ہیرمان ہیسے، محبوب اور فیض احمد فیض ’’ایک لمحے کے …

ہیرمان ہیسے، محبوب اور فیض احمد فیض
’’ایک لمحے کے لیے خود کو پوری طرح بھلا سکنا، کسی خاتون کی ایک مسکراہٹ کے لیے کئی برسوں کی قربانی دے سکنا، یہی تو خوشی ہے۔‘‘
(ہَیرمان ہَیسے، “خزاں میں پیدل سفر” سے اقتباس، جرمن سے اردو ترجمہ: مقبول ملک)
ہیسے کی اس تحریر کو پڑھنا ایک ایسا تجربہ تھا کہ نہ جانے کہاں سے فیض احمد فیض کی دو مختلف نظموں کا ایک ایک بند ذہن میں گونجنے لگا:
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
(مجھ سے پہلی سے محبت مری محبوب نہ مانگ)
تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے
(رقیب سے)
“Sich wegwerfen können für einen Augenblick, Jahre opfern können für das Lächeln einer Frau, das ist Glück.”
(Aus "Eine Fußreise im Herbst" / Hermann Hesse)
تصویر: ہیرمان ہیسے اپنی شریک حیات نینون ہیسے کے ساتھ


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2832293673667814

جواب چھوڑیں