اب کے چڑیاں بھی گئیں برگ و ثمر کی صورت مجھ سے دیک…

اب کے چڑیاں بھی گئیں برگ و ثمر کی صورت
مجھ سے دیکھی نہیں جاتی ہے شجر کی صورت

کلفت راہ مٹا دیتا ہے بچوں کا خیال
گھر پہنچتی ہوں کسی اچھی خبر کی صورت

گھر کی دہلیز سے رشتہ نہیں توڑا جاتا
جا کے لوٹ آتی ہوں میں راہ گزار کی صورت

پہلے جو درد کی مانند مرے دل میں رہا
اب مرے شعر میں رہتا ہے اثر کی صورت

ایسا تالاب بناؤں گی میں چڑیوں کے لیے
جو کبھی خشک نہ ہو دیدہ تر کی صورت

مجھ میں ہمت ہی نہ تھی ساتھ نبھانے کی قمرؔ
اُٹھ کے میں بیٹھ گئی گردِ سفر کی صورت

ریحانہ قمرؔ


جواب چھوڑیں