ایک تھا سیکرٹ ایجنٹ، ایک تھا کامریڈ۔۔رؤف کلاسرا


میجر عامر نے ستر سالہ پختون بزرگ جمیل مرغز کی طرف اشارہ کرکے کہا: اس جوان نے مجھے کبھی قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ مجھے سخت جھٹکا لگا۔
میں نے جمیل مرغز صاحب کو غور سے دیکھا۔ بڑھاپے نے نقش مدہم کر دیے تھے لیکن اب بھی لگتا تھا‘ یہ لمبا چوڑا مضبوط پختون جوانی میں خوبصورت اور طاقتوررہا ہو گا۔ یاد آیا پشاور کے صحافی دوست عقیل یوسفزئی کی طرف بھی میجر عامر نے اشارہ کرکے کہا تھا: یہ بدبخت بھی میرے خلاف مسلسل کالم لکھتا تھا‘ اب اس سے پوچھو میری کیا دشمنی تھی‘ نہ کبھی ملا، نہ تعلق نہ واسطہ، نہ دوستی نہ دشمنی‘ پھر بھی میرے خلاف اسکا قلم رواں رہتا تھا۔ دونوں نے برجستہ جوابات دیے تھے جن سے میں متاثر ہوا۔ جمیل مرغز نے کہا: تو اور کیا کرتا جب آپ انٹیلی جنس افسر تھے اور ہمارے کامریڈز کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالتے تھے تو پھر ہم نے یہی منصوبہ بنانا تھا۔
عقیل یوسفزئی نے بھی سیدھا جواب دیا کہ آپ کی ہمارے قریبی صحافی دوستوں سے نہیں بنتی تھی لہٰذا ہم آپ کے خلاف ٹھوک بجا کر لکھتے تھے۔
میجر عامر کے صوابی میں واقع آبائی گائوں پنج پیر میں سامنے پہاڑی کے قد کو آنکھوں ہی آنکھوں میں ناپنے کی کوشش کرتے ہوئے میں نے کہا: میجر صاحب ایک بات بتائوں؟ ملنے سے قبل آپ مجھے بھی اچھے نہیں لگتے تھے‘ میری بھی وہی رائے تھی جو عقیل یوسفزئی اور جمیل مرغز کی تھی‘ جمیل صاحب اکیلے آپ کو ناپسند نہیںکرتے تھے۔ جہاں بہت لوگ پسند کرتے ہوں وہیں بڑی تعداد میں آپ کو ناپسند بھی کرتے ہیں؛ اگرچہ میں نے کسی طرح کا پلان نہیں بنایا تھا۔
میجر عامر، شاہد صدیقی‘ جمیل مرغز، ناصر علی سعید‘ سب نے قہقہہ لگایا۔ اس وقت ہم سب پہاڑوں میں گھرے گائوں پنچ پیر کی خوبصورت شام میں بیٹھے گپیں لگا رہے تھے۔ ڈھلتی شام میں وہ پہاڑ خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔ جمیل مرغز کامریڈ ایک دلچسپ کردار ہیں جنہوں نے اپنے نظریات کے نام پر بھٹو سے لے کر جنرل ضیاء تک برسوں جیل کاٹی۔ وہی جمیل مرغز جو ایک دور میں میجر عامر کے قتل کا منصوبہ بنا رہے تھے‘ بعد میں ان کے ایسے یار بنے کہ جب میجر عامر پر بغاوت کا مقدمہ بنا اور فیڈرل فورسز نے ان کے پنج پیر گھر کو گھیرے میں لے رکھا تھا تو وہی کامریڈ جمیل مرغز خیبرپختون خوا کی ہر بار کونسل میں جاکر ان کے حق میں تقریریں کررہے تھے۔
میں نے ستر سالہ جمیل مرغز کی طرف دیکھ کر سوچا‘ ہم انسان بھی عجیب مخلوق ہیں۔ اب اسی کامریڈ جمیل مرغز اور میجر عامر کا ایک دوسرے کے بغیر وقت نہیں گزرتا۔ دل چاہتا ہے ان دونوں پر ایک ناول لکھا جائے۔ ایک کامریڈ اور ایک سیکرٹ ایجنٹ کی دشمنی دوستی میں کیسے بدلی یا پھر فلم بنائی جائے۔ اتنے سارے واقعات ہیں کہ ایک بلاک بسٹر فلم بنے۔ ہالی ووڈ میں ان موضوعات پر کمال فلمیں بنائی گئی ہیں‘ لیکن ہمارے ہاں کبھی ایسی فلموں کے نہ سکرپٹ لکھے گئے نہ ہی انہیں فلمایا گیا۔
جب شاہد صدیقی صاحب جمیل مرغز سے ان کی جوانی کی وارداتوں کا احوال پوچھ رہے تھے تو میجر عامر بولے کہ اس کی کیا بات کرتے ہو‘ لوگوں کے بچوں کو اس نے تخریب کاری پر لگا دیا تھا۔ جمیل مرغز بولے: اور ہم کیا کرتے‘ جب ہمارے لوگوں کو اٹھا کر اندھا دھند جیل میں ڈالا جا رہا تھا تو ہم نے کچھ نہ کچھ بندوبست تو کرنا ہی تھا۔
میجر عامر بڑے عرصے سے مجھے کہہ رہے تھے آپ کو پنج پیر لے جانا ہے۔ پنج پیر کا نام پہلی دفعہ اس وقت سنا تھا جب بینظیر بھٹو دور میں میجر عامر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ہارون الرشید صاحب اور عرفان صدیقی صاحب ان دنوں میجر عامر پر جو کالم لکھتے تھے‘ ان میں پنج پیر گائوں کا ذکر ہوتا تھا۔ میجر عامر پر الزام تھا کہ انہوں نے جرنیلوں کے ساتھ مل کر بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لیے سازش کی تھیں اور کچھ ایم این ایز کو توڑنے کے لیے خفیہ ملاقاتیں کی گئی تھیں۔ اس آپریشن کا نام مڈنائٹ جیکال رکھا گیا تھا‘ جو بعد میں ہر پاکستانی کے منہ پر تھا۔ میرا خیال ہے وہ واحد میجر ہیں جو مشہور ہیں اور کسی کو بتانا نہیں پڑتا کہ کون میجر عامر۔ مدت سے میجر عامر سے اصرار کر رہا ہوں وہ اپنی بائیوگرافی مجھے لکھنے دیں‘ ایک شاہکار تخلیق ہوگا۔ ہر دفعہ ہامی بھرتے ہیں اور ہر دفعہ بھول جاتے ہیں۔
خیر شاہد صدیقی صاحب کا اصرار تھا کہ پنچ پیر چلتے ہیں۔ پنج پیر اس وقت مشہور ہوا جب بغاوت کے مقدمے کے بعد بینظیر بھٹو کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے انہیں گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پر وہ اپنے گائوں پنج پیر چلے گئے اور وہاں کئی دن تک رہے۔ پورے ملک میں ایک ہنگامہ مچ گیا تھا۔ بینظیر بھٹو اور زرداری کو یقین دلایا گیا تھا کہ اگر اس میجر عامر کو سزا دلوا دی گئی تو آئندہ کوئی ایجنسی ان کے خلاف سازش نہیں کر سکے گی۔
میں نے پنج پیر کی اس شام میجر عامر سے پوچھا: واقعی وہ بینظیر بھٹو کے خلاف سازش کررہے تھے اور جو کچھ سامنے آیا‘ وہ سچ تھا؟ بولے: ہم اپنے تئیں ان ایم این ایز کی شناخت کرنے میں مصروف تھے جو بینظیر بھٹو کے خلاف ان کے مخالفین استعمال کر سکتے تھے‘ ہم حکومت گرا نہیں بلکہ بچا رہے تھے۔ میں نے کہا: لیکن آپ کے ناقدین یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ایجنسیاں بینظیر کو بچانے کی کوشش کررہی تھیں۔ بولے: اس پر کسی وقت تفصیل سے بات کر لیں گے۔
تاہم اب یہ وفاقی حکومت کے لیے انا کا مسئلہ بن گیا تھا کہ کیسے ممکن ہے‘ ریٹائرڈ میجر کو گرفتار کرکے اس کا ٹرائل نہیں کیا جا سکتا؟ بینظیر بھٹو حکومت اس لیے بھی زیادہ پراعتماد تھی کہ برسوں بعد وہ سیکرٹ ایجنسی کے سربراہ اور فوج کے سربراہ ریٹائرڈ ہو چکے تھے جو شاید میجر عامر کو تحفظ فراہم کر سکتے تھے۔ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر گیا تھا۔ فوج میں نئی قیادت آ گئی تھی بلکہ فوجی قیادت نے ہی بینظیر بھٹو کے خلاف ایک فوجی بغاوت کو کچل دیا تھا۔ اب میجر عامر پر ہاتھ ڈالنا قدرے آسان تھا۔ اس سے پہلے میجر عامر کو بینظیر بھٹو حکومت نے شکایت کرکے فوجی ملازمت سے نکلوا دیا تھا۔ جنرل اسلم بیگ نے انہیں بلا کر اس برطرفی کے عوض مالی اور دیگر مراعات کی پیشکش کی لیکن وہ انکار کرکے نکل آئے۔ جب بینظیر بھٹو نے دوبارہ مقدمہ شروع کیا تو ان کا موقف تھا کہ ایک ہی جرم کی سزا دو بار نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے بابر اعوان کو وکیل کیا اور انہوں نے وہ دلائل عدالت میں دیئے کہ باہر نکل کر میجر عامر نے کہا: دل چاہتا ہے کہ دوبارہ بغاوت کی جائے۔
میں نے میجر عامر سے پوچھا: پھر یہ کرشمہ کیسے ہوا‘ جو آپ کو ہر قیمت پر گرفتار کرنا چاہتے تھے تاکہ آپ کو سزا دی جائے‘ پھر انہی آصف زرداری نے آپ کو صدر بننے بعد انٹیلی جنس بیورو کا سربراہ بننے کی پیشکش بھی کی‘ یہ دشمنی دوستی میں کیسے بدلی؟ اس سے پہلے کے میجر عامر جواب دیتے میں نے کہا: ویسے آپ کی کبھی بینظیر بھٹو سے بھی ملاقات ہوئی؟ میجر عامر بولے: ہاں بینظیر بھٹو سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ میرے لیے یہ ایک بم شیل تھا۔ میں حیرانی سے بولا: واقعی؟ کب‘ کیسے‘ کہاں؟
ہم انسان بھی کیا چیز ہیں۔ کہاں پنج پیر گائوں میں میجر عامر کو گرفتار کرنے کے لیے فیڈرل فورس بھیجی گئی تھی اور پھر کہاں برسوں بعد بینظیر بھٹو اور اسی میجر عامر کی ملاقات ہورہی تھی۔ میجر عامر بینظیر بھٹو سے اپنی ملاقات کے راز شیئر کر رہے تھے۔
پنچ پیر پہاڑی پر رات نے اپنی چادر تان لی تھی۔ اس پہاڑی کا نام ان پانچ پیروں (بزرگوں) کے نام پر پڑ گیا تھا جنہوں نے وہاں کبھی قیام کیا تھا۔ وہ بوڑھی پہاڑی جو پتہ نہیں کتنے زمانوں سے انسانوں کے عروج و زوال کی خاموش گواہ تھی۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں