دیارِ غیر میں ہم بھی صداؤں سے مچل جاتے مگر تھے کو…

دیارِ غیر میں ہم بھی صداؤں سے مچل جاتے
مگر تھے کون اپنے جن کے دعوؤں سے پگھل جاتے ؟

ستمگر کی حقیقت کو بتانا کام تھا میرا
یہ تم پر منحصر ہے تم مُکر جاتے سنبھل جاتے

ہمارے دل میں جو طوفان دبائے ہم ہی بیٹھے ہیں
اگر ان کا پتا دیتے ہزاروں دل دہل جاتے

ارے ظالم کیوں ان معصوم کلیوں کو اجاڑا ہے؟
ہم ہی حاضر دوبارا ہیں ہمارا دل مسل جاتے

بھری دنیا میں کوئی بھی ہمیں اپنا نہیں ملتا
بتاؤ کس کے وعدوں پر دوبارا پھر بہل جاتے ؟

بھلے شاہینوں کو تم اپنی سالاری سدا سونپوں
گواہ تاریخ ہے تم اپنی فطرت سے بدل جاتے

اے دشمن جاں تم کو میری مات مبارک
ابتر جو میرے ہیں رہے حالات مبارک

نا گفتا بیاں ہیں جنہیں میں کہہ نہ سکی تھی
سینے میں سلگتے وہی جذبات مبارک

دشمن سے مل کے تم نے بہت ڈھائے ہیں ستم
کیا خوب ہیں اطوار و خیالات مبارک

کھل کر میرے رقیب سے تم آج ملے ہو!
پر کیف کتنے ہونگے وہ لمحات مبارک

بس ہم ہی تیری یاد میں مرتے رہے صدا
تم نے نہ خبر لی یہ عنایات مبارک

بُت بھرم کےتوڑے گئے ہیں میرےصدا سے
اور کر نہ سکی ہوں میں شکایات مبارک

سیما چلی ہے دے کے، اپنی زندگی کو مات
تم خوش رہو یہ خوشیوں کی سوغات مبارک

سیما عباسی


جواب چھوڑیں