شکیب ۔۔ مختار پارس | مکالمہ


صبر رشتے جوڑ سکتا ہے۔ بے صبرا انسانوں کی بستی میں نہیں رہ سکتا، اسے تو خدا نے باغِ بہشت میں نہیں رہنے دیا تھا۔ صبر جواب  آں غزل ہے جو آسمان سے تیر و نشتر نچھاور کرتے ہوۓ سیدھا خاطرِ خاک پر تحت اللفظ اتری ہے۔ یہ وہ عطاۓ عظیم ہے جسے انسان کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے مقدر میں لکھ دیا جاتا ہے۔ جس شخص کی کتابِ حیات میں مقدر کا باب ہی نہ ہو، وہاں صبر نہیں لکھا جاتا۔ صبر اسے عطا ہوتا ہے جس کو خرابوں کے سمندر عبور کرنے ہوں۔ اس دنیا میں عذاب رت بھی نصیبوں والوں کو دیکھنے کو ملتی ہے۔ تکلیف کا تسلسل تو انسانی حیات میں رکا ہی کبھی نہیں۔ کوئی تحمل کی اوڑھنی لے کر چھپ گیا تو بچ گیا۔ جس کے سر پر خواہشوں کا آسمان گر گیا تو وہ خاک بن کر بکھر گیا اور جس کے پاؤں کے نیچے سے برداشت کی زمین پھسل گئی، اسے وہی زمین نگل گئی۔

دنیا کتنی چھوٹی ہے اور انسان کے غم کتنے بڑے، اتنے بڑے جتنے بغیر ساحلوں کے سمندر ہوتے ہیں، اتنے کٹھن جتنے کڑکتی دھوپ میں صحرا اور اتنے خوفناک جتنے شبِ دیجور کے ساۓ۔ انسان کی بقا اس انتظامِ آفات میں کرامات کے سوا ممکن ہی نہیں۔ ڈوبنے والا ہوش و حواس میں رہے تو سمندر کی لہریں اسے اچھال دیتی ہیں۔ کبھی کبھی تو سراب کا سہارا بھی ریگِ جاں کو عبور کرنے میں مددگار ہو جاتا ہے۔ اور چاند نکل آۓ تو عالمِ ہفت کے سارے اندھیرے مل کر بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اندھیری راتوں میں چاند صرف فراق کے لمحوں میں نکلتے ہیں۔ چاند کے گرد ہالہ صرف ماں کی دعا سے بن سکتا ہے۔ چاندنی رات میں سکون صرف صبر سے عطا ہوتا ہے۔ صحرا کی وسعتوں میں، سمندر کے شور میں اور گھپ اندھیروں میں کوئی نہیں سنتا اور آوازیں اس مقصدِ عظیم سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں جو ہمارا امتحان لینے پر مامور ہے۔ کبھی بھوک آ جاتی ہے اور کبھی موت کا خوف۔ ایسے میں کسی نے آہ بھی نکالی تو خامشی میں وہ شورِ بیکراں ہواۓ ظلمت پر سوار ہو کر سماعتوں کو نواۓ شوق سے بیگانہ کر دے گا۔ ریگزاروں کو عبور کرنے کےلیے انتظار ضروری ہے۔ سمندروں کے سفر کا ارادہ ہو تو پھر ڈوب جانے کا ڈر کبھی کام نہیں آتا۔ اس کے سوا اور راستہ نہیں کہ ظلم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہے مگر کہنا کچھ نہیں۔

صبر کسی کمزوری کی علامت نہیں۔ یہ شمشیر و سناں کے اٹھانے سے زیادہ ہمت کا متقاضی ہے۔ صبر انتہاۓ کمالِ شجاعت ہے اور ظلم فقط بزدلی۔ کمزور تو وہ ہے جو ظلم کو، فساد کو اور منافقت کو برداشت نہیں کرسکتا اور ہاتھ اور ہتھیار سے طالع آزماؤں کو فی الفور ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کمزور تو وہ ہے جو کسی کمزور پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔ حیوانی جبلتیں جب دل و دماغ پر طاری ہوتی ہیں تو پنجے مارنے، چیخنے چنگھاڑنے اور دانت دکھانے کے ہنر سامنے آ جاتے ہیں۔ اس دو ٹانگوں والی مخلوق میں سے بہت کم ہیں جن کوخدا نے انسان بنا کر زمین پر اتارا ہے۔ اگر کوئی ایسا ہے تو اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ صبر اور صلواۃ کے ساتھ گزارا کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم مٹ جانے کےلیے نمودار ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ اسے خبر ہے کہ اس نے انسانی اقدار کی پاسبانی کرنا ہے۔ اس نے دکھانا ہے کہ انسان اور حیوان میں کیا فرق ہے۔

درد کی کیفیت میں کون کدھر دیکھتا ہے، یہ اس کے مالکِ خیر و شر پر یقین پر منحصر ہے۔ لیکن ہر مقام کی حدود متعین ہیں، کیا صبر کی بھی کوئی حد مقرر ہے؟ اگر حکمران غاصب و فاسق ہو تو کیا پھر بھی صبر کی تاکید ہے؟ اگر کوئی کسی عورت پر ہاتھ اٹھاۓ تو کیا پھر بھی صبر ممکن ہے؟ اگر کوئی غریب کے منہ سے نوالہ چھین لے تو کیا پھر بھی صبر جائز ہے؟ اگر دستار و تہبند گرانے کی روایت معاشرے میں زور پکڑ لے تو کیا پھر بھی صبر ضرور کرنا ہے؟ اگر استاد بے راہرو ہو جائیں اور منصف ملزموں کے ساتھ دھمال ڈالیں تو پھر بھی صبر؟ اور اگر راہ چلنے والوں کو کوئی رستہ نہ بتاۓ اور کسی بھوکے کو کوئی کھانا نہ کھلاۓ تو پھر بھی صبر؟ اس تلقین کے پیچھے کیا منطق ہے کہ ظالم کی رسی دراز ہے اور مظلوم کی داستان مختصر؟

بس ذرا انتظار کہ شاہ کی پوشاک کو خس و خاشاک ہونے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ مگر یہ احتیاط لازم ہے کہ صبر کا مطلب تازیانے کے جواب میں تلاوت کرکے خاموشی سے بیٹھ جانا نہیں ہے۔ صابر پر لازم ہے کہ اس نے ظالم کے چہرے پر سے خودپسندی کے نقاب کو اتارنا ہے، مگر ہاتھ سے نہیں، ساتھ سے۔ خاموش رہنا صبر نہیں، آوازِ حق کا بلند کرنا صبر ہے۔ اپنے سر پر وار کرنے کی اجازت دینا صبر نہیں، اسے روکنا صبر ہے۔ صبر شعائرِ محصورینِ شعبِ ابی طالب ہے، غارِ ثور میں چھپے پناہ گزینوں کی جدوجہد ہے، مقامِ حدیبیہ پر پہنچ کر پیچے ہٹ جانے کی حکمت ہے،سر جھکا کر شہرِ مفتوح میں داخلے کی صلاحیت ہے اور کربلا میں نیزے پر سر چڑھا کر علمِ حق بلند کرنےکی سعادت ہے۔

صبر گریہ نہیں، شکایت نہیں، اس بڑھیا سے بھی نہیں جو سر پر کوڑا پھینکتی تھی، اس ہندہ سے بھی نہیں جس نے امیر حمزہ کا کلیجہ کھایا، اس قوم سے بھی نہیں جس نے انہیں پتھر مارے، اس خدا سے بھی نہیں جس نے انہیں یتیم پیدا کیا اور ان سے ان کا قاسم بھی لے لیا، اس عالمِ پیر سے بھی نہیں جس نے کلمہء حق کو فراموش کر ڈالا، اس عہدِ جدید سے بھی نہیں جس نے ان کی دی ہوئی تہذیب میں سے صرف مذہب کو اپنا لیا اور اس کی روح کو بھلا دیا۔ جب مزمل کمبل لے کر کانپتے کانپتے لیٹ گیا تو طاہرہ کی آواز آئی، پریشان نہ ہوں، آپ غریبوں کے سہارا ہیں، مظلوموں کے مداوا ہیں، ہر طلب، ہر تشنگی آپ سے تشفی کی طلبگار رہی، ہر چہرے پر مسکان آپ کی منتظر رہی۔آپؐ تو سراسر صبر ہیں ۔۔۔ آپ پھر کیوں پریشان ہوں۔ ۔ مزمل نے یہ سنا تو کمبل اتار دیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ سامنے جبرائیلِ امین امانت لیے کھڑے مسکرا رہے تھے۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں