میجر عامر اور افغان جہاد۔۔طاہر علی خان

سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے دوران افسانوی شہرت حاصل کرنے والے آئی ایس آئی کے قابل فخر افسر میجر ریٹائرڈ عامر کے ساتھ پچھلے دنوں دو نشستیں ہوئیں جن میں افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کے بارے میں واقعات اور ان کے خیالات سنے۔

میجر عامر روس کے خلاف افغان جہاد کے عینی شاہد اور کردار ہیں اور اس جہاد سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ وہ جب افغان جہاد کی بات کرتے ہیں تو واقعات ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جن کے بیان میں واقعات کے تسلسل ،حسن ترتیب ، وارفتگی اور طلاقت لسانی کا بہترین امتزاج نظر آتاہے۔

وہ لگی لپٹی رکھے بغیر کہتے ہیں  کہ  صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم پاکستان کےبہترین جرنیلوں میں سے ایک تھے ۔ جنرل حمید گل کی بھی تعریف کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں   یہ سب نوکری نہیں بلکہ اللہ کی رضا  کے جذبے سے سرشار تھے ۔

میجر عامر بولتے ہیں روس کے خلاف جدوجہد ایک مقدس جہاد تھا ۔ یہ افغانستان کی ماؤں بہنوں کی عزتوں   کو بچانے کے ساتھ ساتھ  پاکستان کے بقا کی  بھی جنگ تھی جس میں  ہر موقع  پر اللہ کی مدد شامل حال رہی۔ ہم  نے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا  تو انہوں نے پاکستان کےلیے اس جہاد کے 25 فوائد ایک ایک کرکے گنوائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کئی واقعات بھی سنائے۔

مثلاً 1986  میں جب روسی پائلٹ چترال میں پکڑے گئے تو ان کے جیبوں میں قرآن پاک کے نسخے تھے۔ اس کی وجہ پوچھی گئی تو وہ بولے ہمیں بتایا گیا کہ یہ نسخے جیب میں ہوں تو پھرسٹنگر میزائل جہاز کو مارگرا نہیں سکتا۔ “جنرل ضیاء نے رپورٹ دیکھی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آئے اور کہا کہ مجھے یقین تو تھا کہ روسی یہاں سے شکست کھاکر جائیں گے لیکن اس کا نہیں پتا تھا کہ اتنی جلد اسلام اور قرآن کی حقانیت پر دھریے بھی یقین کرنے لگیں گے”۔

مثلا ً انہوں نے بتایا   کہ انہی دنوں ایک بار روس کی پولٹ بیورو کے اہم اجلاس کی روداد ہم نے انٹلی جنس ذرائع سے حاصل کی۔ اجلاس میں افغانستان میں روسی افواج اور مجاہدین کی کارکردگی زیربحث تھی۔ روسی صدر گورباچوف بھی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران کسی بات پر شرکاء اشتعال میں آگئے تو اس دوران گورباچوف اور دیگر ارکان کے منہ سے افغانستان میں فوجی مداخلت کا فیصلہ کرنے والوں سابقہ رہنماؤں کی خوب “خاٌطر تواضع” کی گئی۔ اس واقعے پر میں نے انٹلی جنس رپورٹ ان دو اخذکردہ نتائج کے ساتھ بھیج دی کہ روسی سپاہ کے حوصلے پست ہوچکے ہیں اور اب روسی فوجوں کی افغانستان سے انخلا اور واپسی زیادہ دور نہیں ۔آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل نے میرے نتائج سے اتفاق نہیں کیا۔ تاہم میری رپورٹ اور نتائج جنرل ضیاء کے پاس گئے تو انہوں نے  مجھے بلایا اور میری تعریف کی۔

مثلا ً انہوں نے کہا کہ کیسے ایک بار کسی اہم افغان اہلکار کو پلانٹ کرنے کی بات چلی تو انہوں نے اس سلسلے میں اپنے چیف سے وعدہ کیا اور کام شروع کردیا۔ وہ بتاتے رہے کہ کیسے اس دوران انہوں نے مسلسل کوشش کرکے خاد کے اسلام آباد میں پختون چیف کی پختون غیرت اور ماؤں بہنوں کی عزت کی حفاظت کا جذبہ ابھارا۔ میجر عامر نے پھر تفصیل بتائی۔

“اپنے اکلوتے شیرخوار بیٹے کو اسلام آباد کے مضافات میں ایک خفیہ جگہ اس کے پاس، یہ یقین دلانے کےلیے کہ میں اپنی بات اور پیشکش میں سچا ہوں، لے گیا۔ اس نے کہا آپ اور میں اکیلے ہیں۔ آپ مجھ سے بدن میں کمزور ہیں۔ آپ کو ڈر نہیں لگاکہ ایک انٹیلی جنس اہلکار سے اپنے اکلوتے بچے سمیت ملنے آئے، آپ کی تو جان بھی جاسکتی ہے۔ میجر عامر بولے اس پر میں نے کہا اس صورت میں ہم اللہ کی راہ میں شہید ہوجائیں گے اور یہ ہر مومن کی دلی آرزو ہے۔ اس پر اس نے میرے بیٹے کا ہاتھ پکڑا، اس پر میرا ہاتھ رکھا اور میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا یہ ایک پختون کا وعدہ ہے آج کے  بعد افغانستان کی آزادی کےلیے میں اس ننھے مجاہد کےساتھ ہوں۔ یہ افغان جہاد میں ایک اہم کامیابی کا مرحلہ تھا۔ اس کے بعد اس نے واقعی اپنے وعدے کا پاس رکھا اور قیمتی معلومات شیئر کرتا رہا۔”

میجر عامر پاکستان کو مملکت خداداد کہتے ہیں۔ “مشکلات، مسائل اور سازشوں کے باوجود یہ پہلا مسلم ایٹمی طاقت بنا۔ یہاں قدرتی وسائل اور محنتی افرادی قوت کی بھرمار ہے۔ یہ ایک مضبوط فوج رکھتا ہے۔ پاکستانی علمی کام اور صدقات میں دنیا بھر کی پانچ بڑی اقوام میں شامل ہیں۔انڈیا پاکستان کوتنہا کرنا چاہتا تھا مگر خود تنہا ہوگیا۔مودی نے پاکستان کا کام آسان کردیا۔ اس لیے میں پاکستان کے روشن  مستقبل کے حوالے سے پرامید ہوں۔”

میجر عامر کہتے ہیں پختونوں  اور پاکستان کا ہمیشہ ساتھ رہےگا۔ وہ کہتے ہیں اگرچہ چند پختون پاکستان کے خلاف افغانستان کی زبان  بولتے رہتے ہیں لیکن ان میں کوئی نہیں جو وہاں حقیقت میں شفٹ ہونا چاہتا ہے  یا اس کا پاسپورٹ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ “پختون جانتے ہیں ان کے قبائلی اور میدانی اضلاع افغان حکمران عبدالرحمن نے چند لاکھ روپوں کے عوض برطانیہ سرکار پہ فروخت کردیئے تھے اور 1893 میں ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت افغانستان ان سے دست بردار ہوگیا تھا۔ اس معاہدے کی 1930 تک کئی بارمختلف افغان حکومتوں نے تصدیق و توثیق کی۔ اب یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے۔ پختون پاکستان کےساتھ وابستہ رہنا چاہتے ہیں۔ یہ پاکستان کے مفت کے سپاہی ہیں۔ یہ یہاں ملک بھر میں پھیلے تجارت کر رہے ہیں۔ کراچی کے علاوہ جس میں بہت زیادہ پختون کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں، لاہور اور پنڈی میں بھی بیس سے پچیس لاکھ پختون کاروبار اورجائیدادوں کے مالک ہیں۔ یہی مثال ملک کے ہر صوبے کے تقریبا ہر بڑے شہرکا ہے۔ پختون   ہر جگہ یہاں  ترقی کررہے اور خوش ہیں۔ افغانستان کےساتھ شامل ہوکر انہیں کیا ملے گا۔ کچھ بھی نہیں”





بشکریہ

جواب چھوڑیں