شعر میں حضرتِ اقبال کا پیرو ہونا ہے اگر جُرم تو ب…

شعر میں حضرتِ اقبال کا پیرو ہونا
ہے اگر جُرم تو بیشک اسدؔ اقبالی ہے
اسد ملتانی
1959 – 1902
فیضِ عشق
عشق کے فیض سے موجود ہیں دیوانے چند
دیکھ لو آج بھی آباد ہیں ویرانے چند
یہ نہ سمجھو کہ کوئ بندۂ محرم نہ رہا
نظر آتے ہیں اگر بزم میں بیگانے چند
دامِ الفت میں خرد مند بھی پھنس جاتے ہیں
مرغِ دانا کے لۓ بھی ہیں یہاں دانے چند
آگیا حضرتِ واعظ کی زباں میں بھی اثر
یاد تھے اہلِ محبت کے جو افسانے چند
کم سے کم شہرِ کے مستوں میں تو ہمرنگی ہو
ایک سی مۓ جو پلائیں یہی میخانے چند
ہوں میں ان شوخ نگاہوں کے فسوں کا قائل
جن سے مائل بہ جنوں ہوگۓ فرزانے چند
حسن اور عشق میں ہے ربط بدستور اسدؔ
شمع جلتی ہے تو آجاتے ہیں پروانے چند
معارف اعظم گڈہ
اگسٹ 1942ء

بشکریہ وسیم سیّد

Being Peru of Iqbal Iqbal in poetry
If there is a crime, then it is indeed a
Asad Multani
1959 – 1902
Love of love
A few crazy people are present with the faiz of love.
See, even today the wilderness is a few.
Don't think that there is no slave of muharram.
If you see a few in meetings.
Even the wise people get stuck in love.
There are a few pimples for the wise.
The effect in the tongue of the preacher has come.
I remember the stories of the people of love.
At least you are in the city of the city.
A little bit of a little bit of a drink.
I am convinced of the foreigners of these vibrant eyes.
Those who are inclined to the jinn.
There is a link in beauty and love.
If the candle burns then it comes to the moth.
Maarif Azam g ڈہ
August 1942

Courtesy of Waseem Sayeed

Translated


جواب چھوڑیں