عیاں نہ ہوتا کسی پر بھی یہ جہان کھلا جتن ہزار کئے…

عیاں نہ ہوتا کسی پر بھی یہ جہان کھلا
جتن ہزار کئے تب وہ رازدان کھلا

انھوں نے چھین لیا سر سے سائبان تلک
مرے نصیب میں آیا ہے آسمان کھلا

چھپیں ہزار مصائب کے نت نئے پرچے
یہ زندگی ہے مگر ، ایک امتحان کھلا

بیاہ کر جو وہ لایا غریب کی بیٹی
ملا جہیز نہ اس کو ، تو وہ جوان کھلا

مرے سخن کے سلیقے نے میری لاج رکھی
وگرنہ لوگ سمجھ جاتے یہ بیان کھلا

عدو نے حد ہی جو کر دی تھی بد لحاظی کی
ہزار صبر کے با وصف ، بے زبان کھلا

بس اب تو چھوڑ دو یہ خوش گمانیاں افروزؔ
پڑا جو وقت کٹھن ، مجھ پہ خاندان کھلا

افروزؔرضوی


جواب چھوڑیں