کبھی کبھی – فہمیدہ ریاض اصولِ زندگی ہے یہ، حیات ہ…

کبھی کبھی – فہمیدہ ریاض

اصولِ زندگی ہے یہ، حیات ہے تو آس ہے
دبیز ہوں سیاہیاں تو پھوٹے صبح کی کرن
چلی ہے جب بھی بادِ نامراد، جل اُٹھے چمن
سُلگ کے اُس تپش سے، اور بھی چمک اُٹھی لگن
وہ شوق کی خلش، کہیں جو دل کے آس پاس ہے
فراق، شدتِ جنوں بھلا گھٹا سکا ہے کب
صعوبتوں کا سلسلہ بنا ہے جہد کا سبب
مہک اٹھے ہیں حسرتوں کے پھول، بڑھ گئی طلب
مرے چراغِ شوق کو ہواے تند راس ہے
جو عزم ہے، اُمنگ ہے، تو ہم مراد پائیں گے
جو اشک میں لہو کا رنگ ہے تو گل کھلائیں گے
کبھی تو اے خدا۔ کبھی تو ہم مسکرائیں گے
اسی یقین پر مری اُمید کی اساس ہے
مگر میں کیا کروں، کہ آج دل بہت اُداس ہے


جواب چھوڑیں