بدن کی گھپّا سے باہر چند لمحے۔۔احمد نعیم


اپنے سرپھرے جنون کے ہاتھوں
ایک دن وہ
بدن کی تنگ گھپّا سے باہر نکل پڑا
اندھے غار سے نکلتے ہی
آنکھیں چندھیاں گئیں
روشنی کا سیلاب
آوازوں کا ہجوم
سروں کا سمندر
بھاگتے قدم
مرتے تڑپتے انسان
روندتے پیر
دھڑکتے دل
شور شور شور
وہ تن تنہا اکیلا ڈرپوک
الٹے قدموں واپس پلٹا
صدیاں بیت گئیں
لیکن وہ اب تک باہر کے شور سے بہرا پڑا ہے!





بشکریہ

جواب چھوڑیں