حالاتِ حاضرہ اور واقعاتِ ماضی

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق
اس وقت پاکستان کی طرف سے خوشخبریاں دنیا کو مل رہی ہیں لیکن پاکستانی قوم ناامیدی کی وجہ سے عالمی منظر نامے کو دیکھنے کی بجائے روزمرہ کی گفتگو کی جستجو میں لگی ہوئی ہے۔ حکمران جماعت اور ملک کے وزیراعظم عمران خان شدید تنقید کے تیر و نشتر کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ آپ نے ملک کی باگ ڈور اس وقت سنبھالی جب قدرتی آفتیں بتدریج نازل ہوتی جا ر ہی ہیں اور اس سے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر چلی گئی۔ اب اس میں عمران خان کا کیاقصور ہے۔ کرونا وائرس نے تو پوری دنیا میں ایک بھونچال کی کیفیت اور حالت پیدا کر دی ہے، اس نے پاکستان کو اپنی لپیٹ اور پلیٹ میں لے لیاتھا مگر وزیراعظم عمران خان کی بصیرت افروز منصوبہ بندی نے اس زہر کا تریاق ڈھونڈ لیا اور دن رات ایک کر کے اس بات کی پرواہ تک نہ کی کہ مستقبل قریب و بعید میں کیا بنے گا ،بہت زیادہ زیاں کیئے بغیر اس آفت پر قابو پا لیا اور اب خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں نے ماضی کی یادوں کے چراغ بھی مدہم دیکھے ہیں جن کو پچھلوں نے مزید اندھا کر دیا تھا اس نابینائی کو عمران خان سب سے پہلے واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔
کرونا اور ٹڈی دل اکٹھے ہی حملہ آور ہوئے۔پھر نہ رکنے والابارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا خاص طور پر کراچی ان سب سے بہت متاثر ہوا۔ایسے وقت میں عمران خان نے جو حکمتِ عملی اپنائی اور بڑے بڑے حکیمانہ فیصلے کئے اب ان کی خدمات کا اعتراف ہر طبقہ پاکستانی کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل سے وہ مسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کراچی شہر اس وقت سمندر میں بدل رہا ہے اور سابق حکمرانوں کی عیاشیاں اور کوتاہیاں صاف نظر آ رہی ہیں مگر وہ تو کھا پی کر گوشہ عافیت میں بیٹھ گئے ہیں جیسے کہ وہ بالکل خطاوار نہیں ہیں یہ سارا قصور عمران خان کا ہے۔ایک خطیر رقم کا پیکیج عمران خان نے کراچی کو دیا ہے جس کے بعد بلاول بھٹو بھی منظر عام پر آ گئے ہیں۔ بلاول بھٹو کی تقریریں کراچی کی طوفانی لہروں کو نہیں روک سکتیں اور نہ ہی اس وقت حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ وقت تنقید کا نہیں تائید کا ہے اور مل جل کر اس بحران سے نمٹنے کی کوشش کریں۔ اس وقت کراچی تباہ ہو گیا ہے اور سمندر کی بلندی اور کراچی سے وابستگی کی بھی کچھ لاج رکھی جا رہی ہے وگرنہ مد و جزر نما ابھرتے ہوئے طاقتور پانی کے ریلے کے سامنے کراچی بے بس ہے۔ کراچی شہر کو بچانے کے لیئے وزیراعظم عمران خان اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے سامنے کراچی کی طوفانی بارشوں سے ہونیوالے مسائل رکھنا چاہتے ہیں جس میں کوئی سیاست نہیں خلقِ خدا کی خدمت ہے۔
اس وقت پاکستان کو دیدہ ور قیادت کی ضرورت ہے اور عمران خان اپنے قول کا پکا اور سچا کھرا پاکستانی راہنما ہے۔ عمران خان نے جرا¿ت اور بہادری سے حالات کی سنگینی کی شہ رگ کو پکڑا ہے اور نویدِ سحر دی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اٹھنے والی قوتوں کا منہ توڑ اور رخ موڑ دیں گے۔ صحت ، تعلیم اور ماحول کی بالیدگی موجودہ حکومت کی ترجیحات ہیں۔ کراچی کو پہلے الطاف حسین نے بدترین دور میں گولیوں سے بھون کر رکھ دیا اور آج اس کا اپنا انجام بھی آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کی قوت گویائی چھین لی گئی ہے یہ مکافات عمل کا نتیجہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو یہ حالات جس میں وہ تمام کاموں میں مصروف ہیں کوئی دوسرا شخص ہوتا تو اب تک فرار ہو جاتا ۔ یہ بات سب کے سامنے آ چکی ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے دشمن ملک سے دوستی کا ہاتھ ملایا اور اپنی ذاتی تجارت کے بڑے بڑے ٹاور قائم کیے۔
منفی سوچ بہت ساری بیماریوں کی ماں ہے۔ اس وقت بھنگ کاشت کرنے کو جو منصوبہ ساز ذہن مثبت سوچ کے ساتھ استفادہ چاہتا ہے تو اس کے مثبت نتائج پر آپ نظر رکھیں جو ہماری بہت ساری ادویات میں استعمال ہو رہی ہے اور اس کو درآمد کیا جاتا ہے۔ چین اور کینیڈا میں بھنگ ہزاروں ایکڑ اراضی پر کاشت ہو رہی ہے اور وہ اعصابی کمزوری کا علاج تجویز کیا گیا ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں ملک کے وسیع تر مفادات کے تحفظ کا احساس کیا ہے۔ آپ اس کو بھنگ کے پودے کے طور پر سمجھ کر نشہ آور بوٹی سمجھ کر پی جائیں اور اپنے دماغ کو خراب کر لیں یہ آپ کی مرضی ہے۔ طبیب اسے مثبت سوچ کے ساتھ انسانیت کی فلاح کے لیئے استعمال میں لائے گا۔ بھنگ کاشت کرنے کا فیصلہ مثبت سوچ کے ساتھ شاندار خدمت ہو گی اور منفی سوچ کے بطن سے مثبت تخلیق ممکن نہیں ہے وہ خواہ انگور ہی کیوں نہ ہوں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے۔انگور سے آپ شراب بھی کشید کر سکتے ہیں اور سرکا بھی، یہ آپ کی اپنی سوچ پر منحصر ہوتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ منصوبہ ساز مثبت کارنامہ بہت بڑا کارنامہ ہے اس کو مثبت انداز اور اسلوب کا لبادہ اوڑھے رہنا چاہئے۔ ملک میں بہت سارے مسائل سر اٹھا رہے ہیں جن کو ہم سب نے مل جل کر حل کرنا ہے اس لیے اپنی مثبت سوچ کو بصیرت کی آنکھ فراہم کریں گے تو ہر سو خوبصورت مناظر دکھائی دیں گے اس لئیے۔۔ سبو اپنا اپنا ہے جام اپنا اپنا۔
پاک فوج دنیا میں ممتاز مقام رکھتی ہے اور گزشتہ دنوں چھ ستمبر یوم دفاع روایتی جوش وخروش سے منایا گیا۔ ہماری بہادر افواج کے کارناموں سے دشمن خوفزدہ ہے ۔ پاک فوج ہمارا فخر ہے جو مشکل کی ہر گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ کوئی قدرتی آفت ہو پاک فوج کے جوان اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے ہم وطنوں کی مدد کرتے نظر آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے محرم الحرام کی ابتک کی مجالس بہت امن کے ما حول میں اختتام کو پہنچ گئی ہیں۔ بہت سے پاکستانیوں نے اپنے گھروں میں نیا ز کا اہتمام کیا۔ مسزخان نے بھی اپنی رہائش گاہ پر امام حسین رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت پرمجلس کا اہتمام کیا اور احباب کو مدعو کیا۔ واقعہ کرب و بلا کی حقیقی روح پرور تقریب میں شرکت کرنے والوںمیں ہر طبقہ فکر کے لوگ موجود تھے۔ فلم سٹار میرا ، سابق وزیر سیاحت چوہدری عبدالغفور میو اور زندگی کے دیگر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے مجلس میںشرکت کی ، فلسفہ شہادت پہ گفتگو ہوئی۔ اگر امام حسین رضی اللہ عنہ یزید کے سامنے کلمہ¿ حق نہ کہتے اور اپنے بہتر تن شہید نہ کرواتے تو آج ہم مظلوم کی حمایت میں بات نہ کر سکتے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کے خون میں نہائے ہوئے ریت کے ذرات اکنافِ عالم میں بکھر چکے ہیں اور عصر حاضر کے یزیدوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور پوری انسانیت کو بیدار کر رہے ہیں جس کی صحیح ترجمانی جوش ملیح آبای نے کی ہے کہ
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ
(کالم نگار معروف شاعرہ، سیاسی
وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں