یہ ساتھ کبھی نہ چھوٹے گا تحریر :گوینتھ ہیوز ترجم…

یہ ساتھ کبھی نہ چھوٹے گا
تحریر :گوینتھ ہیوز
ترجمہ : ایس . نقوی
قسط نمبر : 5

انڈیا میں تعینات ایک انگریز آفیسر کے بچہ کی پر اسرار کہانی

آج ٹام نے تھوڑی دیر بعد ہی روشانہ کی کھانے کی بھیجی ہوئ ٹرے خالی کر کے واپس اپنی دہلیز پر رکھ دی تھی۔ روشانہ نے بھی خالی ٹرے رکھی ہوئ دیکھ لی تھی ۔ تھوڑی دیر بعد وہ نکلی اور تیز قدموں سے چلتی ہوئ گئ اور ٹرے اٹھا لائ۔ ٹری میں پلیٹ کے نیچے پھر “شکریہ “ کی پرچی رکھی ہوئ تھی ۔ روشانہ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس کو لگ رہا تھا کہ اللہ نے اسے نیک کام کے لیے چن لیا ہے۔
اب اس نے ہر کچھ دن بعد ٹام کے لیے کھانا بھیجنا شروع کر دیا اور پھر یہ معمول ہر روز کھانا بھیجنے تک پہنچ گیا ۔ اب روشانہ کھانا بناتی تو اس کے ذہن میں ٹام بھی ہوتا۔ وہ اسے کبھی دلیہ، چکن، چاول، پاسٹہ، اور اسپگیٹی وغیرہ بنا کر بھیجنے لگی تھی ۔ ٹام ٹرے شکریہ کی پرچی کے ساتھ واپس کرتا ۔ کبھی کھڑکی میں کھڑا ہوتا اور روشانہ کچن سے اسے دیکھتی تو وہ ہاتھ ہلا کر اپنی خوشی کا اظہار کرنے لگا تھا۔ٹام کی طرف سے حوصلہ افزائ ملنے پر اب روشانہ ہفتہ میں ایک بار اس کی دہلیز پر دودھ، انڈے، مکھن، کافی کے پیکٹ، ڈبل روٹی، سیریل اور کچھ فروٹ بھی رکھ کر آجاتی۔کبھی ایسا بھی ہوا تھا کہ گھنٹی بجاتے ہی ٹام دروازہ کھول دیتا ، اور مسکرا کر زبان سے شکریہ ادا کر دیتا۔ کبھی ٹام کی طبیعت خراب ہوتی تو وہ ٹرے میں پرچی رکھ دیتا تو روشانہ over the counter دوا بھی اس کو پہنچا دیتی ۔ روشانہ کی ان تمام کرمانوازیوں کے باوجود ٹام نے کبھی دو گھڑی کے لیے بھی گھر کے اندر نہیں آنے دیا تھا اور روشانہ کے ہزار بار بلانے پر بھی وہ کبھی روشانہ کے گھر نہیں گیا تھا۔
روشانہ نے کبھی بھی اپنی ان سرگرمیوں کو اپنے شوہر سعید سے نہیں چھپایا تھا۔ ہاں سعید کبھی ہنس کر کہتا”ٹام کا خیال رکھتے رکھتے میرا اور میرے بچوں کا خیال رکھنا نہ بھول جانا” اس بات پر روشانہ خفا ہو جاتی مگر وہ اسے جلد ہی منا لیتا۔ اب تو ان کی فون پر ہر روز کی گفتگو میں ٹام کا ذکر ضرور ہوتا۔ اب تو جب ویک اینڈ پرسعید آتا تو روشانہ کے بجاۓ وہ ٹام کا کھانا پہنچا دیتا۔ اب ٹام اس سے بھی گھر کے دروازے پر کھڑے کھڑے ہاۓ ہیلو کرنے لگا تھا۔
روشانہ جب اس گھر میں آئ تھی تو تھوڑے دنوں بعد ہی اس نے ٹام کا خیال رکھنا شروع کر دیا تھا۔ جب اس کے صرف دو بچے تھے ، کوئ تین برس کی دردانہ اور کچھ مہینوں کا عقیل۔ اس گھر میں آنے کے دو سوا دو سال بعد اس کا چھوٹا بچہ ضمیر پیدا ہوا تھا۔ اس دوران اس نے پہلے سے ٹام کو بتا دیا تھا کہ وہ ڈلیوری کے لیے جاۓ گی تو کھانا نہیں پہنچا سکے گی۔ ٹام نے اس کو “گڈ لک “ کہا اور کہا کہ وہ فکر نہ کرے۔ جیسے ہی وہ بچے کی پیدائش کے بعد گھر منتقل ہوئ تو سعید بھی ایک ہفتہ کی چھٹی لے کر گھر آ گیا اور پھر سے ان لوگوں نے ٹام کی خبر گیری اور دیکھ بھال شروع کر دی تھی۔
یہ معمول شروع ہوۓ لگ بھگ بارہ تیرہ سال ہو چکے تھے ، اب دردانہ پندرہ، عقیل تیرہ اور ضمیر بارہ سال سے زیادہ کا ہو چکا تھا۔ روشانہ دن میں عموماً بارہ بجے ٹام کو کھانا دینے جاتی اور پھر شام چھ بجے گھنٹی بجا کر ٹام کی خیریت دریافت کرتی۔ ٹام یا تو دروازہ کھول کر ان سے بات کرتا یا اندر ہی سے بلند آواز سے “یس” کہہ دیتا۔اس معمول پر عمل کرنے کے لیے روشانہ نے الارم لگا رکھا تھا۔ اب تو اس کےبچے اور ویک اینڈ پر آنے والا شوہر بھی اس معمول کے عادی ہو گئے تھے اور ٹام کو اپنے ذمہ داری سمجھنے لگے تھے۔ اتنے عرصے میں ٹام بھی اس معمول کا عادی ہو چکا تھا۔
اس عرصہ میں روشانہ، اس کے شوہر، اور اس کے بچوں نے نہ ٹام کو کہیں آتے جاتے تو کیا اپنے گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہوۓ بھی نہیں دیکھا تھا۔ نہ ہی کسی کو اس کے گھر آتے جاتے دیکھا تھا۔
کبھی روشانہ سوچتی کہ اگر وہ ،سعید اور اس کے بچے نہ ہوتے تو ٹام کی دیکھ بھال کون کرتا؟ کیا واقعی ٹام کا خیال رکھنے والا کوئ نہیں تھا؟ روشانہ اور اس کے خاندان سے پہلے ٹام کا خیال کون رکھتا تھا؟؟؟ ۔۔۔۔
———————————————————

ٹام اب یہ بھی یاد کرنے کی کوشش نہیں کرتا تھا کہ وہ اس گھر میں کب سے اکیلا رہ رہا تھا؟وہ آخری بار گھر سے کب باہر نکلا تھا؟ اس کا ذہن میں بس اب کچھ رشتہ داروں ، جاننے والوں کے دھندلکے سے تھے، اب تو کوئ واضح تصویر بھی ذہن میں نہیں ابھرتی تھی۔
اس کا یہ گھر اب اس کے لیے تا حیات جیل بن چکا تھا، جس سے شائد مر کر ہی چھٹکارا مل سکتا تھا، لیکن وہ ابھی مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کا دل بھی چاہتا تھا کہ کاش وہ زندہ انسانوں جیسی زندگی گذار سکے۔وہ ابھی زندہ رہنا چاہتا تھا۔
ایسا نہیں تھا کہ اس نے کوئ کوشش نہیں کی تھی، مگر ہر کوشش اس کی ناکامیوں کی فہرست میں نیا اضافہ ہوتی۔ شروع میں جب سعید اور روشانہ اس کے پڑوس میں آۓ تھے تو اس کے دل میں عام لوگوں جیسی زندگی گزارنے والی حسرتیں تقریباً دم توڑ چکی تھیں۔ تاہم روشانہ کی توجہ اور خبر گیری نے پھر امیدیں جگانا شروع کر دیں تھیں ۔ روشانہ اور اس کا خاندان زندہ انسانوں سے ٹام کا واحدتعلق تھاجو طویل عرصہ بعد بحال ہوا تھا ۔وہ پھر اس قید سے ، اس جیل سے نکل بھاگنے کے نئے نئےمنصوبے بنانے لگا تھا مگر ہر منصوبہ اس کے ذہن ہی میں نا کام ہو جاتا۔
لیکن آج کے منصوبے میں اسے کوئ جھول نظر نہیں آیا تھا۔ اس نے آتشدان کے کارنس پر رکھی تمام تصویروں کو الٹ دیا تھا، چھو ٹے چھوٹے لکڑی کے دونوں صندوق بند کر دئیے تھے ۔ سوٹ کیس تیار کر لیا تھا جو اس کی کرسی کے قریب ہی رکھا تھا۔Living room کے ایک طرف اوپر جانے والی سیڑھیاں تھیں جو شاید اوپر سونے کے کمروں تک جاتی تھیں ، یہ الگ بات کہ ان کمروں میں سونے والا کوئی نہیں تھا ۔ یہ کمرے مدتوں سے خالی پڑے تھے۔ ٹام اوپر کی منزل میں بنے غسل خانے میں صرف نہانے ہی جاتا تھا۔ اوپر کی منزل اور اس سے اوپر بنی ہوئی بڑی سی دوچھتی( Attic )میں اس نے عرصہ سے قدم نہیں رکھا تھا اور رکھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ وہ ان اوپر جانے والی سیڑھیوں کا جائزہ لے رہا تھا کہ سین کیسے بنانا ہے۔
دن کے بارہ بجنے والے تھے ، وہ جانتا تھا کہ تھوڑی دیر میں روشانہ کھانا دینے کے لیے آنے والی ہو گی۔ وہ سیڑھیوں کے نیچے کی طرف ایسے لیٹ گیا کہ اس کی ایک ٹانگ ایک سیڑھی پر اور باقی جسم زمین پر ہو۔ ابھی وہ لیٹا ہی تھا کہ سیڑھیوں سے ٹک ٹک کرتی ہوئ ایک سیپی اس کے قریب ہی آن پڑی تھی، اوپر غسل خانے کا نل کھل چکا تھا اور پانی پوری رفتار سے بہہ رہا تھا۔۔۔
(جاری ہے)

قسط نمبر : 1 کا لنک:

https://www.facebook.com/groups/AAKUT/permalink/2830267570537091/
قسط نمبر : 2 کا لنک

https://www.facebook.com/100009421297207/…/2701564086834275/

قسط نمبر کا لنک:

https://www.facebook.com/100009421297207/…/2742539696070047/

قسط نمبر : 4 کا لنک

https://www.facebook.com/100009421297207/…/2742573622733321/ ‏


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2835193743377807

جواب چھوڑیں