آج مشہور افسانہ نگار و ادیب منشی پریم چند کا یوم پ…

آج مشہور افسانہ نگار و ادیب منشی پریم چند کا یوم پیدائش ہے اس موقع پر، انکی بیوی کی کتاب
" پریم چند : گھر میں " جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر حسن منظر صاحب نے کیا ہے، سے ایک اقتباس احباب کی نظر :

" آج " کی ایک تحریر :

کاشی ( بنارس ) کا ایک واقعہ ہے۔۔ آپ کی ایک تحریر
" آج " میں چھپی، اس پر کاشی کے ہندو چراغ پا ہوئے۔۔۔ وہاں ہندو سھبا کا ان دنوں زور تھا۔۔ کانگریسی بھی ہندو سھبا کی طرف داری کرتے تھے۔۔ کئی صاحبان آئے اور بولے :

" آپ نے جو مضمون لکھا ہے اس سے کاشی کے ہندو سخت برہم ہیں۔۔۔ "

ان آنے والوں میں زیادہ تر کانگریسی تھے۔۔۔ بابو جی جب اندر آئے تو میں نے پوچھا :

" یہ لوگ کیا کہہ رہے تھے۔۔۔؟ "

" کچھ نہیں وہ مضمون بڑا خوبصورت ہے۔۔ "

" مارنے کی دھمکی آخر کیوں دے رہے ہیں۔۔؟ "

" یہ سب ہندو سھبا والوں کا کام ہے۔۔ "

" یہ سب تو کانگریسی تھے۔۔ "

" آج کل یہ لوگ بھی اسی کے طرف دار ہیں۔۔ "

ایسا مضمون آپ کیوں لکھ لکھتے ہیں کہ لوگ دشمن ہو جائیں۔۔ یہ کبھی گورنمنٹ، کبھی پبلک کوئی نہ کوئی آپ کا دشمن رہتا ہی ہے۔۔ آپ ڈھائی ہڈی کے تو آدمی ہیں۔۔

" ادیب کو پبلک اور گورنمنٹ اپنا غلام سمجھتی ہے۔۔ آخر ادیب بھی کوئی چیز ہے۔۔ وہ سبھی کی مرضی کے مطابق لکھے تو ادیب کیسا ؟ ادیب کی بھی ہستی ہے۔۔ گورنمنٹ جیل میں ڈال دیتی ہے، پبلک مارنے کی دھمکی دیتی ہے۔۔ اس سے ادیب ڈر جائے اور لکھنا بند کر دے۔۔؟؟ "

میں نے کہا، سب کچھ کرے مگر اپنی جان کے دشمن پیدا نہ کرے۔۔

وہ بولے : " ادیب جو لکھتا ہے اپنے دل میں پیدا ہونے والی کرید سے لکھتا ہے۔۔ "

یہ بات درست ہے، لیکن روز کا جھگڑا ٹھیک نہیں۔۔

" یہ دنیا جھگڑے کی ہے۔۔ یہاں گھبرا کر بھاگنے سے کام نہیں چلتا۔۔ یہاں میدان میں ڈٹے رہنا چاہیے۔۔"

•••••••
حوالہ : پریم چند : گھر میں
مصنفہ : شورانی دیوی
مترجم : ڈاکٹر سید حسن منظر
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2834231206807394

جواب چھوڑیں