غیر مقبول مگر درست فیصلوں کی ضرورت ہے۔۔محمد زبیر خان موہل


یاد رکھیں کچھ فیصلے غلط ہوتے ہیں مگر مقبولِ عام ہوتے ہیں۔ نا سمجھ ان فیصلوں کی بہت پذیرائی کرتے ہیں اور وقت گزرنے پر ان فیصلوں کے نتائج قوموں کو بھگتنا پڑتے ہیں جبکہ کچھ فیصلے غیر مقبول ہوتے ہیں مگر وقت گزرنے پر وہ فیصلے درست ہی نہیں بلکہ وسیع تر قومی مفاد کے حامل ثابت ہوتے ہیں۔ میں لکھنا شروع کروں تو بہت سے ایسے فیصلے بطور مثال لکھ سکتا ہوں جو انتہائی مقبول مگر غلط تھے جن کے نتائج ہمیں تادیر بھگتنا ہوں گے ،جیسے کہ کسی بھی پاکستانی وزیر اعظم کا امریکہ کا پہلا دورہ، ون یونٹ کا قیام، پارلیمانی نظام حکومت کو اختیار کرنا، انڈسٹری کو قومیانے کا فیصلہ، ڈالر ایکسچینج ریٹ کو مصنوعی طریقے سے 100 روپے سے نیچے رکھنا، قرض لیکر پل، موٹروے اور میٹرو/اورنج لائن کی تعمیر وغیرہ وغیرہ۔

دنیا بھر میں عمومی طور پر دو طرح کی منصوبہ بندی یا پلاننگ کی جاتی ہے۔ کم مدتی منصوبہ بندی یا پلاننگ اور طویل مدتی منصوبہ بندی یا پلاننگ۔ جن کو انگریزی میں short-term policies or planning اور long-term policies or planning کہا جاتا ہے۔

پاکستانی قوم کا المیہ یہ ہے کہ اس قوم کے رہنماؤں نے زندگی کے کسی بھی شعبہ میں کبھی کوئی طویل مدتی منصوبہ بندی یا پلاننگ نہیں کی بلکہ ہمیشہ کم مدتی منصوبہ بندی یا پلاننگ کو ترجیح دی۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ جگاڑ بندی یا ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کو اختیار کیا تو بےجاہ نہ ہوگا۔ ہمیں بحیثیت قوم بھی جگاڑ بندی کی عادت ہے۔ ہم زندگی کے ہر پہلو میں جگاڑ بندی اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسی سے کام لیتے آئے ہیں اور لیتے رہتے ہیں۔ اس کی بہت سی مثالیں ہم اپنی روزمرہ زندگی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہ ہماری قوم کا مزاج بن چکا ہے اور یہ قومی مزاج بنانے میں بہت بڑا ہاتھ ہمارے کرپٹ مافیاز اور کرپٹ نظام کا ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہمارے اعلیٰ اور مقدس ایوانوں میں تھڑے اور چوکوں کی سیاست کی جاتی ہے۔ ببانگِ دہل جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ نہ صرف جھوٹ بولے جاتے ہیں بلکہ حددرجہ ڈھٹائی سے ان جھوٹوں کا دفاع بھی کیا جاتا ہے۔ ہماری میڈیا انڈسٹری جھوٹ بولنے، جھوٹ پھیلانے اور ان جھوٹوں کو سچ ثابت کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ چاہے ہمارے راہنما (بلاتفریق مذہب و سیاست) ہوں یا ذرائع ابلاغ، اس قوم کو سچ جاننے کا حق دینا ہی نہیں چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قوم کو سیاسی شعور اور آگاہی حاصل نہیں ہو پائی جسکی وجہ سے یہ قوم فیصلوں کی مقبولیت اور غیر مقبولیت میں الجھ گئی جبکہ ان فیصلوں کے درست ہونے یا غلط ہونے کی فہم سے ماورا ہو گئی۔ غلط فیصلوں پر جوابدہی کرنے کی بجائے ان مرغ بادنما ٹائپ لیڈران کی پرستش کرنے لگ گئی۔پاکستانی قوم شخصیت پرستی میں مبتلا ہو چکی ہے۔ یہ ان رہنماؤں کے لئے اپنے قریبی دوست احباب سے گالم گلوچ کرتے، جھگڑا کرتے، مرتے مارتے نظر آتے ہیں مگر اپنے انہی نام نہاد رہنماؤں سے سوال کرنا کفر سمجھتے ہیں۔ اپنے دیئے گئے ووٹ اور ٹیکس کے پیسے کا غلط استعمال، ملکی معیشت کی تباہی، ناکام خارجہ پالیسی، ملکی مفادات سے روگردانی، حتیٰ کہ ملک سے غداری ان سے سب برداشت ہے مگر اس قوم کا اپنے رہنماؤں سے سوال کرنا گستاخی ہے، وہ برداشت نہیں ہوتا۔

موجودہ حکومت پر جس طرح سے تنقید کی جاتی ہے جس طرح سے اس حکومت کے ہر فیصلے پر انگلی اٹھائی جاتی ہے سچ مانیں تو خوشی ہوتی ہے کہ اس قوم کا سیاسی شعور جاگ رہا ہے چاہے وہ بغض عمران خان میں ہی کیوں نہ ہو۔ عمران خان یا تحریک انصاف کے فالوورز میں ایک خاصیت ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت کے غلط فیصلوں پر بھی تنقید کرتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری جماعتوں کے فالوورز میں اس چیز کا فقدان ہے۔ یہ شاید عمران خان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کا ہی نتیجہ ہے کہ آج پاکستانی قوم کو سیاسی شعور آرہا ہے اور اس شعور کا سب سے زیادہ سامنا بھی خود عمران خان اور اس کی ٹیم کو کرنا پڑ رہا ہے۔ مگر اس قوم کا ایک بڑا حصہ اس سیاسی شعور کو صرف بُغض عمران خان کی وجہ سے موجودہ حکومت کی جانب سے کئے جارہے غیر مقبول مگر درست فیصلوں پر جوابدہی کرنے کے لیے بلاسوچے سمجھے بیجا تنقید کرنے کے لئے منفی استعمال کر رہا ہے۔دعا ہے کہ پاکستانی قوم کو سیاسی شعور کی بیداری ملے، سوال کرنے، جوابدہی کرنے کی عادت پڑ جائے، اس قوم کے سیاسی شعور کو درست سمت ملے۔ یہ سیاسی شعور بغض عمران خان سے نکل کر اس قوم کو اعلیٰ اقدار کے ساتھ عزت اور وقار کی بحالی کی تحریک دے۔ سچائی اور حقیقت پر مبنی بصیرت سے روشناس کروائے۔ دعا گو ہوں کہ یہ شعور محض شور نہ ہو۔ میری قوم جھوٹ بولنے والوں کا، سیاست کو کاروبار بنانے والوں کا، معیشت کو تباہ کرنے والوں کا، اداروں کو برباد کرنے نیلام کرنے والوں کا، کرپشن کرنے کک بیکس لینے والوں کا، بیرون ممالک جائیداد اثاثے بنانے والوں کا محاسبہ کرنے والی قوم بنے۔

چند روز قبل کسی تقریب کا ایک کلپ میری نظر سے گزرا جس میں ڈاکٹر راشد علی بلوچ نامی ایک صاحب نے دو بہت خوبصورت سوال مہمان امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور شرکاء و حاضرین سے پوچھے کہ بمطابق زبورِ مقدس حضرت داؤد علیہ السلام پیشہ کے اعتبار سے لوہار تھے اور یہودی ان کی امت ہیں۔ اسی طرح بمطابق انجیلِ مقدس (لوقا) جناب عیسیٰ علیہ السلام پیشہ کے اعتبار سے چرواہے تھے اور عیسائی ان کی امت ہیں۔ جبکہ بمطابق مستند احادیث حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا تو اول الذکر دونوں امتیں علمی اعتبار سے ایک معلم کی امت پر سبقت کیسے لے گئیں؟ اور دوسرا سوال یہ کیا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار بھی صادق اور امین کے لقب سے پکارتے تھے پھر اس صادق و امین صلواۃ و سلام اللہ علیہ کی امت اتنی جھوٹی، اتنی خائن اور اتنی چور کیوں؟
اللّٰہ ہمیں ہدایت دے۔۔۔ وما علینا الاالبلاغ المبین!





بشکریہ

جواب چھوڑیں