کتاب: تاریخِ ارض القرآن از سید سلیمان ندوی: ایک جامع تبصرہ – حافظ محمد زوہیب حنیف

برصغیر میں علم و فضل، تدبر اور اپنی بصیرت میں ممتاز و یگانہ شخصیات میں سید سلیمان ندویؒ (متوفیٰ ۱۹۵۳ء) کا نام سرِ فہرست ہے۔ آپ معروف سیرت نگار، مؤرخ ، ادیب اور محقق تھے ۔ آپ کا اصل کارنامہ سیرت النبیﷺ کی تصنیف ہے۔ سیرت النبیﷺ اصل میں دو جلدوں میں علامہ شبلی نعمانی (متوفیٰ ۱۹۱۴ء) نے لکھی، لیکن اُن کی وفات کے بعد مزید چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے لکھ کر ایک تاریخ رقم کردی۔ اِس کتاب کا حسن یہ ہے کہ جلد اول سے آخری جلد تک قاری پڑھتا جائے تو کہیں یہ شائبہ تک نہیں ہوتا کہ یہ دو شخصیات کا کارنامہ ہے۔ یہ اصل میں استاد اور شاگرد کا رشتہ ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔ آپ کی معروف تصانیف میں: سیرت النبیﷺ، خطباتِ مدراس، نقوشِ سلیمان، حیاتِ شبلی، یاد رفتگان، خیام، ارض القرآن اور دوسری کتب شامل ہیں۔ زیر موضوع آپ کی معروف کتاب ’تاریخ ِ ارض القرآن‘ پر ایک تبصراتی بحث کو قلم بند کیا گیا ہے۔ امید ہے اس تبصرے کے بعد قاری اس کتاب سے استفادہ ضرور کریں گے۔

تاریخ ِ ارض القرآن دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ جلداول میں قرآن مجید کی تاریخی آیات کی تفسیر (قرآن مجید میں جن تاریخی مقاما ت کا ذکر ہے اُن آیات کی تفسیر )، سرزمین ِ قرآن (عرب) کاجغرافیہ اور قرآن میں جن عرب اقوام وقبائل کا ذکر ہے اُن کی تاریخی تحقیق، جب کہ جلد دوم میں بنو ابراہم کی تاریخ (حضرت ابراہیم ؑ کی تینوں ازواج کی اولادوں کا تعارف)، عربوں کی قبل اسلام تجارت، زبان (مختلف زبانوں کا تعارف، الفاظ کا اختلاف، مذہب کے لیے استعمال کی گئی زبان) اور مذہب (عرب ادیان) پر حسب بیان قرآن مجید وتطبیق آثار وتوراۃ وتاریخ ِیونان وروم کی تحقیقات ومباحث پر مشتمل ہے۔ بقول ندوی صاحب کے ’یہ کتاب نسلِ آدم کے جس خاندوادے کی تاریخ ہے اس کا نام ہے بنو سام یا امم سامیہ ‘‘ (جلد دوم ، ص، ۳۴۶)۔ اس کتاب کو مختلف پبلشرز نے شائع کیا ہے، پہلی بار دارلمصنفین اعظم گڑھ نے شائع کیا ۔ لیکن فدوی کے پاس جو نسخہ ہے اس پر ناشر دارالاشاعت مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی درج ہے اور اشاعتِ اول ۱۹۷۵ ء درج ہے۔

سید سلیمان ندوی

تاریخ ِ ارض القرآن کی تصنیف کا مقصد:

ارض القرآن کی تصنیف کا مقصد ندوی صاحب لکھتے ہیں :

’’ اس تصنیف کا مقصد یہ ہے کہ قدیم و جدید معلومات کی تطبیق کے ساتھ ارض القرآن (عرب) کے حالات مذکورہ کی اس طرح تحقیق کی جائے کہ قرآنِ مجید کی صداقت اور معترضین کی لغزش علی الاعلان آشکار ہوجائے۔ ‘‘(جلد اول، ص۱۱)

اس کتاب میں ندوی صاحب نے قرآنِ مجید کی روشنی میں عرب کا جغرافیہ بھی پیش کیا ہے، ساتھ ساتھ ابتدائی تاریخ کتب اور مستشرقین کے اعتراضات کا بھی جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب کی سب بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ نے اصلی ماخذوں کا سہارا لیا ہے۔ عبرانی زبان کے سلسلے میں مشکلات پیش آئیں تو مصنف نے صر ف ترجمہ پر ہی انحصار نہیں کیا بلکہ اس کو سیکھنے میں پورے تین مہینے صرف کیے۔ (جلد اول، ص ۱۳)

تاریخ ِ ارض القرآن کی تحقیق کے ذرائع:

اس سے پہلے کہ کتاب کے بارے میں مزید تفصیلات بیان کی جائیں، یہاں ندوی صاحب نے اس کتاب کے لیے جن ذرائع سے استفادہ کیا ہے وہ چار ہیں یہاں ان چیزوں کو احاطۂ تحریر کیا جاتاہے ان میں:

۱۔ ادبیاتِ اسلامیہ (محمڈن لٹریچر)
۲۔ ادبیاتِ اسرائیلیہ ( جوٹش لٹریچر)
۳۔ ادبیات ِ یونانیہ و رومانیہ ( گریگ اینڈ رومن لٹریچر)
۴۔ اکتشافاتِ اثریہ ( ارکیالوجیکل ڈسکوریز)

ان چاروں ذرائع پر اگرچہ تبصرہ کیا جائے توکئی صفحات درکارہوں گے یہاں چند چیزوں کو قلم بند کیا جاتاہے۔ جن میں: اسرائیلیات کی حقیقت، خاندانی روایات، تاریخِ عرب، جغرافیۂ عرب، مستشرقین اور اکتشافاتِ اثریہ۔

اسرائیلیات کی حقیقت :

اسرائیلیات کے حوالے سے ابنِ کثیر نے اسرائیلی روایات کی تین قسمیں بیان کی ہیں:

۱۔ وہ روایات جن کی سچائی قرآن وسنت کے دوسرے دلائل سے ثابت ہو مثلاً فرعون کا غرق ہونا اور حضرت موسیٰ ؑ کا کوہِ طور پر تشریف لے جانا۔

۲۔ وہ روایات جن کا جھوٹ ہونا قرآن وسنت کے دوسرے دلائل سے ثابت ہے، مثلاً اسرائیلی روایات میں مذکور ہے کہ حضرت سلیمان ؑ اپنی آخر عمر میں (معاذ اللہ) مرتد ہوگئے تھے، اس کی تردید قرآن سے ثابت ہے۔

۳۔ وہ روایات جن کے بارے میں قرآن وسنت اور دوسرے شرعی دلائل خاموش ہیں جیسے کہ توراۃ کے احکام وغیرہ ایسی روایات کے بارے میں حضور ﷺؐ کی تعلیم یہ ہے کہ ان کے بارے میں سکوت اختیار کیا جائے۔ ( شفیع، مفتی، معارف القرآن، جلد اول، ص۲۵، مکتبہ معارف القرآن، س ن)

ندوی صاحب اسرائیلی روایات سے متعلق لکھتے ہیں :

’’اکثر یہ روایات صحیح الماخذ نہیں، اور اسی لیے اس میں ہزاروں بے سروپا باتیں موجود ہیں جو اصل روایت کی روسے تمام تر ضعیف بلکہ جھوٹ ہیں ‘‘( جلد اول، ص۱۶)

یہ حقیقت ہے کہ ہمارے پاس اسرائیلی روایات کی اتنی بہتات ہے کہ اصل اور نقل کو سمجھنا مشکل ہوجاتاہے۔ جیسے سیدنا سلیمان ؑ کے دور میں فرشتے ہاروت و ماروت کا بہ طور امتحان دنیا میں آنا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃ میں واضح طور پر بیان کردیا ہے (ملاحضہ ہو البقرۃ : ۱۰۲) ان دو فرشتوں کے حوالے سے جو اسرائیلی روایات میں مذکور ہے اُن پر سوائے استغفار کے اور کچھ نہیں کہاجاسکتا۔

خاندانی روایات :

خاندانی روایات کے حوالے سے عرب عام طور پر مشہور تھے، اس لیے یہ تواتر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح ایک ذریعہ عرب شاعری کا بھی ہے جن میں سینکڑوں واقعات، رسوم و عادات کا ذکر ہے۔ ندوی صاحب کے بقول یہ گراں قیمت سرمایہ ہمارے پاس اسلام سے چند صدی بیشتر سے زیادہ کا نہیں ہے۔ (جلد اول، ۱۶)

تاریخِ عرب:

۔ ۔ ۔ جس کا سلسلہ سیدنا امیرمعاویہ ؓ سے شروع ہوگیا تھا۔ ندوی صاحب نے چند مؤرخین کے نام دیے ہیں جن میں : عبید بن شریر، ابو عبیدہ، عوانہ بن حکم، ہشام کلبی، قاضی ابو الخیر اور ابنِ ہشام شامل ہیں (جلد اول، ص۱۷) اگرچہ ان مؤرخین کی کتب نایاب معلوم ہوتی ہیں سوائے ابن ہشام کے لیکن ندوی صاحب نے ابن الندیم کی’ الفہرست ‘سے ان مؤرخین کی کتب کے نام دیے ہیں جو کچھ اس طرح سے ہیں : کتاب اخبار الملوک الماضیین، کتاب مغارات قیس والیمین، کتاب ایام بنی مازن۔ تاریخ ِ عرب کے حوالےسے اگرچہ اب اردو میں بھی کتب دستیاب ہیں لیکن سر سید احمدخان کی کتاب ’تاریخ ِ عرب‘ اپنی ایک الگ حیثیت رکھتی ہے۔

جغرافیہ ٔ عرب :

علم ِ جغرافیہ کے پیشِ نظر مسلمان اہلِ علم نے اس پر بہت توجہ دی ہے۔ پہلے زمانے کے مسلمان دنیا بھر میں تبلیغ، جہاد، حصولِ علم، سیاحت اور تجارت کے لیے آتے جاتے رہتے تھے۔ انہوں نے طرح طرح کے جغرافیائی اکتشافات کیے اور اس فن میں اپنا بھر پور حصہ ڈالا۔ اس کا فائدہ پوری امتِ مسلمہ کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کو فائدہ ہواہے۔ عام طور پر جغرافیہ کے حوالےسے یونانیوں کو بہت اوپر جانا جاتاہے۔ سید سلیمان ندوی نے اس ضمن میں لکھا ہے کہ :

’’مسلمانوں میں جغرافیہ کی ابتدا خود عرب سے ہوئی ہے کہ وہ ان کا وطن تھا اور اس کی ابتدا انھوں نے اس وقت کی جب یونانیوں کے لفظ ’جغرافیہ ‘ سے بھی اُن کو واقفیت نہ تھی۔ ۔ ۔ اس فن پر دو قسم کی کتابیں ہیں، ایک وہ جن میں مخصوص طور پر عرب کا جغرافیہ ہے، دوم وہ جن میں دیگر ممالک کے جغرافیہ کے ساتھ عرب کا بھی تذکرہ ہے۔ (جلد اول، ص۲۰)

ندوی صاحب نے جغرافیہ سے متعلق معروف کتب کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اگرچہ ان کتب کی فہرست طویل ہے جن میں سے چند یہ ہیں :کتاب الصافات از نضر بن شمیل (عرب کے خیمے گاہوں، پہاڑوں اور گھاٹیوں کے بیان میں ہے )۔ کتاب جزیرۃ العرب از ابو سعید الاصمعی (پہلی عام جغرافیہ ٔ عرب معلوم ہوتی ہے )کتاب البلدان از ابن فقیہ ہمدانی (مکہ، طائف، یمامہ اور یمن کا ذکر ہے )۔ ‘‘

مستشرقین :

مستشرقین پر اگر چہ یہ اعتراض کیا جاتاہے کہ یہ حضرات اپنی تحقیق میں کہیں نہ کہیں علمی خیانت کرتےہیں، اور یہ حقیقت بھی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے ان کے حوالے دیے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے، کیوں کہ ہمارے پاس آج اسلامی تاریخ کی بہت سی کتب ا ِن ہی حضرات کی مرہونِ منت ہے، جیسے اسلامی تاریخ کے سلسلے میں پروفیسر ڈ خویہ نے البلاذری کی کتاب “فتوح البلدان” ۱۸۶۶ءمیں شائع کی۔ ندوی صاحب مستشرقین کے حوالے سے لکھتے ہیں:

چوتھی صدی کی بہترین تصنیفات اس باب میں ابن الحائک ہمدان ایک عرب جغرافیہ نویس کی دو کتابیں ’’صفۃ جزیرۃ العرب اور اکلیل ہیں۔ ۔ ۔ اکلیل کا کامل نسخہ اب تک کہیں ملا ہے ایک ٹکڑا پروفیسر مولر (D.H. Miller ) کی کوشش سے شائع ہواہے۔ (جلد اول، ص۱۸)

اکتشافاتِ اثریہ :

بلا شبہ آثار کسی بھی قوم کی تاریخ، حالات و واقعات کو اگرچہ مکمل طور پر نہیں لیکن کافی حدتک معلومات ضرور دیتے ہیں۔ جس طرح موئن جو دڑو کے آثار سے اس قوم کے حالات و واقعات کا اندازہ لگالیا ہے جو کہ کافی حدتک صحیح بھی معلوم ہوتاہے۔ اس کا م کے لیے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی کاوشیں بلاشبہ قابلِ تحسین ہوتی ہیں۔ ندوی صاحب اکتشافات ِاثریہ کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’یمن، حضر موت ، تدمر، بطرا، علا، مدائن، صالح، صفا، حجر، حجاز، عراق اور مصر میں قدیم عربوں کے بہت سے آثار، عمارات اور یادگاریں جن میں ہزاروں کتبے اور نقوش گھرے ہیں۔ ۔ ۔ ان آثار کی تحقیقات کی گئی اور اُن میں سے اکثر خطوط اور زبانوں سے اُس عہد کے علما واقف تھے۔ (جلد اول، ۳۲)‘‘

ندوی صاحب نے تاریخی مقامات کے حوالے مختلف مثالیں دی ہیں مثلاً یہاں ایک مثال دینا کافی ہوگا:

’’شہر مارب جو حکومت ِ سبا کا قدیم پایہ تخت تھا، اس کے آثار کا اب تک نشان ملتاہے، آثار البلاد قزوینی کے حوالے جرمن اشیاٹک سوسائٹی جرنل نے اس قسم کی بعض عمارتوں کے آثار شائع کیے ہیں۔ (جلد اول، ص۴۶)

اس کے علاوہ تاریخ کے حوالے سے جو ایک مؤرخ کو مشکلات پیش آتی ہیں اس کو بھی پیش ِ نظر رکھنا چاہیے۔ ایک مؤرخ کو صحیح سن، تاریخ او رتعینِ زمانہ کے ساتھ ساتھ حالات و واقعات ان تمام چیزوں کو پیش ِ نظر رکھنا ہوتاہے اس حوالے سے سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں :

تاریخ کے ’صرف تین ذرائع ہیں : توراۃ بالکل خاموش ہے، روایاتِ عرب جن میں تاریخ و سنین کا ذکر نہیں، آثار ِ قدیمہ اور الواح منقوشہ جن میں سے صرف چند شاہان ِ عرب کی تاریخ یا تاریخی فتوحات معلوم ہوتی ہیں (جلد اول، ص۴۶) اسی طرح زمانہ کا تعین کا اصول یہ ہے کہ چار پشتوں کی ایک صدی فرض کر کے پشتوں کے شمارے سے زمانے کی تعین کرلی جاتی ہیں۔ (جلد اول، ص۴۶)

امم سامیہ :

ندوی صاحب امم ِسامیہ کی تفصیلات کے حوالےسے جو مباحث لے کر آتے ہیں اُن میں اممِ سامیہ سے کیا مراد ہے ؟ ان کا مسکن کیا ہے ؟ مسکنِ اول سے ہجرت، امم سامیہ کے انساب، طبقۂ اولیٰ میں اممِ سامیہ اولیٰ، جن میں عاد، عاد بابل میں، عاد مصر میں یا عاد دیگر ممالک میں۔ اور اس طرح کے دوسرے موضوعات کی تفصیلات بیا ن کرتے ہیں۔

امم ِ سامیہ سے مراد ندوی صاحب نے جو کچھ لکھاہے وہ کچھ اس طرح سے ہے :

علم الاقوام اور علم الاسنہ کے محققین نے اقوامِ عالم کو اخلاق، عادات، اعتقادات اور زبان کے اتحاد کو تشابہ اور جسم، اعضا اور دماغ کی مماثلت کے لحاظ سے تین مختلف خاندانوں میں تقسیم کیا ہے۔ ۱: اریانی (ایرین یا انڈو یورپین ) مثلاً ہندوستان، ایران، فرنگستان۔ ۲: توراتی (ٹیرنین یا منگولین ) مثلا ً ترکستان، چین، منغولیا وغیرہ۔ ۳: سامی (سمیٹک ) عرب، آرامی، عبرانی، سریانی، کلدانی، فینیشین وغیرہ۔ بعض علمانے اقوامِ عالم کی علم الالوان یعنی اختلافِ رنگ کی بنا پر تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ۱: جنس ابیض۔ عام امم سامیہ و فرنگستان۔ ۲: جنس اسود: باشندگانِ افریقہ، ۳: جنس اصفر۔ جاپان و چین و بقیہ امم توارنیہ۔ ۔ ۔ تیسری قسم توارۃ کی ہے ۔ طوفانِ نوح کی زندگی ثانی کے بعد وہ بھی دنیا کی تمام قوموں کو تین خاندانوں پر منقسم کرتی ہے۔ حضرت نوح کے تین بیٹے، یافث، حام اور سام، تمام دنیا ان ہی کی تین نسلوں کی یاد گارہے۔ (۸۷)

جلد دوم :

جلد دوم کی ابتد امصنف سیدنا حضرت ابراہیم ؑ سے کرتے ہیں۔ اس حصے میں ندوی صاحب کی تحقیق کاپورا محور حضرت سارہ، حضرت ہاجرہ اور قطورا پر مشتمل ہے۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں :

ار ض القرآن کا یہ حصہ صرف ان ہی خاندانوں کی تفصیل پر محدود ہے اور ان میں سے بھی ان خاندانوں کا ذکر مفصل ہے جن کا نام قرآن مجید میں کسی حیثیت سے مذکورہے۔ ۱: بنو قطورا میں سے اہل مدین اور اہل دوان (اصحاب الایکہ )۔ ۲: بنو سارہ میں سے ادوم (حضرت ایوب اور اُن کی قوم ) ۳: بنو ہاجرہ میں سے حضرت اسمٰعیل ؑ ، انباط (اصحاب الحجر) قیدار اور قریش۔ (جلد دوم، ص ۲)

تاریخ کے حوالےس اگر دیکھا جائے تو پورا قرآن مجید ان تین ہی خاندانوں کے بارے میں تفصیلات بتاتاہے۔ سیدنا ابراھیم ؑ کا کی تاریخ اور آپؑ کا ایک ایک عمل قرآن سے ملتاہے۔ اسی طرح حضرت ایوبؑ کا ’صبر‘ پوری تفصیل سے ملتاہے۔ اور قریش کے حوالےسے تو مکی سورتوں کا ایک بڑا حصہ قرآن ِ پاک میں موجود ہے۔

اس جلد میں ندوی صاحب نے ایک اور باب باندھا ہے وہ ہے ’السنۃ العرب قبل الاسلام یعنی اسلام سے پہلے عرب کی زبانیں ‘ اس باب میں اسلام سے قبل مختلف اقوام کی زبانوں کی تحقیق کی گئی ہے۔ جیسے: عربی، آرامی، کلدانی، سریانی وغیرہ۔ اسی طرح عرب کے مختلف قبائل میں زبان کا جو فرق پایا جاتا تھا ان میں الفاظ اور معانی کا فرق، تذکیر و تانیث کے فرق کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ندوی صاحب وحی الٰہی کی زبان کے حوالےسے بڑی دلچسپ گفتگو کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں :

مذہبی خیالات ادا کرنے کےلیےجن کا عربی زبان میں اُس وقت تک وجود نہ تھا ، ایک ایسی زبان کی ضرورت تھی جس میں ان خیالات کے اداکرنے کے لیے الفاظ ہوں اور دیگر قدیم المذاہب زبانوں سے اس کا رابطہ اور ارتباط ہو۔ ۔ ۔ تمام عرب میں ایسی زبان صرف قریش کی ہو سکتی تھی۔ ۔ ۔ تمام عرب میں مقامی بت خانے تھے جہاںمراسم ِ حج ادا ہوتے تھے۔ مقامی میلے بھی لگتے تھے، لیکن تمام ملک کا مجمع صرف مکہ ہی کی سر زمین میں اکھٹا ہوتا تھا۔ ۔ ۔ شعرائے عرب میں بھی اس موقع پر جب کے عرب کے تمام گوشوں سے لوگ سمٹ کر ایک نقطہ پر جمع ہوجاتے تھے۔ ۔ ۔ یہی سبب کہ شعرائے عرب کے قصائد کی زبانوں میں اختلافات کے باوجود ایک قسم کی ہم رنگی اور ہمواری پائی جاتی ہے ۔ تمام عرب کو مخاطب کرنے کےلے وحی الٰہی کو اس قسم کی زبان درکار تھی۔ (جلددوم ۳۵۹)

مزید دو ابواب جن میں عربوں کے مذاہب کی تفصیلات شامل ہیں، ندوی صاحب کے بقول عرب میں جو قومیں آباد تھیں اُن کا مذہب بت پرستی تھا۔ قرآن بھی اس بات کی تصدیق کرتاہے۔

حرفِ آخر:

بلاشبہ ندوی صاحب کی یہ کتاب ’تاریخ ارض القرآن ‘ ایک بلند پایہ اور بے مثل کتاب ہے۔ اگرچہ اب اس موضوع پر اور بھی کتب دستیاب ہیں جن میں اطلس القرآن قابل قدر ہے، لیکن اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب کسی گوہرِ نایاب سے کم نہیں ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں