گلوں میں رنگ ستاروں میں نور بھرتے ہوئے میں چل پڑ…

گلوں میں رنگ ستاروں میں نور بھرتے ہوئے
میں چل پڑی ہوں خزاؤں کو زیر کرتے ہوئے

تھکی تھکی ہوئی آنکھوں بجھے چراغوں سے
گزر رہی ہے مری شب خطاب کرتے ہوئے

وہ شخص پھول نہیں خوشبوؤں کی صورت ہے
اسے سمیٹ لوں کیسے میں خود بکھرتے ہوئے

بس اس گلی کے نظاروں کی خیر ہو یارب
گزر رہا ہے زمانہ جہاں سے ڈرتے ہوئے

میں اپنی جھوٹی ہنسی سے فریب کھاتی تھی
تمہارے ہجر کے لمحوں میں رنگ بھرتے ہوئے

میں تیرے شعر پہ ایمان کس طرح لاؤں؟
کہ تیرے لفظ لگے ہیں کسی کے برتے ہوئے

ایمان قیصرانی


جواب چھوڑیں