فروغ فرخزاد(ایران) مترجمہ فہمیدہ ریاض(پاکستان) ف…

فروغ فرخزاد(ایران)
مترجمہ فہمیدہ ریاض(پاکستان)

فروغ فرخزاد

(تعارف)

وہ عظیم تھی
وہ عصرِ حاضر کی شخصیت تھی
تمام کھلے آفاق سے اس کا واسطہ تھا
وہ آب و گِل کی راگنی کو خوب سمجھتی تھی
(فروغ کی موت پر ایرانی شاعر بہروز جلالی کے مضمون کی اولین سطریں)
اس صدی کے وسط میں فروغ فرخزاد جولانگاہ ادب میں ایک شعلہ جوالہ کی مانند بلند ہوئی اور عین عالم جوانی میں جبکہ اسکی تمام صلاحیتیں منتہائے عروج پر تھیں کار کے ایک حادثے میں اچانک ختم ہو گئی
موت کے وقت اس کی عمر صرف 33برس تھی۔ اس نے باقاعدہ شعر گوٸ اٹھارہ انیس سال کی عمر میں شروع کی تھی۔لیکن اس مختصر عرصے میں اس کے شعری جوہر نے ایران کے ادبی منظر کو خیرہ کردیا تھا۔ادب اور دوسرے قارٸین انگشت بداں تھے کہ اس اقلیم میں ایک نوجوان عورت اچانک کس طرح نمودار ہوٸ اور چھاتی چلی گٸی۔ اس کے کلام کی سحر بار نغمگی اور حسن، اِس کا حیرت انگیز بے جھجھک نسوانی اظہار، اس کی جرات اور خود اعتمادی اور انتہاٸی گہری سچاٸ جگر میں اُترنے والی تاثیر کے ساتھ پڑھنے والوں کو مبہوت کر رہا تھا
فروغ فرخزاد ١٩٣٥ ٕ میں تہران میں کرنل فرخزاد کے گھر پیدا ہوٸ وہ تیرہ چودہ برس کی عمر میں خوب غزلیں لکھتی تھی مگر بعد میں اس نے غزل گوٸ ترک کردی۔ ہاٸ اسکول کے بعد اس نے کچھ عرصہ مصوری اور سلاٸ کی تربیت بھی حاصل کی۔سولہ برس کی عمر میں اسے خود سے پندرہ سال بڑے ایک دور کے رشتے دار پرویز شاہ پور سے عشق ہو گیا اور اس نے ماں باپ سے ضد کر کے شدی کرلی اور شاہ پور کے ساتھ اہواز چلی آٸ۔ایک سال کے بعد اس کے یہاں پیٹا پیدا ہوا جس کا نام ”کامیار“ رکھا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی شعروسُخن سے دلچسپی بڑھتی گٸی اور اسکی ذہنی پختگی میں اضافہ ہوا۔ اس کا شوھر شاہپور شاعری کے بےباکانہ انداز کو برداشت نہ کرسکے اور انہوں نے اسے طلاق دے کر اِس کا بچہ بھی اس سے چھین لیا جسے پھر شاہ پور اور اس کے خاندان والوں نے زندگی بھر فروغ سے ملنے نہ دیا۔فروغنے بچے کے حصول کیلیٸے مقدمہ بھی لڑا مگر عدالت نے بچے کو باپ کے حوالے کردیا۔
فروغ اپنے باپ کے پاس تہران واپس آگٸی مگر کچھ عرصہ بعد تنہا رہنے لگی۔ اس نے بیرونِ ملک سفر کیا اور اطالوی، جرمن فرانسیسی اور بعد میں انگریزی میں اچھی استعداد حاصل کرلی۔ اس دوران وہ شعر لکھتی اور شاٸع کرواتی رہی۔١٩٥٧ ٕ میں فروغ اران کی لمی صنعت سے وابسےہ ہو گٸی اور ١٩٥٩ ٕ میں فلم کی تربیت حاصل کرنے کیلیے برطانیہ میں ایک سالہ کورس کیا۔ جزامیوں پر ایک ڈاکو مینٹری فلم بنانے کیلٸے وہ تبریز گٸی تو وہاں اس نے ایک بچہ گود لے لیااور اسے تبریز سے تہران لے آٸی جہاں بچہ فروغ کی والدہ کےپاس رہتا رہا۔ ١٩٦٦ ٕ میں گاڑی ڈراٸیو کرتے ہوۓ فروغ فرخزاد ایک حادثے میں ہلاک ہوگٸ۔

فروغ کی مختصر سی زندگی جو آج ہمیں شاید غیر معمولی نہ معلوم ہو پچاس اور ساٹھ
کے عشرے میں ایرانی رسم و رواج سےطوفانی بغاوت سے عبارت ہے ۔فروغ کی گھریلو زندگی، پیشہ ورانہ مصروفیات اور شاعری سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک آذاد اور ثابت قدم عورت تھی جس نے معاشرے کے طے کردہ محفوظ راستوں پر چلنے کے بجاۓ انا راستہ حیرت انگیز ذہنی آذادی کے ساتھ منتخب کیا-

اگرچہ فروغ کے اشعار میں بسے ہوۓ رنج و الم سے یہ گمان ہوتا ہے کہ عورت کی بغاوت کا انجام ایسی ہی ناکامی اور نامرادی کی زندگی ہے مگراس کی زندگی کسی زاویے سے ناکام نہیں تھی۔ شاعری میں اس نے ایک نیا دبستان تخلیق کیا اور اس کی مقبولیت کایہ عالم تھا کہ اس کے ہر نٸے مجموعے کی اشاعت بلکہ اس کی ہر نٸی نظم کی اشاعت ایک قابلِ ذکر واقعہ بن جاتی تھی۔ دنیاۓ شعر میں وہ نہایت کم عمری ہی میں کامرانیوں کے عروج پر پہنچ چکی تھی ۔ اس طرح اس نے جن فلموں کی تدوین کی انہیں پےدرپے بین الاقوامی میلوں میں انعامان ملے۔
مگر اس کامیابی کے باوجود فروغ فرخزاد کی شاعری میں بےقراری اور کرب کو دیکھتے ہوۓ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنی آزادی اور بغاوت کی قیمت اپنے خون جگر سے ادا کی۔

درخشندہ شاعری
فروغ نے اپنی شاعری کے پانچ مجموعے شایع کیے۔

کے عشرے میں ایرانی رسم و رواج سےطوفانی بغاوت سے عبارت ہے ۔فروغ کی گھریلو زندگی، پیشہ ورانہ مصروفیات اور شاعری سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک آذاد اور ثابت قدم عورت تھی جس نے معاشرے کے طے کردہ محفوظ راستوں پر چلنے کے بجاۓ انا راستہ حیرت انگیز ذہنی آذادی کے ساتھ منتخب کیا-

اگرچہ فروغ کے اشعار میں بسے ہوۓ رنج و الم سے یہ گمان ہوتا ہے کہ عورت کی بغاوت کا انجام ایسی ہی ناکامی اور نامرادی کی زندگی ہے مگراس کی زندگی کسی زاویے سے ناکام نہیں تھی۔ شاعری میں اس نے ایک نیا دبستان تخلیق کیا اور اس کی مقبولیت کایہ عالم تھا کہ اس کے ہر نٸے مجموعے کی اشاعت بلکہ اس کی ہر نٸی نظم کی اشاعت ایک قابلِ ذکر واقعہ بن جاتی تھی۔ دنیاۓ شعر میں وہ نہایت کم عمری ہی میں کامرانیوں کے عروج پر پہنچ چکی تھی ۔ اس طرح اس نے جن فلموں کی تدوین کی انہیں پےدرپے بین الاقوامی میلوں میں انعامان ملے۔
مگر اس کامیابی کے باوجود فروغ فرخزاد کی شاعری میں بےقراری اور کرب کو دیکھتے ہوۓ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنی آزادی اور بغاوت کی قیمت اپنے خون جگر سے ادا کی۔
درخشندہ شاعری
فروغ نے اپنی شاعری کے پانچ مجموعے شایع کیے۔
اسیر دیوار عصیاں تولددیگر اور ایمان بیاوریم اس کی شاعری میں اس کے گہرے مشاہدے واردات قلبی کی شدت اور اس کی فکر کی مسلسل ارتقاء سے اندازہ ہوتا ہے کہ فروغ نے انتہائی بے باکی اور سچائی سے وہ کچھ قلم بند کیا جو اس کے دل پہ گزری سولہ سترہ سال کی کم عمری ہی میں اس نے اپنی سیکسوالٹی کو دریافت کیا اور اپنے کلام میں دنیا اور زندگی کی نسائی تفہیم کی جو شعر و ادب میں مردوں کی اجارہ داری کے تناظر میں حیرت انگیز تھا فروغ فرخزاد کو فطرت سے ایسی گہری محبت اور عقیدت تھی جیسی مذہبی لوگوں کے دل میں خدا کے لیے پائی جاتی ہے تعلق زن و مرد کو بھی اس نے فطرت کا حصہ سمجھ کر دیکھا ہے اس کے کلام میں جابجا بوسوں اور ہمبستری کا ذکر بھی ہے اور پاکی اور ناپاکی کے تصورات بھی باربار آتے ہیں اس کے نزدیک بھر پور وصل وہ مقدس عمل ہے جو اسے ناپاکی سے نجات دلا کر اور اس کے اندر موجود اس کی فطری پاکیزگی کو اجاگر کر کے اسے مائل بہ روحانیت کر دیتا ہے اپنی نظم عاشقانہ میں وہ محبوب سے کہتی ہے
اے تخشج لذتوں کے جسم میں
خط تیرے تن کے میرا ملبوس ہیں
جس طرح دھوتی ہے بارش جسم خاک
کر دیا آلودگی سے مجھ کو پاک
یا وصل میں
میں نے دیکھا
اس کے ہاتھوں کی روانی میں
میرے وجود کی جسمیت تحلیل ہو رہی تھی
ان اشعار میں شاعرہ نے جس باریک بینی سے عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل اہم نفسیاتی حقائق کی نشاندہی کر ڈالی ہے کہ چاہے جانے کے احساس سے انسانی قلب کی طہارت ہو جاتی ہے اور جسمانی لذت کے عروج پر مادی بدن محض احساس بن کر رہ جاتا ہے وہ فروغ کی بے پناہ ذہانت اور وجدان کی حیران کن مثالیں ہیں اور شعری حیثیت سے وجد آور بھی ہیں نسائیت فروغ کی شاعری کا جوہر اصالت ہے اس بے مثال شاعرہ نے جس ارجِ کمال جرات اور سچائی سے نازک نسوانی احساسات کو قلم بند کیا ہے وہ اسے ایک
تاریخی حیثیت عطا کر چکا ہے اس کی تحریر میں ہمیں بالخصوص مشرقی عورت کا چہرہ نظر آتا ہے کیونکہ وہ جس درد و کرب سے گزرنے کی روئداد بیان کرتی ہے وہ مشرقی رسوم و قیود ہی کی پیداوار ہے فروغ انتہائی معصومانہ بےتابی کے ساتھ ان رسوم و قیود کو توڑتے ہوئے اپنے جنسی تجربات کو بیان کرتے ہوئے کہہ دیتی ہے کہ گنہ کردم گناہ پرلذت جو ایک ایسا طاقت ور نعرہ بغاوت ہے جسے نسوانی اظہار کی صدیوں پر محیط جدوجہد میں سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فروغ بدنام ہو جاتی ہے اسے اس کی مرضی کے خلاف تلاق دے دی جاتی ہے اسے آوارہ قرار دے کر اس کا بچہ بھی ہمیشہ کے لیے اس سے چھین لیا جاتا ہے اس عالم میں اس کی تنہائی کس قدر شدید تھی اور دل کس طرح خون ہو رہا تھا یہ نقشہ فروغ نے اپنی ایک نظم میں دل چیرنے والے الفاظ میں بیان کیا ہے
جب تمام شہر میں میرے دل کے چراغ ٹکڑے ٹکڑے کیے جا رہے تھے
جب میرے طفلانہ عشق کی آنکھوں پر
قانون کے سیاہ رومال کی پٹی باندھی جا رہی تھی
جب میری آرزو کی کنپٹیوں سے خون کے فوارے چھوٹ رہے تھے
جب میری ہستی ہیچ تھی ہیچ
بجز دیواری گھڑی کی ٹک ٹک کے
میں نے تہیہ کر لیا تھا
کہ مجھے کرنا ہے کرنا ہے کرنا ہے
دیوانہ وار پیار
فروغ کے کلام کے بے شمار محاسن ہیں اور اسکی ہر نظم میں ایک انوکھی خوبی اور جدت موجود ہے اس کے لیے شاعری کوئی شغل نہیں تھا بلکہ اس کی روح اور قلب کی حقیقت تھی وہ ایک ذہین اور گہرے مشاہدے کی حامل شاعرہ تھی اسی لیے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے کلام میں فکری ارتقاء کا سفر نظر آتا ہے
‘’اسیر’’ میں فروغ ایک زمانہ سازی کی دو رخی سے نا آشنا معصوم روح کی طرح ہے جو زبان کے ترنم کا نہایت بارور اور تخلیقی استعمال کرتے ہوئے اپنی فطرت سے لگاو اور عاشقانہ تجربے کا اظہار کرتی ہے اپنے بے لاگ مشاہدہ سے وہ ایک تضاد کو دریافت کرتی ہے
بڑھ کے تاریکی سے جب آیا
پیکر ذرات ظلمت تھا
جب ذرا نزیک تر پہنچا
ورطہ تاریک لذت تھا

اس کے علاوہ

تھیں جڑیں اپنی سیاہی میں
مگر دل تھے نور کے میوے
ایک دوجے کو کیا تھا سیر
دور باغوں کی بہاروں سے
(پتھر کا صبر ،اسیر)
‘’اسیر’’ کے بعد ‘’دیوار’’اور ‘’عصیاں’’ میں اس کی فطری شوخی زندگی کے لئیے امنگ اور درد و غم سے پیکار کے ساتھ ساتھ فکر کی نشوونما ظاہر ہوتی ہے وہ اب صرف اشکبار نہیں بلکہ اپنے الم کی جانب تحیر سے نگراں بھی ہے اور ہستی کے بنیادی سوال اٹھا رہی ہے

رات گیلے راستے پر میں نے خود سے پوچھا
زندگی کیا ہماری پرچھائیوں سے رنگ لیتی ہے
یا ہم خود اپنی پرچھائیوں کی پرچھائیں ہیں
تیرگی درد ہے یا مسرت
جسم زنداں ہے کہ ہے صحرائے آزادی
(پرچھائیوں کی دنیا دیوار)
فروغ کے دوسرے دور یعنی تولد دیگر اور اس کے بعد کا کلام ہستی کی فنا پزیری پر دلدوز تاسف و ملال سے مملو ہے ماورائے مظاہر حقیقت کی جستجو کرتے ہوئے غالبا اس نے ہستی کے اس روپوش پہلو کی جھلک دیکھ لی تھی جسے ہسپانوی فلسفی انومانو نے وجود کے المیے کا نام دیا ہے ساتھ ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی موضوعات بھی اس کی شاعری میں شامل ہونے لگے تھے میرا دل باغیچے کے لیے جلتا ہے اور کوئی آ رہا ہے اس کی سو حسین و جمیل اور موثر مثالیں ہیں
کوئی آ رہا ہے
اور دسترخوان بچھا رہا ہے
اور روٹی تقسیم کر رہا ہے
اور پیپسی تقسیم کر رہا ہے
اور کالی کھانسی کا شربت تقسیم کر رہا ہے
اور ہمیں بھی ہمارا حصہ دے رہا ہے
یہ سماجی انصاف اور مساوات کے لئیے لکھی ہوئی دنیا کی بہترین نظموں میں سے ایک ہے فروغ ایک جدید ذہن رکھتی تھی اور اپنے گرد و پیش کے حالات سے خود کو ہر گز دور نہیں رکھ سکتی تھی سیاسی موضوعات کا اس کی شاعری میں داخل ہونا ناگزیر تھا
جس کی اولین جھنکار اس کی نظم ‘’اےمرزپرگہر’’ میں سنائی دیتی ہے اس نظم میں فروغ نے نام نہاد حب الوطنی کے پرزے کرتے ہوئے اس کے پیچھے کار فرما خوشامد پرستی اور مال بنانے کی جہد کو بے نقاب کیا اور ساتھ ہی اصل ایران کا نقشہ پیش کیا ہے جہاں شاعرہ کا پہلا قدم آلودہ فضا اور کیچڑ بھری سڑکوں پر پڑتا ہے حبس بلبلان مرموز ازرہ تفنن سینکڑوں بوڑھے کووں کا روپ بھرے منڈلا رہی ہیں اور یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ اگر زندگی مہلت دیتی تو فروغ کی شاعری کا تیسرا دور فلسفیانہ اور سیاسی موضوعات سے عبارت ہوتا



بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2871401076423740

جواب چھوڑیں