تیز رو پانی پہ بہنے کا ارادہ اور میں بند باندھے ر…

تیز رو پانی پہ بہنے کا ارادہ اور میں
بند باندھے رہ نہ جائیں جوشِ دریا اور میں

اک سمندر اِس طرف ہے، اک سمندر اُس طرف
بیچ میں خشکی کا ناہمواررستہ اور میں

آئنہ ٹوٹا ہوا ہے عکس ہے بکھرا ہوا
کرچیوں پر خون کے دھبوں کا نقشہ اور میں

رقص گاہِ زندگی میں ناچتے ہیں ساتھ ساتھ
وحشتِ حالات کا بدمست چہرہ اور میں

ایک جلتے کھیت کو آباد کرتے کس طرح
آنکھ سے بہتا ہوا پانی کا چشمہ اور میں

ایک لاحاصل سفر پر چل رہے ہیں ساتھ ساتھ
اک کسی کے نام کا بے ربط رشتہ اور میں

لاپتہ ہیں ایک گم گشتہ جزیرے پر ابھی
اک مسافر میرے اندازے سے گہرا اور میں

یاسمین حمید


جواب چھوڑیں