سلام احسان مانتی ھے یہ دنیا حسیّن کا ممنون آج بھ…

سلام
احسان مانتی ھے یہ دنیا حسیّن کا
ممنون آج بھی ھے زمانہ حسین کا

یہ کربلا سے پوچھئے کیسے ادا ہوا
دیکھا ھے جس نے آخری سجدہ حسیّن کا

کِس طرح راہِ حق میں بھرا گھر لُٹا دیا
کیوں آسمان حوصلہ دیکھا حسیّن کا

ہر سال کائنات کی وسعت کے رُو برُو
دُہرائے گا یہ وقت فسانہ حسین کا

کتنا ھے درد ناک سکینہ سے پوچھئے
جانا وہ اور نہ لوَٹ کے آنا حسیّن کا

مجبور تھے خیّام ہٹانے کے واسطے
عبّاس دیکھتے تھے اِرادہ حسیّن کا

جاری ہیں اشکِ غم مری آنکھوں سے آج پھر
پھر یاد آ گیا ھے زمانہ حسیّن کا

بد تر ھے ناز موت سے بھی ایسی زندگی
جس زندگی میں ہو نہ سہارا حسیّن کا

شہناز نقوی


جواب چھوڑیں