درخت احتجاج اور پاموک۔۔!! اپنی یادوں کی کتاب &quo…

درخت احتجاج اور پاموک۔۔!!

اپنی یادوں کی کتاب " استنبول " میں، میں نے لکھا ہے کہ کس طرح ہمارا پورا خاندان فلیٹوں کے ایک پورے بلاک میں رہتا تھا۔۔ اس عمارت کے سامنے پچاس سالہ پرانا پیڑ کھڑا تھا، جو شکر ہے کہ اب بھی وہیں موجود ہے۔۔۔ 1975 میں بلدیہ نے فیصلہ کیا کہ اس درخت کو کاٹ ڈالا جائے، تاکہ سڑک کو چوڑا کیا جاسکے۔۔ بدماغ افسر شاہی اور منطق العنان گورنر نے محلے والوں کی مخالفت کی پرواہ نہ کی، جب اس درخت کے کاٹے جانے کا وقت آگیا تو ہمارے خاندان نے پورا دن اور پوری رات سڑک پر گزاری، جہاں ہم باری باری اس درخت کی حفاظت کرتے رہے۔۔۔۔ اس طرح ہم نے نہ صرف اپنے درخت کو بچایا ، بلکہ ایک مشترکہ یاد بھی تخلیق کی کہ جس کو سارا خاندان بڑی خوشی کے ساتھ دہراتا ہے اور جو ہمہیں آپس میں بھی جوڑے رکھتے ہیں۔۔

••••••

حوالہ : دنیا زاد ، صفحہ 329
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2825525757677939

جواب چھوڑیں