایاں ہاتھ اپنے کھلے بالوں میں رینگ جاتا ہے، اور جڑوں کو سہلاتا ہے۔’ ’مجھے ان کی بٹیروں سے نفرت تھی۔‘‘ وہ آنکھیں کھولتی ہے۔ اس کی اداس نظر ایک بار پھر پردوں کے سوراخ دار آسمان میں گم ہو جاتی ہے۔ ’’ہر جمعے کو وہ ان کو گلستانِ قاف میں لڑانے کے لیے لے جاتے تھے۔ وہ شرطیں لگایا کرتے تھے۔ کبھی جیت جاتے اور کبھی ہار جاتے۔ جب وہ ہار کر آتے تو پریشان اور تند مزاج ہوتے۔ وہ شدید غصے میں گھر میں داخل ہوتے اور کسی نہ کسی بہانے سے ہمیں پیٹتے… اور ہماری ماں کو بھی۔‘ ‘ وہ خود کو روک لیتی ہے۔ درد اسے چپ کرا دیتا ہے۔ ایسا درد جو اس کی انگلیوں کے پوروں تک پھیل جاتا ہے اور ان کو اس کے کالے بالوں کی جڑوں میں اور گہرائی تک گاڑ دیتا ہے۔ اپنی بات جاری رکھنے کے لیے وہ خود پر جبر کرتی ہے، ’’بٹیر بازی میں ایک بار انھوں نے بہت سی رقم جیتی ہوگی… لیکن سب کچھ انھوںنے ایک اور نہایت مہنگی بٹیر خریدنے میں لگا دیا۔ ایک بہت اہم لڑائی کے لیے اسے تیار کرنے میں انھوں نے ہفتوں پر ہفتے لگا ڈالے، اور…‘‘ وہ تلخی سے ہنسی جو زہر خند بھی تھی اور مایوسی سے لبریز بھی، اور اس نے بات جاری رکھی: ’’جیسا کہ ان کی قسمت میں بدا تھا، وہ ہار گئے۔ اپنی شرط پوری کرنے کے لیے ان کے پاس اب کوئی رقم نہیں تھی، پس انھوں نے اس کے بدلے میں میری بہن کو دے دیا۔ بارہ برس کی میری بہن ایک چالیس سالہ آدمی کے ساتھ رہنے کے لیے بھیج دی گئی۔‘ ‘ اس کے ناخن اس کے بالوں کی جڑوں کو چھوڑ دیتے ہیں، اور پیشانی پر پھسلتے ہوے بائیں آنکھ کے کنارے پر زخم کے نشان کو کریدتے ہیں۔ ’’اس وقت میں صرف دس برس کی تھی… نہیں…‘‘ وہ اس کے بارے میں سوچنے لگتی ہے۔ ’’ہاں، میری عمر دس برس تھی۔ میں ڈر گئی تھی۔ ڈر اس بات کا کہ ایک دن میں بھی بازی پر لگا دی جاؤںگی۔ اس لیے، کیا تم جانتے ہو کہ میں نے بٹیر کے ساتھ کیا کیا؟‘‘ وہ ایک لمحے کو توقف کرتی ہے۔ یہ بات غیر واضح ہے کہ وہ ایسا اپنے قصے کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے کرتی ہے، یا پھر اس کا اگلا حصہ بیان کرنے سے ڈر رہی ہے۔ بالآخر، وہ بات جاری رکھتی ہے۔’ ’ایک دن — یہ جمعے کا دن تھا،جب وہ گلستانِ قاف جانے سے پہلے نماز کے لیے مسجد گئے ہوے تھے ،میں نے پرندے کو اس کے قفس سے باہر نکال دیا اور جس وقت میں نے اسے آزاد کیا اسی وقت ایک آوارہ بلی — ایک سفید اور ادرکی رنگ کی مادہ گربہ — دیوار پر تاک لگائے بیٹھی تھی۔ ‘‘ وہ ایک گہری سانس لیتی ہے۔ ’’اور بلی نے اسے دبوچ لیا۔ وہ اسے ایک گوشے میں لے گئی تاکہ اطمینان سے کھا سکے۔ میں نے تعاقب کیا۔ اور کھڑے ہوکر دیکھتی رہی۔ وہ لمحہ میں آج تک نہیں بھولی ہوں۔ یہاں تک کہ میں نے بلی سے ’بون اپیٹی‘… چیئرز بھی کہا۔ میں خوش تھی، بلی کو وہ بٹیر کھاتے ہوے دیکھ کر جوش میں بھری ہوئی۔ خالص خوشی کا ایک لمحہ۔ لیکن فوراً ہی میں حسد محسوس کرنے لگی۔ میں بلی بن جانا چاہتی تھی، یہی بلی جو میرے ابا کی بٹیر کے مزے لوٹ رہی تھی۔ میں حسد کر رہی تھی، اور رنجیدہ تھی۔ بلی بٹیر کی قیمت نہیں جانتی تھی۔ وہ میری سرخوشی میں، میری فتح میں شامل نہ ہو سکتی تھی۔ ’کیسا اتلاف ہے!‘ میں نے اپنے دل میں سوچا، اور پرندے کا جو کچھ بھی بچا تھا اسے چھیننے کے لیے یک بیک اس کی طرف دوڑی۔ بلی نے میرا منھ نوچ لیا اور بٹیر لے کر بھاگ گئی۔ میں نے خود کو اس قدر عاجز اور مایوس محسوس کیا کہ میں نے فرش کو مکھی کی طرح چاٹنا شروع کر دیا، فرش پر ٹپکنے والی اپنے ابا کی بٹیر کے خون کی چند بوندوں کو۔‘‘ وہ منھ بناتی ہے، جیسے خون کا گرم اور نم ذائقہ اب بھی اس کی زبان پر ہو۔’ ’جب میرے ابا گھر آئے اور قفس کو خالی پایا، تو وہ پاگل ہو گئے۔ ان کا دماغ چل گیا۔ وہ چیخ رہے تھے۔ انھوں نے اماں کو، میری بہنوں کو اور مجھے اس لیے پیٹا کہ ہم نے ان کی بٹیر کی نگرانی نہیں کی تھی۔ جب وہ مجھے پیٹ رہے تھے تو میں نے چلّا کر کہا کہ اچھا ہوا اس کا قصہ پاک ہو گیا، کیونکہ اس خونی بٹیر نے میری بہن کو ہم سے دور کر دیا ہے۔ میرے ابا سارا ماجرا فوراً سمجھ گئے۔ انھوںنے مجھے تہہ خانے میں بند کردیا۔ اندھیرا ہوگیا تھا۔ اس کے بعد مجھے وہاں دو دن گزارنے پڑے۔ انھوںنے ایک بلی بھی میرے ساتھ بند کردی— ایک اور آوارہ بلی جو آس پاس گشت کر رہی تھی— اور انھوں نے خوشی کے تاثر کے ساتھ مجھ سے کہا تھا کہ اگر اس کو بھوک لگی تو یہ تم کو کھا جائے گی۔ لیکن، خوش قسمتی سے ہمارا گھر چوہوں کی آماجگاہ تھا۔ چنانچہ بلی میری دوست بن گئی۔‘‘
وہ خاموش ہو جاتی ہے، تہہ خانے کی یادوں کو جھٹک کر دور کرتی ہے، اور کمرے میں ، اور اپنے آدمی کے پاس لوٹ آتی ہے۔ بے قرار ی سے وہ کچھ دیر تک اس کی طرف دیکھتی ہے، اور اچانک دیوار سے دور ہٹ جاتی ہے۔ ’’لیکن… لیکن میں یہ سب اس کو کیوں بتا رہی ہوں؟‘‘ وہ بڑبڑاتی ہے۔ اپنی یادوں سے مغلوب ہوکر، وہ بھاری دل سے کھڑی ہو جاتی ہے۔ ’’میں نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ کوئی یہ سب جانے۔ کبھی نہیں۔ میری بہنیں تک نہیں!‘‘ بے قرار ہو کر وہ کمرے سے باہر چلی جاتی ہے۔ ا س کا خوف راہداری میں گونج رہا ہے: ’’وہ مجھے پاگل کیے دے رہا ہے۔ میری قوت چوس رہا ہے۔ مجھے بولنے کو مجبور کر رہا ہے۔ مجھ سے میرے گناہوں، میری خطاؤں کا اقرار کروا رہا ہے۔ وہ میری باتیں سن رہا ہے۔ مجھے سن رہا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے۔ وہ مجھے جاننا چاہتا ہے… مجھے برباد کرنا چاہتا ہے۔‘‘
وہ خود کو دوسرے کمرے میں بند کرلیتی ہے، مکمل تنہائی میں، اپنے اعصاب کو پرسکون کرنے کے لیے۔
کھنڈروں میں بچے اب بھی چیخ چلا رہے ہیں۔
پردوں کے زرد اور نیلے آسمان کے سوراخوں سے اپنی روشنی کی کرنیں سمیٹ کر سورج گھر کی دوسری سمت میں چلا جاتا ہے۔
بعد میں، وہ لوٹ کر آتی ہے۔ آنکھوں میں استحکام، ہاتھ کانپتے ہوے۔ وہ چل کر مرد کے قریب پہنچتی ہے۔ رکتی ہے۔ گہری سانس لیتی ہے۔ غذا کی ٹیوب کو گرفت میں لیتی ہے، اپنی آنکھیں بند کرتی ہے اور اسے اس کے منھ سے کھینچ لیتی ہے۔ پیچھے پلٹتی ہے، اس کی آنکھیں ابھی تک بند ہیں۔ تردّد سے ایک قدم اٹھاتی ہے، ہچکی لیتی ہے، ’’اے خدایا! مجھے معاف کر دینا!‘‘ اپنی چادر اٹھاتی ہے اور چلی جاتی ہے۔
وہ دوڑتی ہے، باغیچہ پار کرتی ہے، گلی میں چلی جاتی ہے…
شکر اور نمک کا محلول، لٹکی ہوئی ٹیوب میں سے قطرہ قطرہ کرکے مرد کی پیشانی پر ٹپکتا ہے۔ وہاں سے وہ اس کی جھریوں کی نالیوں میں بہنے لگتا ہے، پھر اس کی ناک کی جڑ میں، اس کی آنکھوں کے حلقوں میں، اس کے پچکے ہوے گالوں میں، اور بالآخر اس کی موٹی، جھاڑ جھنکاڑ مونچھوں میں بہنے لگتا ہے۔
سورج غروب ہو رہا ہے۔
اسلحہ جاگ رہا ہے۔
آج رات وہ پھر تباہی پھیلائیںگے۔
آج رات وہ پھر قتل و غارت کریں گے۔
صبح۔
بارش۔
شہر پر، اور اس کے ملبے پر بارش۔
جسموں اور ان کے زخموں پر بارش۔
شکر اور نمک کے محلول کے آخری قطرے کے بعد، چند سانسیں گزرنے پر بھیگے ہوے قدموں کی آواز صحن میں سے ہوتی ہوئی راہداری میں گونجتی ہے۔ کیچڑ بھرے جوتوں کو اتارا نہیں گیا ہے۔
کمرے کا دروازہ چرمراتے ہوے کھلتا ہے۔ عورت آئی ہے۔ وہ اندر آنے کی جسارت نہیں کرتی۔ وہ اپنی آنکھوں میں ایک اجنبی، محتاط تاثر لیے ہوے مرد کا جائزہ لیتی ہے۔ وہ دروازہ تھوڑا سا اور کھولتی ہے۔ تھوڑا سا انتظار کرتی ہے۔ کوئی شے جنبش نہیں کرتی۔ وہ اپنے جوتے اتارتی ہے اور آہستگی سے اندر داخل ہوتی ہے، اور چوکھٹ پر کھڑی رہتی ہے۔ وہ اپنی چادر فرش پر گرا دیتی ہے۔ وہ کانپ رہی ہے۔ سردی کی وجہ سے۔ یا خوف سے۔ وہ آگے بڑھتی ہے، یہاں تک کہ اس کے پیر اس گدے کو چھونے لگتے ہیں جس پر مرد لیٹا ہوا ہے۔
تنفس اپنے معمول کے مطابق جاری ہے۔
منھ اب بھی آدھا کھلا ہوا ہے۔
تاثر اب بھی مذاق اڑانے کا ہے۔
آنکھیں اب بھی خالی ہیں، بے روح … لیکن آج وہ آنسوؤں سے نم ہیں۔ وہ دہشت زدہ ہوکر اکڑوں بیٹھ جاتی ہے ۔ ’’کیا تم… کیا تم رو رہے ہو؟‘‘ وہ زمین پر ڈھیر ہو جاتی ہے۔ لیکن جلد ہی سمجھ جاتی ہے کہ آنسو ٹیوب میں سے آرہے ہیں۔ یہ شکر اور نمک کے آنسو ہیں۔
عورت کا گلا خشک ہے، اس کی آواز مردہ، سپاٹ۔ ’لیکن، تم کون ہو؟‘ ایک لمحہ گزر جاتا ہے — دو سانسیں۔ ’’اللہ عزرائیل کو کیوں نہیں بھیجتا، جو تمھارا خاتمہ کردے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے؟‘‘ وہ اچانک پوچھتی ہے۔ ’’وہ تم سے کیا چاہتا ہے؟‘‘ وہ اوپر کی سمت دیکھتی ہے۔ ’’وہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟‘‘ اس کی آواز نیچی ہو جاتی ہے۔ ’’تم کہوگے ، وہ مجھ کو سزا دینا چاہتا ہے!‘‘ وہ اپنا سر ہلاتی ہے۔ ’’بچکانی باتوں سے خود کو مت بہلاؤ!‘‘ اس کی آواز اب واضح ہے۔ ’’شاید یہ تم ہو جس کو وہ سزا دینا چاہتا ہے! وہ تم کو زندہ رکھے ہوے ہے تاکہ تم دیکھ سکو کہ میں تمھارے ساتھ کیا کیا کر سکتی ہوں، تمھیں۔ وہ مجھ کو شیطان میں بدل رہا ہے… شیطان، تمھارے لیے، تمھارے خلاف! ہاں ،میں تمھارا شیطان ہوں! ہاڑ مانس کا شیطان!‘‘ مرد کی کانچ جیسی نگاہ سے بچنے کے لیے وہ فرش پر لیٹ جاتی ہے۔ وہاں کافی دیر پڑی رہتی ہے، خاموش اور متفکر۔ ماضی میں بہت دور تک سفر کرتی ہوئی، اس دن تک جب اس کے باطن میں شیطان پیدا ہوا تھا۔
’’جن باتوں کا میں نے کل اقرار کیا، ان کے بعد تم کہوگے کہ تم تو بچپن میں ہی شیطان بن چکی تھیں۔ میں اپنے باپ کی نظر میں شیطان تھی۔‘‘ اس کا ہاتھ مرد کے بازو کو نرمی سے چھوتا ہے۔ تھپتھپاتا ہے۔ ’’لیکن میں تمھارے لیے تو کبھی شیطان نہیں رہی۔ کیا میں ایسی تھی؟‘‘ وہ اپنا سر ہلاتی ہے۔ ’’یا ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو…‘‘ اس کی خاموشی شک وشبے اور تردد سے معمور ہے۔ ’’لیکن ہر کام جو میں نے کیا، تمھارے لیے کیا… تاکہ تم کواپنے پاس رکھ سکوں۔‘‘ اس کا ہاتھ مرد کے سینے پرسرک آتا ہے۔ ’’یا اصل میں، سچ کہوں تو، تاکہ تم مجھے رکھ سکو! تاکہ تم مجھے نہ چھوڑو! ہاں، یہی سبب تھا کہ میں…‘‘ وہ خود کو روک لیتی ہے۔ اپنے گھٹنے سکیڑتی ہے اور کروٹ لے کر، مرد کے پہلو میں سمٹ جاتی ہے۔ ’’میں نے جو کچھ کیا وہ اس لیے کیا کہ تم میرے ساتھ رہو۔ صرف اس لیے نہیں کہ میں تم سے محبت کرتی تھی، بلکہ اس لیے کہ تم مجھے ترک نہ کر دو۔ تمھارے بغیر، میرا کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ سب مجھے بوریے بستر سمیت نکال دیتے۔‘‘ وہ خاموش ہو جاتی ہے۔ اپنا سر کھجاتی ہے۔ ’’ میں تسلیم کرتی ہوں کہ شروع میں مجھے اپنے اوپر بہت بھروسا نہیں تھا۔ یہ بھروسا نہیں تھا کہ میں تم سے محبت کر سکوںگی۔میں نہیں جانتی تھی کہ کسی ہیرو سے کیسے محبت کی جاتی ہے۔ یہ بات ہی نہ جانے کیوں پہنچ سے دور لگتی تھی، خواب جیسی۔ تین برس تک، میں یہ تصور کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ تم کیسے ہوگے… اور پھر ایک دن تم آ گئے۔ تم بستر میں گھس آئے۔ میرے اوپر چڑھ گئے۔ خود کو مجھ پر رگڑتے رہے… اور وہ کر نہیں سکے! اور تم نے مجھ سے ایک لفظ بھی بولنے کی جرأت نہیں کی۔ مکمل تاریکی میں، اپنے بے تحاشا دھڑکتے ہوے دلوں کے ساتھ، ہماری سانسیں جھٹکے کھا رہی تھیں، ہمارے جسموں سے پسینے کے دھاریں بہہ رہی تھیں…‘‘ اس کی آنکھیں بند ہیں۔ وہ بہت دور چلی گئی ہے، اس بے حرکت جسم سے بہت دور۔ خواہش کی اُس رات کی تاریکی میں ڈوبتی ہوئی۔ اس گرسنگی میں۔ وہ وہاں ایک لمحے تک رہتی ہے۔ بالکل خاموش۔ بالکل بے حرکت۔
پھر: ’’اس کے بعد میں بہت جلد تمھاری عادی ہوگئی، تمھارے بے ڈھنگے جسم کی، تمھاری کھوکھلی موجودگی کی، جس کے متعلق تب میں یہ نہیں جانتی تھی کہ کیا معنی دوں… اور جب تم چلے گئے تو میں پریشان رہنے لگی۔ تمھاری واپسی کا انتظار کرنے لگی۔ جب جب تم جاتے تھے، تھوڑے عرصے کے لیے ہی سہی، تو میری حالت غیر ہونے لگتی تھی… مجھے لگتا تھا جیسے میری کوئی شے گم ہو گئی ہے۔ گھر میں نہیں، بلکہ اپنے اندر… میں ایک خالی پن محسوس کرتی۔ پس میں کھانا کھا کھاکر خود کو بھرنے لگی۔ اور تمھاری ماں، ہر مرتبہ میرے پاس آتی، اور بے صبری سے پوچھتی کہ میرا جی مالش تو نہیں کر رہا ہے۔ وہ سوچتی تھی کہ میں حاملہ ہو گئی ہوں! جب میں نے دوسرے لوگوں کو— اپنی بہنوں کو— اپنی اس پریشانی کے بارے میں بتایا، اپنی اس حالت کے بارے میں جس سے میں تمھارے جانے کے بعد گزرتی تھی، تو انھوںنے بتایا کہ مجھے محبت ہوگئی ہے، فقط اتنا ہی۔ لیکن یہ سب زیادہ دن نہیں چلا۔ پانچ یا چھ مہینے کے بعد، ہر شے بدل گئی۔ تمھاری ماں نے مان لیا کہ میں بانجھ ہوں، اور وہ مجھے ہر وقت ستانے لگی۔ اور تم نے بھی، ایسا ہی کیا۔ لیکن…‘‘ اس کا ہاتھ بلند ہوتا ہے اور وہ اپنے سر کے اوپر ہوا میں زور سے گھونسا مارتی ہے، جیسے خود پر حملہ کرنے والے بقیہ الفاظ کو مار کر بھگا رہی ہو۔
چند لمحوں کے بعد — پانچ یا چھ سانسوں کا وقفہ —وہ پھر شروع کرتی ہے : ’’اور تم نے پھر سے بندوق اٹھالی۔ اور پھر اس پاگل پن کی جنگ پر چلے گئے جو اپنے ہی بھائیوں کو مارنے کے لیے چل رہی تھی۔ تم گھمنڈی، متکبر اورمتشددہوگئے! اپنے بقیہ کنبے کی طرح، تمھارے باپ کے سوا۔ دوسرے سب لوگ میرے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے، سب کے سب۔ تمھاری ماں تو یہ دیکھنے کے لیے مری جا رہی تھی کہ تم کب دوسری بیوی لاتے ہو۔ میں نے جلد ہی سمجھ لیا کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ میری قسمت۔ تمھیں کچھ پتا نہیں… تم مجھے اپنے ساتھ رکھے رہو، اس کے لیے میں نے جو کچھ کیا، اس کے بارے میں تم کچھ بھی نہیں جانتے ہو۔‘ ‘ وہ اپنا سر مرد کے بازو پر ٹکا دیتی ہے۔ ایک شرمندہ سی مسکراہٹ، جیسے اس سے رحم طلب کر رہی ہو۔ ’’تم مجھے معاف کردوگے، ایک نہ ایک دن، جو کچھ میں نے کیا ہے اس کے لیے…‘‘ وہ چہرہ قریب لاتی ہے۔ ’’لیکن آج جب میں اس کے متعلق سوچتی ہوں… اگر تب تمھیں پتا چل جاتا تو تم مجھے فی الفور قتل کر ڈالتے!‘‘ وہ مرد کے اوپر جھکتی ہے اور دیر تک اس کو دیکھتی رہتی ہے، اس کی سونی آنکھوں میں جھانکتی ہے۔ پھر وہ اپنا رخسار نرمی کے ساتھ اس کے سینے پر رکھ دیتی ہے۔ ’’یہ سب کتنا عجیب ہے! میں نے خود کو تمھارے اتنا قریب کبھی محسوس نہیں کیا تھا جتنا اب محسوس کر رہی ہوں۔ ہماری شادی کو دس سال ہو گئے۔ پورے دس سال۔ اور ایسا صرف پچھلے تین ہفتوں میں ہوا ہے کہ میں آخر ش تم سے کوئی بات کہہ رہی ہوں۔‘‘ اس کا ہاتھ مرد کے بالوں کو سہلاتا ہے۔ ’’میں اب تمھیں چھو سکتی ہوں… تم نے مجھے خود کو کبھی چھونے نہیں دیا، کبھی نہیں!‘‘ وہ مرد کے منھ کی جانب بڑھتی ہے۔ ’’میںنے تم کو کبھی نہیں چوما۔‘‘ وہ اس کو بوسہ دیتی ہے۔ ’’جب پہلی بار میں نے تمھارے لبوں پر بوسہ دینا چاہا، تم نے مجھے دھکا دے دیا تھا۔ میں اس کو ہندوستانی فلموں کی طرح کرنا چاہتی تھی۔ شاید تم ڈر گئے تھے— کیا ایسا نہیں تھا؟‘‘ وہ پوچھتی ہے، محظوظ ہوتی نظر آتی ہے۔ ’’ہاں ہاں، تم ڈر گئے تھے، کیونکہ تم نہیں جانتے تھے کہ لڑکی کو کس طرح چوما جاتا ہے۔‘‘ اپنے ہونٹ اس کی جھاڑ جھنکاڑ ڈاڑھی پر رگڑتی ہے۔ ’’اب میں جو بھی چاہوں، تمھارے ساتھ کر سکتی ہوں!‘‘ وہ اپنا سر اٹھاتی ہے تاکہ اپنے ویران نظر مرد کو بہتر طور پر دیکھ سکے۔ اسے دیر تک دیکھتی رہتی ہے۔ کلوز اپ۔ ’’میں تم سے ہر شے کے بارے میں بات کر سکتی ہوں، قطع کلامی یا سرزنش کے بغیر۔‘‘ وہ اس کے کندھے پر اپنا سر رگڑتی ہے۔ ’’کل جب میں چلی گئی تھی، تو میرا دل ایک عجیب اور ناقابلِ بیان احساس سے بھر گیا۔ میں رنجیدہ بھی تھی اور آسودہ بھی، خوش بھی اور ناخوش بھی۔‘‘ وہ اس کی گھنی ڈاڑھی کو تکتی ہے۔ ’’ہاں، ایک عجیب سی آسودگی۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایسا کیوں تھا کہ مجھے گھبراہٹ اور شدید احساسِ جرم بھی تھا، اور ایسا سکون بھی محسوس کر رہی تھی جیسے کوئی بوجھ ہٹ گیا ہو۔ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ کیا یہ اس وجہ سے تھا…‘‘ وہ رک جاتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح، یہ جاننا مشکل ہے کہ وہ اپنے خیالات کو اظہار سے روک رہی ہے، یا مناسب الفاظ میں ترتیب دے رہی ہے۔
وہ اپنا سر پھر سے مرد کے سینے پر رکھ دیتی ہے، اور بات جاری رکھتی ہے: ’’ہاں، میں نے سوچا کہ ممکن ہے میں اس لیے پر سکون محسوس کر رہی تھی کہ بالآخر میں تمھیں چھوڑ کر جانے میں کامیاب ہو گئی… تمھیں مرنے کے لیے چھوڑنے میں… خود کو تم سے نجات دلانے میں۔‘‘ وہ سمٹ کر مرد کے بے حرکت جسم سے ایسے چپک جاتی ہے جیسے اسے ٹھنڈ لگ رہی ہو۔ ’’ہاں، تم سے نجات پانے میں… کیونکہ کل، بالکل اچانک ہی، میں نے یہ سوچنا شروع کر دیا تھاکہ تم اب بھی ہوش میں ہو، ذہن اور جسم سے خاصے ٹھیک، لیکن تم نے یہ طے کرلیا ہے کہ مجھے بولنے کو مجبور کروگے تاکہ میرے راز جان جاؤ اور مجھ پر مکمل قابض ہو جاؤ۔ اسی لیے میں ڈر گئی تھی۔‘‘ وہ اس کے سینے کو بوسہ دیتی ہے۔ ’’کیا تم مجھے معاف کر سکتے ہو؟‘‘ وہ اس کی طرف نرم نظروں سے دیکھتی ہے۔ ’’میں گھر سے نکلی، خودکو چادر میں چھپا کر، اور آنکھوں میں آنسو لیے اس اندھے، بہرے شہر کی سڑکوں پر پاگلوں کی طرح ماری ماری پھرتی رہی! شام کو جب میں اپنی پھوپھی کے گھر پہنچی، سب کو لگا کہ میں بیمار ہوں۔ میں سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی، اور اپنے اندوہ میں، اپنے احساسِ جرم میں غرق ہو گئی۔ میں ساری رات سو نہیں سکی۔ مجھے یقین ہو گیا کہ میں راکشس ہوں، پوری عفریت۔ میں وحشت زدہ تھی۔ کیا میرا دماغ الٹ چکا تھا؟ میں مجرم بن گئی تھی؟‘‘ وہ اپنے مرد کے جسم پرسے خود کو ہٹا لیتی ہے۔ ’’تمھاری طرح، تمھارے جگری دوستوں کی طرح… ان لوگوں کی طرح جنھوںنے ہماری پڑوسن کے سارے کنبے کے سر کاٹ ڈالے ہیں۔ ہاں، میرا تعلق تمھارے ہی خیمے سے تھا۔ اس نتیجے پر پہنچنا اذیت ناک تھا۔ میں ساری رات روتی رہی۔‘‘ وہ کھسک کر اس کے قریب آتی ہے۔ ’’پھر صبح کے وقت، فجر میں بارش شروع ہونے قبل، ہوا نے کھڑکی کھول دی… مجھے سردی لگنے لگی… اور خوف بھی محسوس ہونے لگا۔ راحت پانے کے لیے میں اپنی بیٹیوں کے نزدیک کھسک گئی… مجھے اپنے عقب میں کسی کی موجودگی محسوس ہوئی۔ میںنے دیکھنے کی جرأت نہیں کی۔میں نے محسوس کیا کسی نے مجھے تھپکی دی ہے۔ میں جنبش نہیں کر سکی۔ تب میں نے اپنے ابا کی آواز سنی۔ میںنے اپنی تمام تر قوت جمع کی، اور گھوم کر دیکھا۔ وہی تھے۔ اپنی سفید ڈاڑھی کے ساتھ۔ ان کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں تاریکی میں جھپک رہی تھیں۔ ان کا بوسیدہ ہیولا۔ ان کے ہاتھ میں وہی بٹیر تھی جو میں نے بلی کے حوالے کر دی تھی۔ انھوں نے دعوے سے کہا کہ میں نے کل جو کچھ تم کو بتا یا تھا اس کی وجہ سے ان کی بٹیر کو نئی زندگی مل گئی ہے! اس کے بعد انھوںنے مجھے گلے لگا لیا۔ میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ وہاں نہیں تھے۔ جا چکے تھے، ہوا کے ساتھ۔ بارش کے ساتھ۔ کیا یہ خواب تھا؟ نہیں… یہ بہت حقیقی تھا! ان کی سانسیں میری گردن پر، ان کی سخت ہتھیلی میری جلد پر…‘‘ وہ اپنی ٹھوڑی اپنے ہاتھ پر ٹکا لیتی ہے، تاکہ اس کا سر سیدھا رہ سکے۔ ’’ان کی آمد سے میں ہیجان میں مبتلا ہو گئی، جوش سے بھر گئی۔ انجام کار میں سمجھ گئی کہ میرے سکون کا سبب یہ نہیں ہے کہ میں نے تم کو مرنے کے لیے چھوڑنے کی کوشش کی۔‘‘ وہ انگڑائی لیتی ہے۔ ’’کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ میں کیا کہہ رہی ہوں؟… وہ بات جو درحقیقت میری رہائی کا سبب تھی، یہ تھی کہ بٹیر والے معاملے پر میںنے تم سے بات کی۔ اس حقیقت کا تمھارے سامنے اقرار کیا، ساری باتوں کا تم سے اقرار۔ اور تب مجھے یہ بھی ادراک ہوا کہ تم چونکہ بیمار ہو، اور میں تم سے باتیں کرتی رہی ہوں، تم پر غصہ اتارتی رہی ہوں، تمھیں خوار کرتی رہی ہوں، تمھیں وہ سب باتیں بتاتی رہی ہوں جنھیں میںنے اب تک اپنے دل میں چھپا کر رکھا تھا، اور چونکہ تم جواب دینے کے اہل نہیں ہو، یا کچھ بھی نہیں کرسکتے… اس لیے یہ سب میرے لیے سکون اور آرام کا باعث ہے۔ ‘‘ وہ مرد کا شانہ پکڑ لیتی ہے۔ ’’اس لیے اگر میں سکون محسوس کرتی ہوں، رہائی محسوس کرتی ہوں— ان تمام خوفناک باتوں کے باوجود جو ہم پر گزرتی رہی ہیں — تو یہ میرے رازوں کی وجہ سے ہے، اور تمھاری وجہ سے۔ میں کوئی عفریت نہیں ہوں!‘‘ وہ اس کا کندھا چھوڑ دیتی ہے، اور اس کی ڈاڑھی کو سہلاتی ہے۔ ’’کیونکہ تمھارا جسم اب میرا ہے، اور میرے راز اب تمھارے راز ہیں۔ تم یہاں میرے لیے ہو۔ میں نہیں جانتی کہ تم دیکھ سکتے ہو یا نہیں، لیکن ایک بات جس کا مجھے پورا یقین ہے، یہ ہے کہ تم میری بات سن سکتے ہو، جو کچھ میں بول رہی ہوں اس کو سمجھ سکتے ہو۔ اور یہی وجہ ہے کہ تم ا بھی تک زندہ ہو۔ ہاں، تم میرے واسطے زندہ ہو، میرے رازوں کے لیے زندہ ہو۔‘‘ وہ اس کو جھنجھوڑتی ہے۔ ’’تم دیکھوگے کہ جس طرح میرے رازوں نے میرے ابا کی بٹیر کو دوبارہ زندگی دی، اسی طرح ایک دن وہ تم کو بھی زندگی کی طرف لے آئیںگے۔ دیکھو۔ تین ہفتے ہو چکے ہیں کہ تم اپنی گردن میں لگی گولی کے ساتھ جی رہے ہو۔ ایسا تو کبھی نہیں سنا گیا! اس پر کوئی بھی یقین نہیں کرے گا، کوئی بھی نہیں! تم کھاتے نہیں، تم پیتے نہیں، اور پھر بھی تم یہیں ہو! یہ ایک معجزہ ہے۔ میرے لیے معجزہ، اور میری وجہ سے معجزہ۔ تمھاری سانسیں میرے رازوں کے بیان سے وابستہ ہیں۔‘‘ وہ اطمینان سے اپنے پیروں پر زور ڈالتی ہے، اور اس کے نزدیک جا کر کھڑی ہو جاتی ہے، ایک وقار کے ساتھ، جیسے کہہ رہی ہو: ’’فکر مت کرو۔ رازوں کی میرے پاس کمی نہیں ہے۔‘‘ جاتے جاتے اس کے الفاظ دروازے کے پیچھے سے سنے جا سکتے ہیں۔ ’’میں اب تم کو کھونا نہیں چاہتی!‘‘
ڈرپ بیگ کو بھرنے کے لیے وہ واپس آتی ہے۔’’بالآخر اب میری سمجھ میں آگیا ہے کہ تمھارے باپ اس سنگ ِمقدس کے بارے میں کیا بتا رہے تھے۔ یہ ان کی زندگی کے آخری زمانے کی بات ہے۔ تم گئے ہوے تھے، تم پھر سے جنگ کے لیے جا چکے تھے۔ یہ چند مہینے پرانی بات ہے، جب تم کو یہ گولی لگی اس سے ذرا پہلے کی۔ تمھارے باپ بیمار تھے، اور میں ہی تنہا تھی جو اُن کی تیمارداری کر رہی تھی۔ ان پر کسی سنگِ جادو کی دھن سوار تھی۔ ایک سنگِ اسود۔ وہ ہمہ وقت اسی کا ذکر کرتے رہتے تھے… وہ اس پتھر کو کیا کہا کرتے تھے؟‘‘ وہ اس لفظ کو یاد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ ہر دوست سے، جو بھی ان سے ملاقات کے لیے آتا، ان کے لیے وہی پتھر لانے کو کہتے تھے… ایک قیمتی کالا پتھر…‘‘ وہ ٹیوب کو مرد کے حلق میں لگا دیتی ہے۔ ’’جانتے ہو، وہی پتھر جسے آدمی اپنے سامنے رکھ لیتا ہے… اور اپنے سارے مسئلے اس کو سناتا ہے، اپنی ساری کشاکشیں اور تنازعے، اپنے تمام رنج وغم اور تکلیفیں… اس کے سامنے وہ اپنے دل کی ہر بات قبول کرتا ہے، ہر بات جو وہ کسی کے بھی سامنے کہنے کی جرأت نہیں کرتا…‘‘ وہ ڈرپ کا جائزہ لیتی ہے۔ وہ اس سے باتیں کرتا ہے، اور بس باتیں کرتا رہتا ہے۔ اور وہ پتھر سنتا ہے، اس کے تمام الفاظ ، اس کے سارے راز جذب کرتا رہتا ہے، اور ایک دن وہ پھٹ جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے سنگریزوں میں بکھر جاتا ہے۔‘‘ وہ مرد کی آنکھیں صاف کرتی ہے اور انھیں نم دیتی ہے۔ ’’اور اس دن اسے اپنے تمام رنج و محن اور کلفتوں سے نجات مل جاتی ہے… اس پتھر کو کیا کہتے ہیں؟‘‘ وہ چادر کو پھر سے درست کرتی ہے۔ ’’جس دن ان کا انتقال ہوا، اس سے ایک دن پہلے تمھارے باپ نے مجھے بلوایا، وہ مجھ سے تنہائی میں بات کرنا چاہتے تھے۔ وہ مرنے والے تھے۔ انھوں نے مجھ سے سرگوشی میں کہا، ’بیٹی! موت کا فرشتہ میرے سامنے آیا تھا۔ اس کے ساتھ جبرئیل بھی تھے جنھوں نے مجھے ایک راز بتایا جو میں تمھیں سونپ رہا ہوں۔ مجھے اب معلوم ہوگیا ہے کہ وہ پتھر کہاں ملے گا۔ وہ کعبے میں ہے، مکہ میں! اللہ کے گھر میں! تمھیں پتا ہے، وہ سنگِ اسود جس کے گرد بڑی عید کی تقریب پر لاکھوں زائرین طواف کرتے ہیں۔ خیر، یہ وہی پتھر ہے جس کے متعلق میں تمھیں بتا رہا تھا… بہشت میں یہی پتھر آدم کا تخت تھا… لیکن جب اللہ نے آدم اور حوا کو بہشت سے نکال کر زمین پر بھیجا تو اس پتھر کو بھی بھیج دیا، تاکہ اولادِ آدم اس کو اپنے مسئلے اور تکلیفیں سناتی رہے… اور یہی پتھر ہے جو جبرئیل فرشتے نے ہاجرہ اور ان کے بیٹے اسمٰعیل کو تکیے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اُس وقت دیا تھا جب ابراہیم نے کنیز اور اس کے بیٹے کو صحرا میں چھوڑ دیا تھا… ہاں، یہی پتھر ہے جو ساری دنیا کے بدنصیب لوگوں کے لیے ہے۔ وہاں جاؤ! اور اس کے سامنے تب تک اپنی تکلیفیں بیان کرتی رہو جب تک وہ پھٹ نہ جائے… جب تک تمھیں اپنے آزار سے نجات نہ مل جائے۔‘‘ ‘ رنج سے اس کے ہونٹ راکھ جیسے بھورے پڑ جاتے ہیں۔ وہ ایک لمحے کو ماتم کی سی خاموشی میں بیٹھی رہتی ہے۔
بھرائی ہوئی آواز میں، وہ بات جاری رکھتی ہے۔ ’’صدہا صدیوں سے زائرین اس پتھر کے گرد طواف کرنے مکہ جاتے ہیں، دعائیں مانگنے ہیں، پھر ایسا کیوں ہوا کہ وہ ابھی تک نہیں پھٹا؟‘‘ ایک طنزیہ ہنسی اس کی آواز میں کھنک پیدا کر دیتی ہے، اور اس کے ہونٹوں کا رنگ لوٹ آتا ہے۔ ’’ایک نہ ایک دن وہ پتھر پھٹ جائے گا، اور اسی دن دنیا ختم ہو جائے گی۔قیامت کا طور یہی ہے شاید۔‘‘
کوئی صحن میں چل رہا ہے۔ وہ خاموش ہو جاتی ہے۔ قدم دور چلے جاتے ہیں۔ وہ بات جاری رکھتی ہے۔ ’’تمھیں ایک بات بتاؤں؟… میرا خیال ہے مجھے وہ جادوئی پتھر مل گیا ہے… میرا اپنا سنگِ جادو۔‘‘ ہمسائے کے گھر کے ملبے سے آتی ہوئی آوازیں ایک بار پھر اسے اپنے خیالات کے اظہار سے روک دیتی ہیں۔ وہ بےچین ہوکر کھڑی ہو جاتی ہے اور کھڑکی کے نزدیک جاتی ہے۔ پردے کھولتی ہے۔ جو کچھ دیکھتی ہے اس سے پتھر ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کا ہاتھ منھ تک جاتا ہے۔ وہ کوئی آواز نہیں نکالتی۔ وہ پردے بند کرتی ہے، اور منظر کو زرد اور نیلے آسمان کے سوراخوں میں سے دیکھتی ہے۔ ’’وہ لاشوں کو انھی کے باغیچے میں دفنا رہے ہیں!‘‘ وہ خبر دیتی ہے۔ ’’اور بوڑھی عورت کہاں ہے؟‘‘ وہ کافی دیر تک خاصی ساکت کھڑی رہتی ہے۔ مغلوب ہوکر، وہ اپنے مرد کی طرف مڑتی ہے۔ فرش پر لیٹ جاتی ہے، اس کے سر سے سر ملا کر۔ اپنی کہنی آنکھوں پر رکھ کر انھیں چھپا لیتی ہے، گہرے سانس خاموشی سے لیتی رہتی ہے، پہلے کی مانند۔ اسی آہنگ کے ساتھ جو مرد کا ہے۔
دفنانے سے متعلق قرآن کی آیتیں پڑھتے ہوے ملّا کی آواز بارش میں ڈوب جاتی ہے۔ ملّا اپنی آواز بلند کرتا ہے اور دعائیں جلدی جلدی پڑھتا ہے، تاکہ یہ سب جلد سے جلد ختم ہو جائے۔
شور اور سرگوشیاں بھیگے ہوے ملبے میں منتشر ہو جاتی ہیں۔
کوئی گھر کی طرف آ رہا ہے۔ اب وہ دروازے کے پیچھے ہے۔ دستک دیتا ہے۔ عورت جنبش نہیں کرتی۔ پھر دستک۔ ’’کیا کوئی ہے؟ میں آیا ہوں، ملّا!‘‘ وہ بے صبری سے چیخ کر کہتا ہے۔ عورت، اس کی چلّانے پر بہری بنی رہتی ہے، اب بھی جنبش نہیں کرتی۔ ملّا چند الفاظ بڑبڑاتا ہے، اور چلا جاتا ہے۔ وہ بیٹھ جاتی ہے، اور دیوار سے کمر ٹکا لیتی ہے، اور ہلے ڈلے بغیر بیٹھی رہتی ہے، حتیٰ کہ ملّا کے بھیگے ہوے قدموں کی آواز گلی میں غائب ہوجاتی ہے۔
’’مجھے اپنی پھوپھی کے گھر جانا ہوگا۔ مجھے بچیوں کے پاس رہنے کی ضرورت ہے!‘‘ وہ کھڑی ہوجاتی ہے۔ کچھ دیر کھڑی رہتی ہے، صرف اتنی دیر کہ مرد کی چند سانسیں سن سکے۔
اپنی چادر اٹھانے سے پہلے، یہ الفاظ اس کے منھ سے پھوٹ پڑتے ہیں: ’’سنگِ صبور!‘‘ وہ اچھل پڑتی ہے۔ ’’یہی نام ہے اس پتھر کا۔ سنگِ صبور، صبر کا پتھر! جادو کا پتھر!‘‘ وہ مرد کے نزدیک اکڑوں بیٹھ جاتی ہے۔ ’’ہاں، تم ، تم ہی میرے سنگِ صبور ہو!‘‘ وہ اس کے چہرے کو نرمی سے تھپتھپاتی ہے، جیسے فی الحقیقت کسی بیش بہا پتھر کو چھو رہی ہو۔ ’’میں تمھیں سب کچھ بتانے جا رہی ہوں، میرے سنگِ صبور! ہر ایک بات۔ حتیٰ کہ میں خود کو اپنے آزار سے، اپنی کلفتوں سے آزاد کر لوںگی، جب تک کہ تم ، تم…‘‘ وہ بقیہ بات ان کہی چھوڑ دیتی ہے۔ تاکہ مرد خود اس کا تصور کرتا رہے۔
وہ کمرے سے باہر چلی جاتی ہے،پھر راہداری سے ، اور گھر سے ۔
دس سانسوں کے بعد وہ لوٹ آتی ہے، بے قابو سانسوں کے ساتھ۔ وہ اپنی بھیگی ہوئی چادر فرش پر ڈال دیتی ہے اور مرد کی طرف دوڑتی ہے۔ ’’وہ آج رات پھر گشت کریںگے— اس بار ، میرے خیال میں، حزبِ مخالف کے لوگ۔ سب گھروںکی تلاشی لیںگے… وہ ضرور تم کو دیکھ لیں گے… وہ تم کو مار ڈالیںگے!‘‘ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھتی ہے۔ بالکل قریب سے اس کا جائزہ لیتی ہے۔ ’’میں انھیں ایسا نہیں کرنے دوںگی! اب مجھے تمھاری ضرورت ہے، میرے سنگِ صبور!‘‘ وہ دروازے کی سمت جاتی ہے، کہتی ہے، ’’میں تہ خانہ ٹھیک کرنے جا رہی ہوں،‘‘ اور کمرے سے چلی جاتی ہے۔
کوئی دروازہ چرچراتا ہے۔ اس کے قدموں کی آواز سیڑھیوں پر گونجتی ہے۔ اچانک وہ زور سے چلّاتی ہے، ’’اوہ نہیں، یہ نہیں ہو سکتا!‘‘ وہ واپس اوپر آتی ہے، گھبرائی ہوئی۔ ’’تہہ خانے میں پانی بھر گیا ہے!‘‘ بے چینی سے چہل قدمی کرتی ہے۔ اس کا ہاتھ اپنی پیشانی پر ہے، جیسے اپنی یادداشت کو کھنگال رہی ہو کہ کس جگہ اپنے مرد کو چھپائے۔ کوئی جگہ نہیں ہے۔ پس سب کچھ یہیں ہوگا، اسی کمرے میں۔ فیصلہ کن انداز میں وہ سبز پردہ کھینچتی ہے، اور اس کو ایک طرف کھسکا دیتی ہے۔ یہ کباڑ خانہ ہے۔ تکیوں، کمبلوں اور گدوں کے انبار سے بھرا ہوا۔
اس جگہ کو خالی کرنے کے بعد، وہ وہاں ایک گدا بچھا دیتی ہے۔ وہ زیادہ بڑا ہے۔وہ اسے موڑ کر ایک تہہ لگا دیتی ہے ، اور اس کے ارد گرد کُشن ڈال دیتی ہے۔ ایک قدم پیچھے ہٹتی ہے، تاکہ اپنے کام کا ٹھیک سے جائزہ لے سکے —اس کے سنگِ بیش بہا کا گوشہ۔ مطمئن ہوکر، وہ پھر اپنے مرد کی طرف پلٹتی ہے۔ بہت احتیاط سے وہ ٹیوب کو اس کے منھ سے نکالتی ہے، اس کے کندھے پکڑ تی ہے، اس کو اوپر اٹھاتی ہے، جسم کو گدے پر گھسیٹ لاتی ہے۔ وہ اس اہتمام سے اسے رکھتی ہے کہ وہ تقریباً نیم دراز نظر آ رہا ہے، کشنوںکے سہارے اسے بٹھاتی ہے۔ اس کا رخ کمرے کے داخلی دروازے کی طرف ہے۔ مرد کی بے تاثر نظر اب بھی منجمد ہے، گلیم پر کسی جگہ۔ وہ ڈرپ بیگ کو پھر سے دیوار پر ٹانگتی ہے، ٹیوب کو اس کے منھ میں لگاتی ہے، سبز پردہ پھر سے ڈھک دیتی ہے، اور اس خفیہ جگہ کو بقیہ گدوں اور کمبلوں سے چھپا دیتی ہے۔ اب کبھی پتا نہیں چلے گا کہ یہاں کوئی ہے۔
’’میں کل آؤںگی۔‘‘ وہ سرگوشی کرتی ہے۔ وہ دروازے میںہے،اپنی چادر اٹھانے کے لیے جھکتی ہے۔ تبھی اچانک گولی چلنے کی آواز،جو زیادہ دور نہیں،اس کو فرش میں گاڑ دیتی ہے، بیچ عمل میں ہی ساکت کر دیتی ہے۔ دوسرا دھماکا، زیادہ قریب۔ پھر تیسرا… اور پھر گولیوں کی آوازیں ہر سمت سے آنا ، اور ہر سمت میں جانا شروع کر دیتی ہیں۔
فرش پر بیٹھی، ’’میری بچیاں…‘‘ کے اس کے بین کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتے، وہ ٹینک کی بھدی گڑگڑاہٹ میں ڈوب جاتے ہیں۔
جھک کر چلتی ہوئی وہ کھڑکی تک پہنچتی ہے۔ پردوں کے سوراخوں سے باہر جھانکتی ہے، اور مایوسی سے بھر جاتی ہے۔ آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی ایک کراہ اس کے سینے سے اٹھتی ہے، ’’خدایا! ہماری حفاظت کر۔‘‘
وہ دونوں کھڑکیوں کے درمیان دیوار سے لگ کر بیٹھ جاتی ہے ، خنجر کے اور اپنے مرد کی طنزیہ تاثر والی تصویر کے بالکل نیچے۔
وہ چپ چاپ آہیں بھر رہی ہے۔
گھر کے برابر میں کوئی گولی چلاتا ہے۔ وہ شاید صحن کے اندر ہے، دیوار کے پیچھے ٹھہرا ہوا۔ عورت اپنے آنسو ، اور سانسیں تھام لیتی ہے۔ وہ پردے کا نچلا سرا اٹھاتی ہے۔ کسی آدمی کو سڑک کی طرف گولی چلاتے دیکھ کر، وہ تیزی سے پلٹتی ہے، اور چوکنّے انداز میں دروازے کی طرف بڑھتی ہے۔ راہداری میں کسی مسلح آدمی کی پرچھائیں اس کو وہیں منجمد کر دیتی ہے۔ ’’کمرے میں واپس جاؤ!‘‘ وہ کمرے میں واپس چلی جاتی ہے۔ ’’بیٹھ جاؤ اور جنبش مت کرنا!‘‘ وہ اسی جگہ بیٹھ جاتی ہے جہاں اس کا مرد لیٹارہتا تھا، اور جنبش نہیں کرتی۔ تاریک راہداری میں سے آدمی نکلتا ہے، عمامہ باندھے ہوے ،جس کے ایک سرے سے اس نے اپنا نصف چہرہ چھپا رکھا ہے۔ وہ دروازہ گھیر کر کھڑا ہو جاتا ہے، اور کمرے پر قابض ہو جاتا ہے۔ اس کے عمامے کے تنگ شگاف سے اس کی نگاہ کمرے کا جائزہ لیتی ہے۔ ایک لفظ کہے بغیر، وہ کھڑکی تک آتا ہے اور باہر سڑک کی جانب نظر ڈالتا ہے جہاں اب بھی گولیاں چل رہی ہیں۔ وہ عورت کو تسلی دینے کے لیے اس کی طرف گھومتا ہے۔ ’’ڈرو نہیں، خواہر۔ میں تمھاری حفاظت کروںگا۔‘‘ ایک مرتبہ پھر وہ اپنے اطراف کا جائزہ لیتا ہے۔ عورت خوف زدہ نہیں ہے، بلکہ مایوس ہے۔ پھر بھی وہ خود کو کسی طرح پرسکون اور پر اعتماد ظاہر کرتی ہے۔
دو مردوں کے درمیان بیٹھی، جن میں سے ایک سیاہ عمامے کے پیچھے چھپا ہوا ہے اور دوسرا سبز پردے کے پیچھے، اس کی آنکھیںڈھٹائی سے جھلملاتی ہیں۔
مسلح آدمی اپنی ایڑیوں کے بل اکڑوں بیٹھ جاتا ہے، اس کی انگلیاں ٹرِگر پر ہیں۔
اب بھی مشکوک اور بے چین، وہ پردے پر سے نظریں ہٹاکر عورت کی طرف دیکھتا ہے، اور اس سے پوچھتا ہے، ’’کیا تم تنہا ہو؟‘‘ پرسکون آواز میں— جو حد سے زیادہ پرسکون ہے— وہ جواب دیتی ہے، ’’نہیں۔‘‘ ایک لمحے کو خاموش رہتی ہے، پھر جوش کے ساتھ کہتی ہے، ’’اللہ میرے ساتھ ہے۔‘‘ پھر چپ ہو جاتی ہے، اور سبز پردے کی طرف ایک نظر ڈالتی ہے۔
مرد خاموش ہے۔ وہ عورت کو گھور رہا ہے۔
باہر گولی باری تھم چکی ہے۔ واحد آواز، جو فاصلے پر سنی جا سکتی ہے، جاتے ہوے ٹینک کی بھدی گڑگڑاہٹ ہے۔
کمرہ، صحن اور سڑک ایک بوجھل اور دھویں بھری خاموشی میں ڈوب جاتے ہیں۔
قدموں کی آواز سے آدمی اچھل پڑتا ہے اور اپنی بندوق عورت کی طرف سادھتا ہے، اس کو جنبش نہ کرنے کا اشارہ کرتے ہوے۔ وہ پردے کے سوراخ سے باہر جھانکتا ہے۔ اس کے کندھوں کا تناؤ ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔ وہ پرسکون ہو جاتا ہے۔ وہ پردے کو تھوڑا سا اٹھاتا ہے اور نیچی آواز میں خفیہ کوڈ پھسپھساتا ہے۔ قدم رک جاتے ہیں۔ آدمی سرگوشی کرتا ہے، ’’ارے، یہ میں ہوں۔ اندر آجاؤ!‘‘
دوسرا آدمی کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ اس نے بھی عمامہ باندھ رکھا ہے اور اس کے ایک حصے سے چہرہ چھپا رکھا ہے۔ اس کا لاغر، دراز قامت بدن ’پاتو‘ میں چھپا ہوا ہے— ایک لمبی، وزنی، اونی شال میں۔ عورت کی موجودگی سے حیران، وہ اپنے ساتھی کے برابر میں بیٹھ جاتا ہے، جو اس سے پوچھتا ہے، ’’تو؟‘‘ دوسرا آدمی نظریں عورت پر جمائے ہوے جواب دیتا ہے، ’’سب ٹھ… ٹھ… ٹھیک ہے۔ ج… ج… جنگ ب… بندی ہو چکی ہے!‘‘ ہکلاتے ہوے اس نوعمر لڑکے کی آواز ایسی ہے جو ابھی ٹوٹنے کے عمل سے گزر رہی ہے۔
’’کب تک؟‘‘
’’م…م…مجھے پ… پپ… پتا نہیں!‘‘ وہ جواب دیتا ہے، عورت کی موجودگی کی وجہ سے اس کے حواس ابھی تک بجا نہیں۔
’’ٹھیک ہے، یہاں سے باہر نکلو اور پہرہ دو۔ ہم آج رات یہیں رک رہے ہیں۔‘‘
نوجوان آدمی احتجاج نہیں کرتا۔ ابھی تک عورت کو گھورتے ہوے، وہ ’’ا…ا…ایک س… س… س… سگریٹ‘‘ طلب کرتا ہے،جس پر پہلا آدمی جلد ازجلد نجات پانے کے لیے اسے فوراً سگریٹ تھما دیتا ہے۔ پھر اپنا ڈاڑھی دار چہرسے صافہ کھول کر وہ اپنے لیے بھی سگریٹ جلاتا ہے۔
لڑکا دروازے میں سے تحیر آمیز آخری نظر عورت پر ڈالتا ہے، اور متامل سا راہداری میں غائب ہو جاتا ہے۔
عورت جہاں تھی، وہیں بیٹھی رہتی ہے۔ وہ آدمی کی ہر جنبش کو مشکوک نظروں سے دیکھتی ہے، جسے اب بھی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ’’کیا تمھیں تنہا رہنے سے ڈر نہیں لگتا؟‘‘ دھواں چھوڑتے ہوے آدمی اس سے پوچھتا ہے۔ وہ اپنے کاندھوں کو جھٹکا دیتی ہے۔ ’’کیا میرے پاس کوئی متبادل ہے؟‘‘ ایک اور لمبا کش لے کر آدمی پوچھتا ہے، ’’کیا تمھارا کوئی ہے جو تمھاری دیکھ بھال کرتا ہے؟‘‘ عورت سبز پردے پر ایک نظر ڈالتی ہے۔ ’’نہیں، میں بیوہ ہوں!‘‘
’’کس کی طرف ہو؟‘‘
’’تمھاری طرف، غالباً۔‘‘
آدمی اس بات کو آگے نہیں بڑھاتا۔ وہ ایک اور گہرا کش لیتا ہے، اور پوچھتا ہے، ’’کیا تمھارے پاس بچے بھی ہیں؟‘‘
’’ہاں۔ دو… دو لڑکیاں۔‘‘
’’وہ کہاں ہیں؟‘‘
’’میری پھوپھی کے گھر۔‘‘
’’اور تم — تم یہاں کیوں ہو؟‘‘
’’کام کے لیے۔ مجھے اپنی روزی کمانی پڑتی ہے، تاکہ اپنی دونوں بچیوں کا پیٹ پال سکوں۔‘‘
’’اور کمانے کے لیے تم کیا کرتی ہو؟‘‘
عورت اس کی آنکھوں میں براہِ راست دیکھتی ہے، اور کہتی ہے، ’’میں اپنی روزی اپنے جسم کے پسینے سے کماتی ہوں۔‘‘
’’کیا؟‘‘ وہ الجھن میں پڑ جاتا ہے۔
عورت جواب دیتی ہے، اس کی آواز میں بے حیائی ہے، ’’میں اپنا جسم بیچتی ہوں۔‘‘
’’یہ کیا بکواس ہے؟‘‘
’’میں اپنا جسم بیچتی ہوں، جس طرح تم اپنا خون بیچتے ہو۔‘‘
’ ’تم کیا کرنے پہ تلی ہو؟‘‘
’’میں مردوں کی لذت کے لیے اپنا جسم بیچتی ہوں!‘‘
غصے سے مغلوب ہو کر، آدمی تھوکتا ہے،’ ’اللہ، الرحمٰن! المومن! میری حفاظت کر!‘‘
’’کس سے؟‘‘
وہ اپنے خدا کو پکارتا جاتاہے اور سگریٹ کا دھواں اس کے منھ سے خارج ہوتا رہتاہے، ’’بسم اللہ!‘‘ شیطان کو بھگانے کے لیے : ’’شیطان سے میری حفاظت فرما!‘‘ پھر ایک اور گہرا کش لیتا ہے جو غصہ بھرے الفاظ کے ساتھ باہر نکلتا ہے، ’’لیکن یہ سب کہتے ہوے تم کو شرم نہیں آ رہی ہے؟‘‘
’’کہنے پر شرم ، یا کرنے پر؟‘‘
’’تم مسلمان ہو یا نہیں؟‘‘
’’میں مسلمان ہوں۔‘‘
’’تم سنگسار کی جاؤگی! تم جہنم کے شعلوں میں زندہ جلائی جاؤگی!‘‘
وہ کھڑا ہو جاتا ہے اور قرآن کی ایک طویل آیت پڑھتا ہے۔ عورت اب بھی بیٹھی ہوئی ہے۔ اس کی آنکھوں میں نفرت ہے۔ گستاخی کے ساتھ وہ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتی ہے، سر سے پاؤں تک، اور پاؤں سے سر تک۔ وہ تھوک رہا ہے۔ اس کی سگریٹ کا دھواں، اس کی ڈاڑھی کے غصے کو، اس کی آنکھوں کی سیاہی کو چھپا لیتاہے۔ وہ ایک کالی نظر کے ساتھ آگے کی طرف بڑھتا ہے۔ عورت کی طرف اپنی بندوق کا نشانہ سادھ کر وہ طیش میں چیختا ہے، ’’ میں تجھے مار رہا ہوں، فاحشہ!‘‘ بندوق کی نال اس کے پیٹ پر لگاتا ہے۔ ’’میں تیری اس غلیظ کُس کو اڑانے والا ہوں! خبیث طوائف! شیطان!‘‘ وہ اس کے منھ پر تھوکتا ہے۔ عورت جنبش نہیں کرتی۔ وہ آدمی کی طرف تمسخر سے دیکھتی ہے۔ جذبات سے عاری ،وہ اسے گولی مارنے کے لیے للکارتی ہوئی لگتی ہے۔
آدمی دانت پیستا ہے، زور سے چلّاتا ہے اور گھر سے نکل جاتا ہے۔
عورت بے حس وحرکت بیٹھی رہتی ہے، حتیٰ کہ اس آدمی کے صحن میں پہنچنے کے بعد، وہ اس کو دوسرے آدمی سے کہتے ہوے سنتی ہے، ’’چلو۔ یہاں سے چل دیں۔ یہ کفر کا گھر ہے!‘‘ یہاں تک کہ وہ کیچڑ بھری سڑک پر ان کے بھاگتے قدموں کی آواز سنتی ہے۔
وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے، آہ بھرتی ہے۔ دھویں بھری ہوا جو اس نے کافی دیر سے پھیپھڑوں میں روک رکھی تھی، باہر نکالتی ہے۔ ایک فاتحانہ مسکراہٹ اس کے خشک ہونٹوں پر مچل جاتی ہے۔ سبز پردے کی طرف دیر تک دیکھنے کے بعد وہ اپنا بدن سیدھا کرتی ہے اور اپنے مرد کی طرف بڑھتی ہے۔ ’’مجھے معاف کردو!‘‘ وہ سرگوشی کرتی ہے۔ ’’مجھے اس سے اسی طرح بات کرنی تھی —ورنہ، وہ مجھے ریپ کرتا۔‘‘ طنزیہ ہنسی سے اس کا بدن لرزنے لگتا ہے۔ ’’اس جیسے آدمیوں کے لیے کسی طوائف سے جماع کرنا یا اس کا ریپ کرنا کوئی کامیابی کی بات نہیں ۔ اپنی غلاظت ایک ایسے سوراخ میں انڈیلنے میں ، جو پہلے ہی سیکڑوں لوگوں کے کام آیا ہو، کوئی مردانگی نہیں ہے۔ کیا میں ٹھیک نہیں کہہ رہی ہوں، میرے سنگِ صبور؟ تم جانتے ہوگے۔ اس جیسے آدمی فاحشہ عورتوں سے ڈرتے ہیں۔ اور جانتے ہو کیوں؟ میں تمھیں بتاتی ہوں، میرے سنگِ صبور: جب تم کسی فاحشہ سے جماع کرتے ہو تو تم اس کے بدن پر غالب نہیں ہوتے۔ بلکہ یہ ادلا بدلی کا معاملہ ہوتا ہے۔ تم اسے رقم دیتے ہو، وہ تم کو لذت دیتی ہے۔ اور میں تم سے اتنا کہوںگی کہ اکثر وہی غالب ہوتی ہے۔ وہی ہے جو تم سے جماع کرتی ہے۔‘‘ عورت پرسکون ہو جاتی ہے۔ پرسکون ہونے کے بعد، وہ بات جاری رکھتی ہے، ’’کسی فاحشہ کو ریپ کرنا ریپ نہیں ہے۔ بلکہ کسی نوجوان لڑکی کا کنوارپن توڑنا، کسی عورت کی عفت مٹانا ریپ ہے! یہی تمھارا عقیدہ ہے!‘‘ وہ چپ ہو جاتی ہے، خاموشی کا ایک طویل وقفہ اپنے مرد کے لیے چھوڑتی ہے تاکہ اگر وہ سوچ سکتا ہو— اور اسے یقین ہے وہ سوچ سکتا ہے— تو وہ ا س کے الفاظ پر غور کرے۔
’’کیا تم متفق نہیں ہو، میرے سنگِ صبور!‘‘ وہ بات جاری رکھتی ہے۔ وہ پردے کے پاس پہنچتی ہے، خفیہ جگہ کو چھپانے والے کچھ گدوں کو ہٹاتی ہے۔ وہ اپنے مرد کی شیشہ آنکھوں میں غور سے دیکھتی ہے، اور کہتی ہے، ’’مجھے امید ہے، میرے سنگِ صبور، کہ جو کچھ میں کہہ رہی ہوں وہ سب تم سمجھ رہے اور جذب کر رہے ہو۔‘‘ اس کا سر پردے میں تھوڑا سا جھانکتا ہے۔ ’’شاید تم حیرت میں ہو کہ یہ سب میں نے کہاں سے سیکھا! اوہ میرے سنگِ صبور! تمھیں بتانے کے لیے ابھی میرے پاس بہت سی باتیں ہیں…‘‘ وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ ’’ایسی باتیں جو میرے اندر کافی دن سے جمع ہو گئی ہیں۔ ہمیں کبھی اس کا موقع نہیں ملا کہ ان پر بات چیت کرتے۔ یا —ایمان سے کہوں تو— تم نے مجھے کبھی اس کا موقع ہی نہیں دیا۔‘‘ وہ چپ ہو جاتی ہے، ایک سانس لینے کے لیے، خود سے یہ پوچھنے کے لیے کہ بات کہاں سے اور کس طرح شروع کرے۔ لیکن ملّا کی آواز، جو مغرب کے وقت ایمان والوں کو خدا کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے بلا رہا ہے، اس کو ہراساں کر دیتی ہے، اور اس کے رازوں کو واپس اس کے اندر کھدیڑ دیتی ہے۔ وہ یکایک کھڑی ہو جاتی ہے: ’’خدا میری زبان کاٹ ڈالے! اندھیرا ہونے والا ہے! میرے بچے!‘‘ وہ ہجرتی پرندوں کے نمونوں والے پردوں کو اٹھانے کو دوڑتی ہے۔ بارش کے سرمئی پردے کے پیچھے ہر شے ایک بار پھر اداس تاریکی میں غوطہ لگا چکی ہے۔
جب تک اس نے شکر اور نمک کے محلول کے قطروں کے درمیانی وقفے کا آخری جائز ہ لیا،اپنی چادر اٹھائی، دروازے بند کیے اور صحن میں آئی، تب تک خاصی دیر ہو چکی تھی۔ اب اذان ختم ہو چکی ہے، اور ملّا علاقے میں کرفیو کا اعلان کرتا ہے اور ہر شخص سے جنگ بندی کا احترام کرنے کو کہتا ہے۔
عورت کے قدم گیلی زمین پر تھم جاتے ہیں۔
وہ متذبذب ہیں۔
وہ گم ہیں۔
وہ لوٹ جاتے ہیں، اسی راہ پر ،جس سے چل کر آئے تھے۔
عورت کمرے میں واپس آتی ہے۔
پریشان ہوکر وہ اپنی چادر فرش پر گرا دیتی ہے، اور تھک کر، خود کو اس گدے پر گرا دیتی ہے جس پر پہلے اس کے مرد کا جسم قابض تھا۔ ’’میں اپنی بیٹیوں کو اللہ کے ہاتھوں میں سونپتی ہوں!‘‘وہ قرآن کی کوئی آیت پڑھتی ہے، تاکہ اس کی بیٹیوں کی حفاظت کرنے میں خدا کی قدرت پر خود بھی قائل ہو سکے۔ پھر وہ لیٹ جاتی ہے، خود کو کمرے کی تاریکی کے حوالے کر دیتی ہے۔ اس کی آنکھیں اندھیرے میں گدوں کی طرف دیکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ گدوں کے پیچھے ،سبز پردہ۔ پردے کے پیچھے، اس کا مرد، اس کا سنگِ صبور۔
دور کہیں، بندوق چلنے کی آواز۔ پھر ایک اور آواز، نزدیک سے۔ اور اس طرح جنگ بندی ختم ہو جاتی ہے۔
عورت کھڑی ہو جاتی ہے، اور سادہ سبز پردے کی طرف چلتی ہے۔ وہ گدوں کو ایک طرف سرکاتی ہے، لیکن پردہ کھولتی نہیں۔ ’’پس آج مجھے یہاں رکنا ہوگا۔ میرے پاس پوری رات ہے، تم سے باتیں کرنے کے لیے، میرے سنگِ صبور! خیر، میں کیا کہہ رہی تھی، جس وقت اس احمق ملّا نے چیخنا شروع کیا؟‘‘ وہ اپنے خیالات کو مرکوز کرتی ہے۔ ’’ارے ہاں، تم حیران تھے کہ میرے پاس وہ سب خیالات کہاں سے آئے ہوںگے۔ یہی بات تھی۔ یہی تھی نا؟ میری زندگی میں دو استاد مجھے ملے— میری پھوپھی اور تمھارے ابا۔ میری پھوپھی نے مجھے سکھایا کہ مردوں کے ساتھ کیسے رہنا چاہیے، اور تمھارے ابا نے سکھایا کہ کیوں رہنا چاہیے۔ میری پھوپھی…‘‘ وہ پردے کو تھوڑا سا کھولتی ہے۔ ’’تم ان کو بالکل نہیں جانتے۔ اور شکر اللہ کا! ورنہ تم ان کو بوریے بستر سمیت فوراً نکال دیتے۔ اب میں تمھیں ہر بات بتا سکتی ہوں۔ وہ میرے ابا کی اکلوتی بہن ہیں۔ کیا ہی عورت ہیں! میں انھی کی حرارت میں لپٹ کر بڑی ہوئی۔ میں ان سے اپنی ماں سے زیادہ محبت کرتی تھی۔ وہ فیاض دل تھیں۔ خوبصورت تھیں۔ بہت خوبصورت۔ بڑے دل والی۔ وہی تھیں جنھوں نے مجھے پڑھنا سکھایا، اور جینا بھی… لیکن پھر ان کی زندگی نے ایک الم انگیز موڑ لے لیا۔ ان کی شادی ایک خوفناک امیر آدمی سے کردی گئی۔ پورا حرام زادہ۔ گندی دولت سے ٹھنسا ہوا۔ شادی کے بعد دو برس تک میری پھوپھی اس کے لیے بچہ پیدا نہ کرسکیں۔ میں ’اس کے لیے‘ کہہ رہی ہوں کیونکہ تم مرد اسی طرح دیکھتے ہو۔ خیر، میری پھوپھی بانجھ نکلیں۔ دوسرے لفظوں میں، بے مصرف شے۔ پس ان کے شوہر نے ان کو اپنے والدین کے پاس دیہات بھیج دیا تاکہ ان کی خادمہ بن کر رہیں۔ کیونکہ وہ خوبصورت تھیں اور بانجھ بھی، اس لیے ان کا خسر رتی بھر بھی پروا کیے بغیر ان سے جماع کیا کرتا تھا۔ رات دن۔ بالآخر ایک دن وہ چٹخ گئیں۔ اس کاسر پھوڑ ڈالا۔ انھوںنے ان کو سسرال سے نکال دیا۔ ان کے شوہر نے بھی ان کو نکال دیا۔ ان کے اپنے خاندان والوں نے بھی چھوڑ دیا— میرے ابا سمیت۔ پس خاندان کی یہ ’کالی بھیڑ‘ غائب ہو گئی، ایک تحریر چھوڑ کر، جس کے مطابق انھوں نے اپنے جینے کے دن ختم کر دیے، اپنا جسم قربان کر دیا، اسے راکھ بنا دیا !کوئی پتا نشان نہیں چھوڑا۔ کوئی قبر تک نہیں۔ اور یقیناً، یہ بات سب کے لیے سہولت کا باعث تھی۔ کوئی جنازہ نہیںاٹھا، اس ’ڈائن‘ کے لیے کوئی دعا نہیںکی گئی۔ میں ہی اکیلی تھی جو روئی تھی۔ اس وقت میں چودہ برس کی تھی۔ میں ہر وقت ان کے بارے میں سوچا کرتی تھی۔‘‘ وہ چپ ہو جاتی ہے، سر جھکا لیتی ہے، اپنی آنکھیں بند کرلیتی ہے، جیسے انھی کا خواب دیکھ رہی ہو۔
چند سانسوں کے بعد ، وہ بات پھر شروع کرتی ہے، جیسے سحر زدہ ہو۔ ’’ایک دن ، سات سال سے زیادہ ہو گئے، جب تم جنگ سے لوٹے تھے ٹھیک اس سے پہلے، میں تمھاری ماں کے ساتھ بازار میں گھوم رہی تھی۔ میں زیرجاموں کے اسٹال پر رک گئی۔ اچانک میں نے ایک آوازسنی، جسے میں پہچانتی تھی۔ میں گھوم گئی۔میری پھوپھی سامنے تھیں۔ ایک لمحے کو میں نے سوچا کہ مجھے ان کا آسیب نظر آرہا ہے۔ لیکن یہ سچ مچ وہی تھیں۔ میں نے انھیں سلام کیا، لیکن انھوں نے ایسا ظاہر کیا جیسے انھوں نے سنا نہ ہو، جیسے وہ مجھے جانتی نہ ہوں۔ اور پھر بھی مجھے کامل یقین تھا ، ایک سو ایک فی صد یقین۔ مجھے اپنے خون سے معلوم تھا کہ یہ وہی ہیں۔ چنانچہ میں نے بھیڑ میں جان بوجھ کر تمھاری ماں کو کھو دیا۔ اور اپنی پھوپھی کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ میں نے انھیں اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا، ان کے گھر تک ،سارے راستے۔ میںنے ان کے داخلی دروازے پر انھیں روکا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔ انھوںنے مجھے کس کر سینے سے لگا لیا، اور گھر میں آنے کو کہا۔ اس وقت وہ ایک چکلے میں رہتی تھیں!‘‘ وہ خاموش ہو جاتی ہے، سبز پردے کے پیچھے، اپنے مرد کو چند سانسیں لینے کا موقع دینے کے لیے۔ اور خود کو بھی۔
شہر میں، گولیاں چلتی رہتی ہیں۔ بہت دور، نزدیک، اکا دکا۔
کمرے میں، ہر شے تاریکی میں ڈوب چکی ہے۔
’’میں بھوکی ہوں‘‘ کہتے ہوے وہ کھڑی ہو جاتی ہے، اور راستہ ٹٹولتی ہوئی راہداری میں، اور پھر کھانے کے لیے کچھ ڈھونڈنے کے لیے باورچی خانے میں چلی جاتی ہے۔ پہلے وہ لیمپ جلاتی ہے، جس سے راہداری کیا کچھ حصہ روشن ہو جاتا ہے، اور کمرے میں بھی تھوڑی سی روشنی چھٹک آتی ہے۔ پھر کچھ الماریوں کے کواڑ پٹخنے کے بعد ، وہ لوٹ آتی ہے — کئی دن کی باسی روٹی کا ایک ٹکڑا اور ایک پیاز ایک ہاتھ میں، اور دوسرے میں ہریکین لیمپ لیے ہوے۔ وہ اپنے آدمی کے پاس بیٹھ جاتی ہے، سبز پردے سے لگ کر، جس کو وہ لیمپ کی پیلی روشنی میں یہ دیکھنے کے لیے کھسکاتی ہے کہ اس کا سنگِ صبور پھٹ تو نہیں گیا ہے۔ نہیں۔ وہ ابھی اپنی جگہ پر ہے۔ ثابت سلامت۔ کھلی آنکھیں، تمسخرانہ تاثر، یہاں تک کہ ٹیوب بھی اس کے قابلِ رحم انداز میں ادھ کھلے منھ میں ٹھنسی ہوئی ہے۔ اس کا سینہ، معجزاتی طور پر، پہلے ہی کی مانند، اسی رفتار سے اوپر نیچے ہو رہا ہے۔
’’اور یہی پھوپھی ہیں جنھوں نے اب مجھے سہارا دیا ہے۔ وہ میرے بچوں کو چاہتی ہیں۔ اور لڑکیاں بھی انھیں چاہتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ میں کچھ پرسکون ہوں۔‘ ‘ وہ پیاز چھیلتی ہے۔ ’’وہ انھیں بے شمار قصے سناتی ہیں… جیسے وہ پہلے سناتی تھیں۔ میں بھی انھی کی کہانیوں کے ساتھ پروان چڑھی ہوں۔‘‘ وہ روٹی کے ایک ٹکڑے پر پیاز کی ایک پرت رکھتی ہے، اور پورا نوالا اپنے منھ میں ڈال لیتی ہے۔ خشک روٹی ٹوٹنے کی آواز اس کی آواز کی نرمی میں مدغم ہو جاتی ہے۔ ’’کل رات وہ ایک خاص قصہ سنانا چاہتی تھیں، جو اُـن کی ماں انھیں سنایا کرتی تھیں۔ میں نے ان سے التجا کی کہ لڑکیوں کو یہ قصہ نہ سنائیں۔ یہ بہت پریشان کن کہانی ہے۔ سفاک۔ لیکن توانائی اور جادو سے بھری ہوئی! میری بچیاں ابھی اتنی چھوٹی ہیں کہ وہ اس کو سمجھ نہیں سکیںگی۔‘‘ وہ پانی کے اُس گلاس میں سے ایک گھونٹ بھرتی ہے جو وہ اپنے آدمی کی آنکھیں نم کرنے کے لیے لائی تھی۔
’جیسا کہ تم جانتے ہو، ہمارے کنبے میں سب لڑکیاں ہی لڑکیاں ہیں۔ سات لڑکیاں۔ اور لڑکا ایک بھی نہیں۔ ہمارے والدین کو اس بات سے نفرت تھی۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ ہماری دادی نے میری بہنوں کو اور مجھے یہ قصہ سنایا۔ ایک طویل عرصے تک میں یہ سوچتی رہی کہ کیا انھوںنے خاص طور سے ہمارے لیے یہ قصہ گڑھا ہے۔ لیکن پھر میری پھوپھی نے بتایا کہ انھوںنے پہلی بار یہ کہانی اپنی دادی سے سنی تھی۔‘‘
روٹی کا دوسرا نوالہ ، پیاز کی دوسری پرت۔
’’بہرحال، ہماری دادی نے ہمیں پہلے ہی آگاہ کردیا تھا کہ یہ قصہ ایک جادوئی قصہ ہے جو ہماری حقیقی زندگیوں میں خوشیاں بھی لاسکتا ہے اور بدبختی بھی۔ اس انتباہ نے ہمیں ڈرا دیا لیکن اشتیاق کو بھی بڑھایا۔ اور اس طرح ان کی شیریں آواز ہمارے دلوں کی شوریدہ دھڑکنوں کے ساتھ یوں گونجتی گئی:
’’کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا، یا نہیں تھا۔ ایک دلکش بادشاہ۔ بہادر بادشاہ۔ لیکن اس بادشاہ کو اپنی زندگی میں ایک ہی بندش تھی —صرف ایک، لیکن انتہائی اہم: اس کے ہاں کوئی بیٹی پیدا نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس کی شادی کی رات کو، نجومیوں نے اس کو بتا دیا تھا کہ اگر اس کی بیوی نے کبھی کوئی بیٹی پیدا کی، وہ تخت و تاج کے لیے رسوائی لے کر آئے گی۔ جیسا کہ اس کی قسمت میں بدا تھا، اس کی بیوی بیٹیوں کے سوا کچھ بھی نہیں جنتی تھی۔ پس ہر پیدائش کے بعد، بادشاہ اپنے جلاد کو حکم دیتا کہ نوزائیدہ بچی کو قتل کردو۔‘‘
اپنی یادوں میں گم عورت ایک بوڑھی عورت کا روپ دھار لیتی ہے — اپنی دادی کا، بلا شبہ — اپنی پوتیوں کو قصہ سناتی ہوئی۔
’’جلاد نے پہلی لڑکی کو مار ڈالا، اور دوسری کو۔ تیسری کی باری پر، اس کو ایک ننھی آواز نے روک دیا جو نوزائیدہ کے منھ سے نکل رہی تھی۔ اس نے جلاد سے التجا کی کہ اس کی ماں کو یہ بتائے کہ اگر وہ اسے زندہ رکھے گی، تو ملکہ کی اپنی سلطنت ہوگی! ان الفاظ سے پریشان ہوکر، جلاد خفیہ طور پر ملکہ سے ملا اور جو کچھ اس نے دیکھا اور سنا تھا، سب کہہ سنایا۔ بادشاہ کو ہوا تک لگنے دیے بغیر، ملکہ فوراً ہی عطیۂ گفتار والی اس نوزائیدہ بچی کو ایک نظر دیکھنے پہنچ گئی۔ استعجاب سے معمور، لیکن دہشت زدہ ملکہ نے جلاد سے کہا کہ گاڑی تیار کرے جس میں وہ اس ملک سے بھاگ سکیں۔ ٹھیک آدھی رات کو، ملکہ، اس کی بیٹی اور جلاد نے خفیہ طور پر شہر چھوڑ دیا اور دور دراز خطے کی طرف چل پڑے۔‘‘
اس کو کچھ بھی اپنے قصے سے نہیں بھٹکاتا، گولیوں کی وہ آوازیں بھی نہیں جو گھر سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھیں۔ ’’اچانک اس طرح فرار ہونے پر غضب ناک ہوکر ، اور اپنی بیوی سے پھر سے ملنے کا عزم کرکے بادشاہ انجانے ممالک کی فتح کے لیے نکل کھڑا ہوا۔
’’ دادی ٹھیک اس جگہ قصہ موقوف کر دیتی تھیں۔ وہ ہمیشہ ایک ہی سوال پوچھتی تھیں: لیکن کیا وہ اپنی بیوی سے ملنے کے لیے ایسا کر رہا تھا، یا اس کو گرفتار کرنے کے لیے؟‘‘‘
وہ مسکراتی ہے۔ بالکل اسی انداز سے جیسے شاید اس کی دادی مسکراتی تھیں۔ اور قصہ جاری رکھتی ہے:
’’سال پر سال گزرتے گئے۔ اس کی ایک جنگی مہم کے دوران ایک چھوٹی سی سلطنت نے بادشاہ کا مقابلہ کیا، جس پر ایک بہادر، خوبصورت اور حامی ِ امن ملکہ حکومت کرتی تھی۔ یہاں کے لوگوں نے ایک غیر ملکی بادشاہ کی مداخلت کو مسترد کر دیا۔ اسی مغرور بادشاہ کی۔ چنانچہ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس سلطنت کو جلاکر خاک میں ملا دیا جائے۔ ملکہ کے مشیروں نے اسے بادشاہ سے ملاقات کرنے اور مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا۔لیکن ملکہ اس ملاقات کے خلاف تھی۔ اس نے کہا کہ مذاکرات کرنے سے بہتر یہ ہوگا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے سلطنت کو آگ لگا دے۔ اور پھر اس کی بیٹی نے— جس سے درباری اور رعایا نہ صرف اس کی غیرمعمولی خوبصورتی کی وجہ سے، بلکہ اس کی امتیازی ذہانت اور فیاض دلی کے سبب بھی بہت محبت کرتے تھے —اپنی ماں سے پوچھا کہ کیا وہ خود جاکر بادشاہ سے ملاقات کر سکتی ہے۔ یہ لگا جیسے اپنی بیٹی کی درخواست سن کر ملکہ کا دماغ ہی الٹ گیا۔ وہ چیخنے لگی، چیخ چیخ کرساری دنیا کو بد دعائیں دینے لگی۔ اس کی نیند غائب ہوگئی اور وہ سارے محل میں چکر کاٹتی پھری۔ اس نے اپنی بیٹی پرخوابگاہ سے باہر آنے یا کوئی قدم اٹھانے پر پابندی لگا دی۔ کسی کو اس کا رویہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی سلطنت اس آفتِ ناگہانی میں مزید گہری ڈوبتی گئی۔ آب و دانے کی قلت ہوتی گئی۔ شہزادی نے، جو اپنی ماں کے رویے کو بس اتنا ہی سمجھ سکتی تھی جتنا دوسرے لوگ، فیصلہ کیا کہ پابندی کے باوجود وہ جاکر بادشاہ سے ملاقات کرے گی۔ ایک رات، اپنے ایک معتمدکی مدد سے وہ بادشاہ کے خیمے تک جا پہنچی۔ اس کے فردوسی حسن کو دیکھ کر بادشاہ دیوانوں کی مانند اس کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے شہزادی کے سامنے یہ شرط رکھی: اگر وہ بادشاہ سے شادی کر لے تو وہ اس کی سلطنت پر ہر دعوے سے دستبردار ہو جائے گا۔ خود بھی سحر زدہ ہوکر شہزادی اس کے لیے راضی ہو گئی۔ انھوں نے وہ رات ساتھ میں گزاری۔ علی الصبح، وہ فاتحانہ احساس کے ساتھ اپنے محل کو لوٹی، تاکہ اپنی ماں کو اس ملاقات کے بارے میں بتائے۔ خوش بختی سے، ا س نے اس کو یہ نہیں بتایا کہ اس نے اس کے خیمے میں رات بھی گزاری ہے۔ جیسے ہی ا س نے سنا کہ اس کی بیٹی بادشاہ سے ملاقات کر بیٹھی ہے، اسے مایوسی نے بری طرح گھیر لیا۔ وہ زندگی میں ہر امتحان کا سامنا کرنے کو تیار تھی، لیکن اس بات کا نہیں۔ صدمے سے مغلوب ہوکر وہ چلّائی، ’ہاے ری قسمت! ہاے رے بدبختی!‘ اور بےہوش ہو گئی۔ اس کی ماں کے ذہن میں کیا چل رہا ہے، اس سے لاعلم بیٹی نے اس آدمی سے بات کی جس نے ساری عمر اس کی ماں کا ساتھ دیا تھا، اور اس سے اپنی ماں کی پریشانی کا سبب پوچھا۔ اور اس طرح اس نے یہ کہانی سنائی۔ ’ پیاری شہزادی، جیسا کہ تم جانتی ہو، میں تمھارا باپ نہیں ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ تم اسی متکبر بادشاہ کی بیٹی ہو! اور جہاں تک میری بات ہے، تو میں اس کا جلاد تھا۔‘پھر اس نے جو کچھ گزرا تھا سب کہہ سنایا اور اس پہیلی نما انجام پر اپنی بات ختم کی: ’اور یہی ہماری قسمت ہے، میری شہزادی۔ اگر ہم بادشاہ کو اپنی حقیقت بتاتے ہیں تو قانون کے مطابق ہم تینوں کو سولی چڑھا دیا جائے گا اور اس سلطنت کی ساری رعایا اس کی غلام ہو جائے گی۔ اگر ہم اس کے ارادوں کی مخالفت کرتے ہیں تو ہماری سلطنت کو آگ لگادی جائے گی۔ اور اگر تم اس سے شادی کرتی ہو تو تم حرام تعلق کا ناقابلِ معافی گناہ کروگی! ہم سب پر اللہ کا عذاب نازل ہوگاا ور سزا ملے گی۔‘‘‘
’’کہانی کے اس نقطے پر پہنچ کر دادی خاموش ہو جایا کرتی تھیں۔ ہم ان سے کہتے تھے کہ بتائیں آگے کیا ہوا، اور وہ جواب دیتیں: ’میری ننھی لڑکیو! بد قسمتی سے میں نہیں جانتی کہ کہانی کس طرح ختم ہوتی ہے۔ آج تک، کوئی نہیں جان سکا۔ کہتے ہیں کہ جو کوئی آدمی یا عورت اس کہانی کے انجام کا پتا لگا لے گا وہ زندگی بھر کے لیے مشکلات سے محفوظ ہوجائے گا۔ ‘ میں اعتراض کیا کرتی تھی کہ اگر کوئی بھی کہانی کے انجام سے واقف نہیں، تو یہ کون بتائے گا کہ وہ انجام درست ہے؟ وہ حزن کے ساتھ ہنستی تھیں اور میری پیشانی پر بوسہ دیتی تھیں۔ ’عزیزِ من! اسی کوہم بھید کہتے ہیں۔ خاتمہ کسی بھی طرح ممکن ہے، لیکن یہ جاننا کہ کون سا خاتمہ درست ہے، اور منصفانہ ہے… یہ بات ایسا راز ہے جو ہمیشہ راز ہی رہے گا ۔‘ اس نقطے پر پہنچ کر، میں ان سے پوچھتی تھی کہ کیا یہ سچا قصہ ہے۔ اور وہ جواب دیتیں، ’میںنے تم سے کہا تھا:کسی زمانے میں کہیں ایک بادشاہ تھا، یا نہیں تھا…‘ میرا سوال بھی وہی ہوتا تھا جو وہ اپنے بچپن میں اپنی دادی ماں سے پوچھا کرتی تھیں، اور جس کے جواب میں ان کی دادی ماں کہا کرتی تھیں،’یہی بھید ہے، عزیزِ جان! یہی بھیدہے۔‘یہ قصہ برسوں تک میرے سر پر سوار رہا۔ یہ مجھے رات رات بھر جگائے رکھتا۔ ہر رات میں خدا سے دعا کرتی کہ کہانی کا خاتمہ میرے کان میں بتا دے۔ جس کا انجام شادماں ہو تاکہ میں بھی شادماں زندگی گزار سکوں۔ میں اپنے دماغ میں طرح طرح کی کھچڑی پکاتی رہتی۔ جیسے ہی کوئی نیا خیال ذہن میں آتا، سنانے کے لیے میں دوڑ کر دادی کے پاس جاتی۔ اور وہ اپنے کندھے جھٹکتیں اور کہتیں، ’یہ خاتمہ ممکن ہے، میری پیاری، یہ خاتمہ ممکن ہے۔ تمھاری زندگی ہی یہ انکشاف کرے گی کہ تم درست ہو یا نہیں۔ تمھاری زندگی ہی اس کی توثیق کرے گی۔ لیکن تم جو بھی انجام دریافت کرو، اسے کبھی کسی کو نہ بتانا، کبھی نہیں! کیونکہ، جیسا کہ جادوئی کہانیوں میں ہوتا ہے، جو کچھ تم کہتے ہو، ممکن ہے ویسا ہی ہو جائے۔ پس، طے کر لو کہ اس انجام کو خود تک ہی محدود رکھوگی۔‘‘‘
وہ کھاتی ہے۔ روٹی کاایک ٹکڑا، پیاز کی ایک پرت۔ ’’ایک بار، میں نے تمھارے باپ سے پوچھا کہ کیا انھوںنے یہ قصہ سن رکھا تھا۔ قصہ سن کر وہ دیر تک خاموش رہے، اور اس کے بعد انھوںنے یہ تیکھے الفاظ کہے: ’میری بیٹی، تم جانو، یہ سوچنا کہ اس کہانی کا کوئی خوشنما انجام ہو سکتا ہے، ایک سراب ہے۔ یہ ناممکن ہے۔ حرام رشتہ قائم ہو چکا، اس لیے المیے کا ظہور میں آنا لازمی ہے۔‘‘‘
گلی میں، ہمیں چیخنے کی آواز آتی ہے، ’رکو!‘ اور پھر گولی کی آواز۔
اور بھاگتے ہوے قدموں کی آواز۔
عورت بات جاری رکھتی ہے، ’’پس تمھارے باپ نے مجھے میرے سراب کے عذاب سے نجات دلا دی۔ لیکن چند دن کے بعد، جب صبح کو میں ان کا ناشتہ لے کر پہنچی، انھوںنے مجھ سے بیٹھنے کو کہا تاکہ ہم اس کہانی پر بات کر سکیں۔ دھیرے دھیرے اور بہت سوچ سمجھ کر یوں کہنے لگے، ’میری بیٹی، میںنے اس پر بہت سوچا ہے، اور بہت گہرائی سے سوچا ہے۔ درحقیقت، ایک خوشنما انجام بھی ممکن ہے۔‘ میں انجام کو جاننے کی اس قدر مشتاق تھی کہ مجھے لگا خود کو ان کی بانہوں میں گرا دوں، ان کے ہاتھوں اور قدموں کو چوم لوں۔ ظاہر ہے، میں نے خود کو روک لیا۔ میں تمھاری ماں اور ان کے ناشتے کو بھول گئی، اور ان کے قریب بیٹھ گئی۔ اس وقت میں ہمہ تن گوش بن چکی تھی— ایک بڑا سا کان —بقیہ ساری آوازیں، ساری صدائیں بھلائے ہوے۔ بس تمھارے باپ کی کانپتی ہوئی، عاقلانہ آواز موجود تھی، جنھوں نے چائے کا ایک بڑا سا گھونٹ سڑپ کر یہ الفاظ کہے: ’میری بیٹی، زندگی کی طرح، اس کہانی کے خوش کن انجام کے لیے بھی کسی کو قربانی دینا ضروری ہے۔ دوسرے لفظوں میں کسی کی بدبختی لازم ہے۔ کبھی نہ بھولو کہ ہر ایک خوشی کی قیمت دو بد بختیوں سے ادا کرنی پڑتی ہے۔‘ میںنے سادگی اور حیرت سے پوچھا، ’لیکن کیوں؟‘ انھوں نے سیدھے سادے لفظوں میں جواب دیا: ’میری بیٹی! بدقسمتی سے، یا شاید خوش قسمتی سے، دنیا میں ہر شخص خوشی حاصل نہیں کر سکتا، چاہے ایسا حقیقی زندگی میں ہو یا کسی کہانی کی۔ کچھ لوگوںخوشی میں ہی دوسروں کی مشکلات مضمر ہوتی ہیں۔ یہ افسوسناک تو ہے، لیکن سچ ہے۔ پس، اس کہانی میں خوشنما انجام تک پہنچنے کے لیے کسی کی بدبختی اور قربانی ضروری ہے۔ لیکن خود داری، اور اپنے عزیزوں کا خیال تمھیں اس پر غور کرنے سے روکتا ہے۔ اس کہانی میں کسی کا قتل ہونا ضروری ہے۔ لیکن کون مارا جائے؟ جواب سے پہلے، کسی کو مارنے سے پہلے، ایک اور سوال تمھیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے: تم کس کو خوش اور زندہ دیکھنا چاہتی ہو؟ بادشاہ باپ کو؟ ملکہ ماں کو؟ یا شہزادی بیٹی کو؟ جیسے ہی تم خود سے یہ سوال کرتی ہو، اسی لمحے میری بچی، ہر شے بدل جاتی ہے۔ کہانی میں بھی اور تمھارے اندر بھی۔ ایسا واقعی ہو، اس کے لیے تمھیں تین محبتوں سے نجات پانی ہوگی، خود سے محبت، باپ سے محبت اور ماں سے محبت!‘ میں نے ان سے پوچھا کہ ایسا کیوں؟ وہ بہت دیر تک میری طرف خاموشی سے دیکھتے رہے، ان کی زرد آنکھیں ان کی عینک کے پیچھے چمک رہی تھیں۔ وہ ضرور ایسے الفاظ ڈھونڈ رہے تھے جو میری سمجھ میں آجائیں: ’اگر تم بیٹی کی طرف ہو، تو خودکے لیے تمھاری محبت تمھیں بیٹی کی خودکشی کا تصور کرنے سے روکتی ہے۔ اسی طرح، باپ سے محبت تمھیں یہ سوچنے کی اجازت نہیں دیتی کہ کوئی بیٹی اپنے باپ سے عقد قبول کر سکتی ہے اور پھر شادی کی رات کو، بسترِ عروسی پر اپنے ہی باپ کو مار سکتی ہے۔ آخر میں، ماں کی محبت تمھیں ملکہ کے قتل کے تصور سے روکتی ہے تاکہ بیٹی بادشاہ کے ساتھ رہ سکے، اور سچائی اس سے چھپی رہ جائے۔ ‘ انھوں نے کچھ لمحوں تک مجھے غور کرنے دیا۔ انھوںنے چائے کا ایک اور لمبا گھونٹ بھرا اور اپنی بات جاری رکھی: ’اسی طرح ،باپ کے طور پر اگر میںاس کہانی کے انجام کا تصور کروں، تو قانون کا سختی کے ساتھ نفاذ کرتے ہوے، میں ملکہ، شہزادی اور جلاد کے سروں کو قلم کرنے کا حکم دوںگا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ غدار لوگ سزایاب ہوں اور حرام تعلق کا راز ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے۔‘ میں نے ان سے پوچھا، ’اور ماں کا مشورہ کیا ہوگا؟‘ خفیف سا خود ہی مسکراتے ہوے انھوں نے جواب دیا، ’میری بیٹی! میں مادرانہ محبت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اس لیے میں تمھیں اس کا جواب نہیں بتا سکوںگا۔ اب تم خود ایک ماں ہو۔ اب تمھاری باری ہے کہ تم مجھے بتاؤ۔ لیکن زندگی کا میرا تجربہ بتاتا ہے کہ اس ملکہ جیسی عورت اپنی سلطنت کو تباہ ، اور اپنی رعایا کو غلام ہونے دے گی، بہ نسبت اس کے کہ اس کا راز ظاہر ہو جائے۔ ماں کا سلوک اخلاقیات کے طریق پر ہوتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو اپنے باپ سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔‘
’’ اے میرے خدا! دانائی کے ان الفاظ کو سننا کتنا مشکل کام ہے! میں اب بھی ایک رحم دلانہ نتیجے کی تلاش میں دل گرفتہ تھی، اور اسی لیے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا بس اتنا ہی ممکن ہے؟ پہلے تو انھوںنے جواب دیا کہ ہاں، بس —جس سے میں مطمئن ہو گئی — لیکن وہ زور سے چیخ کر پوچھنے لگے، ’میری بیٹی، ذرا بتاؤ تو کہ اس کہانی میں معاف کرنے کا اختیار کس کو ہے؟‘ میںنے سادگی سے جواب دیا، ’باپ کو۔‘ اپنا سر ہلاتے ہوے وہ بولے، ’لیکن میری بچی، وہ باپ —جس نے خود اپنی بچیوں کو مار ڈالا، جس نے اپنی جنگوں کے دوران پورے پورے شہر اور بستیاں تاراج کر ڈالیں، جس نے پاک رشتے کو پامال کیا— وہ باپ بھی اتنا ہی مجرم ہے جتنی کہ وہ ملکہ۔ اور جہاں تک ملکہ کی بات ہے، اس نے بادشاہ کو اور قانون کو دھوکا دیا، یقیناً یہ بات درست ہے لیکن مت بھولو کہ اس کو بھی بھٹکایا گیا تھا، اس کی نوزائیدہ بیٹی اور جلاد کے ہاتھوں۔ ‘ مایوس ہوکر ، جاتے جاتے میں نے نتیجہ سنایا، ’تو اس کے معنی یہ ہوے کہ اس کا کوئی خوش کن خاتمہ ممکن نہیں!‘ وہ بولے، ’بالکل ممکن ہے، لیکن جیسا کہ میں نے تم سے کہا تھا، اس میں قربانی کو تسلیم کرنا، اور تین باتیں ترک کرنا شامل ہے — خود داری، باپ کے اصول، اور ماں کی اخلاقیات۔‘ حیرت زدہ ہو کر میںنے ان سے پوچھا کہ کیا ان کے خیال میں ایسا کرنا عملاً ممکن ہے۔ ان کا جواب بہت آسان تھا: ’تم کوشش ضرور کرو، میری بیٹی!‘ اس بات چیت سے میں بہت متاثر ہوئی، اور مہینوں تک اس کے سوا کچھ اور نہیں سوچا۔ میں سمجھ گئی کہ میرے اندوہ کا باعث صرف ایک ہی بات ہے، صرف اور صرف ایک بات — ان کے الفاظ کی صداقت۔ تمھارے باپ فی الحقیقت زندگی کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔
روٹی کا ایک اور ٹکڑا اور پیاز کی ایک پرت، جسے مشکل سے نگلا گیا۔
’’میں تمھارے باپ کے بارے میں جتنا زیادہ سوچتی ہوں، اتنی ہی زیادہ تمھاری ماں سے میری نفرت بڑھتی جاتی ہے۔ وہ انھیں ایک چھوٹے سے سیلن زدہ کمرے میں بند کیے رکھتی تھی، جس میں وہ تنکوں کی چٹائی پر سوتے تھے۔ تمھارے بھائی ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے جیسے وہ پاگل ہوں۔ صرف اس وجہ سے کہ انھوں نے بہت دانائی حاصل کرلی تھی۔ انھیں کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ میں بھی شروع میں ان سے خوفزدہ تھی۔ وجہ وہ باتیں نہیں تھیں جو تمھاری ماں اور سارے بھائی ان کے بارے میں کہتے رہتے تھے، بلکہ میں یہ نہیں بھولتی تھی کہ میری پھوپھی کو اپنے سسر کے ہاتھوں کیا تکلیفیں اٹھانی پڑی تھیں۔ اور پھربھی میں، تھوڑا تھوڑا کرکے، ان کے قریب آتی گئی۔ شدید خوف کے احساس کے ساتھ۔ لیکن ساتھ ہی پرچھائیں جیسا ایک ناقابلِ فہم تجسس بھی تھا۔ تقریباً شہوانی تجسس! شاید میرا وہ حصہ جس پر میری پھوپھی کا اثر تھا، مجھے ان کی جانب کھینچتا تھا۔ انھی واقعات سے گزرنے کی خواہش کے ساتھ جو اُن پر گزرے تھے۔ ایک دہشت انگیز خواہش ۔ کیا ایسا نہیں؟‘‘
خیالات اور جذبات میں ڈوبے ڈوبے وہ اپنی پیاز اور باسی روٹی ختم کرتی ہے۔
وہ لیمپ بجھا دیتی ہے۔
وہ لیٹ جاتی ہے۔
اور سو جاتی ہے۔
جب بندوقیں تھک کر خاموش ہو جاتی ہیں، سپیدہ ٔ سحر نمودار ہوتا ہے۔ خاکستری اور خاموش۔
فجر کی اذان کے بعد چند سانسیں۔ صحن کے کیچڑ بھرے راستے میں متذبذب قدموں کی آہٹ سنی جا سکتی ہے۔ کوئی گھر تک آتا ہے اور راہداری کی طرف کھلنے والے دروازے کو کھٹکھٹاتا ہے۔ عورت اپنی آنکھیں کھولتی ہے۔ منتظر رہتی ہے۔ ایک بار پھر دستک دیتا ہے۔ وہ کھڑی ہو جاتی ہے۔ وہ نیم خوابی میں ہے۔ کھڑکی کے پاس جاتی ہے، یہ دیکھنے کے لیے کہ ایسا کون شخص ہے جسے دروازے پر دستک دیے بغیر اندر آنے کا حوصلہ نہیں۔
سحر دم کی بوجھل دھند لکے میں وہ ایک مسلح ، پگڑی والی پرچھائیں کو دیکھتی ہے۔ عورت کی ’’ہاں؟‘‘ اس پیکر کو کھڑکی کے قریب لے آتی ہے۔ اس کا چہرہ عمامے کے ایک سرے سے ڈھکا ہوا ہے۔اس کی آواز، جو اس کے پیکر سے زیادہ نحیف ہے، ہکلاتی ہے،’ ’کک… ک…کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟‘‘ یہ ابتداے شباب کی آواز ہے جو ابھی ٹوٹ کر نکل رہی ہے، وہی آواز جو کل سنائی دی تھی۔ عورت اس کے چہرے کے نقوش دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن کمزور سی دھندلی روشنی میں وہ یقین سے نہیں کہہ سکتی۔ وہ اپنا سر اثبات میں ہلاکر اجازت دیتی ہے، ساتھ ہی کہتی ہے، ’’دروازہ کھلا ہے۔‘‘ وہ خود جہاں تھی وہیں رہتی ہے، کھڑکی کے نزدیک، پرچھائیں کو دیکھتی ہوئی جو دیوار کے ساتھ حرکت کرتی راہداری میں داخل ہوتی ہے اور دروازے تک آجاتی ہے۔ وہی لباس پہنے ہے۔ دہلیز پر تذبذب کا وہی انداز۔ وہی بزدلی۔ یہ وہی ہے۔ کوئی شک نہیں۔ وہی لڑکا جو کل آیا تھا۔ وہ انتظار کرتی ہے، سوالیہ انداز میں۔ لڑکا کمرے کے اندر داخل ہونے کی سعی کر رہا ہے۔ دروازے کی چوکھٹ سے چپکا سا کھڑا ہوا، وہ پوچھنے کی کوشش کرتا ہے، ’’ک… کتنا… کتنے د…د…دام؟‘‘ عورت کی سمجھ میں ایک لفظ بھی نہیں آتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’کتنے…‘‘ لڑکے کی آواز ٹوٹ جاتی ہے۔ پھر سرعت سے کہتا ہے، ’کتنے… د… د… دام؟‘‘ لیکن وضاحت نہیں کرتا۔
اپنا سانس روک کر، عورت ایک قدم لڑکے کی جانب بڑھاتی ہے۔ ’’سنو، جو تم سمجھ رہے ہو میں وہ نہیں ہوں۔ میں…‘‘ لڑکے کی تیز آواز اس کی بات قطع کرتی ہے، ’’ش… ش… شش… شٹ اپ!‘‘ جو شروع میں بڑی سخت ہے، پھر نرم پڑ جاتی ہے، ’’کتنا لیتی ہو؟‘‘ وہ پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اس کے پیٹ پر بندوق کی نال اسے وہیں جکڑ لیتی ہے۔ لڑکے کے پرسکون ہونے کا انتظار کرنے کے بعد وہ نرمی سے کہتی ہے، ’’میں ایک ماں ہوں…‘‘ لیکن ٹرِگر پر لڑکے کی انگلی کا تناؤ اسے اپنی بات جاری رکھنے سے روک دیتا ہے۔ ہار مان کر، وہ پوچھتی ہے، ’’تمھارے پاس کتنے ہیں؟‘‘ لرزیدہ ہاتھوں سے وہ اپنی جیب سے چند نوٹ کھینچتا ہے اور انھیں اس کے پیروں میں پھینک دیتا ہے۔ عورت ایک قدم پیچھے ہٹتی ہے، اور تھوڑا سا گھوم جاتی ہے تاکہ وہ ایک چور نظر چھپنے کی جگہ پر ڈال سکے۔ سبز پردہ تھوڑا سا کھلا ہوا ہے۔ لیکن تاریکی نے مرد کی موجودگی کو ناقابلِ مشاہدہ بنا دیا ہے۔ وہ زمین پر پھسل جاتی ہے اور چت لیٹ کر، اپنے مرد کی طرف دیکھتے ہوے، اپنی ٹانگیں پھیلا دیتی ہے۔ اور انتظار کرتی ہے۔ لڑکا مفلوج ہو چکا ہے۔ وہ بے صبری سے چیختی ہے: ’’ تو پھر آؤ، جلدی نمٹ لیں!‘‘
وہ اپنی بندوق دروازے کے نزدیک نیچے رکھ دیتا ہے، اور کچھ جھجکتے ہوے آگے بڑھتا ہے اور اس کے پاس کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایک اندرونی خلفشار نے اس کی سانسوں کو جھٹکے دار بنا دیا ہے۔ عورت اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے۔
ناگاہ، وہ خود کو عورت کے اوپر گرا دیتا ہے۔ عورت، سانس لینے کی جدوجہد میں، ہانپتی ہے، ’’آہستہ سے…‘‘ جوش کی زیادتی سے لڑکا بے ڈھنگے پن سے اس کی ٹانگیں پکڑ لیتا ہے۔ اپنا سر عورت کے بالوں میں دفن کیے ہوے، اس کی شلوار اتارنے کی بے فائدہ کوشش کرتے ہوے ایک اناڑی، نوعمر بدن کی وحشیانہ چھٹپٹاہٹ کے نیچے وہ ساکت ہو جاتی ہے، بالکل بے حس و حرکت۔ پھر اس کو خود ہی یہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اس کی شلوار بھی اتارتی ہے۔ جیسے ہی اس کا عضو عورت کی رانوں سے رگڑ کھاتا ہے، وہ عورت کے بالوں میں تھکی ہوئی آواز میں کراہتا ہے۔ بہت زرد پڑ چکی عورت اپنی آنکھیں بند رکھتی ہے۔
اب لڑکے میں کوئی جنبش نہیں ۔ عورت میں بھی نہیں۔
اس کی سانسیں بھاری ہو چکی ہیں۔ عورت کی بھی۔
ایک لمحہ کامل سکوت کا گزر جاتا ہے، پھر ہلکی سی ہوا پردوں کو اٹھا دیتی ہے اور انھیں ایک دوسرے سے الگ کر دیتی ہے۔ بالآخر عورت آنکھیں کھولتی ہے۔ اس کی آواز — کمزور لیکن معاف کرنے کا انداز لیے —سرگوشی کرتی ہے، ’’کیا ہو چکا؟‘‘ لڑکے کی زخمی چیخ اس کو دہلا دیتی ہے: ’’م… م… منھ بند رکھو!‘‘ وہ اپنا سر اٹھاتا نہیں، جو ابھی تک عورت کے سیاہ بالوں میں دفن ہے۔ اس کی سانسوں کی شدت دھیرے دھیرے کم ہوتی جاتی ہے۔
عورت، خاموشی سے، سبز پردوں کے درمیانی خلا کو لامتناہی اداسی کے ساتھ تکتی رہتی ہے۔
باہم الجھے ہوے دونوں جسم ساکت رہتے ہیں، کچھ اور دیر کے لیے زمین پر ثابت۔ پھر ہوا کاایک اور جھونکا گوشت کے اس انبار میں تھوڑی سی حرکت پیدا کرتا ہے۔ یہ عورت کا ہاتھ ہے جو جنبش میں آیا ہے، لڑکے کو آہستگی سے تھپتھپاتے ہوے۔
وہ مزاحمت نہیں کرتا۔ وہ تھپتھپاتی رہتی ہے۔ نرم اور مادرانہ انداز میں۔ ’’کوئی بات نہیں،‘‘ وہ اسے اطمینان دلاتی ہے۔ لڑکے کی طرف سے کوئی ردِ عمل نہیں ہوتا۔ وہ استقامت سے کہتی ہے، ’’ایسا کسی کے بھی ساتھ ہو سکتا ہے۔‘‘ وہ محتاط ہے۔ ’’تم… تم پہلی بار؟‘‘ ایک طویل خاموشی کے بعد، تین سست سانسوں کے برابر، وہ اثبات میں اپنا سر ہلاتا ہے — سر ابھی تک عورت کے بالوں میں پوری طرح دفن ہے— ایک خجل، بے چارگی بھرا ہاں۔ عورت کا ہاتھ لڑکے کے سر کی طرف رینگتا ہے، اور اس کے عمامے کو چھوتا ہے۔ ’’تمھیں کہیں سے تو شروع کرنا ہی تھا۔‘‘ وہ چاروں طرف نظر دوڑاتی ہے، بندوق کو ڈھونڈتی ہوئی۔ وہ بہت دور ہے۔ لڑکے کی طرف پھر سے دیکھتی ہے، جو ابھی تک اسی حالت میں ہے۔ وہ اپنی ٹانگیں تھوڑی سی ہلاتی ہے۔ کوئی مزاحمت نہیں۔ ’’ٹھیک ہے، کیا اب ہمیں اٹھنا چاہیے؟‘‘ وہ جواب نہیں دیتا۔ ’’میں نے تم سے کہا تھا، کوئی بات نہیں… میں تمھاری مدد کروںگی۔‘‘ نرمی کے ساتھ وہ اس کا داہنا شانہ دھکیلتی ہے تاکہ خود کروٹ لے سکے اور لڑکے کے ٹوٹے ہوے بوجھ سے خود کو آزاد کرا سکے۔ اتنا کرنے کے بعد، وہ اپنی شلوار اوپر کھسکانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن پہلے اپنے لباس کے دامن سے اپنی رانیں پونچھتی ہے۔ پھر وہ اٹھ کر بیٹھ جاتی ہے۔ لڑکا بھی، بالآخر، جنبش کرتا ہے۔ عورت سے نظر یں چراتے ہوے وہ اپنی شلوار چڑھاتا ہے، اور عورت کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھ جاتا ہے، اپنی بندوق کو گھورتے ہوے۔ اس کا عمامہ کھل چکا ہے۔ اس کا چہرہ نظر آ رہا ہے۔ اس کی آنکھیں بڑی بڑی اور زرد ہیں، جن پر دھواں رنگ سرمے کی لکیر کھنچی ہوئی ہے۔ وہ خوبصورت ہے، اس کا چہرہ دبلا اور چکنا ہے۔ اس کے چہرے پر رواں تک نہیں۔ یا پھر وہ بہت ہی کم عمر ہے۔ ’’کیا تمھارا کوئی گھر کنبہ ہے؟‘‘ عورت اس سے غیر جذباتی آواز میں پوچھتی ہے۔ لڑکا اپنا سر نفی میں ہلاتا ہے، اور اپنے سر پر جلدی جلدی عمامہ باندھتا ہے، آدھا چہرہ چھپا لیتا ہے۔ پھر، اچانک وہ کھڑا ہو جاتا ہے، اپنی بندوق پکڑتا ہے، اور بجلی کی سی تیزی سے گھر سے نکل جاتا ہے۔
عورت ابھی تک اسی جگہ بیٹھی ہے۔ وہ وہاں دیر تک بیٹھی رہتی ہے۔ سبز پردوں کی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھتی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں۔ اس کا بدن سمٹ جاتاہے۔ وہ اپنے بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹ لیتی ہے، ان پر اپنا سر ٹکا دیتی ہے اور بین کرتی ہے۔ ایک طویل، دل چیر دینے والا نالہ۔
ہوا پھڑپھڑاتی ہے، جیسے اس کے بین کا جواب دے رہی ہو، پردوں کو اٹھا دیتی ہے، سرمئی دھند کمرے میں بھر جاتی ہے۔
عورت اپنا سر اٹھاتی ہے۔ آہستہ سے۔ وہ اٹھتی نہیں۔ وہ اب بھی اپنی آنکھیں سبز پردے کی جانب نہیں اٹھاتی۔ وہ اس کا حوصلہ نہیں رکھتی ۔
وہ نیچے دیکھتی ہے، ان نوٹوں کی طرف جنھیں ہوا نے منتشر کر دیا ہے۔
سردی نے یا جذبات نے، آنسو ؤں نے یا دہشت نے اس کی سانسوں کو اکھاڑ دیا ہے۔ وہ کانپ رہی ہے۔
بالآخر ، وہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اور تیزی سے راہداری میں سے گزرتی ہوئی غسل خانے میں چلی جاتی ہے۔ وہ خود کو صاف کرتی ہے اور اپنا لباس تبدیل کر لیتی ہے۔ وہ پھر سے نمودار ہوتی ہے۔ سبز اور سفید لباس پہنے۔ اب زیادہ پرسکون لگ رہی ہے۔
وہ نوٹ چنتی ہے اور خفیہ مقام کے پاس اپنی جگہ پہنچ جاتی ہے۔ پردوں کو کھینچ کر برابر کر تی ہے، اپنے مرد کی ویران نظروں سے نظر ملائے بغیر۔
چند خاموش سانسوں کے بعد، ایک تلخ ہنسی اس کے بطن سے پھوٹ پڑتی ہے، جو اس کے ہونٹوں میں شدید لرزش پیدا کر دیتی ہے۔ ’’تو یہ لکھا تھا تمھارے بختوں میں… ایسا صرف غیروں کے ساتھ ہی نہیں ہوتا! جلد یا بدیر، ہمارے ساتھ بھی ہونا تھا…‘‘
وہ نوٹ گنتی ہے، ’’بے چارہ!‘‘ اور انھیں اپنی جیب میں رکھ لیتی ہے۔ ’’کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ مرد ہونا ایک مشکل کام ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟‘‘ وہ ایک لمحے کو رکتی ہے۔ سوچنے یا جواب پانے کے انتظار میں۔ اور زبردستی کی اسی مسکراہٹ کے ساتھ بات آگے بڑھاتی ہے: ’’لڑکے نے مجھے ہمارے شروعاتی دنوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا… اگر تمھیں میرے ایسا کہنے کا برا نہ لگے تو۔ تم مجھے جانتے ہو… میری یادیں اسی وقت مجھ پر حملہ کرتی ہیں جب مجھے ان کی مطلق توقع نہیں ہوتی۔ یا جب میںنے ان کی توقع عرصے سے نہیں کی ہوتی۔ وہ مجھ پر طاعون کی طرح دھاوا بولتی ہیں، میں مجبور ہوں۔ اچھی یادیں اور بری یادیں — اُن سے کچھ ہنسی کے لمحے بھی میسر آجاتے ہیں۔ جیسے یہی۔ جب وہ لڑکا بری طرح بدحواس ہو گیا تو ہماری اوّلیں، تاخیر سے آنے والی ہنی مون کی راتیں اچانک میرے ذہن میں چمک اٹھیں… بخدا، میرا تمھارے بارے میں کچھ سوچنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، ایسا بس ہو گیا۔ تم بھی اناڑی تھے… اس لڑکے کی طرح۔ البتہ اُس وقت ، میں بھی کچھ زیادہ نہیں جانتی تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ سب اسی طرح ہوتا ہوگا— تم کس طرح کرتے تھے؟ حالانکہ مجھے بعض دفعہ یوں لگتا تھا کہ تم آسودہ نہیں ہوے۔ اور میں خود کو مجرم سمجھتی تھی۔ میں خود سے کہا کرتی تھی کہ یہ میری غلطی ہے، اور یہ کہ میں ہی نہیں جانتی کہ اس کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ ایک برس کے بعد، مجھے یہ پتا چلا کہ فی الحقیقت یہ سب تمھاری طرف سے ہو رہا تھا۔ تم نے مجھے کچھ نہیں دیا۔ کچھ بھی نہیں۔ یاد کرو وہ تمام راتیں جب تم مجھ سے جماع کرتے تھے اور مجھے… یوں ہی چھوڑ دیتے تھے… اُکسا کر۔ میری پھوپھی ٹھیک ہی کہتی ہیں کہ جو لوگ محبت کا اظہار کرنا نہیں جانتے، جنگیں کرتے ہیں۔‘‘ وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ دیتی ہے۔
بولنے سے پہلے وہ دیر تک خاموش رہتی ہے، پھر اچانک: ’’خیر۔ اچھا یہ بتاؤ، تمھارے نزدیک لذت کیا ہے؟ اپنی غلاظت کو اچھل کر نکلتے ہوے دیکھنا؟ جب تم پردۂ پاکیزگی کو چیرتے ہوتو اس سے ابلتے ہوے خون کو دیکھنا؟‘‘
وہ نیچے دیکھتی ہے، اور نچلا ہونٹ کاٹتی ہے۔ شدید غصے میں۔ غصہ اس کے ہاتھ پر قابض ہو جاتا ہے، اسے پکڑتا ہے، اسے مٹھی میں تبدیل کرتا ہے، اور اسے دیوار پر دے مارتا ہے۔ عورت کراہتی ہے۔
خاموش ہو جاتی ہے۔
’’مجھے افسوس ہے!… یہ… ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ میں نے تم سے اس طرح باتیں کی ہیں… میں خود سے شرمندہ ہوں۔ میں سچ مچ نہیں جانتی یہ سب کہاں سے آ رہا ہے۔ میں ان میں سے کسی کے بھی بارے میں پہلے کبھی نہیں سوچا۔ میرا یقین کرو۔ کبھی نہیں!‘‘ ایک وقفہ، پھر وہ آگے کہتی ہے: ’’اور جب میں نے یہ جان لیا کہ صرف تمھاری لذت ہی اپنے عروج پر پہنچتی ہے، پھر بھی میں پریشان نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس، میں خوش تھی۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ معمول یہی ہے۔ یہ کہ ہم میں یہی فرق ہوتا ہے۔ تم مرد اپنی لذت سے خوشی پاتے ہو، اور ہم عورتیں تمھاری لذت سے ہی خوش ہو جاتی ہیں۔ میرے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ یہ میرا کام تھا، اور تنہا میر ا ہی، کہ اپنی لذت خود ہی حاصل کروں… خود کو چھو کر۔‘‘ اس کے ہونٹ سے خون بہہ رہا ہے۔ وہ اسے انگشتری والی انگلی سے صاف کرتی ہے، اور پھر زبان سے۔ ’’ایک رات تم نے مجھے ایسا کرتے ہوے پکڑ لیا۔ تم سوئے ہوے تھے۔ پشت میں نے تمھاری طرف کر رکھی تھی، اور میں خود کو چھو رہی تھی۔ شاید میرے ہانپنے سے تم جاگ گئے۔ تم اچھل پڑے، اور مجھ سے پوچھا کہ کیا کر رہی ہو۔ میں گرم تھی، اور کانپ رہی تھی… پس میںنے تم سے کہا کہ مجھے بخار ہے۔ تم نے یقین کر لیا۔ پھر بھی تم نے مجھے سونے کے لیے بچوں کے ساتھ دوسرے کمرے میں بھیج دیا۔ کیا ہی شوہر ہو!‘‘ وہ خاموش ہو جاتی ہے، یا تو خوفزدہ ہو کر، یا شائستگی کی وجہ سے۔ اس کے رخساروں پر سرخی نمودار ہوتی ہے، اور دھیرے دھیرے اس کی گردن تک پھیل جاتی ہے۔ اس کی نظریں خوابناکی سے بند ہوتی ہوئی پلکوں کے پیچھے چھپ جاتی ہیں۔
وہ کھڑی ہو جاتی ہے، خوش دلی سے۔ ’’ٹھیک ہے، اب مجھے چلنا چاہیے۔ میری پھوپھی اور بچیاں پریشان ہو رہی ہوںگی۔‘‘
جانے سے پہلے وہ ڈرپ بیگ میں شکر اور نمک کا محلول بھرتی ہے، آدمی کو ڈھکتی ہے، دروازے بند کرتی ہے اور پہلے اپنے برقعے میں ، اور پھر گلی میں غائب ہو جاتی ہے۔
کمرہ، گھر، باغیچہ،اس کا سب کچھ،دھند میں مدفون، اس محزوں، سرمئی پوشش کے اندر غائب ہو جاتا ہے۔
کچھ بھی واقع نہیں ہوتا۔ کوئی چیز جنبش نہیں کرتی، سواے اس مکڑی کے جو کچھ عرصے سے اب چھت کی بوسیدہ کڑی میں رہنے لگی ہے۔ یہ سست ہے۔ تساہل سے معمور۔ دیوار کے مختصر سے دورے کے بعد، یہ اپنے جالے میں لوٹ جاتی ہے۔
باہر:
وہ کچھ دیر گولیاں چلاتے ہیں۔
کچھ دیر نماز یں پڑھتے ہیں۔
کچھ دیر خاموش رہتے ہیں۔
جھٹپٹے کے وقت، کوئی راہداری والے دروازے پر دستک دیتا ہے۔
کوئی آواز اسے اندر نہیں بلاتی۔
وہ پھر دستک دیتا ہے۔
کوئی ہاتھ اس کے لیے دروازہ نہیں کھولتا۔
وہ چلا جاتا ہے۔
رات آتی ہے ، اور پھر چلی جاتی ہے۔ بادلوں کو اور دھند کو اپنے ساتھ لیے ہوے۔
سورج واپس آتا ہے۔اس کی روشنی کی کرنیں عورت کو کمرے کو لوٹا دیتی ہیں۔
کمرے میں ایک نظر دوڑانے کے بعد وہ اپنے تھیلے سے ایک نیا ڈرپ بیگ اور آنکھوں کی دوا کی شیشی نکالتی ہے۔ سیدھی سبز پردے کی طرف جاتی ہے اور اسے ایک طرف کھسکا دیتی ہے تاکہ اپنے آدمی کو دیکھ سکے۔ اس کی آنکھیں ادھ کھلی ہیں۔ وہ اس کے منھ سے ٹیوب کھینچ لیتی ہے، اس کے سر کے نیچے سے ایک تکیہ نکالتی ہے، اور اس کی آنکھوں میں دوا کے قطرے ٹپکاتی ہے۔ ایک، دو۔ ایک،دو۔ پھر وہ کمرے سے چلی جاتی ہے اور پانی بھرا پلاسٹک کا تسلا، ایک تولیہ اورکچھ کپڑے لیے ہوے لوٹتی ہے۔ وہ اپنے مرد کو صاف کرتی ہے، اس کا لباس تبدیل کرتی ہے اور واپس اس کی جگہ پر لگا دیتی ہے۔
احتیاط کے ساتھ وہ اس کی آستینیں موڑتی ہے، اور کہنی کو پونچھتی ہے۔ ٹیوب منھ میں لگاتی ہے، ڈراپر کو صحیح مقدار میں بھرتی ہے، اور چلی جاتی ہے، وہ تمام چیزیں لے کر جو اسے کمرے سے ہٹا دینی چاہییں۔
ہمیں اس کے کپڑے دھونے کی آوازیں آتی ہیں۔ وہ انھیں باہر دھوپ میں ٹانگ دیتی ہے۔ جھاڑو لیے ہوے لوٹتی ہے۔ قالین اور گدوں کو جھاڑتی ہے…
اس نے ابھی اپنا کام ختم بھی نہیں کیا کہ کوئی دروازے پر دستک دیتا ہے۔ غبار کے بادلوں کے درمیان وہ کھڑکی تک جاتی ہے۔ ’’کون ہے؟‘‘ پھر سے لڑکے کا خاموش پیکر، اپنے ’پاتو ‘میں لپٹا ہوا۔ عورت کے بازو تھکے انداز میں اس کے پہلوؤں میں جھول جاتے ہیں۔ ’’اب تم کو کیا چاہیے؟‘‘ لڑکا چند نوٹ باہر نکالتا ہے۔ عورت جنبش نہیں کرتی۔ ایک لفظ بھی نہیں کہتی۔ لڑکا راہداری کی طرف چل دیتا ہے۔ عورت اس سے ملنے باہر جاتی ہے۔ وہ ایک دوسرے سے چند لفظوں کا تبادلہ کرتے ہیں جو سنے نہیں جا سکتے، اور پھر ایک کمرے میں کھسک جاتے ہیں۔
شروع میں، صرف سناٹا ہے، پھر بتدریج سرگوشیاں… اور بالآخر چند دبی ہوئی کراہیں۔ اور ایک بار پھر سناٹا۔ کافی دیر تک۔ پھر دروازہ کھلنے کی آواز۔ اور باہر جاتے قدموں کی چاپ۔
اور جہاں تک عورت کی بات ہے، تو وہ ٹوائلٹ کی طرف جاتی ہے۔ خود کو صاف کرتی ہے اور جھجکتے ہوے کمرے میں لوٹ آتی ہے۔ صفائی کا کام نمٹاکر چلی جاتی ہے۔
اس کے قدموں کی چاپ باورچی خانے کے ٹائلوں والے فرش پر گونجتی ہے، تھوڑی دیر میں گیس کی بھنبھناہٹ شروع ہوتی ہے، اور اس کی آواز گھر بھر میں مسلسل گونجتی رہتی ہے۔
اپنا لنچ تیار کرنے کے بعد وہ کھانے کے لیے کمرے میں آتی ہے، پکانے کے برتن سے براہِ راست کھاتی ہے۔
وہ نرم اور پرسکون لگ رہی ہے۔
منھ بھر کے پہلا نوالہ کھا کر، وہ اچانک کہنے لگتی ہے، ’’میں لڑکے پر افسوس محسوس کر رہی ہوں! لیکن ایسا نہیں ہے کہ میں نے اسی وجہ سے اسے اندر آنے دیا… بہرحال، آج میں نے اس کے جذبات کو مجروح کیا، اور بے چارے کو تقریباً بھگا ہی دیا تھا! مجھے ہنسی چھوٹ رہی تھی، اور اس نے سوچا کہ میں اس پر ہنس رہی ہوں… جو واقعی سچ بھی تھا، ایک طرح سے… لیکن اس میں غلطی میری شیطان پھوپھی کی ہے! انھوں نے کل رات کچھ ایسی ہی عجیب بات کہی تھی۔ میں انھیں ہکلے لڑکے کے بارے میں بتا رہی تھی، اور یہ کہ وہ کتنی جلدی چھوٹ جاتا ہے۔ اور…‘‘ وہ ہنستی ہے، بے حد نجی اور خاموش ہنسی۔ ’’اور وہ بولیں کہ اس سے کہو…‘‘ اس بار اس کی با آواز ہنسی اس کی بات کو پھر سے قطع کرتی ہے۔ ’’…اس سے کہو کہ زبان سے مجامعت کرے، اور اپنے عضو سے باتیں کیا کرے!‘‘ وہ بلند آواز میں ہنستے ہوے اپنے آنسو پونچھتی ہے۔ ’’اُسی وقت یہ بات یاد آنا ایک وحشت ناک بات تھی… لیکن میں کیا کر سکتی تھی؟ اس نے جیسے ہی ہکلانا شروع کیا، میری پھوپھی کے الفاظ میرے ذہن میں کوند گئے۔ اور میری ہنسی چھوٹ گئی۔ وہ گھبرا گیا… میں نے اپنے اوپر قابو پانے کی کوشش کی… لیکن نہیں پا سکی۔ ہنسی اور زور سے آنے لگی۔ لیکن خوش قسمتی سے…‘‘ وہ توقف کرتی ہے، ’’…یا بدقسمتی سے، میرے خیالات نے اچانک ہی دوسرا موڑ لے لیا…‘‘ وہ پھر سے رکتی ہے۔ ’’مجھے تمھارا خیال آگیا… اور ہنسی اچانک رک گئی۔ ورنہ تو قیامت ہی آ جاتی… نوعمر لڑکوں کو کبھی چوٹ نہیں پہنچانی چاہیے… ان کا سوسو نہیں نکال دینا چاہیے… وہ اپنی مردانگی اپنے بڑے اور سخت عضو سے وابستہ کرتے ہیں، اور اس سے کہ وہ کتنی دیر تک روکے رکھ سکتے ہیں، لیکن…‘‘ وہ اس خیال سے بچ نکلتی ہے۔ اس کے رخسار سرخ پڑ چکے ہیں۔ وہ ایک گہرا سانس کھینچتی ہے۔ ’’خیر، وہ ہو چکا… میں بال بال بچی… پھر سے ۔‘‘
وہ اپنا لنچ ختم کرتی ہے۔
اپنی رکابی باورچی خانے میں لے جانے کے بعد، وہ لوٹتی ہے اور گدے پر چت لیٹ جاتی ہے۔ وہ کہنی سے اپنی آنکھیں ڈھانپ لیتی ہے اورکچھ اور باتوں کا اعتراف کرنے سے پہلے خاموشی کے ایک طویل، فکر آمیز لمحے کو گزرنے دیتی ہے۔ ’’ہاں، تو اس لڑکے نے پھر سے مجھے تمھاری باتیں یاد دلا دیں۔ اور ایک بار پھر میں تصدیق کر سکتی ہوں کہ وہ اتنا ہی بے ڈھنگا ہے جتنے تم ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ مبتدی ہے، اور تیز طالب علم ! جب کہ تم کبھی نہ بدل سکے۔ اس کے علاوہ، کم از کم میں اسے بتا سکتی ہوں کہ اسے کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے۔ اگر یہ سب کبھی میں نے تم سے کہا ہوتا… میرے خدا! میری ناک ٹوٹ چکی ہوتی! اس کے باوجود، یہ سب مشکل نہیں ہے۔ تمھیں صرف اپنے جسم کی پکار سننی ہوتی ہے۔ لیکن تم نے اس کی کبھی نہیں سنی۔ تم لوگ اپنی روح کی آواز سنتے ہو، اس کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ وہ اٹھ بیٹھتی ہے، اور سبز پردے پر پوری شدت سے چلّاتی ہے: ’’اور دیکھو، تمھاری روح نے تمھیں کہاں پہنچا دیا ہے؟ تم ایک زندہ لاش ہو!‘‘ وہ خفیہ جگہ کے قریب کھسک آتی ہے۔ ’’یہ تمھاری ملعو ن روح ہی ہے جس نے تمھیں زمین میں گاڑ رکھا ہے، میرے سنگِ صبور!‘‘ وہ ایک گہرا سانس لیتی ہے۔ ’’اور یقیناً یہ تمھاری احمق روح نہیں ہے جو اس وقت میری حفاظت کر رہی ہے۔ یہ تمھاری روح نہیں ہے جو بچوں کو کھانا کھلا رہی ہے۔‘‘ وہ پردے کو ایک طرف کھینچ دیتی ہے۔ ’’کیا تم جانتے ہو کہ اس وقت تمھاری روح کس حال میں ہے؟ کہاں ہے؟ وہ یہاں ہے،ٹھیک تمھارے اوپر لٹکی ہوئی۔‘‘ وہ ڈرپ بیگ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ’’ہاں، اسی میں ہے، اسی شکرو نمک کے محلول میں، کہیں اور نہیں۔‘‘ وہ اپنا سینہ پھلا کر کہتی ہے، ’’میری روح میری غیرت کو غذا فراہم کرتی ہے، اور میری غیرت میری روح کی حفاظت کرتی ہے — کوری بکواس! تمھاری غیرت میں ایک سولہ سال کے بچے نے پیچ کس دیا ہے!‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑتی ہے، اسے اوپر اٹھاتی ہے۔ ’’اب تمھارے جسم کی باری ہے کہ وہ تمھیں پرکھے۔‘‘ وہ کہتی ہے، ’’یہ تمھاری روح کو پرکھ رہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ تم کو جسمانی ایذا محسوس نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ تمھاری روح ہے جو آزار میں ہے۔ ایک ایسی معطل روح، جو ہر شے کو دیکھتی ہے، ہر بات سنتی ہے، اور کوئی ردِ عمل نہیں دکھا سکتی، کیونکہ یہ اب تمھارے جسم کو کنٹرول نہیں کرتی۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ چھوڑ دیتی ہے، اور وہ گدے پر دھپ کے ساتھ گر جاتا ہے۔ ایک گھٹی ہوئی ہنسی اس کو دیوار کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ وہ جنبش نہیں کرتی۔ ’’تمھاری غیرت اب گوشت کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں! تم خود ہی یہ لفظ استعمال کیا کرتے تھے۔ جب تم چاہتے تھے کہ میں خود کو ڈھانپ لوں، تو تم چلا کر کہتے تھے، ’اپنا گوشت چھپاؤ۔‘ میں گوشت کا ٹکڑا تھی جس میں تم اپنا غلیظ عضو ٹھونس سکتے تھے۔ صرف اس کو چیرنے کے لیے، اس سے خون بہانے کے لیے!‘‘ وہ خاموش ہو جاتی ہے، بے قابو سانسوں کے سبب۔
پھر یکایک وہ کھڑی ہو جاتی ہے۔ کمرے سے چلی جاتی ہے۔ راہداری میں بے چینی سے ٹہلنے کی چاپ سنی جا سکتی ہے۔ کہتی ہے، ’’میرے ساتھ اب یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں کیا کہہ رہی ہوں؟ کیوںـ؟ کیوں؟ یہ سب نارمل نہیں ہے، بالکل نارمل نہیں…‘‘ وہ واپس اندر آتی ہے۔ ’’یہ میں نہیں ۔ یہ میں نہیں بول رہی ہوں… یہ کوئی اور ہے، جو میرے وسیلے سے بول رہا ہے… میری زبان سے۔ کوئی میرے بدن میں حلول کر گیا ہے… میں آسیب زدہ ہوں۔ میرے اندر ضرور کوئی بدروح ہے۔ وہی بات کرتی ہے۔ وہی اس لڑکے کو پیار کرتی ہے… وہی ہے جو اس لڑکے کا کانپتا ہوا ہاتھ پکڑ کر میرے سینے پر رکھتی ہے، میرے پیٹ پر، میری رانوں کے درمیان… سب کچھ اسی کا کیا دھرا ہے! میرا نہیں! مجھے اس سے نجات پانے کی ضرورت ہے۔ میں جاؤںگی اور حکیم سے مشورہ کروں گی، یا پھر ملّا سے۔ اور انھیں سب کچھ بتا دوںگی تاکہ وہ اس بدروح کو، جو میرے اندر حلول کر گئی ہے، بھگا سکیں!… میرے ابّا ٹھیک ہی کہتے تھے۔ وہی بلی مجھے پریشان کرنے آگئی ہے۔ اسی بلی نے مجھ سے بٹیر کا پنجرہ کھلوایا تھا۔ مجھ پر آسیب ہے، اور برسوں سے ہے!‘‘ وہ سبکتے ہوے خود کو مرد کو چھپانے کی جگہ پر پٹخ دیتی ہے۔ ’’یہ میں نہیں بول رہی تھی!… میں بدروح کے سحر میں گرفتار ہوں… یہ میں نہیں ہوں… قرآن کہاں ہے؟‘‘ گھبرا جاتی ہے۔ ’’بدروح نے قرآن تک چرا لیا ہے! بدروح نے ہی یہ سب کیا ہے! … اور وہ بدبخت مور کا پنکھ… وہ اسے بھی لے گئی ہے۔‘‘
وہ گدے کے نیچے ٹٹولتی ہے۔ اسے تسبیح کے سیاہ دانے مل جاتے ہیں۔ ’’اللہ ! تو ہی ہے جو اس بدروح کو نکال سکتا ہے۔ الموخر، الموخر…‘‘ وہ تسبیح کے دانوں پر ورد شروع کردیتی ہے، ’’الموخر…‘‘ اپنی چادر اٹھاتی ہے۔’’الموخر…‘‘ کمرے سے چلی جاتی ہے۔ ’’الموخر…‘‘ گھر سے چلی جاتی ہے۔ ’’الموخر…‘‘
اب اس کی آواز سنائی نہیں دیتی۔
وہ لوٹتی بھی نہیں۔

اندھیرا پڑنے پر، کوئی صحن میں آتا ہے اور راہداری والے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیتا، کوئی نہیں کھولتا۔ لیکن، اس بار، داخل ہونے والا باغیچے میں رک گیا لگتا ہے۔ لکڑیوںکے چرچرانے کی آواز اور پتھروں کو توڑنے کی آواز رل مل جاتی ہے، گھر کی دیواروں سے گزر کر اندر آتی ہے۔ اس کے پاس ضرور کوئی اوزار ہے، جس سے یا تو کچھ توڑ رہا ہے، یا بنا رہا ہے۔ عورت کو کل پتا چلے گا، جب وہ سورج کی اوّلیں کرنوں کے ساتھ لوٹے گی، جو پردوں کے زرد اور نیلے آسمان کے سوراخوں سے گزر کر چمکیںگی۔

رات ہوتی ہے۔
باغیچے میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ داخل ہونے والا چلا جاتا ہے۔

دن نکلتا ہے۔ عورت لوٹ آتی ہے۔
چہرے پر بہت زردی، وہ کمرے کا دروازہ کھولتی ہے، اور ایک لمحے کے لیے کھڑی رہتی ہے، کسی کی آمد کی کوئی ہلکی سی بھی علامت دیکھنے کے لیے۔ کچھ نہیں ہے۔ پریشان حال، وہ کمرے میں داخل ہوتی ہے، اور سبز پردے کے پاس جاتی ہے۔ اس کو آہستہ سے ایک طرف کھسکاتی ہے۔ آدمی اب بھی وہیں ہے۔ آنکھیں کھلی ہوئی۔ سانسوں کا وہی آہنگ۔ ڈرپ بیگ آدھا خالی ہو چکا ہے۔ قطرے گر رہے ہیں، پہلے ہی کی مانند، سانس کے آہنگ کے ساتھ، یا تسبیح کے سیاہ دانوں سے ہم آہنگ ہوکر جو عورت کی انگلیوں میں گردش کر رہے ہیں۔
وہ خود کو گدے پر گرا دیتی ہے۔ ’کیا کسی نے سڑک کی طرف والے دروازے کی مرمت کی ہے؟‘ وہ دیواروں سے پوچھ رہی ہے۔ لاحاصل۔ ہمیشہ کی طرح۔
وہ خود کو اٹھاتی ہے، کمرے سے باہر چلی جاتی ہے اور، اب بھی حیران پریشان سی، دوسرے کمروں اور تہہ خانے کا جائزہ لیتی ہے۔ وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آتی ہے، کمرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ سراسیمہ ہے۔ ’’لیکن یہاں تو کوئی نہیں آیا!‘‘ وہ گدے پر ڈھیر ہو جاتی ہے، بڑھتی ہوئی تھکن کی گرفت میں۔
مزید الفاظ نہیں۔
مزید جنبش نہیں، سواے تسبیح کے دانوں کی گردش کے۔ تین دور۔ دو سو ستانوے دانے۔ دو سو ستانوے انفاس۔ اللہ کے کسی بھی نام کا ورد نہیں۔

تسبیح کا چوتھا دور شروع کرنے سے پہلے، وہ اچانک بولنے لگتی ہے، ’’آج صبح میرے ابا پھر مجھ سے ملنے آئے تھے… لیکن اس بار مجھ پر یہ الزام لگانے کے لیے کہ میں نے ان کا مور کا پنکھ چرا لیا ہے جسے وہ اپنے قرآن میں نشانی کے طور پر رکھتے تھے۔ میں دہشت زدہ تھی۔ وہ غضب ناک۔ میں ڈر گئی تھی۔‘‘ خوف اب بھی اس کی آنکھوں میں دیکھا جا سکتا ہے جو کمرے کے گوشوں میں پناہ ڈھونڈ رہی ہیں۔ ’’لیکن یہ تو بہت پرانی بات تھی…‘‘ اس کا بدن جھولتا ہے۔ اس کی آواز میں قطعیت آ جاتی ہے: ’’میں نے تو بہت عرصہ پہلے اسے چرایا تھا۔‘‘ وہ اچانک کھڑی ہو جاتی ہے۔’ ’میں بڑبڑ ارہی ہوں!‘‘ وہ بدبدا کر خود ہی سے کہتی ہے، پہلے سکون کے ساتھ، پھر تیز لہجے میں اور پریشان ہوکر: ’’میں بڑبڑ ارہی ہوں! مجھے خود کو پرسکون کرنا ہوگا۔ بولنے پر قابو پانا ہوگا۔‘‘ اسے ایک جگہ قرار نہیں۔ کمرے میں ٹہلتی رہتی ہے، اپنا انگوٹھا چباتی رہتی ہے۔ اس کی نظریں دیوانہ وار ہر طرف دوڑتی ہیں۔ ’’ہاں، پنکھ والا یہی ناس پیٹا معاملہ… یہ ایسا ہی ہے۔ یہی ہے جو مجھے پاگل کیے دے رہا ہے۔ وہی کم بخت مور کا پنکھ! شروع میں تو یہ بس خواب تھا۔ ہاں، خواب، لیکن کتنا عجیب و غریب۔ جب پہلی بچی میرے پیٹ میں تھی، وہ خواب ہر رات نظر آنے لگا… مجھے ہر رات وہی ڈراؤنا خواب دِیکھتا تھا۔ میں دیکھتی تھی کہ میں نے ایک لڑکے کو جنم دیا ہے جس کے دانت پہلے ہی موجود ہیں اور وہ بول بھی سکتاہے… وہ بالکل میرے دادا جیسا نظر آتا تھا… اس خواب نے مجھے دہشت زدہ کر دیا۔ مجھے سخت اذیت پہنچائی… وہ بچہ مجھ سے کہا کرتا تھا کہ وہ میرا ایک بہت بڑا راز جانتا ہے۔‘‘ وہ خاموش ہو جاتی ہے۔ ’’ہاں ،میرا بہت بڑا راز! اور اگر میںنے اس کو وہ نہیں دیا جو وہ چاہتا ہے، تو وہ ہر ایک کو میرا راز بتا دے گا۔ پہلے دن اس نے مجھ سے میری چھاتیاں مانگیں۔ اس کے دانتوں کی وجہ سے میں اسے دینا نہیں چاہتی تھی… پس اس نے چلّانا شروع کر دیا۔‘‘وہ کانپتے ہاتھوں سے اپنے کان ڈھکتی ہے۔ ’’میں آج بھی اس کی چیخیں سن سکتی ہوں۔ اور وہ میرے راز کا ابتدائی حصہ اگلنے لگا۔ میں نے ہتھیار ڈال دیے۔ میں نے اپنی چھاتیاں اسے دے دیں۔ وہ انھیں چوسنے لگا اور اپنے دانتوں سے کاٹنے لگا… میں زور زور سے رو رہی تھی… میں اپنی نیند میں سبک رہی تھی…‘‘
وہ کھڑکی کے قریب کھڑی ہو جاتی ہے، پیٹھ اپنے مرد کی طرف کیے ہوے۔ ’’تمھیں ضرور یاد ہوگا، کیونکہ اس رات تم نے مجھے لات مار کر بستر سے گرا دیا تھا۔ وہ رات میں نے کچن میں گزاری تھی۔‘‘ وہ ہجرتی چڑیوں کے نمونوں والے پردوں کے نیچے بیٹھ جاتی ہے۔ ’ایک اور رات کو، میں نے پھر لڑکے کا خواب دیکھا… اس بار وہ مجھ سے میرے ابا کا مور کا پنکھ لانے کو کہہ رہا تھا… لیکن…‘‘ کوئی دروازے پر دستک دیتا ہے۔ عورت خواب سے، اپنے رازوں کی دنیا سے، باہر آتی ہے، پردے اٹھاکر دیکھنے کے لیے۔ پھر وہی نو عمر لڑکا ہے۔ ’’نہیں، آج نہیں!‘‘ عورت استقلال سے کہتی ہے۔ ’’میں…‘‘ لڑکا اپنے جھٹکے دار الفاظ سے اس کی بات قطع کرتا ہے۔ ’’م… م… میںنے دروازے کی م مرمت کک… کر دی ہے۔‘‘ عورت کا بدن پرسکون ہو جاتا ہے۔ ’’اوہ! تو یہ تم تھے! شکریہ۔‘‘ لڑکا اندر بلائے جانے کا انتظار کرتا ہے۔ وہ کچھ نہیں بولتی۔ ’’ک… ک… کیا میں… ا…ا…اندر…‘‘ عورت تھکے انداز میں ٹوکتی ہے، ’’میںنے تم سے کہا تو، آج نہیں۔‘‘ لڑکا نزدیک آتا ہے۔ ’’ن… نہیں… اس ک… کے ل… لیے ن… نہیں… ‘‘عورت اپنا سر ہلاتی ہے، اور آگے کہتی ہے، ’’میں کسی اور کا انتظار کر رہی ہوں…‘‘ لڑکا ایک قدم اور نزدیک آتا ہے۔ ’’م… میں… م… مجھے کچھ نہیں چ… چاہیے…‘‘ عورت اس کی بات بے صبری سے کاٹتی ہے، ’’تم ایک پیارے لڑکے ہو، لیکن مجھے کام بھی کرنا ہے۔ تم جانتے ہو…‘‘ لڑکا جلدی جلدی بولنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کی ہکلاہٹ اور شدید ہو جاتی ہے: ’’ن… نن… نہیں… نن… نہیں… ک… ک… کام…‘‘ وہ ہار کر چپ ہو جاتا ہے۔ پیچھے ہٹتا ہے اور ایک دیوار کے نیچے فرش پر بیٹھ جاتا ہے، کسی چوٹ کھائے ہوے چھوٹے بچے کی طرح بسورتے ہوے۔ بے بس ہوکر عورت کمرے سے جاتی ہے تاکہ راہداری والے دروازے سے اس سے بات کرسکے۔ ’’سنو! آج سہ پہر میں آنا، یا کل… لیکن اس وقت نہیں…‘‘ تھوڑا سا پرسکون ہو چکا لڑکا پھر کوشش کرتا ہے: ’’میں… تم سے… بات کرنا… چاہتا ہوں…‘‘ بالآخر عورت مان جاتی ہے۔
وہ اندر جاتے ہیں، اور ایک کمرے میں خود کو محفوظ کر لیتے ہیں۔
سرگوشیاں ہی واحدآوازیں ہیں جو سنائی دے رہی ہیںاور اس اداس ماحول کو نشان زد کر رہی ہیں جس نے گھر کو، باغیچے کو،سڑک کو، اور شہر تک کو… اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

ایک مخصوص نقطے پر سرگوشیاں رک جاتی ہیں، ایک طویل خاموشی شروع ہو جاتی ہے۔ پھر اچانک دروازے کے کواڑ زور سے پٹخنے کی آواز۔ اور لڑکے کی سبکیاں، راہداری میں دور جاتی ہوئی، صحن کے پار، اور آخر کار مدھم پڑتی ہوئی سڑک پر ختم ہو جاتی ہیں۔ پھر عورت کے قدموں کی غصیلی دھمک، جو کمرے میں چیختی ہوئی داخل ہوتی ہے، ’’کتے کا بچہ! حرام زادہ!‘ ‘ وہ بیٹھنے سے پہلے کمرے میں کئی بار زمین پر زور سے پیر پٹختی ہے۔’ ’ذرا دیکھو تو، کتے کے پلّے نے میرے منھ پر کس طرح تھوکا تھا، جب میں نے کہا تھا کہ میں کسبی ہوں۔‘‘ وہ غصے کے ساتھ اپنی بات جاری رکھتی ہے۔ وہ کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس کی آواز اور بدن نفرت کے مارے اکڑے ہوے ہیں۔ سبز پردے کی طرف جاتی ہے۔ ’’تم جانتے ہو، اس دن وہ آدمی جو یہاں آیا تھا، اس بیچارے لڑکے کے ساتھ؟ اور مجھے دنیا بھر کی گالیاں سنا گیا تھا؟ بہرحال، ذرا اندازہ لگاؤ، وہ خود کیا کیا کرتا ہے؟‘‘ وہ پردے کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتی ہے۔ ’’وہ اس غریب لڑکے کو اپنی لذت کے لیے رکھے ہوے ہے! جب یہ چھوٹا سا تھا، وہ تبھی اس کو اغوا کرکے لایا تھا۔ ایک یتیم بچہ، جو اپنے حالات سے لڑنے کے لیے سڑکوں پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس نے اسے اغوا کیا، اور کلاشنکوف اس کے ہاتھ میں تھمادی، اور شام کو اس کے پیروں میں گھنگھرو باندھتا ہے۔ اسے نچاتا ہے۔ کتے کا پلّا!‘‘ وہ سمٹ کر دیوار سے لگ جاتی ہے۔ چند سانسیں ہوا کی اپنے اندر کھینچتی ہے جو بارود کی گندھ اور دھویں سے بوجھل ہے۔ ’’لڑکے کے سارے بدن پر نیل پڑے ہوے ہیں! اس پر سب جگہ جلنے کے نشان ہیں— اس کی رانوں پر، اس کے کولھوں پر… یہ تو سخت توہین کی بات ہے! وہ آدمی اپنی بندوق کی گرم نال سے اسے داغتا ہے!‘‘ اس کے آنسو اس کے رخساروں پر لرزتے ہیں، لڑھکتے ہیں، رونے سے اس کے ہونٹوں کے گرد پڑی لکیروں پر ان کی رفتار دھیمی ہو جاتی ہے، بہہ کراس کی ٹھوڑی پر جمع ہوتے ہیں، اس کی گردن سے بہتے ہوے سینے میں جذب ہو جاتے ہیں، جو اس کے شیون کا منبع ہے۔’ ’ذلیل لوگ! بدمعاش!‘‘

وہ چلی جاتی ہے۔
ایک لفظ بھی کہے بغیر۔
کسی جانب بھی دیکھے بغیر۔
کسی بھی چیز کو چھوئے بغیر۔

دوسرے دن سے پہلے وہ واپس نہیں لوٹتی۔

نیا کچھ بھی نہیں ہے۔
مرد — اس کا مرد —ابھی سانسیں لے رہا ہے۔
وہ ڈرپ کو تازہ کرتی ہے۔
آنکھوں میں دوا کے قطرے ٹپکاتی ہے: ایک، دو۔ ایک، دو۔
اور بس اتنا ہی۔

وہ گدے پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتی ہے۔ پلاسٹک کے تھیلے سے کپڑے کا ٹکڑا، دو چھوٹی قمیصیں اور سلائی کے سامان کا ڈبّا نکالتی ہے۔ ڈبّے میں قینچی تلاش کرتی ہے۔ قمیصوں میں پیوند لگانے کے لیے کپڑے سے ٹکڑے کاٹتی ہے۔
گاہے بگاہے وہ چوری چھپے سبز پردوں کی طرف بھی دیکھتی جاتی ہے۔ لیکن اس کی نگاہیں بیشتر اوقات بے چینی کے ساتھ ہجرتی پرندوں کے نمونوں والے پردوں کی طرف اٹھتی رہتی ہیں جنھیں کھینچ کر ایک درز کھول دی گئی ہے تاکہ صحن نظر آتا رہے۔ معمولی سی بھی آہٹ اس کی توجہ کھینچ لیتی ہے۔ وہ اوپر دیکھتی ہے، یہ انداز ہ کرنے کے لیے کہ کوئی آرہا ہے یا نہیں۔
نہیں، کوئی نہیں آتا۔

ہر روز کی طرح، دوپہر کو ملّا اذان دیتا ہے۔ آج وعظ میں وہ وحی کا بیان کررہا ہے: ’’اقراء باسم ربک الذی خلق… پڑھ اپنے رب کے نام سے، جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ! تیرا رب سب سے کریم ہے، جس نے انسان کو قلم سے وہ علم سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ میرے بھائیو! یہ قرآن کی اوّلیں آیتیں ہیں، پہلی وحی جو جبرئیل فرشتے کے ذریعے پیغمبر پر اتاری گئی…‘‘
عورت رک جاتی ہے، اور بقیہ وعظ کو توجہ سے سنتی ہے: ’’… جب اللہ کے رسول عبادت اور دعا کے لیے غارِ حرامیں گئے، جبلِ نور کی گہرائی میں اترے، اس وقت ہمارے پیغمبر پڑھنا یا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ لیکن ان آیتوں کی مدد سے انھوں نے سیکھا! ہمارے مالک نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہ کہا ہے: اس نے تم پر کتاب نازل کی، صداقت کے ساتھ، جو پہلے اتاری گئی کتابوں کی توثیق کرتی ہے، اور اس نے پہلے ہی توریت اور انجیل کو بنی نوعِ انسان کی رہنمائی کے لیے نازل کیا تھا…‘‘ عورت پھر سے سلائی شروع کر دیتی ہے۔ ملّا بیان جاری رکھتا ہے: ’’محمد صرف ایک نبی ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے نبی آئے ہیں…‘‘ عورت ایک مرتبہ پھر پیوند لگانے کا کام روک دیتی ہے اور قرآن کا بیان توجہ سے سنتی ہے: ’’محمد، ہمارے پیغمبر نے کہا ہے: ’مجھ میں طاقت نہیں کہ اپنا بھلا کر سکوں یا خود کو برائی سے بچا سکوں، اللہ کی رضا کے بغیر۔ جو کچھ غیب میں ہے اگر مجھے اس کا علم ہوتا تو میں نے اپنے لیے وہ سب حاصل کرلیا ہوتا جو اچھا ہے، اور پھر کوئی تکلیف میرے قریب نہ آتی…‘‘‘ عورت آگے کچھ نہیں سنتی۔ اس کی نظر قمیصوں کی تہوں میں بھٹکتی رہتی ہے۔ ایک لمبے وقفے کے بعد، وہ سر اٹھاتی ہے اور خوابناک لہجے میں کہتی ہے، ’’میں نے یہ الفاظ پہلے بھی سنے تھے، تمھارے باپ سے۔ وہ یہ آیتیں مجھے اکثر سناتے رہتے تھے۔ اس سے وہ بے حد محظوظ ہوتے تھے۔ ان کی آنکھیں شرارت سے چمکنے لگتی تھیں۔ ان کی ڈاڑھی لرزنے لگتی تھی۔ اور ان کی آواز اس چھوٹے سے امس بھرے کمرے میں بھر جاتی تھی۔ وہ مجھے یہ واقعہ سنایا کرتے تھے: ’ایک دن عبادت کے بعد ، حضرت محمد صلعم پہاڑی سے اتر کر اپنی بیوی خدیجہ کے پاس گئے اور ان سے کہا، ’خدیجہ، لگتا ہے میرا دماغ الٹنے والا ہے۔‘ ’لیکن کیوں؟‘ ان کی بیوی نے پوچھا۔ اور وہ جواب دیتے ہیں، ’کیونکہ میں خود کے اندر دیوانگی کی علامتیں دیکھتا ہوں۔ جب میں سڑک پر چلتا ہوں تو مجھے ہر پتھر سے، ہر دیوار سے آوازیں آتی سنائی دیتی ہیں۔ اور رات میں، ایک عظیم الجثہ وجود میرے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ طویل قامت ہے، بہت طویل۔ وہ زمین پر کھڑا ہوتا ہے، اور اس کا سر آسمان کو چھو رہا ہوتا ہے۔ میں اس کو نہیں جانتا۔ اور ہر بار وہ میری طرف اس طرح آتا ہے جیسے مجھے پکڑ لے گا۔ ‘ خدیجہ انھیں تسلی دیتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ آئندہ جب وہ ہستی سامنے آئے تو مجھے ضرور بتائیے۔ ایک دن، جب محمدؐ خدیجہ کے ساتھ گھر میں تھے، وہ چیخ اٹھے، ’خدیجہ، وہ ہستی آئی ہے۔ میں اسے دیکھ سکتا ہوں!‘ خدیجہ ان کے پاس آتی ہیں، بیٹھ جاتی ہیں، انھیں اپنے سینے سے لگا لیتی ہیں اور پھر پوچھتی ہیں، ’کیا آپ اسے اب بھی دیکھ رہے ہیں؟‘ محمد ؐجواب دیتے ہیں، ’ہاں، میں اب بھی دیکھ رہا ہوں۔‘ تب خدیجہ اپنے سر اور بالوں سے چادر اتار دیتی ہیں اور پھر پوچھتی ہیں، ’کیا آپ اسے اب بھی دیکھ رہے ہیں؟‘ محمدؐ جواب دیتے ہیں، ’نہیں خدیجہ، وہ مجھے اب نظر نہیں آ تا۔‘ اور ان کی بیوی ان سے کہتی ہیں، ’اے محمدؐ، خوش ہوجائیے ۔ وہ کوئی قوی ہیکل ہستی جن یا دیو نہیں ہے، بلکہ فرشتہ ہے۔ اگر وہ دیو ہوتا تو میرے بالوں کا ذرا سا بھی احترام نہ کرتا اور اس لیے غائب نہ ہو جاتا۔ ‘ اور اس میں تمھارے باپ نے یہ بھی اضافہ کیا تھا کہ یہ قصہ خدیجہ کے مشن کو ظاہر کرتا ہے: محمدؐ کو پیغمبری کے معنی تک پہنچانے کا، انھیں سحر سے نکالنے کا، انھیں شیطانی آسیبوں اور چھلاووں سے چھڑانے کا مشن… وہ خود بھی پیغام لانے والی ہو سکتی تھیں، پیغام بر۔‘‘
وہ رک جاتی ہے، اور ایک طویل، تفکرانہ خاموشی میں ڈوب جاتی ہے، پھر آہستہ آہستہ ننھی قمیصوں میں پیوند لگانے کا کام شروع کردیتی ہے۔

وہ اپنی خاموشی سے باہر نہیں آتی، حتیٰ کہ سوئی اس کی انگلی میں چبھ جاتی ہے، اور وہ چیخ اٹھتی ہے۔ وہ انگلی کو چوستی ہے، اور پھر سلائی کا کام شروع کر دیتی ہے۔ ’’آج صبح… میرے ابا پھر میرے کمرے میں آئے۔ انھوں نے اپنے بازو میں قرآن دبا رکھا تھا۔ یہ میرا نسخہ تھا، وہی جو یہاں میرے پاس ہوتا تھا… ہاں،وہی اس کو لے گئے تھے… اور وہ مجھ سے مور کے پنکھ کے متعلق پوچھنے آئے تھے کیونکہ وہ قرآن کے اندر نہیں تھا۔ وہ کہنے لگے کہ وہی لڑکا ہے— جسے تم یہاں آنے دیتی ہو، اپنے گھر میں— جس نے یہ پنکھ چرایا ہے۔ اور یہ کہ اگر وہ آئے تو مجھے اس سے وہ ضرور مانگ لینا چاہیے۔ ‘‘ وہ کھڑی ہو جاتی ہے، کھڑکی تک جاتی ہے۔ ’’امید ہے وہ ضرور آئے گا۔‘‘

وہ گھر سے باہر نکلتی ہے۔ اس کے قدموں کی آہٹیں صحن پار کرتی ہیں، اس دروازے کے پیچھے رکتی ہیں جو سڑک پر کھلتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ وہ سڑک پر ایک طائرانہ نظر ڈال رہی ہے۔ کچھ نہیں ہے، صرف خاموشی۔ کوئی نہیں، کسی راہگیر کی پرچھائیں تک نہیں۔ وہ لوٹتی ہے۔ کھڑکی کے سامنے انتظار کرتی ہے۔ اس کی پرچھائیں زرد اور نیلے آسمان پر پرواز میں منجمد ہجرتی پرندوں والے پردے کے پس منظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔

سورج غروب ہو رہا ہے۔
عورت کو اپنے بچوں کے پاس لوٹنا ہوگا۔
گھر چھوڑنے سے پہلے، وہ کمرے میں معمول کے کام پورے کرنے کے لیے رکتی ہے۔
پھر چلی جاتی ہے۔

آج رات وہ گولیاں نہیں چلا رہے ہیں۔
چاند کی ٹھنڈی اور مدھم روشنی میں، آوارہ کتے شہر کی ہر گلی میں بھونک رہے ہیں۔تمام رات، صبح ہونے تک۔
وہ بھوکے ہیں۔
آج رات کہیں لاشیں نہیں ہیں۔

جیسے ہی پو پھٹتی ہے، کوئی سڑک کی جانب والے دروازے پر دستک دیتا ہے، پھر اسے کھولتا ہے اور صحن میں داخل ہو جاتا ہے، سیدھا راہداری والے دروزے پر جاتا ہے۔ کوئی شے وہاں زمین پر رکھتا ہے اور چلا جاتا ہے۔

ڈرپ میں محلول کا آخری قطرہ جس وقت ڈراپر سے گزر کر مرد کی رگوں میں اترتا ہے، عورت لوٹ آتی ہے۔
وہ کمرے میں داخل ہوتی ہے ۔ وہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھکی ہوئی لگ رہی ہے۔ اس کی آنکھیں محتاط ہیں، وحشت زدہ۔ اس کی جلد زرد، اور مٹی جیسی ہے۔ اس کے ہونٹ کم گداز، کم چمکیلے۔ وہ اپنی چادر کونے میں پھینک دیتی ہے، اور اندر آ جاتی ہے۔ ہاتھ میں سرخ اور سپید رنگ کا ، سیب کی ڈالیوں کے چھاپے والا بنڈل ہے۔ وہ اپنے مرد کی حالت کا جائزہ لیتی ہے۔ اس سے بات کرتی ہے، جیسا کہ ہمیشہ کرتی رہی ہے۔ ’’کوئی پھر آیا تھا، اور یہ بنڈل دروازے پر چھوڑ گیا ہے۔‘‘ وہ اسے کھولتی ہے۔ بھنے ہوے گیہوں کے کچھ دانے، پکے ہوے دو انار، پنیر کے دو ٹکڑے، اور سونے کی ایک زنجیر۔ ’’یہ وہی ہے، وہی لڑکا!‘‘ ایک عارضی خوشی کی لہر اس کے اداس چہرے پر گزر جاتی ہے۔ ’’مجھے جلدی کرنی چاہیے تھی۔ امید ہے وہ پھر آئے گا۔‘‘

پھر وہ مرد کی چادر بدلتی ہے۔ ’’وہ لوٹ کر آئے گا… کیونکہ یہاں آنے سے پہلے وہ مجھ سے ملنے میری پھوپھی کے گھر آیا تھا… اس وقت میں سو رہی تھی۔ وہ بہت آہستگی سے اندر آیا، کوئی شور کیے بغیر۔ وہ سر سے پیر تک سفید لباس میں تھا۔ وہ بہت پاکیزہ لگ رہا تھا۔ بالکل معصوم۔ وہ اب ہکلا بھی نہیںرہا تھا۔ وہ مجھے یہ بتانے آیا تھا کہ وہ کمبختی مارا مور کا پنکھ میرے بابا کے لیے اتنا اہم کیوں ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ اُسی مور کا پنکھ ہے جو آدم اور حوا کے ساتھ فردوس سے نکالا گیا تھا۔ پھر وہ چلا گیا۔ اس نے مجھے کچھ پوچھنے کا موقع تک نہیں دیا۔‘‘ وہ ڈرپ بیگ بدلتی ہے، قطروں کے گرنے کی رفتار ٹھیک کرتی ہے، اور مرد کے نزدیک بیٹھ جاتی ہے۔ ’’مجھے امید ہے تم اس بات کے لیے مجھ سے نفرت نہیں کرتے کہ میں تم سے اس کے بارے میں باتیں کرتی ہوں، اور یہاں گھر میں اس کی تواضع کرتی ہوں… میں نہیں جانتی کیا چل رہا ہے، لیکن وہ بہت… میں کس طرح کہوں؟… وہ میرے لیے تحفہ ہے۔ تقریباً ویسا ہی محسوس کرتی ہوں جو میں ہماری شادی کے ابتدائی دنوں میں تمھارے لیے محسوس کرتی تھی۔ میں نہیں جانتی ایسا کیوں ہے۔ اس کے باوجود کہ مجھے معلوم ہے وہ بھی گھٹیا بن سکتا ہے، تمھاری طرح۔ مجھے اس کا پورا یقین ہے۔ جس لمحے کوئی عورت تم مردوں کے قبضے میں ہوتی ہے، تم راکشس بن جاتے ہو۔‘‘ وہ اپنی ٹانگیں پھیلاتی ہے۔ ’’اگر تم کبھی زندگی کی طرف لوٹے، کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکے، تو کیا اس وقت بھی تم وہی راکشس ہوگے جو کہ تم پہلے تھے؟‘‘ ایک وقفہ گزرنے دیتی ہے، کیونکہ وہ اپنے خیالات کی زنجیر کے عقب میں ہے۔ ’’مجھے ایسا نہیں لگتا۔ میں نے خود کو قائل کر لیا ہے کہ جو کچھ میں تمھیں بتا رہی ہوں اس سے ہر شے بدل جائے گی۔ تم مجھے سن رہے ہو، اس پر دھیان دے رہے ہو، اس پر سوچ رہے ہو، غور کر رہے…‘‘ وہ اس کے اور نزدیک کھسک آتی ہے۔ ’’ہاں، تم بدل جاؤگے، تم مجھ سے محبت کروگے۔ تم مجھے اس طرح پیار کروگے جس طرح میں چاہتی ہوں کہ مجھے پیار کیا جائے۔ کیونکہ اب تم نے بہت سی نئی باتیں جان لی ہیں۔ میرے بارے میں بھی، اور اپنے بارے میں بھی۔ تم میرے راز جانتے ہو۔ آج کے بعد ، وہ سب راز تمھارے اندر ہیں۔‘‘ وہ اس کی گردن کو بوسہ دیتی ہے۔ ’’تم میرے رازوں کا احترام کروگے۔ اسی طرح میں تمھارے جسم کا احترام کروںگی۔ ‘‘ وہ اپنا ہاتھ مرد کی ٹانگوں کے درمیان ڈال دیتی ہے، اور اس کے عضو کو تھپتھپاتی ہے۔ ’’میںنے اس کو اس طرح پہلے کبھی نہیں چھوا… تمھاری… تمھاری بٹیر!‘‘ ہنستی ہے۔ ’’کیا تم… کر سکتے ہو؟‘‘ اس کا ایک ہاتھ مرد کی پتلون کے اندر پھسل جاتا ہے۔ اس کا دوسرا ہاتھ خود اپنی رانوں کے درمیان چلا جاتا ہے۔ اس کے لب ڈاڑھی پر پھسلتے ہیں ۔ اس کے ادھ کھلے منھ کو رگڑتے ہیں۔ ان کی سانسیں باہم مل جاتی ہیں، آپس میں مدغم ہو جاتی ہیں۔ ’’میں اس کا خواب دیکھا کرتی تھی… ہمیشہ۔ جب میں خود کو چھوتی تھی، تو تصور کرتی تھی کہ تمھارا عضو میرے ہاتھ میں ہے۔‘‘ آہستہ آہستہ اس کی سانسوں کا درمیانی وقفہ کم سے کم ہوتا جاتا ہے، ان کا آہنگ بڑھ جاتا ہے، وہ مرد کی سانسوں سے زیادہ تیز ہو جاتی ہیں۔ اس کی ٹانگوں کے درمیانی حصے کو اس کا ہاتھ نرمی سے سہلاتا ہے، پھر سرعت سے، پھر شدت سے… اس کا تنفس زیادہ سے زیادہ بوجھل ہوتا جاتا ہے۔ وہ ہانپتی ہے۔ سانسیں چھوٹی ۔ بوجھل پن زیادہ۔
ایک چیخ۔
کراہتی ہے۔

ایک بار پھر، خاموشی۔
ایک بار پھر، سکوت ۔
صرف سانسیں۔
دھیمی۔
اور ہموار۔

چند سانسوں کے بعد۔
ایک گھٹی ہوئی آہ یکایک سناٹے کو توڑتی ہے۔ عورت اپنے مرد سے ’’سوری!‘‘ کہتی ہے، اور تھوڑا سا کھسکتی ہے۔ اس کی جانب دیکھے بغیر وہ خود کو دور ہٹاتی ہے، اور چھپنے کی جگہ سے باہر نکل آتی ہے، دیوار کے گوشے میں بیٹھنے کے لیے۔ اس کی آنکھیں اب بھی بند ہیں۔ اس کے لب اب بھی لرز رہے ہیں۔ وہ کراہ رہی ہے۔ پھر الفاظ بتدریج نکلنے لگتے ہیں: ’’میرے اندر اب کیا گھس گیا ہے؟‘‘ اس کا سر دیوارمیں ٹکر مارتا ہے۔ ’’میں ضرور آسیب زدہ ہو چکی ہوں… ہاں، میں مرے ہوؤں کو دیکھتی ہوں… وہ لوگ جو اَب یہاں نہیں ہیں… میں…‘‘ وہ سیاہ تسبیح اپنی جیب سے نکالتی ہے۔ ’’خدایا! … تو میرے ساتھ کیا کر رہا ہے؟‘‘ اس کا جسم آگے پیچھے جھولتا ہے، دھیرے دھیرے اور آہنگ کے ساتھ۔ ’’اللہ… میرا ایمان واپس پانے میں میری مدد کر! میری نجات فرما۔ ان شیطانی آسیبوں اور چھلاووں سے میری حفاظت فرما! جیسا کہ تو نے محمدؐ کی حفاظت کی تھی!‘‘ وہ اچانک کھڑی ہو جاتی ہے۔ کمرے میں ٹہلنے لگتی ہے۔ راہداری میں۔ اس کی آواز سے سارا گھر بھر جاتا ہے۔ ’’ہاں… وہ تمام پیغمبروں کے درمیان ایک پیغمبر تھے۔ وہ جب آئے، اس سے پہلے ایک لاکھ سے زیادہ ان کے جیسے آچکے تھے… جو کوئی ان کی طرح انکشاف کرتا ہے، ان کے جیسا ہو سکتا ہے… میں اپنے آپ کو منکشف کر رہی ہوں… میں ان میں سے ایک ہوں…‘‘ اس کے الفاظ پانی گرنے کی آواز میں دب جاتے ہیں۔ وہ خود کو صاف کر رہی ہے۔

وہ واپس آتی ہے۔ خوبصورت ، قرمزی لباس میں، جس کے کفوں اور دامن پر کہیں کہیں اناج کی بالیاں اور پتے کشیدہ ہیں۔

وہ اپنی جگہ پر لوٹ آتی ہے، چھپانے کی جگہ کے قریب۔ مطمئن اور پرسکون ہوکر وہ بولنا شروع کرتی ہے: ’’میں نے حکیم سے یا ملّا سے جاکر مشورہ نہیں کیا۔ میری پھوپھی نے مجھے منع کر دیا۔ وہ کہتی ہیں، میں دیوانی نہیں ہوں، نہ مجھ پر آسیب ہے۔ میں شیطان کے سحر میں بھی نہیں ہوں۔ جو کچھ میں کہہ رہی ہوں، جو کچھ میں کر رہی ہوں،اس کا حکم بلندی سے آنے والی آواز دے رہی ہے، اسی سے رہنمائی مل رہی ہے۔ اور جو آواز میرے حلق سے نکل رہی ہے، وہ آواز ہے جو ہزاروں سال سے مدفون تھی۔‘‘

وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے، اور تین سانسوں کے بعد کھولتی ہے۔ اپنے سر کو ہلائے بغیر، وہ کمرے کا جائزہ لیتی ہے، جیسے اسے پہلی بار دیکھ رہی ہو۔ ’’میں اپنے بابا کے آنے کا انتظار کر رہی ہوں۔ ضروری ہے کہ تم سب کو مور کے پنکھ کا قصہ سناؤں، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قصہ پاک!‘‘ اس کی آواز کی نرمی ذرا کم ہو جاتی ہے۔ ’’لیکن پہلے مجھے اسے واپس لانا ہوگا… ہاں، اسی پنکھ سے میں ان سب آوازوں کی کہانی لکھوں گی جو میرے اندر سے ابل ابل کر آرہی ہیں اور مجھے منکشف کر رہی ہیں!‘‘ وہ جوش میں آ جاتی ہے۔ ’’یہی وہ کم بخت مور کا پنکھ ہے!… اور وہ لڑکا کہاں ہے؟ اور میں اس کے ان بدبخت اناروں کا کیا کروں؟ یا اس کی اس زنجیر کا؟ مور کا پنکھ؟ مجھے وہ پنکھ چاہیے!‘‘ وہ کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس کی آنکھیں چمک رہی ہیں۔ کسی مجنون عورت کی طرح۔ وہ کمرے سے بھاگ جاتی ہے۔ گھر بھر میں تلاش کرتی پھرتی ہے۔ واپس آتی ہے۔ اس کے بال بری طرح بکھرے ہیں۔ دھول میں بھرے ہوے۔ وہ خود کو اس گدے پر گرا دیتی ہے جو اس کے مرد کے فوٹو کے سامنے پڑا ہے۔ سیاہ دانوں والی تسبیح اٹھاتی ہے، اور پھر سے ورد شروع کر دیتی ہے۔
اچانک ، وہ چیخ اٹھتی ہے: ’’میں الجبار ہوں!‘‘
بڑبڑاتی ہے: ’’میں الرحیم ہوں…‘‘
اور خاموش ہو جاتی ہے۔

اس کی آنکھوں میں پھر سے چمک آجاتی ہے۔ اس کے سانس کا آہنگ اپنے مرد کے سانس سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ وہ لیٹ جاتی ہے۔ دیوار کی طرف رخ کرکے۔

نرم آواز میں وہ کہنا شروع کرتی ہے: ’’مور کا پنکھ میرے ذہن پر سوار ہے!‘‘ وہ اپنے ناخن سے دیوار سے اترتی ہوئی روغن کی پرتوں کو کھرچتی ہے۔’ ’اس نے شروع سے ہی میرے دماغ کو جکڑ لیا تھا۔ اسی رات سے جب پہلی بار میں نے یہ پریشاں خواب دیکھا تھا۔ وہی پریشاں خواب جس کے بارے میں تمھیں کل بتا رہی تھی، جس میں بچہ خواب میں آکر مجھے ایذا پہنچا رہا تھا، مجھ سے کہہ رہا تھا کہ وہ میرا سب سے بڑا راز جانتا ہے۔ خواب نے مجھے اتنا ڈرا دیا کہ میں سونے سے ڈرنے لگی۔ لیکن خواب نے آہستہ آہستہ میری بیداری کی گھڑیوں میں بھی اپنا راستہ کرید لیا… میں بچے کی آوازیں اپنے بطن میں سنتی تھی۔ ہر وقت۔ میں جہاں بھی ہوتی۔ غسل خانے میں، کچن میں، سڑک پر… بچہ مجھ سے بات کرتا رہتا تھا۔ مجھے ہراساں کرتا رہتا تھا۔ پنکھ کا مطالبہ کرتا رہتا تھا…‘‘ وہ اپنے ناخن کا کنارا چاٹتی ہے، جو پینٹ کے ریزوں کی وجہ سے نیلا ہو گیا ہے۔ ’’ان لمحوں میں مجھے صرف ایک ہی فکر رہتی تھی کہ یہ خواب ختم ہو جائے۔ لیکن کس طرح؟ میں دعا کرتی تھی کہ حمل ساقط ہو جائے، تاکہ میں اس کم بخت بچے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گم کردوں۔ تم سب لوگ سوچتے تھے کہ میں اسی اعصابی کیفیت سے گزر رہی ہوں جس سے بیشتر حاملہ عورتیں گزرتی ہیں۔ لیکن نہیں۔ جو کچھ میں تم کو اب بتانے والی ہوں، وہی سچ ہے… جو کچھ بچے نے کہا، سچ تھا… جو کچھ وہ جانتا تھا، سچ تھا۔ وہ بچہ میرا راز جانتا تھا۔ وہ بچہ میرا راز تھا۔ میرا خفیہ سچ! پس میں نے طے کیا کہ جب اس کو جنم دوں گی، تو اپنی ٹانگوں کے درمیان ہی اس کا گلا گھونٹ دوںگی۔ یہی سبب تھا کہ میں اسے پیدا کرنے کے لیے زور نہیں لگا رہی تھی۔ اگر انھوںنے مجھے افیم دے کر بے ہوش نہ کر دیا ہوتا تو بچے کا میرے پیٹ میں ہی دم گھٹ جاتا۔ لیکن بچہ پیدا ہوا۔ اور جب میں ہوش میں آئی تو یہ دیکھ کر مجھے بڑی تسکین ہوئی کہ یہ وہ بچہ نہیں ہے جو میرے خواب میں آتا تھا —بلکہ لڑکی ہے! لڑکی مجھے کبھی دھوکا نہیں دے گی، میں نے اپنے دل میں سوچا۔ میں جانتی ہوں، میرا راز جاننے کے لیے تم مرے جا رہے ہوگے۔‘ ‘ وہ گھوم جاتی ہے۔ سبز پردے کی طرف دیکھنے کے لیے اپنا سر اٹھاتی ہے، اور مرد کی طرف سانپ کی طرح رینگتی ہے۔ جب وہ اس کے پیروں کے قریب پہنچتی ہے، تو ا س کی ویران آنکھوں سے نظریں ملانے کی کوشش کرتی ہے۔ ’’کیونکہ وہ بچہ تمھارا نہیں تھا!‘‘ وہ خاموش ہو جاتی ہے، اپنے مرد کو چٹختے ہوے دیکھنے کے لیے بےچین۔ لیکن جو بھی ہو، کوئی ردِ عمل نہیں، ہمیشہ کی طرح۔ چنانچہ وہ اتنی بے باک ہو جاتی ہے کہ کہہ ہی ڈالتی ہے: ’’ہاں میرے سنگِ صبور، وہ دونوں لڑکیاں تمھاری نہیں ہیں!‘‘ وہ سیدھی ہوکر بیٹھ جاتی ہے۔ ’’اور کیا تم جانتے ہو کہ کیوں؟کیونکہ بانجھ تم تھے۔ میں نہیں!‘‘ وہ دیوار کا سہارا لیتی ہے، اُس گوشے میں جو اس چھپی جگہ کے نزدیک ہے۔ اسی سمت میں دیکھتی ہے جدھر مرد کی نظریں ہیں، دروازے کی طرف۔ ’’ہر کوئی سوچتا تھا کہ میں ہی بانجھ ہوں۔ تمھاری ماں چاہتی تھی کہ تم دوسری بیوی لے آؤ۔ اور پھر میرے ساتھ کیا ہوتا؟ میں اپنی پھوپھی کی طرح بن جاتی۔ اور یہ بالکل انھی دنوں کی بات ہے کہ معجزانہ طور پر میری ان سے ملاقات ہو گئی۔ خدا نے انھیں میرے پاس بھیجا تھا، میری رہنمائی کے لیے۔‘‘ اس کی آنکھیں بند ہیں۔ ایک پراسرار تبسم اس کے لبوں کے گوشوں پر کھنچ آتا ہے۔ ’’پس میںنے تمھاری ماں سے کہا کہ ایک بڑا حکیم ہے جو اس طرح کے مسئلوں میں کرشمے کر دکھاتا ہے۔ تم وہ کہانی جانتے ہو… لیکن سچ نہیں جانتے! خیر، وہ اس سے ملنے اور تعویذ لینے میرے ساتھ آئی۔ مجھے یہ سب اسی طرح یاد ہے جیسے کل کی بات ہو۔ وہ تمام باتیں جو راستے بھر میں نے تمھاری ماں کے منھ سے سنیں۔ وہ مجھے دنیا بھر کی صلوٰتیں سناتی رہی۔ وہ چلّا رہی تھی، اور مجھ سے بار بار کہہ رہی تھی کہ بس یہ تمھارا آخری موقع ہے۔ میں تمھیں بتا سکتی ہوں کہ اس دن اس نے بہت سی رقم خرچ کی۔ اور اس کے بعد میں حکیم سے ملنے بار بار گئی، جب تک کہ میں حاملہ نہ ہو گئی۔ جیسے کسی جادو سے! لیکن تمھیں بتاؤں کہ کیا ہوا تھا۔ وہ حکیم تو بس میری پھوپھی کا دلّال تھا۔ اس نے میرا ملن ایسے آدمی سے کرایا جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی۔ انھوںنے مکمل تاریکی میں ہمیں ایک ساتھ ایک کمرے میں بند کر دیا۔ اس آدمی کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ مجھ سے بات کرے یا مجھے ہاتھ لگائے… اور جو بھی ہو، ہم کبھی عریاں نہیں ہوے۔ ہم نے صرف اپنی شلواریں نیچے کھسکائیں۔ بس اتنا ہی۔ وہ نوعمر رہا ہوگا۔ بہت کم عمر اور بہت توانا۔ لیکن بظاہر نا تجربہ کار۔ اس کو چھونا میرا کام تھا، اور یہ طے کرنا بھی کہ کس وقت وہ میرے اندر دخول کرے۔ مجھے اس کو ہر بات سکھانی تھی، اس کو بھی! کسی دوسرے کے جسم پر اختیار رکھنا ایک پیاری بات ہو سکتی ہے، لیکن پہلے دن یہ بڑا ناگوار لگا۔ ہم دونوں ہی بہت بےچین تھے، بہت خوفزدہ۔ میں نہیں چاہتی تھی وہ یہ سوچے کہ میں کوئی کسبی ہوں، اس لیے میں لکڑی کے تختے کی طرح سخت پڑی تھی۔ اور وہ بے چارہ اس قدر سہما ہوا اور مرعوب تھا کہ تیار ہی نہیں ہو سکا۔ کچھ نہیں ہوا۔ ہم ایک دوسرے سے دور دور ہی رہے، ہم بس ایک دوسرے کی جھٹکے دار سانسیں ہی سن سکتے تھے۔ میں ٹوٹ گئی۔ اور چیخنے لگی۔ وہ لوگ مجھے کمرے سے لے گئے… اور میں نے سارا دن الٹیاں کرتے گزارا۔ میں معاملے کو یہیں ختم کردینا چاہتی تھی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ آئندہ کے سیشن بہتر سے بہتر ہوتے گئے۔ پھر بھی، ہر سیشن کے بعد میں روتی رہتی تھی۔ میں خود کو مجرم سمجھتی… ساری دنیا سے نفرت کرتی تھی۔ اور میں تمھیں بددعائیں دیتی تھی — تمھیں اور تمھارے گھر والوں کو! اور اس پر مستزاد یہ کہ مجھے ساری رات تمھارے ساتھ سونا پڑتا تھا! اور سب سے دلچسپ بات تو یہ ہوئی کہ جب میں حاملہ ہوگئی تو تمھاری ماں حکیم کے پاس مسلسل جانے لگی، اپنے چھوٹے سے چھوٹے مسئلے پر تعویذ لینے کے لیے۔‘ ‘ ایک بوجھل ہنسی اس کے سینے سے خرخراتی ہوئی نکلتی ہے۔ ’’اے میرے سنگِ صبور! اگر عورت ہونا ایک مشکل کام ہے، تو کبھی کبھی مرد ہونا بھی بہت مشکل ہوتا ہے!‘‘ ایک طویل آہ اس کے جسم سے نکلنے کی سعی کرتی ہے۔ وہ پھر سے اپنے خیالات میں ڈوب جاتی ہے۔ اس کی سیاہ آنکھیں گردش کرتی ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ زرد پڑ چکے اس کے لب جنبش کرنا شروع کرتے ہیں، دعا کی مانند کچھ بدبداتے ہوے۔ اچانک، وہ عجیب سی سنجیدہ آواز میں بولنا شروع کرتی ہے: ’’اگر سارا مذہب الہام پر منحصر ہے، حقیقت کے انکشاف پر، تو پھر اے میرے سنگِ صبور، ہماری کہانی بھی ایک مذہب ہے! ہمارا اپنا نجی مذہب!‘‘ وہ بے چینی سے ٹہلنا شروع کر دیتی ہے۔ ’’ہاں، جسم ہمارا الہام ہے۔‘‘ وہ رک جاتی ہے۔ ’’ہمارے اپنے جسم، ان کے اسرار، ان کی جراحتیں، ان کی اذیتیں،ان کی لذتیں…‘‘ وہ بھاگ کر مرد کی طرف جاتی ہے،اس طرح دمکتی ہوئی جیسے حقیقت کو اس نے اپنے ہاتھوں میں پکڑ رکھا ہو اور اب اسے سونپ رہی ہو۔ ’’ہاں، میرے سنگِ صبور… کیا تم جانتے ہو ننانوے واں نام کیا ہے، یعنی اللہ کا آخری نام؟ یہ ہے الصبور — صبر کرنے والا۔ ذرا خود کو دیکھو! تم خدا ہو! تم موجود ہو لیکن جنبش نہیں کرتے۔ تم سنتے ہو لیکن بولتے نہیں۔ تم دیکھتے ہو، اور تمھیں دیکھا نہیں جا سکتا! خدا کی طرح، تم صابر ہو، ثابت۔ اور میں تمھاری پیغام بر ہوں، تمھاری رسول۔ میں تمھاری آواز ہوں، تمھاری نظر۔ تمھارے ہاتھ۔ میں تم کو منکشف کرتی ہوں! الصبور!‘‘ وہ سبز پردے کو پوری طرح ایک جانب کھینچ دیتی ہے۔ اور وہ بیک جنبش پیچھے گھوم جاتی ہے اور اپنی بانہیں اس طرح پھینکتی ہے جیسے حاضرین سے خطاب کر رہی ہو، اور چلّا کر کہتی ہے: ’’الہام کا مشاہدہ کرو، الصبور! ‘‘ اس کا ہاتھ مرد کا اختصاص کرتا ہے، اس کا مرد، خالی نگاہوں والا، خلا میں گھورتا ہوا۔
اپنے الہام میں وہ خود ہی بہہ جاتی ہے۔ خو د سے لا تعلق، وہ ایک قدم آگے بڑھاتی ہے، اپنی تقریر جاری رکھنے کے لیے۔ لیکن ایک ہاتھ، اس کے پیچھے سے، آگے آتا ہے اور اس کی کلائی پکڑ لیتا ہے۔ وہ پیچھے گھومتی ہے۔ یہ مرد ہے، اس کا مرد، جس نے اسے گرفت میں لے لیا ہے۔ وہ جنبش نہیں کرتی۔ جیسے اس پر بجلی گری ہو۔ منھ کھلا کا کھلا۔ الفاظ معلق۔ وہ اچانک کھڑا ہو جاتا ہے، اکڑا ہوا اور خشک، ایسی چٹان کی مانند جسے بہ یک جنبش اٹھا دیا گیا ہو۔
’’یہ… یہ… معجزہ ہے! یہ موعودت ہے! دوسری زندگی!‘‘ وہ ایسی آواز میں کہتی ہے جو دہشت کے مارے گلے میں گھٹ گئی ہے۔ ’’میں جانتی تھی میرے راز تمھیں زندگی کی طرف لے آئیںگے۔ واپس میرے پاس… میں یہ جانتی تھی…‘‘ آدمی اسے اپنی جانب کھینچتا ہے، اس کے بال پکڑتا ہے، اور اس کا سر دیوار پر دے مارتا ہے۔ وہ گر جاتی ہے۔ وہ نہ چلّاتی ہے، نہ روتی ہے۔ ’’یہ ہو رہا ہے… تم پھٹنے والے ہو!‘ـ‘ اس کی جنونی آنکھیں اس کے بکھرے ہوے بالوں کے درمیان سے چمکتی ہیں۔ ’’میرا سنگِ صبور پھٹ رہا ہے!‘‘ وہ تلخ ہنسی کے ساتھ چیختی ہے۔ ’’الصبور…‘‘ وہ چلّاتی ہے، اپنی آنکھیں بند کرتے ہوے۔ ’’تمھارا شکریہ ، الصبور! بالآخر مجھے اپنی اذیتوں سے نجات مل رہی ہے۔‘‘ اور مرد کے قدموں سے لپٹ جاتی ہے۔
مرد، جس کا چہرہ نحیف اور بے رنگ ہے، عورت کو پھر سے پکڑ لیتا ہے ، اسے بلند کرتا ہے اور اس دیوار پر دے مارتا ہے جس پر خنجر اور فوٹو آویزاں ہیں۔ وہ اس کے نزدیک آتا ہے، پھر سے پکڑتا ہے، اور اس کو کھینچ کر دیوار کے سہارے کھڑا کر دیتا ہے۔ عورت اس کی جانب یوں دیکھتی ہے جیسے وجد میں ہو۔ اس کا سر خنجر کو چھو رہا ہے۔ اس کا ہاتھ خنجر کو پکڑ لیتا ہے۔ وہ چیخ مارتی ہے اور اسے مرد کے دل میں اتار دیتی ہے۔ خون کی ایک بوند بھی نہیں نکلتی۔
مرد، اب بھی اکڑا ہوا اور سرد ہے۔ وہ عورت کو بالوں سے پکڑتا ہے، اسے گھسیٹا ہوا کمرے کے وسط میں لے آتا ہے۔ وہ اس کے سر کو پھر سے فرش پر دے مارتاہے، اور پھر اکھڑپن سے ، اس کی گردن کو مروڑتا ہے۔

عورت سانس چھوڑتی ہے۔
مرد سانس لیتا ہے۔

عورت اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے۔
مرد کی آنکھیں ویران رہتی ہیں۔

دروازے پر کوئی دستک دیتا ہے۔
مرد — اپنے دل میں گہرائی تک اترے خنجر کے ساتھ — دیوار کے نیچے بچھے اپنے گدے پر، فوٹو کی جانب منھ کرکے، لیٹ جاتا ہے۔
عورت کارنگ سرخ پڑ گیا ہے۔ اپنے ہی خون سے سرخ۔
کوئی گھر میں داخل ہوتا ہے۔
عورت آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولتی ہے۔
ہوا تیز ہو جاتی ہے، ہجرتی چڑیوں کو اس کے جسم کے اوپر پرواز پر بھیجتی ہوئی۔
***

انگریزی سے ترجمہ: ارجمند آرا

یہ کہانی نادیہ انجمن کی یاد میں لکھی گئی —
نادیہ وہ افغان شاعرہ تھی
جس کو اس کے شوہر نے بے دردی سے قتل کر دیا۔
ایم۔ ڈی۔ کے نام !
***
جسم کی جانب سے،
جسم کے ذریعے،
جسم کے لیے،
جسم کے ساتھ ،
جسم سے شروع ہو کراور جسم کی حد تک!
— فرانسیسی ادیب اور فنکار انتونن آرتو

جواب چھوڑیں