اگر تاریخ کے اوراق میں تلاش کیا جائے تو زیادہ تر س…

اگر تاریخ کے اوراق میں تلاش کیا جائے تو زیادہ تر سرد جنگ روس اور امریکا کے درمیان طویل عرصے تک برپا رہی، افغانستان میں روس کو پاکستان شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اور سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا جس میں پاکستان اور امریکا ایک ساتھ رہے، لیکن اس کے باوجود یہ امکان موجود ہے کہ دونوں ملکوں(روس اور امریکہ) کے درمیان سرد جنگ کا یہ سلسلہ تاحال کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ اس صورتحال کے پس منظر میں 2013 کو جون کے مہینے میں انگریزی زبان میں ایک ناول شائع ہوا، جس کا نام’’ریڈ سپیرو‘‘ یعنی سُرخ چڑیا تھا۔
اس ناول کو لکھنے والے مصنف کانام’’جیسن میتھیو‘‘ ہے، جن کا پیشہ ورانہ ماضی امریکی خفیہ ایجنسی(سی آئی اے) کی ملازمت کا ہے۔ اس ناول میں ایک روسی جاسوس لڑکی کی زندگی کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے، جو اپنی بقا کی جنگ بہت دلیری سے لڑتی ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار اور پلاٹ روسی ہے۔ ناول نگار نے ناول میں موجودہ روس اور اس کے صدر’’ولاد میر پیوٹن‘‘ کو مرکزی کردار کے طور پر دکھایا ہے۔ ناول کو’’اسکریبنر‘‘ نامی اشاعتی ادارے نے شائع کیا ہے، جو بہت بڑا امریکی اشاعتی ادارہ ہے، یہیں سے ارنسٹ ہمنگوے، اسٹیفن کنگ، تھامس وولف، ڈون ڈیلیلو اور دیگر معروف امریکی ادیبوں کی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔
ناول کی کہانی کے مطابق روس اب بھی اپنی شکست کا بدلہ لینا کسی نہ کسی طرح لینا چاہتا ہے اور وہ اس کے لیے اپنے صدر کی سربراہی میں پوری طرح سرگرم عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے نوجوان اور خوبصورت روسی لڑکے لڑکیوں کو جاسوسی کی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ وہ دشمن ملک کے خلاف اپنی دلکش شخصیت اور شاطر ذہن کو استعمال کرسکیں۔ اعلیٰ طبقہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے جبکہ عوام کو اس لڑائی سے دور دکھایا گیا ہے۔ جاسوسی کی تربیت کے لیے روس میں ایسا تربیتی اسکول بھی دکھایا گیا ہے، جہاں جاسوسی کے پیشہ ورانہ ہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ اخلاق باختہ حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ وہ جاسوس اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کسی بھی طرح کی صورتحال میں ہمت نہ ہاریں اور اپنامشن مکمل کرنے میں کامیاب رہیں۔
ناول کی کہانی کے مطابق رشیا اور امریکا کی خفیہ ایجنسیاں ایک دوسرے کی تاک میں رہتی ہیں، ایک دوسرے کے ممالک میں نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک میں بھی ایک دوسرے کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھتی ہیں۔ روسی اپنے درمیان ایک امریکی ایجنٹ کو تلاش کرنے کے مقصد کے لیے ایک خوبصورت اور ذہین لڑکی‘‘ڈومینکا‘‘ کو منتخب کرتے ہیں، جس کی ایک بیمار ماں ہے اور وہ اس کی بیماری کے لیے بطور بیلے ڈانسر کام کرتی تھی۔ ایک حادثے میں وہ اپنی ٹانگ تڑوا کر نوکری سے ہاتھ دھوبیٹھتی ہے۔ اس کا چچا مدد کے نام پر اسے روس کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔ بحالت مجبوری وہ رضامندی ظاہر کرتی ہے۔ دوران تربیت وہ جس طرح کے جان لیوا اور اخلاق سوز تجربات سے گزرتی ہے، وہ جاسوسی کے کام سے متنفر ہوتی جاتی ہے، لیکن وہ ایک ایسے چنگل میں پھنس چکی ہوتی ہے، جہاں سے باہر نکلنے کے لیے صرف موت کادروازہ کھلا ہے۔
وہ کسی بھی صورت اپنی ماں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑنا چاہتی اور آخرکار روسی خفیہ ایجنسی کے مشن پر روانہ ہونے کے بعد امریکی خفیہ ایجنسی کے کارکنوں سے متصادم ہوتی ہے، ان میں سے ایک کارندے سے اس کو جذباتی لگائو ہو جاتا ہے اور وہ جاسوسی کی دنیا سے باہر نکلنے کے لیے اس سے مدد مانگتی ہے۔ اسی صورتحال میں وہ کچھ ایسے اقدامات کرتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کا چچا، جو کہ منفی سرگرمیوں کا حامل ہوتا ہے، وہ پھنس کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور وہ لڑکی اپنا مشن پورا کرکے واپس روس اپنے اہلکاروں کی نظر میں سرخروہوکر لوٹتی ہے، جبکہ درپردہ اسے امریکیوں کا تعاون حاصل ہوتا ہے۔
اس ناول کواشاعت کے بعد بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ نیویارک اخبار کے بیسٹ سیلر ہونے کے علاوہ بھی یہ ناول دنیا بھر میں بہت بڑی تعداد میں فروخت ہوا، اس کی شہرت اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ناول نگار’’جیسن میتھیو‘‘ نے اسی ناول کے خیال کو مزید بڑھایا اور اس کے دو نئے حصے لکھے، جو بالترتیب کتابی صورت میں شائع ہوچکے ہیں، لیکن سب سے زیادہ شہرت’’سرخ چڑیا‘‘ کو ہی حاصل ہوئی ہے۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2529562640607587

جواب چھوڑیں