غلطی ہاۓ مضامین و اشعار کالم نگار ناصر زیدی میرے…

غلطی ہاۓ مضامین و اشعار
کالم نگار ناصر زیدی
میرے اس کالم کے خوش ذوق قارئینِ کرام، نوٹ فرما لیں! کہ مطبوعہ تحریروں میں غلط نویسی،غلط بخشی، اور اشعار کی درستی کا کام اس نیک نیتی کے ساتھ کِیا جاتا ہے کہ آئندہ اگر اغلاط سے پُر تحریروں کی کبھی اشاعت ممکن ہو تو تصحیح کر لی جائے۔مقصود اِس سے کسی کی دل آزاری نہیں۔ ملاحظہ فرما یئے، ذرا غلط نویسئ شعر یا تحریفِ متن کا ماجرا:
ماہنامہ ’’دُنیائے ادب‘‘ کراچی کے شمارہ اکتوبر 2015ء کے آخری صفحہ نمبر 64 پر ’’زیر گردش اشعار‘‘ میں ایک بہت زیادہ مشہور ہوجانے والا شعر ’’نامعلوم ‘‘ کے تحت اس طرح درج ہے :
محسن ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

محسن ‘ تخلص لگانے سے شعر کے خالق کے طورپر محسن بھوپالی یا محسن نقوی یا محسن احسان کی طرف دھیان جا سکتا ہے، مگر اس شعر پر ان تینوں محسنوں کا کوئی احسان نہیں،پھر کس کا ہے ابھی بتاتا ہوں۔ ذرا صبر ۔
ممتاز ومنفرد صحافی وشاعر فرہاد زیدی سابق ایم ڈی پی ٹی وی نے یہ شعر بغیر شاعر کے نام کے ایک بار ٹی وی سے کسی مذاکرے میں سنایا تو دوسرا مصرع اس طرح کرلیا تھا :
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ گزر گیا۔
جبکہ شاعر کی غزل کی ردیف ہی ’’چلا گیا ‘‘ ہے قوافی فسانہ، زمانہ وغیرہ، اُس وقت بھی میں نے تصحیح کردی تھی پھر لکھ رہا ہوں کہ شعر دراصل پروفیسر شوکتؔ واسطی مرحوم کاہے اور لفظ بہ لفظ بالکل درست شکل میں یوں ہے :

شوکتؔ ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

صدرِ مملکت ممنون حسین نے 9نومبر 2015ء کی شب 8:15بجے براہِ راست پی ٹی وی سے خطاب میں حضرت علامہ اقبالؒ کے حوالے سے لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کر مُنہ زبانی گفتگو کی۔ آپ نے علامہ اقبالؒ پر ابتدائی جملوں میں کہا کہ علامہ کا 30فیصد کلام قرآن حکیم سے روشنی لئے ہوئے ہے مگر اس کلام سے ’’استفادہ کرنے کے بجائے اسے فراموش کردیا جاتا ہے انہوں نے کہا اقبال کا ایک مشہور شعر قرآنی آیت کی ترجمانی میں یوں مشہور ہے :

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

جبکہ یہ شعر علامہ اقبال کا نہیں، مولانا ظفر علی خان کا ہے۔
سہ ماہی جریدے ’’پیغام آشنا‘‘ کے شمارہ جولائی تا ستمبر 2007ء میں ایک مضمون بعنوان ’’شکستِ ناروا اور کلام غالب‘‘ اب پڑھنے کا اتفاق ہُوا،جبکہ فاضل مضمون نگار سجاد مرزا (گوجرانوالہ) اِس دُنیا میں یہ تصحیح دیکھنے کے لئے موجود نہیں۔ صفحہ 104 پر مضمون کے ’’حوالہ جات‘‘ درج کئے گئے ہیں۔ اول تو ’’مصالحہ جات‘‘ کی طرز پر ’’حوالہ جات‘‘ کوئی زبان نہیں ’’حوالے‘‘ کافی تھا یا ’’کتابیات‘‘ لکھا جاتا۔ بہرحال مضمون میں صفحہ99پر ایک نام ’’ابرار حسن‘‘ گنواری‘‘ غلط سلط دو بار لکھا گیا ہے۔ اِس نام کے کوئی صاحب اُردو ادب کی تاریخ میں کہیں دستیاب نہیں۔ دراصل یہ ابر احسنی گِنوری تھے جو شاگردِ داغ حضرت احسن مارہروی کے شاگرد تھے۔ ابر تخلص کرتے تھے اور احسن مارہروی کی نسبت سے احسنی لکھتے تھے۔ گِنور کے رہنے والے تھے۔ اس لئے گنوری تھے اب مدت بعد یہ تحریر نظر سے گزری تو تصحیح ضروری جانی کہ تحریر تو بہرحال زندہ رہتی ہے۔ غلطی بھی کہیں بقائے دوام نہ پکڑلے۔
موقر جریدہ ماہنامہ ’’الحمراء‘‘ لاہور جو شاہد علی خاں کی ادارت میں نہایت باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے، اس کے شمارہ جون2015ء میں فاضل مضمون نگار محمد ساجد نے اپنے مضمون ’’سدا بہار آدمی‘‘ میں جو دراصل پروفیسر صابر لودھی مرحوم کا خاکہ ہے، ایک مشہور زمانہ شعر صفحہ32 پر بغیر شاعر کے نام کے اس طرح درج کیا ہے:

اُن سے ملے تو قلب کی تالیف ہو گئی
رُخصت ہوئے تو پھر وہی تکلیف ہو گئی

متذکرہ شکل میں شعر کے وزن،اَوزان کا بھی دھڑن تختہ کر دیا گیا ہے جبکہ حضرت عبدالحمید عدم کا یہ شعر بالکل دُرست شکل میں یُوں ہے:

وہ آ گئے تو قلب کی تالیف ہو گئی
رُخصت ہوئے تو پھر وہی تکلیف ہو گئی

ممتاز و منفرد افسانہ نگار جناب مسعود مفتی نے اپنے ایک معرکہ آرا رپورتاژ مطبوعہ الحمراء ’’لاہور شمارہ ستمبر 2015ء خاکہ نمبر‘‘ کی قسط نمبر21میں ایک مشہور زمانہ نظم کو خوشی محمد ناظر کے نام سے منسوب کر دیا ہے:

کچھ دیر پہلے نیند سے
اکثر شبِ تنہائی میں
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
یاد آتے ہیں اک ایک سب
بنتے ہیں شمعِ زندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دلِ صد چاک پر
جبکہ مکمل نظم ٹامس مور کی انگریزی نظم کے لازوال ، خوبصورت اردو ترجمے کی صورت میں نادرِ کاکوروی کے مجموعہ کلام ’’جذباتِ نادر‘‘ میں دیکھی پڑھی جا سکتی ہے۔ اتنا خوبصورت منظوم ترجمہ شاذ و نادر ہی اردو ادب میں ملتا ہے۔ جو نادر کاکوری کی وجہ شہرت اور بقائے دوام کا باعث ہے!

ڈاکٹر پرویز پروازی اپنی کتاب ’’پس نوشت اور پسِ پس نوشت‘‘ میں آپ بیتیوں کے تذکرے میں مشتاق احمد خاں وجدی کی سرگزشت ’’ہنگاموں میں زندگی‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: حضرت اکبر الٰہ آبادی طوائفوں پر خاص مہربانی کرتے تھے۔ گوہر جان کو بھی تو ایک شعر لکھ کر ادب میں زندہ کر دیا کہ:

کون خوش قسمت ہے اس دُنیا میں گوہر کے سِوا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سِوا

ہمیں ڈاکٹر پروازی کی محققانہ انشا پردازی کی پرواز سے تو کوئی کلام نہیں البتہ انہوں نے جو شعر درج فرمایا ہے اس کے پہلے مصرعے کا دھڑن تختہ کر دیا ہے جبکہ حضرت اکبر الٰہ آبادی کا صحیح شعر اس طرح ہے:

خوش نصیب اَور ہے اس دور میں گوہر کے سِوا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سِوا

آخر میں نیوز وَن چینل پر22جولائی2015ء کو صبح 10بجے کے قریب مقتدا منصور نے،جو نام کی ترکیب سے شاعر بھی لگتے ہیں۔ مشہور شاعر محسن بھوپالی مرحوم کا ایک قطعہ سنایا، مگر غلط سلط، بے وزن بے تُکا کر کے، وہ مشہور زمانہ قطعہ صحیح اس طرح ہے:

جاہل کو اگر جہل کا انعام دِیا جائے
اس حادثۂ وقت کو کیا نام دیا جائے؟
مَے خانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے

12 دسمبر 2015

Mistake of articles and outfits
Columnist Nasir Zaidi
Please note the happy taste of this column of mine! In the writings, wrong writing, wrong, and the correct work of the poetry is done with the good heart that if the writings are possible, then it should be correction. It does not hurt anyone's heart. – see, a little wrong poetry or text of text:
The monthly "World Literature" is written on the last page of the last page of October 2015 in Karachi, 64, 2015, 2015, 2015, 2015, 2015, 2015, 2015
Mohsin, a big accident happened with us.
We are left, our time has gone.

Mohsin, the creator of poetry can take care of mohsin bhopali or Mohsin Naqvi or Mohsin Ehsan, but there is no favor of these three good deeds on this poetry, then who is it now tell you. A little patience.
Mumtaz Wunique journalist wsẖạʿr farhad zaidi former mp tv told this poetry with tv once without a poet, then the second one was done in this way:
We are left, our time has passed.
While the poet's ghazal of the poet has gone " is the one who is the one who is the one who is the one who is the one who is the one who is the one who is the one who is the one who is the one who is the one who is

Sẖwḵtؔ a big accident happened with us
We are left, our time has gone.

The President of the kingdom of mamnoon hussain on 9th November 2015 at 8:15 pm, in the address of Hazrat Allama Iqbal on one side and spoke on one side. You are on Allama Iqbal. In the initial sentences, it is said that 30 % of allama's words have been taken light from the wise, but instead of benefit from this word he is forgotten. He said that a famous poetry of iqbal is famous in represent the Quranic verse. This is what we have to do.

God has not changed the condition of this nation till today
Don't think about changing your condition.

While this poetry is not of Allama Iqbal, Maulana Zafar Ali Khan.
In the edition of the magazine " message familiar " from July 2007, an article bʿnwạn and kalam ghalib " was agreed to read, while the scholar Sajjad Mirza (Gujranwala) in this world. Not to see correction. The article's " reference " has been registered on the page 104 first to " references " on the style of " Spice " Spice " no language " It was enough or " books " was written. However, in the article, a name " Abrar Hassan " Gnwari " is written twice. Someone of this name is available in the history of urdu literature. No. Actually these were the clouds of ạḥsny̰, who were the disciples of Hazrat Ahsan mạr ہ rwy̰. The clouds used to write ạḥsny̰ and used to write ạḥsny̰. They were the people of the people of the city. That's why they were gnwry̰, now after a long time. So correction is necessary that the writing is alive. Even the mistake should not hold the immortality.
In June 2015, Muhammad Sajid, 2015, 2015, was published in his article 2015, was published in his article in his article in his article " Evergreen man Actually Professor Sabir Lodhi is the sketch of late, a famous poetry is written on page 32 without the name of a poet:

When I met them, my heart was compilation.
When I left, then the same got hurt.

The weight of poetry in the form of poetry, the ạwzạn has also been made, while this poetry of Hazrat Abdul Hameed Lancer is in a very bad shape:

When they came, the heart was compilation.
When I left, then the same got hurt.

The Famous Story Writer Mr. Masood Mufti has attributed to a famous poem in the episode no. Is:

From sleep a while ago
Often in the night of loneliness
Past interests
On the day of delight.
I miss one all
Want to be life
And put the light
My heart on the chalk
While the complete poem of the English poem of ٹ Ạms Moore can be read in the form of beautiful urdu translation, in the collection of the collection of nạdri ḵạḵwrwy̰ ' Jdẖbạti Nadir " such a beautiful poetic translation. Such a beautiful poetic translation is found in urdu literature. The reason for nadir ḵạḵwry̰ is the cause of fame and remaining immortality!

Dr. Pervaiz Parvazi is written in his book " in his book and back book, he wrote on the history of Mushtaq Ahmed Khan Wjdy̰ ' in the history of his daughters: Hazrat Akbar Allah has special mercy on the population. Even the gems were written a poetry and alive in literature:

Who is lucky in this world except gems
Allah has given everything except husband

We don't have any speech from the flight of Dr. Prwạzy̰, but he has written the first time of the poetry that he has written, while Hazrat Akbar Allah is like this:

Lucky is there in this era except gems
Allah has given everything except husband

In the end, on 22th July 2015th July 2015 am, near 10 am, who looks like a poet with the famous poet Mohsin Bhopali, told a part of the deceased, but wrong slṭ, By weighing without weight, that famous times is right like this:

If the ignorant is rewarded by jahal
What should be called this time time?
The wine is insulting, it is defamation.
If the jam is given in the hands of less minded

12 December 2015

Translated


جواب چھوڑیں