اچھی خبریں | Khabrain Group Pakistan

ڈاکٹر شاہد رشیدبٹ
وزیراعظم پاکستان کے عوام دوست ویژن کے تحت تعمیراتی شعبے کےلئے تاریخ کاسب سے بڑا ٹیکس ریلیف پیکیج ایک انقلابی قدم ہے۔اس پیکیج سے سستے گھروں کی فراہمی ،صنعتوں کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیداہوں گے۔ تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ دیاگیاہے۔ایڈوانس ٹیکس میں پچاس فیصد کمی کرنا ایک خوش آئند قدم ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کی وجہ سے تعمیراتی شعبے میں ریکارڈ اضافہ ہوگاجس کی وجہ سے اقتصادی ،معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ہاوسنگ سیکٹر کے لیے ان مراعات کا اعلان ایک قابل تحسین قدم ہے۔ حکومت کو کرونا وائرس کے باعث گرتی معیشت اور بڑھتی ہو ئی مہنگائی کو کنٹرو ل کرنے کا چیلنج درپیش ہے ۔آئی ایم ایف کی کرونا وائرس کے تناظر میں عالمی معیشت پر پیش کی گئی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کے حوالے سے پریشان کن اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ حکومت کو ملک کو اس معاشی گرداب سے نکالنے کے لیے غیر روایتی فیصلے کرنا ہوں گے ۔ آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9.8فیصد جبکہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا ءکی شرح نمو 1.8فیصد رہے گی ۔اتنی کم شرح نمو کے ساتھ حکومت کے لیے روزگار کے نئے موقع پیدا کرنا تو درکنار پہلے سے موجود نوکریوں کو بچانا بھی چیلنج ہو گا ۔حکومت نے شرح سود میں خاطر خواہ کمی کی ہے لیکن اس میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے ۔حکومت کی جانب سے تعمیراتی شعبے کو دیا جانے والا پیکیج بھی نہایت ہی خوش آئند ہے لیکن اصل چیلنج اس پیکیج پر اس کی روح اور وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے عین مطابق عمل درآمد کروانا ہے ۔
کرونا وائرس کے باعث درپیش حالات میں حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کا اسر نو جائزہ لے کر بجلی کی قیمتوں کو کم کروانے کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے روپے کی قدر میں استحکام بھی نہایت ضروری ہے ۔حکومت کو ملکی معیشت کی بحالی کے لیے جرا¿ت مندانہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔بصورت دیگر عوام کو درپیش مسائل میں اضافہ ہی ہو تا چلا جائے گا ۔ملک میں حکومتی نوٹس اور کاروائی کے اعلان کے باوجود چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ باعث تشویش ہے اور عوام کو یہ تاثر دیتا ہے کہ معاملات اس حکومت کے ہاتھ سے باہر ہیں ۔اس حکومت کا الیکشن سے قبل یہ دعویٰ تھا کہ گورننس کے معاملات کو نہایت ہی بہترین انداز میں چلایا جائے گا لیکن بد قسمتی سے حکومت میں آنے کے بعد اس حکومت کے دعوے درست ثابت نہیں ہو سکے ۔حکومت کو اس معاملے میں اپنی کا ر کردگی بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ کو ششوں کی ضرورت ہے ۔ اب بات کچھ اچھی خبروں کی بھی کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے دیامر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی کام کا با قاعدہ آغاز کر دیا ہے ۔یہ منصوبہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نہایت ہی اہم ہے ۔اس ڈیم کی تعمیر سے ملک کو نہ صرف 4500میگاواٹ سستی بجلی مہیا ہو گی بلکہ 64لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ جبکہ 12لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو سکے گی ۔اس ڈیم کے منصوبے کو پاکستان کا مستقبل کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا ۔
ماضی میں کیے گئے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کے نتائج ملک اور قوم آج بھی بھگت رہے ہیں ۔90ءکی دہائی میں پانی کی بجائے مہنگے تیل سے بجلی بنانے کے فیصلے نے نہ صرف ملک میں توانا ئی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا بلکہ پاکستان کے صنعتی شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ،مہنگی بجلی کے باعث پاکستان کی برآمدی صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ پن بجلی اور ڈیمز کے منصوبوں سے ملک کا آنے والا کل آج سے زیادہ روشن ہو گا ۔خوشی کی بات یہ ہے کہ صرف دیا مر بھاشا ڈیم پر ہی نہیں بلکہ مہمند ڈیم اور داسو ڈیم کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے ،اس کے ساتھ کے پی کے میں سکھی کناری پن بجلی منصوبے کا 50فیصد سے زائد کام مکمل کیا جا چکا ہے ۔ان تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل ہی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے ان منصوبوں کی تعمیر سے نہ صرف ملک میں پانی کی کمی پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ سستی بجلی بھی حاصل ہو گی، یہ منصوبے بلا مبالغہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔اس ہفتے پاکستان میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کے حوالے سے بھی اچھی خبریں آ ئی ہیں ۔پاکستان میں تیل اور گیس کے ذخا ئر کی تلاش کرنے والی ہنگری کی کمپنی مول نے اپنے ایک اعلامیہ میں کہا کہ پاکستان میں کمپنی نے خیبر پختون خوا کے علاقے کوہاٹ میں واقع ٹل بلاک سے تیل اور گیس کے نئے ذخا ئر دریافت کیے ہیں ان ذخا ئر سے ملک کو 3,240بیرل تیل روزانہ کے ساتھ ساتھ 16.12ملین کیوبک فیٹ گیس بھی دستیاب ہو گی ۔ان ذخائر کے سسٹم میں آنے سے ملک میں توانا ئی کی صورتحال بھی بہتر ہو گی اور ملک کو زرمبادلہ کے ذخائر کی مد میں اربوں ڈالر کی بچت بھی ہو گی ۔اس کے ساتھ ساتھ میں اس خبر پر بھی ضرور بات کرنا چاہوں گا کہ رواں مالی سال پاکستان کو بیرون ملک سے ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میںآیا ہے ۔رواں مالی سال پاکستان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے 23.2ارب ڈالر موصول ہو ئے ہیں ،جبکہ جون کے مہینے میں گزشتہ سال کی نسبت 50فیصد سے زائد ترسیلات زر موصول ہو ئی ہیں ۔کرونا وائرس کی صورتحال کے با وجود بیرون ملک سے اتنی زیادہ ترسیلات کا آنا بیرون ملک پاکستانیوں کی ملک سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
یہ تمام خبریں پاکستان کے لیے اچھی ہیں لیکن اب اس بات کا دارومدار حکومت پر پر ہے کہ وہ ان تمام فوائد کا کس حد تک فائدہ اٹھاسکتی ہے ۔اللہ تعالی ٰ نے اس ملک کو تمام نعمتوں سے نوازا ہے ضرورت صرف اورصرف نیک نیتی سے کام کرنے اور درست پالیسیاں بنانے کی ہے ۔انشا اللہ خوشحالی اس ملک کا مقدر ہو گی ۔
( کالم نگار پاکستان میں گھانا کے قونصل جنرل اور
سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس ہیں )
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں