شکیل بدایونی جگر مراد آبادی کے شاگرد تھے اور ان کی…

شکیل بدایونی جگر مراد آبادی کے شاگرد تھے اور ان کی بڑی عزت کرتے تھے۔ ایک بار راندیر (سورت، انڈیا) میں شکیل کی صدارت میں مشاعرہ تھا۔ بیرونی شعرا میں حضرت جگر مراد آبادی بھی تشریف لائے۔ مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے شکیل نے مائک پر آ کر کہا :
’’چونکہ جگر صاحب میرے بزرگ ہیں اس لئے میں اس مشاعرے کی صدارت کرنے کی گستاخی نہیں کر سکتا۔‘‘
جگر صاحب نے فوراً مائک ہاتھ میں لیا اور کہا
’’ اگر شکیل مجھے اپنا بزرگ تسلیم کرتے ہیں تو بحیثیت بزرگ میں انہیں حکم دیتا ہوں کہ وہ مشاعرے کی صدارت کریں‘‘
شکیل مجبور ہو گئے۔ تمام شاعر جب کلام پڑھ چکے اور صرف دو شاعر باقی رہ گئے یعنی جگر صاحب اور خود شکیل جو صدر تھے۔ اس لئے آخری شاعر کے بعد فوراً شکیل مائک پر اپنا کلام سنانے آ گئے تاکہ جگر صاحب سب سے آخر میں کلام سنائیں۔
لیکن جگر صاحب اٹھ کر مائک پر آ گئے اور کہنے لگے۔:’’آپ صدر ہیں آپ سب سے آخر میں اپنا کلام سنائیے گا۔‘‘
اس پر شکیل بر جستہ بولے: ’’ جگر صاحب اگر آپ مجھے صدر مانتے ہیں تو میں بحیثیت صدر آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ سب سے آخر میں کلام سنائیں گے‘‘
محفل میں قہقہے بلند ہوئے اور جگر صاحب کو شکیل کی بات ماننی پڑی۔

" نمونہ کلام "
غمِ عشق رہ گیا ہے غمِ جستجو میں ڈھل کر
وہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کر

تری گفتگو کو ناصح دلِ غم زدہ سے جل کر
ابھی تک تو سن رہا تھا،مگر اب سنبھل سنبھل کر

نہ ملا سراغِ منزل کبھی عمر بھر کسی کو
نظر آ گئی ہے منزل کبھی دو قدم ہی چل کر

غمِ عمرِ مختصر سے ابھی بے خبر ہیں کلیاں
نہ چمن میں پھینک دینا کسی پھول کو مسل کر

ہیں کسی کے منتظر ہم، مگر اے امیدِ مبہم!!
کہیں وقت رہ نہ جائے یوں ہی کروٹیں بدل کر

مری تیز گامیوں سے نہیں برق کو بھی نسبت
کہیں کھو نہ جائے دنیا مرے ساتھ ساتھ چل کر

کبھی یک بہ یک توجہ، کبھی دفعتا تغافل
مجھے آزما رہا ہے کوئی رخ بدل بدل کر

ہیں شکیل زندگی میں یہ جو وسعتیں نمایاں
انہیں وسعتوں سے پیدا کوئی عالمِ غزل کر

(شکیل بدایونی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Shakeel badauni jigar was a student of the population and used to respect him. Once there was a mushaira in the presidency of Shakeel (Sura, India). Hazrat Jigar Murad population also came in external poets. Before the mushaira started the mushaira started. Came to the mic and said:
" since the liver is my elders, so I can't commit to presidency this poetry
Jigar Sahib immediately took the mic hand and said
"if shakeel accept me as his noble, I order them to presidency the poetry"
Shakeel was forced. When all the poet read the word and only two poet left means jigar sahib and self shakeel who were president. That's why after the last poet, immediately they came to recite his word on shakeel mic so that jigar sahib is at the end. Tell the word.
But the liver got up and came to the mic and said, " you are the president, you will recite your word at the end
On This, Shakeel Burr said: "Jagger Sir, if you consider me as president, I order you to tell you to tell the word at the end"
The laughs were raised in the gathering and the liver had to listen to shakeel.

"sample speech"
The grief of love is left in the sorrows of quest.
They are hidden from the eyes by changing my life.

Burn your conversation with the heart of sorrow.
Till now you were listening, but now be careful

I did not get the destination of my life.
The destination has been seen by walking two steps.

The sorrows of life are still unaware of life.
Don't throw into the garden, blush a flower.

We are waiting for someone, but o my beloved confusing!!
Don't stay anywhere, change the sides.

I don't know how to do this.
Don't lose anywhere, let the world walk along with me.

Sometimes one attention, sometimes the indifference of indifference
I am trying to change someone's direction.

This is what we are featured in shakeel life.
Make them a poem from vastness.

(Shakeel Badauni)

Al-ạlmrsl :-:

Translated

جواب چھوڑیں