شہر والو! نیا کچھ نہیں – تبسم اعظمی کیا سنائیں ت…

شہر والو! نیا کچھ نہیں – تبسم اعظمی

کیا سنائیں تمھیں!
وہ عجب مملکت
آج بھی ہے عجب
بادشاہت جہاں پر مکھوٹوں کی ہے
ایک چہرے پہ ہیں کتنے چہرے دھرے
کچھ تو خاموش ہیں مصلحت کے تئیں
کچھ کے چشمے پہ ہے دھند چھائی ہوئی
کچھ ہیں لاچار، سب جانتے ہیں مگر
بول سکتے نہیں
آج بھی بیشتر اہلِ دانش ہیں فالج زدہ
جیتے جی قبر اوڑھے ہوئے

اور خوشامد پسنداہلِ فن
کل تھے جیسے، ہیں ویسے ہی وہ آج بھی
ظلّ سبحانی کے در پہ کاسہ لئے
چند سکوں کی خاطر ضمیر و قلم بیچ کر
سچ سے نظریں چرائے ہوئے
جھوٹ کے مدح خواں

دوستی، دشمنی
سب دکھاوے کی ہے
سارے مہرے ہیں تھالی کے بینگن یہاں
لاش کے ڈھیر پر ہیں کھٹولے کے پائے دھرے
ہاتھ باندھے کھڑی ہے پری

پڑھ سکو تم اگر!
پڑھ لو! دیوار پر وقت کی
صاف لکھا ہے سب
بات پوشیدہ کوئی نہیں
شہر والو!
نیا کچھ نہیں


جواب چھوڑیں