. “۲۰ سال بعد” __ __ “After Twenty Years” . …

. “۲۰ سال بعد” __ __ “After Twenty Years”
. (کہانیوں کاغیرمتوقع اختتام O Henry کی وجۃ شہرت بنا)
تصنیف: او ہنری O Henry
اردو تلخیص: ماجد اقبال چودھری
(ولیم ہنری پورٹر(William Sydney Porter) جو اپنے قلمی نام او ہنری(O Henry)کے نا م سے مشہور ہوئے ۔امریکن شارٹ سٹوری رائٹر تھے11ستمبر 1862 کو امریکہ کی ریاست شما لی کیرولینا میں پیدا ہوئےاور 5 جون 1910 کو نیویارک میں وفات پائی۔ان کی کہانیوں کا ڈرامائی اختتام خاص طور پر وجۃ شہرت بنا۔)
. کہانی کا آغاز ایک پولیس والے سے ہوتا ہے جو رات کے وقت نیو یارک کی گلیوُں میں گشت پر تھا بارش کے ساتھ یخ ہوا چل رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سڑکوں پر کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا وہ اپنے ڈنڈے کو اس طرح گھما رہا تھا جیسے سرکس میں کا م کرنے والا آدمی ہو وہ پہت ہی چوکس ہو کر پُر سکون گلیوں اور راستوں کو دیکھ رہا تھااس کی چال دیکھ کر یوں لگتا تھا گویا علاقے میں پُرسکون ماحول اسی نے قائم کر رکھاہے۔ یہاں تجارتی مراکز قائم تھے بنیادی طور پر یہ ایک کاروباری علاقہ تھا دوکانیں سر شام ہی بند ہو جایا کرتی تھیں بس کچھ سگرٹ شاپ ایسی دوکانیں ہی کُھلی رہتیں۔چلتے چلتے وہ ایک بلاک کے پاس پہنچا،یہاں پہنچ کر اس نے اپنی رفتار آہستہ کرلی۔ہارڈوئیر کی ایک دوکان پر اس کی نظر پڑی جہاں ایک آدمی جُھکا ہوا کھڑا تھاہونٹوں میں سگرٹ تھی (سگار جیسی )جو سُلگی ہوئی نہیں تھی ۔اپنے پاس آتا دیکھ کر اس آدمی نے گھبراہٹ میں پولیس والے سے از خودبات کرنا شروع کر دی۔ اس نے کہا کہ سب خیر ہے میں تو یہاں بس اپنے دوست کے انتظار میں کھڑا ہوں ، میلوں دور سے ۲۰ سال بعد ملنے آیا ہوں اپنے دوست سے ۔ ۲۰ سال قبل یہاں ہماری مولاقات طے ہوئی تھی۔اس نے کہامیں سمجھتا ہوں کہ آپ کو یہ سن کر بڑا تعجب ہورہا ہوگابہت عرصہ قبل یہاں ایک ریسٹورانٹ ہوا کرتا تھا ؟پولیس والا بولا ہاں! پانچ سال پہلے اس رسٹوران کو توڑ کر گرا دیا گیا ہے۔ تبھی اس آدمی نے ماچس سے اپنے سگار کو جلایا،تھوڑی روشنی ہوئی تو پولیس والے کو اس آدمی کا چہرہ دکھائی دیا، باقی چیزیں بھی نظرآئیں ،اس کی سکارب پن(Scarab Pin) پر ہیرا جڑا تھا عجیب ڈھنگ سے۔سگار سُلگانے کے بعد گفتگو جاری رکھتے ہوئے اس آدمی نے کہا ٹھیک ۲۰ سال پہلےاسی رسٹوران میں اپنے دوست جمی ویلز Jimmy Wellsکے ساتھ بیٹھ کے کھانا کھایا تھااور وہ میرا بہت ہی اچھا جگری دوست تھا ہم نیو یارک شہر میں دو بھائیوں کی طرح پل کر جوان ہوئے تھےمجھ سے دو سال ہی بڑا تھا وہ ۲۰ سال اور میں ۱۸ سال کا تھامجھے دولت کمانے کے لئے مغربwest کی طرف جانا تھا جبکہ اسے نیویارک سے باہر کچھ نہیں دِکھتا تھااس کا خیال تھا کہ جو کچھ بھی ہے ادھر ہی ہے یوں ہم دونوں کی راہیں جدا ہوگئیں وہ یہیں رک گیا اور میں نیو یارک سے باہر چلا گیا پیسہ کمانے کے لئے۔جدا ہونے سے پہلے ہم دونوں نےعہد کیاتھا کہ ٹھیک ۲۰ سال بعد اسی شہر اور اسی ریسٹورانٹ میں اسی وقت دوبارہ ملیں گے۔ چاہے حالات کیسے بھی ہوں کتنی ہی دور سے آنا پڑے ہم یہیں پہ آکر ملیں گے امید ہے اس نے بھی کافی پیسہ بنا لیا ہو گایعنی اپنی قسمت بنا کر مجھ سے ملنے آئےگا۔ پولیس والا بولتا ہے ہونہہ“دِلچسپ” بڑی دلچسپ کہانی ہے آپ کی،طویل عرصے سے تم اپنے دوست سے نہیں ملے؟اس دوران تم نےکبھی رابطہ کرنے کی کوشش کی؟کچھ عرصہ تو ہماری خط و کتابت رہی تاہم دو سال بعد ہمارے ایڈریس تبدیل ہونے سے رابطہ منقطع ہو گیا میں وہاں مغربwest میں اپنے کا م میں مصروف رہا،لیکن میرا یقین ہے اگر جمیJimmy زندہ ہواتو آج ضرور مجھ سے ملنے آئے گا۔ وہ اپنے وعدے کا پکا ہےمیں ہزاروں میل دور سے یہاں آیا ہوں اسے بھی ضرور انا ہوگایہ کہنے کے بعد اس نے ایک بہت ہی خو بصورت سی گھڑی نکالی جس کے ڈھکن پر چھوٹےچھوٹے ہیرے جڑے تھےوہ گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے بولاٹھیک دس منٹ بعد دس بجے ۲۰ سال قبل ہم رسٹورانٹ سے جدا ہوئے تھے۔ پولیس والا اس سے کہتا ہے “ایسا لگتا ہے نیو یارک سے باہر جاکر تو نے کافی مال بنا لیاوہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولتا ہے”جی بالکل” لیکن مجھے امید ہے میرے دوست جمی نے بھی اس سے آدھا تو بنا ہی لیا ہوگا،جمی بہت محنتی آدمی ہے اتنا تو اس نے کر ہی لیا ہو گا جہا ں تک میرا تعلق ہے مجھے تو بہت ہوشیار اور کائیاں لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔سر! میں آپ کو بتاؤں نیویارک کے لوگوں کی زندگی کا کمزور پہلو یہ ہے کہ وہ ایک کام کے پیچھے پڑتے ہیں تو اسی میں لگے رہتے ہیں لیکن جہاں میں گیا تھا وہاں زندگی انسان کو بہت کچھ سکھا دیتی ہےشائد اسی لئے میں نے اتنا پیسہ کمالیا۔اتنی گفت و شنید کے بعد پولیس والے نے پھر سے اپنا ڈنڈا گھمایا اور بولا ،اچھا دوست میں تو چلتا ہو ں اپنے گشت پر ،امید کرتا ہوں تمہارا دوست وقت پر آجائے گالیکن اگر وہ وقت پر نہ پہنچا تو پھر تم چلے جاؤ گے یہا ں سے؟ سر اُسے بھولنا تو نہیں چاہئے پر میں پھر بھی آدھا گھنٹہ مزید انتظار کروں گا ہو سکتا ہے کسی کام میں پھنس گیا ہو؟ پولیس والا شب خیر (good night ) بول کے پہلے کی طرح ڈنڈا گھماتے ہوئے وہاں سے چلا جاتا ہے۔اس ہارڈوئیر کی دوکان کے پاس سے لوگ آ جا رہے تھے جیبوں میں ہاتھ ڈالے سردی سے بچتے ہوئےاور وہ بندہ سگرٹ پیتے ہوئےاپنے بچپن و جوانی کے دوست کا انتظار کر رہا تھاتقریباً۲۰ منٹ کے بعد سامنے والی گلی سےاورکوٹ پہنے ہوئے ایک لمبا سا آدمی جلدی سےنمودار ہواپاس آکر وہ اس کا نام پوچھتا ہے؟”بوب”Bob جواب میں یہ نام پوچھتا ہے”جمی ویلز”Jimmy Wells دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیایہ کہتا ہے میں بوبBob ہی ہوں مجھے یقین تھا کہ تم ضرور آؤ گے بہت دیر سے یہا ں کھڑا تمہارا انتظار کر رہا تھا۔ اتنے سالوں بعدتمہیں دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی بس کمی ہے تو اس ریسٹورانٹ کی، وہ ہوتا تواس میں بیٹھ کے مل کر کھانا کھاتے جیسے ۲۰ سا پہلے کھایا تھا جمی نے اس سے پوچھا” دوست !کیسے رہے تمہارے ۲۰ سال نیو یارک سے باہر ؟جو مانگا تھا قسمت سے وہ سب کُچھ مل گیا ،تم بتاؤ؟یار کافی بدل گئے ہو پہلے سے دو تین انچ لمبے ہوگئے ہو؟ٹھیک تو ہو نیو یارک میں؟جمی بات کاٹتے ہوئے بولتا ہے”چل یار کہیں بیٹھ کے بات کرتے ہیں۔ دونوں باتیں کرتے ہوئے چلنے لگے بوب اپنی مالی کا میاں گنوانا جارہا تھا راستے میں برقی قُمقموں سے مزین میڈیکل سٹور کے سامنے روشنی میں دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا،بوب اچانک رُکا ،اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیااور بولا”مجھے لگ رہا ہےتم جمی نہیں ہو”۲۰ سال ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے لیکن انسانی ناک کی شکل تبدیل نہیں ہوتی بتاؤ کون ہو تُم؟وہ آدمی بولا”مسٹر بوب! تم ۱۰ منٹ سے زیرِ حراست ہو، شکاگو! جہاں سے آپ آئے ہو وہاں سے ایک ٹیل گرام آیا تھا کہ شائد تم نیو یارک شہر میں گھوم رہے ہو۔اب تم دھیرے دھیرے چل رہے ہو یہ سمجھداری کی بات ہے ۔وہ آدمی بوب سے کہتا ہے پولیس اسٹیشن چلتے ہیں لیکن اس سے پہلے یہ خط آپ کے لئے ۔میرے لئے؟ بوب نے سوالیہ لہجے میں کہا۔ہاں !آپ کے دوست جمی کی طرف سے، بوب نے خط کھولا اورکپکپاتے ہاتھوں سے اس خط کو پڑھنا شروع کیا،خط میں لکھا تھا” بوب! میرے دوست! میں بر وقت تجھ سے ملنے پہنچ گیا تھا بلکہ وقت سے کچھ پہلے،لیکن جیسے ہی سگرٹ سُلگانے کے لئے تو نے ماچس جلائی،ماچس کی اس روشنی میں مُجھے تیرا چہرہ نظر آگیاتم کو سارے شکاگو میں ڈھونڈا جا رہا ہےمیں تمہیں خودگرفتار نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ تم میرے ۲۰ سال پرانے دوست تھےاس لئے وہاں سے نکلتے ہی میں نے ایک سادے کپڑوں میں ملبوس پولیس آفیسر کو تلاش کیااور تمہیں حراست میں لینے کے لئے بھیجا۔
فقط تمہارادوست
جِمی


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2835070480056800

جواب چھوڑیں